55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 55:1–13

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

اللہ جو نہایت مہربان ہے

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

اسی نے قران سکھایا

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

اسی نے انسان کو پیدا کیا

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

اسی نے اس کو بولنا سکھایا

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند ایک مقرر حساب سے چل رہے ہیں

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

ستارے اور درخت دونوں سجدہ کر رہے ہیں۔

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اس نے آسمان کو بلند کیا اور میزان رکھی۔

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

کہ میزان میں حد سے تجاوز نہ کرو

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

انصاف سے تولو اور تول کم مت کرو

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی۔

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

اس میں میوے اور کھجور کے درخت ہیں جن کے خوشوں پر غلاف ہوتے ہیں

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اور اناج جس کے ساتھ بھس ہوتا ہے اور خوشبودار پھول

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

تو (اے گروہ جن و انس) تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

رب جس نے انسان کو پیدا کیا اس کی تمام ضروریات پوری کردیں تشریح :۔ رحمن اللہ کا صفاتی نام ہے اور یہ صفاتی نام پورے قرآن پاک میں تقریبا 55 مقامات پر آیا ہے۔ یہ اس کی رحمن ہونے کی دلیل ہے کہ جو اس نے مخلوقات کو بنایا۔ راہ ہدایت دکھانے کے لیے قرآن نازل فرمایا اور پوری کائنات کو اپنے رحم و کرم سے بھر دیا۔ اس کا رحم و کرم ہر ایک کے لیے برابر ہے۔ چاہے کوئی کافر ہو مسلم ہو، نیک ہو یا بد ہو، متقی ہو یا گنہگار ہو۔ غرض اس کی عنایات سے ہر کوئی فیض یاب ہو رہا ہے۔ اور یہ بھی اس کے رحمن ہونے کا ثبوت ہے کہ اس نے علم سکھایا۔ قرآن پاک جس میں پوری کائنات تمام تخلیقات کے ہر قسم کے علوم بیان کردیے گئے ہیں اور ان کو سمجھنے کے لیے سیرت النبی کو ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ تو کیا یہ کوئی معمولی بات ہے ؟ ہرگز نہیں بیشک انسان کو گویائی کی طاقت دے کر علم و ارادہ کی آزادی دے کر تمام مخلوقات پر فضیلت دی گئی پھر آخری نبی ﷺ آخری کتاب اور آخری دین، دین کامل دیکر مسلمان کو تمام ادیان کے پیرو کاروں پر فضیلت دی گئی ہے۔ یہ سب اللہ کے رحمن ہونے کی وجہ سے ہوا۔ اور یہ سورج چاند جو اتنہائی منظم طریقہ سے چل رہے ہیں اور ہر طرح کی نباتات جو اس کے بتائے ہوئے مقرر کئے ہوئے اصول و ضوابط کے ماتحت چل رہے ہیں یہ سب اللہ کی عبادت کا ایک طریقہ ہے جو عبادت کے لیے ان کو بتا دیا گیا ہے۔ جس فرمانبرداری سے چاند سورج ستارے اپنی اپنی گردش میں مصروف ہیں یہی ان کی طاعت گزاری ہے اسی طرح پھل، پھول درخت پودے سب ہی اس کے بنائے ہوئے قوانین پر سختی سے کاربند ہیں اور یہی ان کی عبادت ہے اللہ کے حضور۔ اب آسمان کا ذکر ہو رہا ہے فرمایا ' اور اس نے آسمان کو بلند کیا اور میزان رکھی۔ (آیت 7) یہ آیت آسمان کی وسعت بلندی اور ایک خاص نظام فلکیات کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ سلطان بشیر محمود صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ ' اس آیت مبارکہ سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ آسمانوں کی وسعت کی بھی ایک کم سے کم حد ہوگی جس کے اندر توازن ممکن ہے اور اسی طرح ایک زیادہ سے زیادہ حد بھی ہوگی جہاں سے آگے توازن بگڑنے لگے۔ تو یہ انتہائی مناسب انتظام سوائے رب رحمن کے اور کوئی نہیں کرسکتا۔ (از قیامت اور حیات بعد الموت) ۔ یہاں انسان کی زندگی میں توازن اور اعتدال پسندی کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ پھر زمین کی عظیم نعمت کا ذکر کیا گیا ہے۔ کہ اسی میں سے ہماری ضروریات کے تمام پھول پھل اور اناج پیدا ہوتا ہے۔ جو کہ اپنی افادیت شکل و صورت، رنگ و مزہ اور خوشبو میں بالکل مختلف اور انتہائی نازک بناوٹ رکھتے ہیں۔ ان کو غور سے دیکھنے پر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ تو اللہ فرماتا ہے ' بھلا بتاؤ تو تم دونوں گروہ (جن وانس) کہ تم اللہ کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ (آیت 13) اس سورت میں جنوں اور انسانوں کو اکٹھا مخاطب کیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے۔ بیشک جن و انسان دو مختلف مخلوقات ہیں مگر حساب کتاب دونوں کا برابر لیا جائے گا تو ظاہر ہوا کہ انسانوں کی طرح جن بھی نیک و بد ہوتے ہیں مگر ان میں سے بنی نہیں بنائے گئے بلکہ ان کو آسمانی کتابوں سے ہی ہدایات لینے کا سسٹم بنایا گیا ہے۔ جنات میں یہ خاصیت اللہ نے رکھی ہے کہ وہ اپنی ظاہری شکل و صورت تبدیل کرلینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر قوت میں یہ انسانوں کی نسبت زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور مزدوری قسم کا کام جس میں جسمانی طاقت لگتی ہو خوب اچھا کرلیتے ہیں۔ لیکن ان کی طبیعت میں خیر کی نسبت شر زیادہ ہوتی ہے اور مطالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ بھی مختلف مذاہب کے ماننے والے ہوتے ہیں یعنی انسانوں کی طرح ان میں بھی مسلمان، عیسائی، کافر اور مشرک جن ہوتے ہیں۔ اسی لئے اس پوری سورت میں جن و انس کو برابر برابر مخاطب کیا گیا ہے۔ فرمایا : اور یہ کہ ہم میں کچھ نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے ہیں۔ (سورۃ الجن :11) جن بھی ایک مخلوق ہے اس کے بارے میں قرآن پاک میں بیشمار آیات آچکی ہیں۔ اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی ان کی تصدیق ہوچکی ہے مثلاً حضرت سلیمان بن صرد ؓ کہتے ہیں۔ ' میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور دو آدمی باہم گالی گلوچ کر رہے تھے یہ دیکھ کر حضور ﷺ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور آپ ﷺ نے فرمایا، میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص اس کو کہہ دے تو اس کا غصہ جاتا رہے وہ یہ ہے ' میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے۔ (ازبخاری، مسلم 31/8) لہٰذا جنات کے بارے میں جو جھوٹے سچے قصے مشہور ہیں تو اب قرآن و حدیث پڑھنے کے بعد سچ ہمارے سامنے آگیا ہے۔ کہ روحانی مخلوقات چار قسم کی ہیں۔ (1) فرشتے (2) انسان (3) جن (4) شیطان۔ قرآن پاک اور احادیث نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ انسان مٹی سے فرشتے نور سے اور جن و شیطان آگ سے پیدا کئے گئے۔ اگلی آیات اسی کی تصدیق میں ہیں ملاحظہ ہو۔
Ayahs 55:14–18

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

اسی نے انسان کو ٹھیکرے جیسی کھنکھناتی مٹی سے بنایا

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور جنات کو آگ کے شعلے سے بنایا (پیدا کیا )

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

وہی دونوں مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

انسان کی پیدائش اور مشرقین اور مغربین تشریح : انسان کی پیدائش مٹی سے اور جنات کی آگ سے اس کی حکمتیں تو وہی جانتا ہے جس نے پیدا کیا ہے ہمیں تو صرف یہ معلوم ہے کہ زندگی کی نعمت ان تمام نعمتوں میں سے ایک ہے جو ہمیں ملی ہیں اور ہم ان تمام نعمتوں کے لیے اللہ رحمن و رحیم کے شکر گزار ہیں پھر مشرقوں اور مغربوں کی ملکیت کا ذکر کیا گیـا ہے۔ اور یہ فلکیاتی نظام کی طرف ایک اشارہ ہے۔ اس کی وضاحت بڑے سادہ انداز میں مورس بو کائیے یوں کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ ' کوئی شخص جو طلوع شمس اور غروب شمس کا بغور مشاہدہ کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ موسم کے مطابق سورج مشرق کے مختلف نقطوں سے نکلتا ہے اور مغرب کے مختلف نقطوں پر ڈوبتا ہے۔ ہر دو افق پر اس کے میلانات ان انتہائی حدود کا تعین کرتے ہیں جو دو مشرقوں اور دو مغربوں کی نشاندہی کرتی ہیں اور ان کے درمیان وہ نقطے ہیں جن کا تعین پورے سال کے دوران کیا جاتا ہے۔ قرآن کا یہ فلکیاتی واقعات کا بیان جدید تحقیقات سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔ (از بائبل قرآن اور سائنس ) ۔
Ayahs 55:19–25

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

اسی نے دو دریا رواں کئے ہیں جو آپس میں ملتے ہیں

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

دونوں میں ایک آڑ ہے کہ اس سے تجاوز نہیں کرسکتے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اور جہاز بھی اسی کے ہیں اور دریا میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

سمندر اور دریا اپنی بناوٹ میں حیران کن ہیں تشریح : ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب نے 19 اور 20 آیات کی تشریح بےحد خوبصورت الفاظ میں کی ہے ملاحظہ ہو لکھتے ہیں۔ آیات میں دو اہم نکات کو بیان کی گیا ہے۔ 1 دو سمندروں کا strait کے ذریعے آپس میں ملنا بہر حال یہ ایک معمول کی حالت ہے۔ 2 ۔ یہ حقیقت کہ دو سمندران کے درمیان ایک خاص قسم کی رکاوٹ کی وجہ سے مکمل طور پر آپس میں نہیں مل سکتے۔ آئیے اس سلسلے میں سب سے پہلے سائنسی نکات کا مطالعہ کریں۔ فرانسیسی سائنسدان جیکوی کو سٹو نے جو سمندر کے اندر پانی کی تحقیقات کے لیے مشہور ہے، یہ دریافت کیا کہ بحرہ روم اور بحرہ اوقیانوس کیمیاوی اور حیاتیات کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ موصوف نے اس حقیقت کو بیان کرنے کے لیے ” آبنائے جبرالٹر “ کے نزدیک زیر سمندر تحقیقات کر کے یہ بتایا کہ جبل الطارق کے جنوبی ساحلوں (مراکش) اور شمالی ساحلوں (اسپین) پر بالکل غیر متوقع طور پر میٹھے تازہ پانی کے چشمے ابلتے ہیں۔ یہ سمندری پانیوں میں ہوتے ہیں یہ بہت بڑے چشمے ایک دوسرے کی طرف 45 ڈگری کے زاویہ پر تیزی سے بڑھتے ہوئے ایک ڈیم کی طرح کنگھی کے دندانوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اس عمل کی وجہ سے بحیرہ روم اور بحرہ اوقیانوس اندر سے ایک دوسرے میں خلط ملط نہیں ہوتے۔ درحقیقت، اس تحقیق کے بعد جب کو سٹو Corsteau کو یہ آیات دکھائی گئیں تو بےحد حیران ہوا اور قرآن کی عظمت کی تعریف کرتے ہوئے مسلمان ہوگیا۔ اس حیران کن آیت کریمہ میں جبل الطارق (جبرالٹر) کی باڑ کو بالکل واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ (از قرآنی آیات اور سائنسی حقائق) مولانا وحید الدین خان صاحب بڑی خوبصورت وضاحت کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں ' یہ بات قدیم ترین زمانے سے انسان کے مشاہدے میں آچکی ہے مگر یہ کس قانون فطرت کے تحت واقع ہوتا ہے ؟ یہ ابھی حال ہی میں دریافت کیا گیا ہے، جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ رقیق اشیاء میں سطحی تناؤ کا ایک خاص قانون ہے، اور یہی دونوں قسم کے پانی کو الگ الگ رکھتا ہے کیونکہ دونوں سیالوں کا تناؤ مختلف ہوتا ہے، اس لیے وہ دونوں کو اپنی اپنی حد میں روکے رہتا ہے، آج کل اس قانون کے تحت جدید دنیا نے بیشمار فوائد حاصل کیے ہیں۔ اس سطحی قانون کو ایک سادہ سی مثال سے سمجھئے، اگر آپ گلاس میں پانی بھریں تو وہ کنارے تک پہنچ کر فورا بہنے نہیں لگتا بلکہ ایک سوت کے برابر اٹھ کر گلاس کے کناروں کے اوپر گولائی میں ٹھہر جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ رقیق اشیاء کی سطح کے سالمات کے بعد چونکہ کوئی چیز نہیں ہوتی اس لیے ان کا رخ اندر کی طرف ہوجاتا ہے، اس طرح کے سالمات کے درمیان کشش اتصال بڑھ جاتی ہے، اور اس قانون اتصال کی وجہ سے پانی کی سطح کے اوپر ایک قسم کی لچکدار جھلی سی بن جاتی ہے اور پانی گویا اس کے غلاف میں اس طرح ملفوف ہوجاتا ہے، جیسے پلاسٹک کی سفید جھلی میں پسا ہوا نمک ملفوف ہوتا ہے، سطح کا یہی پردہ اوپر ابھرے ہوئے پانی کو روکتا ہے۔ یہ پردہ اس حد تک قوی ہوتا ہے کہ اگر اس کے اوپر سوئی ڈال دی جائے تو وہ ڈوبے گی نہیں بلکہ پانی کی سطح پر تیرتی رہے گی، اسی کو سطحی تناؤ کہا جاتا ہے اور یہی وہ آڑ ہے جس کی وجہ سے کھاری پانی اور میٹھے پانی کے دود ریا مل کر بہتے ہیں مگر ایک کا پانی دوسرے میں شامل نہیں ہوتا۔ (از مذہب اور جدید چیلنج) سبحان اللہ کس حکمت اور مہارت کا ثبوت ملتا ہے جو صرف رب رحمن و رحیم کی ہی کاریگری ہے اور اس طرح کی بیشمار نعمتیں اور برکتیں ہمارے لیے اللہ نے بنا رکھی ہیں کس کس نعمت سے انکار کیا جائے گا ؟ اسی طرح آیت 22 بتا رہی ہے کہ ' دونوں دریاؤں میں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں '۔ یہ آیت اللہ کی ایک اور بہت بڑی عنایت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کہ سمندروں کی گہرائیوں میں بیشمار مختلف قسم کے قیمتی مونگے موتی اور پتھر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ بیشمار قسم کی عجیب و غریب مچھلیاں موجود ہیں ان میں سے کچھ مونگے اور کچھ مچھلیاں میٹھے پانی میں پلتی ہیں اور کچھ کو کھاری پانی کی ضرورت ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کی مخلوقات کے لیے مناسب پانی کا بندوبست یوں کردیا ہے کہ دونوں قسم کے پانی وافر مقدار میں بہتے رہیں مگر آپس میں مکس نہ ہوں تاکہ جو جو حیوانات، نباتات اور جمادات ان پانیوں کے اندر پل بڑھ رہے ہیں ان کو اپنی طبیعی ضروریات کے مطابق میٹھا اور کھاری پانی ملتا رہے۔ جن کو میٹھا چاہئے وہ میٹھے پانی میں رہیں جن کو کھاری پانی چاہیے وہ کھاری پانی میں رہیں۔ ہے نا ! کتنی بڑی مہربانی بندوں پر اور تمام مخلوقات عالم پر۔ سبحان اللہ وبحمدہ۔ یہی تمام نعمتیں اور برکتیں ہیں جو اللہ نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دے رکھی ہیں تو اللہ رحمن و رحیم پوچھتا ہے کہ ' تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ (آیت 23) اسی طرح بیشمار نعمتوں میں سے ایک اور بہت بڑی نعمت کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہے بڑے بڑے بحری جہاز جو سمندر میں کھڑے ہوئے پہاڑ کی طرح معلوم ہوتے ہیں۔ یہ بھی قدرت کا بہت بڑا کرشمہ ہے کہ اس قدر وزنی جہاز سمندروں کی موجیں مارتی سطح پر بیشمار لوگوں کو لے کر اور سامان کو لے کر ایک جگہ سے دوسری دور دراز جگہ پر لانے لے جانے کا کام کرتے ہیں۔ یہ سب اسی کا کمال ہے پھر بھی بندہ اس کی شکر گزاری سے انحراف کرتا ہے تو رب رحمن پوچھتا ہے کہ تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ (آیت 25) ایک عارف کا مقولہ ہے کہ ' چیزوں نے ہمیں اللہ تک نہیں پہنچایا بلکہ اللہ نے ہمیں چیزوں تک پہنچایا، اور ان کے بارے میں صحیح علم دیا ہے۔ (از فتاوی ابن تیمیہ :18/2) اس قدر علم و عرفان حاصل کرنا اور پھر بھی اللہ کا شکر گزار نہ ہونا قابل مذمت بات ہے۔
Ayahs 55:26–30

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

جو مخلوق زمین پر ہے سب کو فناء ہونا ہے

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور تمہارے رب ہی کی ذات با برکات جو صاحب جلال و عظمت ہے باقی رہے گی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

آسمان اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب اسی سے مانگتے ہیں وہ ہر روز نئی شان میں ظاہر ہوتا ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

سب کا فنا ہونا ضروری ہے سوائے اللہ کے تشریح : ان آیات میں ازل سے ابد تک کا حال بیان کردیا گیا ہے۔ ایک مرحلہ عالم ارواح کا پھر موجودہ زندگی اور آخر میں فنا یعنی قیامت کا زمانہ آئے گا۔ اللہ برکتوں والا، عظمتوں اور جلال والا ہے۔ صرف اس کی ذات باقی رہے گی اور سب فنا ہوجائے گا۔ کیونکہ دنیا کی پیدائش مخلوقات کی پیدائش ایک مقصد کے لیے ہے جب وہ مقصد پورا ہوجائے گا تو پھر خاتمہ ضروری ہے یہی اللہ کا دستور ہے اور یہی دنیا کا انجام ہے۔ ہر چیز جو پیدا ہوئی ہے ختم ضرور ہوگی۔ اللہ ہی بزرگ و برتر اور ہمیشہ رہنے والا قدرت رکھنے والا تمام انتظامات اسی کے ہاتھ میں ہیں اس لیے ہر شخص اسی سے ہر طرح کی مدد مانگتا ہے۔ اسی کے آگے دست سوال پھیلاتا ہے۔ اور اللہ ہر وقت ہر آن ہر چیز سے باخبر ہے اور اس کے لیے یہ سب کچھ بالکل مشکل نہیں۔ کیا اب بھی تم اللہ کی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ ہر پکا اور سچا مومن جواب میں یہی کہتا ہے کہ ہرگز نہیں بلکہ ہم تو اللہ کی تمام نعمتوں کا ہر وقت شکر یہ ادا کرتے ہیں۔ اللہ ہمیشہ اس کی توفیق دے آمین۔ اب ہم ان آیات کی تشریحات ایک سائنس دان کی زبانی کرتے ہیں۔ سلطان بشیر محمود صاحب لکھتے ہیں۔ ' ان آیات مبارکہ کے الفاظ کہ ' ہر ایک جو زمین و آسمان کے بیچ میں ہے سب اپنے خالق سے سوالی ہیں۔ کہ زندہ مخلوق اس دنیا کے علاوہ باقی سماوات میں بھی ہے۔ جو اپنے رب سے اپنی افزائش کی ضروریات کے لیے سوال کرتے ہیں۔ اگلی آیت بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر روز ایک نئی شان و شوکت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کوئی جامد قسم کی چیز نہیں کہ جو ایک دفعہ بنا دی اور اب اللہ تعالیٰ فارغ ہوگیا بلکہ یہ چست اور فعالی سلسلہ ہے یا تخلیق در تخلیق کا مسلسل عمل ہے اور عجیب شان و شوکت سے جاری ہے اور یقینا سب کی باری آنے والی ہے کہ اس توڑ پھوڑ میں بھی حیات آفرینی ہے۔ (از قیامت اور حیات بعد الموت) موصوف نے یہ بات صاف طور پر کہہ دی ہے کہ کائنات میں ہر روز کسی نہ کسی ستارہ کی تباہی ہوتی رہتی ہے جسکی تباہی سے اس کا ملبہ مثلاً آکسیجن، کاربن، فاسفورس اور لوہا وغیرہ فضاء میں بکھر جاتے ہیں جو بعد میں آہستہ آہستہ ایک نئی دنیا کی شکل اختیار کرلیتے ہیں یہ سلسلہ چلتا چلا جا رہا ہے اور یوں اللہ کا نظام شاندار سے شاندار ترقی کی طرف مسلسل رواں دواں ہے جو قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے وہ ہر روز ایک نئی شان میں ظاہر ہوتا ہے تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
Ayahs 55:31–34

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

اے دونوں جماعتو ! ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

تم تو اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے گروہ جن و انس اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ بغیر غلبہ اور طاقت کے تم نہیں نکل سکتے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

جن و انس سب اللہ کے سامنے کمزور وبے بس ہیں تشریح : یہاں جن و انس کی بےبسی کو اس طرح بتایا گـیا ہے کہ تمہاری ہر حرکت اللہ کے بس میں ہے۔ اگر یہ غلط ہے تو پھر چلو یہ جو حدود آسمانوں اور زمین کی اللہ نے تمہارے لیے مقرر کر رکھی ہے پورا زور لگاؤ اور ان سے باہر نکل کر دکھاؤ۔ یہ تمہاری قدرت سے باہر ہے تم ہرگز ان حدود سے باہر نہیں نکل سکتے تو کیا اب بھی تم اللہ کی عظمت، طاقت اور قدرت کا انکار کرتے ہو ؟