54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 54:1–8

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور کافر اگر کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک ہمیشہ کی طرح کا جادو ہے۔

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام کا وقت مقرر ہے۔

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور ان کو ایسے حالات۔ (سابقین) پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے۔

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

اور کامل دانائی کی کتاب بھی مگر ان کو ڈرانے نے کچھ فائدہ نہیں دیا۔

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

تو تم بھی ان کی کچھ پرواہ نہ کرو جس دن بلانے والا ان کو ایک ناخوش چیز کی طرف بلائے گا۔

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

تو آنکھیں نیچی کئے ہوئے قبروں سے نکل پڑیں گے گویا بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

اس بلانے والے کی طرف دوڑے جاتے ہوں گے کافر کہیں گے یہ دن بڑا سخت ہے۔

قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا تشریح : موجودہ سائنس دان اپنی حالیہ تحقیقات کے حوالے سے یہی کہتے ہیں کہ چاند ہمارا قریب ترین ہمسایہ ہے کیونکہ یہ سیارہ ہماری زمین سے تین لاکھ چوراسی ہزار کلو میٹر دو رہے۔ مگر اس کی موجودگی ہماری زمین کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ سمندری زندگی کا اس پر بڑا انحصار ہے اسی کی وجہ سے سمندر میں مدو جزر ہوتا ہے جدید تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ہر سال اس کا مدار تین سینٹی میٹر کے برابر زمین سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ فاصلہ بڑھتے بڑھتے اتنا برھ جائے کہ چاند زمین کی گرفت سے نکل کر سورج سے جاملے کیونکہ اس کا اشارہ بھی قرآن پاک میں کردیا گیا ہے۔ جو آگے آئندہ سورة قیامہ میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ فی الحال یہاں چاند کے پھٹ جانے کا ذکر بڑا واضح الفاظ میں کیا گیا ہے۔ سلطان بشیر محمود صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ ' قیامت سے پہلے چاند لازمی پھٹ جائے گا۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ہوسکتا ہے چاند دو یا دو سے زیادہ ٹکڑوں میں بٹ جائے اور پھر ثقل کی طاقت سے دوبارہ جڑ جائے۔ کیونکہ یہ آیت مبارکہ اس حد تک نہیں جاتی کہ چاند ہمیشہ کے لیے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر جائے گا۔ (از قیامت اور حیات بعد الموت) راشد مسعود صا حب اس آیت کے بارے میں یوں لکھتے ہیں ملاحظہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ ' شق القمر کو دکھا کر ہمیں بتا دیا کہ تمہارے نظام کائنات میں فتور واقع ہونا شروع ہوگیا ہے۔ اس لئے اس کی مکمل تباہی ایک شدنی امر ہے۔ زمین کے عمل کشش میں فتور کا مطلب ہے کہ زمین کے بطن سے بیشمار مادہ باہر آسکتا ہے، زمین کی گردش مغرب سے مشرق کی بجائے مشرق سے مغرب کی طرف ہوسکتی ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ سورج کا مغرب سے نکلنا ہوسکتا ہے۔ پھر بےوزنی سے کائنات کا نظام درہم برہم ہونے کا منظر کئی قرآنی آیات میں بتایا جا چکا ہے لہٰذا چاند کے پھٹ جانے کا عمل دکھا کر اللہ نے یہ بتا دیا کہ زمین میں انحطاط (Disintegration) شرو ع ہوچکا ہے۔ کس مدت میں یہ مکمل ہوگا ؟ اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ (از ذوق آگہی) بہر حال اب اس بات کو مان لینے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہ جاتی کہ اللہ کو واحد مان لیا جائے اس کے بھیجے ہوئے رسول کو سچ مانا جائے اور ان کی طرف بھیجی گئی کتاب قرآن پاک کو اللہ کی کتاب اور نبی آخر الزمان کا بہترین معجزہ مان کر اس پر غور و فکر اور عمل کر کے دنیا و آخرت میں کامیابیاں حاصل کی جائیں۔ کیونکہ قرآن کریم میں حقائق فطرت کے ایسے ایسے راز بیان کردیے گئے ہیں جو اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہ تھے۔ اسی لیے غور و فکر کرنے کی دعوت بار بار دی گئی ہے۔ مگر کفار و مشرکین کا یہ رویہ ہمیشہ سے رہا ہے کہ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور اپنی بےکار خواہشات کے پیچھے بھاگتے رہے۔ تو اللہ تعالیٰ رسول ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے تم بھی ان کی کچھ پرواہ نہ کرو۔ اگلی آیات میں حشر کا نقشہ کھینچا گیا ہے جو خوف ناک ہے۔ پھر فرمایا کہ کافر کہیں گے یہ دن بڑا سخت ہے۔ (آیت 8 ) حدیث مبارکہ ہے۔ جناب ابن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ' جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو فرشتے آخرت مـیں اس کے مقام کا نقشہ اس کے اعمال کے حساب سے دکھا دیتے ہیں کہ وہ جہنم میں جائے گا یا جنت میں اور اس کو بتایا جائے گا کہ یہ تمہارا آخرت کا ٹھکانا جس میں تمہیں حشر و نشر کے بعد بھیجا جائے گا۔