53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 53:1–16

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

کہ تمہارے رفیق محمد ﷺ نہ رستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں۔

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں۔

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

یہ قرآن تو اللہ کا حکم ہے جو ان کی طرف بھیجا جاتا ہے

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

ان کو بڑی قوت والے نے سکھایا۔

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

یعنی جبرائیل طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

اور وہ آسمان کے اونچے کنارے میں تھے۔

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر قریب ہوئے اور مزید آگے بڑھے۔

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

تو دو کمان کے فاصلے پر یا اس سے بھی کم۔

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

پھر اللہ نے اپنے بندہ کی طرف جو بھیجا سو بھیجا۔

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ جانا۔

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو ؟

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

انہوں نے ان کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

آخری حد کی بیری کے پاس۔

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

اسی کے پاس رہنے کی جنت ہے

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

جب اس بیری پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا

محمد ﷺ سچے رسول ہیں اور ان کا پیغام بہترین ہے تشریح : ان آیات کے شروع میں رب کائنات پھر قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ سچے رسول ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو بھی حکم دیا قرآن کے مطابق دیا اور قرآن ایک ایسی سچی آسمانی کتاب ہے جو اللہ کی طرف سے نبی ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے نازل کی گئی۔ کفار جو ان کے لیے الٹے سیدھے مفروضے بناتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہیں کیونکہ وحی کوئی معمولی ذریعہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی مضبوط فرشتہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کا پیغام پہنچانے کے کام پر معمور ہیں۔ یہاں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو دیکھا جب وہ پہلی وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے سامنے آئے اس کے بعد بھی آپ ﷺ نے ان کو انتہائی قریب سے دیکھا جب معراج کا واقعہ آپ ﷺ کے ساتھ پیش آیا۔ یہاں یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ اللہ نے صبح کے تارے کی قسم کیوں کھائی ہے۔ ستارہ اجرام فلکی میں خاص حیثیت رکھتا ہے اسی لیے ستارہ کو قرآن پاک میں 13 مرتبہ استعمال کیا گیا ہے۔ دراصل اس کا یعنی نجم کا مطلب ہے کہ ظاہر ہونا کیوں کہ یہ روشنی تخلیق کرتا ہے اور روشنی منعکس کرتا ہے۔ صبح کا تارا سورج کے طلوع ہوتے ہی غائب ہوجاتا ہے۔ مگر یہ کیونکہ دیکھے جانے کی حد تک نمایاں ہوتا ہے اسی لیے خدائے بزرگ و برتر نے اس کی قسم کھائی ہے۔ کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے بھیجے گئے نبی برحق ہیں۔ نبوت سے پہلے بھی وہ قول وقرار کے اتنے پکے اور سچے تھے کہ لوگ ان کو صادق اور امین کہتے تھے اور نبوت کے بعد تو ان کا ہر فعل اور ہر قول احکاماتِ الٰہی کے عین مطابق ہوتا تھا جو کہ اللہ کے مقرب فرشتہ جبرائیل کے ذریعہ سے آپ ﷺ تک پہنچائے جاتے تھے۔ بھلا وہ کیونکر غلط یا بےمعنی ہوسکتے ہیں۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے نفس کی لطافت اور روح کی پاکیزگی عطا فرما کر اور جسمانی طور پر نفیس فرما کر پسند کرلیا اور نبوت کے اعلی ترین مقام پر فائز فرمادیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام آپ ﷺ تک اپنے مقبول فرشتہ کے ذریعے پہنچایا اور پھر آپ ﷺ کا مقام اس قدر بلند کیا کہ آپ ﷺ کو آسمانوں کی سیر کرائی اور آپ ﷺ عرش کے اس کنارے تک پہنچ گئے جہاں تک حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھی جانے کی ہمت یا اجازت نہ تھی۔ یہی معراج کی رات تھی کہ جب آپ ﷺ کے مقبولِ رب ہونے کی انتہا ہوگئی۔ ہر شخص اس مقام تک تو ہرگز نہیں پہنچ سکتا لیکن اللہ کی قربت حاصل کرنے کا یہ زہد وتقویٰ اور عبادت کا ذریعہ ضرور اپنا سکتا ہے۔ کیونکہ پہلی دفعہ وحی کے وقت آپ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو آنکھوں سے دیکھا اور دوسری دفعہ معراج کی رات دیکھا کیونکہ جبرائیل (علیہ السلام) ہی آپ ﷺ کو اس سیر کے لیے لے کر گئے تھے۔ ان آسمانی حدود کو آخری حد کی بیری سے ' مخصوص کردیا گیا ہے۔ اور پھر جنت کی حدود کو بھی اسی سے مخصوص کردیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ' اسی کے پاس (بیری کے پاس) رہنے کی جنت ہے۔ (15) ۔ ' جب کہ اس بیری پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا۔ الحاج عبدالواحد اور ان کے ساتھی صاحبان اس کی تفسیریوں کرتے ہیں۔ اس وقت اس درخت کو ایسے نور نے چاروں طرف گھیر رکھا تھا جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ (از درس قرآن ساتویں منزل) یہ ایک بہت بڑا راز ہے جو یہاں آیات 15, 14 اور 16 میں بڑے ہی مختصر الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔ یہ بہت بڑی دلیل ہے آنحضرت ﷺ کے سچا رسول ﷺ ہونے کی اور اس بات کی کہ ' تمہارے رفیق محمد ﷺ نہ رستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں۔ یہ قرآن تو اللہ کا حکم ہے جو ان کی طرف بھیجا جاتا ہے۔ (آیات 4, 3, 2) اتنا کچھ جان لینے کے بعد صرف نافرمان اور ہٹ دھرم لوگ ہی قرآن و رسول ﷺ کی سچائی سے انکار کرسکتے ہیں۔ رب العزت سے دعا ہے کہ شیطان کی دوستی اور اس کے غلبہ سے ہمیشہ محفوظ و مامون رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 53:17–18

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

ان کی آنکھ نہ تو اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے آگے بڑھی

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

انہوں نے اپنے رب کی قدرت کی کتنی ہی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں

ثابت قدمی اور کامل اطاعت تشریح : ابن زید فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ ﷺ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ہر پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ ﷺ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں۔ جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے آپ ﷺ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں۔ ایک اور جگہ فرمایا اس لیے کہ ہم نے تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیات کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا تھا۔ کیونکہ ارشاد باری ہے کہ ' آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ (از تفسیر ابن کثیر) بہت سی تفاسیر میں مختلف انداز بیان ملا جبکہ یہ مفہوم سب سے زیادہ مناسب لگا۔
Ayahs 53:19–26

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

بھلا ! تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کو دیکھا۔

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور تیسرے منات کو کہ یہ بت کہیں اللہ ہوسکتے ہیں

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

مشرکو ! کیا تمہارے لیے تو بیٹے اور اللہ کے لیے بیٹیاں

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

یہ تقسیم تو بڑی ناانصافی کی ہے

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

وہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لیے ہیں۔ اللہ نے تو ان کی کوئی سند نہیں اتاری۔ یہ لوگ تو صرف غلط خیال اور خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کیا جس چیز کی انسان خواہش کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے ؟

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

آخرت اور دنیا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ اللہ جس کے لیے چاہے اجازت بخشے اور سفارش پسند کرے

اللہ کی طرف سے کفار کے لیے تنبیہ تشریح : ان آیات میں شرک کی تردید کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلے تو چلو یہ بات تھی کہ یہ لوگ لا علمی میں بتوں کی پوجا کرتے تھے مگر اب تو ان کے پاس حضرت محمد ﷺ بےحد معقول پیغام اور اللہ کی پہچان کے لیے انتہائی کھلی اور پکی نشانیاں لے کر آچکے ہیں پھر بھی یہ لوگ کفر میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو عقل ہی نہیں آتی کہ یہ بےجان پتھر کی مورتیاں بھلا اللہ کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتی ہیں اور پھر حد تو یہ ہے کہ ان کو اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہی اللہ سے ان کی سفارش کریں گی۔ جب کہ اللہ نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ ': اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ اللہ جس کے لیے چاہے اجازت بخشے اور سفارش پسند کرے۔ (آیت 26) یہاں صرف تین مشہور بتوں کا ذکر کیا گیا ہے ورنہ ان کے تو بیشمار بت تھے۔ ان لوگوں نے ان کو باقاعدہ محترم اور مقدس بنا رکھا تھا۔ ان پر غلاف چڑھاتے ان کے نام کی قربانیاں دیتے اور بعض تو حج کعبہ پر جانے کے لیے یہیں سے احرام باندھتے یہ سب کچھ اپنی جگہ مگر پھر بھی کعبہ کی بڑی عزت واحترام کرتے تھے اور اس کو مسجد ابراہیم مانتے تھے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عزت و احترام کرتے تھے۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے۔ کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے۔ ان کا بنو ہاشم کے ساتھ بھائی چارہ تھا۔ فتح مکہ کے بعد حضرت محمد ﷺ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کو اس بت کو توڑنے کے لیے بھیجا تھا۔ غرض اللہ تعالیٰ نے کفار پر مسلمانوں کو فتح دی اور مکہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی صداؤں سے گونج اٹھا۔ سبحان اللہ۔ پڑا ہر طرف غل یہ پیغام حق سے کہ گونج اٹھے دشت و جبل نام حق سے الطاف حسین حالی
Ayahs 53:27–30

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

حالانکہ ان کو اس کی کچھ خبر نہیں وہ صرف ظن پر چلتے ہیں اور ظن یقین کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

تو جو ہماری یاد سے منہ موڑے اور صرف دنیا کی زندگی کا ہی طلب گار ہو اس سے تم بھی منہ پھیر لو۔

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

ان کے علم کی یہی انتہا ہے۔ تمہارا رب اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا

اللہ کے علم میں ہے کون نیک ہے کون بد ؟ تشریح : ان آیات میں رب تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے زندگی کے کچھ اصول بتاتے ہیں اور بےعلمی کی مذمت فرماتے ہیں۔ اور علم و عرفان کی برکات اور جہالت کی خرابی کا ذکر کرتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جاہل انسان نہ خود کو پہچانتا ہے نہ رب کو پہچانتا ہے۔ اسی لیے کفر و شرک میں مبتلا رہتا ہے اور جب کوئی علم والا ان سے بات چیت کرتا ہے تو وہ حق بات کو سمجھنا ہی نہیں چاہتا لہٰذا ایسے شخص کو نیکی کی راہ دکھانی چاہیے لیکن اگر وہ بحث میں پڑے تو اس سے کنارہ کشی ہی بہتر ہے۔ دوسری بات یہ واضح کی گئی ہے کہ دنیا کی طلب میں جو کھو جاتے ہیں وہ شیطان کے بھائی بن جاتے ہیں کیونکہ مال و دولت کی حرص اور لالچ میں وہ اس قدر گم ہوجاتے ہیں کہ اخلاقی معیار ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ حرام و حلال، فسق و فحور، لالچ، دنگا فساد اور قتل ان کے سامنے کوئی بری بات نہیں رہتی۔ انسانی ہمدردی، مال کے خرچ کرنے میں بےانصافی، حقوق العباد اور حقوق اللہ مال کی محبت میں ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ تیسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ اللہ علیم وخبیر ہے۔ اس کی نظر اور اس کے حساب کتاب سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا۔ یہ یقین مومن کے درجات بلند کردیتا ہے۔ اس کی وضاحت محمد یوسف اصلاحی بڑے اچھے انداز میں کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں ' شکر کے جذبات پروان چڑھانے اور تسلیم و رضا کی عادت ڈالنے کے لیے نبی ﷺ کی بتائی ہوئی یہ تدبیر انتہائی موثر اور بےخطا ہے۔ مصائب اور محرومیوں پر صبر اور نعمتوں پر شکر مومن کے دو ایسے امتیازی اوصاف ہیں جس کی بدولت مومن کا ہر معاملہ اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ اور یہ عادت صرف مومن ہی کو حاصل ہوتی ہے جو اللہ کی صفات پر پورا یقین رکھتا ہے اس کا ایمان ہے کہ کوئی چیز خدا کے علم سے باہر نہیں اور خدا کا کوئی علم حکمت سے خالی نہیں ہے۔ یہ یقین و ایمان ہی مومن کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ ایمان سے ہی صبر شکر کی صفات پیدا ہوتی ہیں اور صبر و شکر ہی کے ذریعے مومن بلند سے بلند درجات پاتا ہے۔ (از شعور حیات) یہی ہے علم و عرفان اور جہالت میں فرق، اللہ تعالیٰ ہمیں علم و عرفان کی دولت سے مالامال کرے آمین ثم آمین۔
Ayahs 53:31–32

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ اور اس نے خلقت کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو ان کے اعمال کا برا بدلہ دے اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دے

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

جو چھوٹے گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے بچتے ہیں بیشک تمہارا رب بڑی بخشش والا ہے اور تم کو خوب جانتا ہے جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ جو پرہیز گار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے

اچھے برے سب کو بدلہ ملے گا تشریح : ان آیات میں مختلف موضوعات پر بات چیت کی گئی ہے۔ مثلاً سب سے پہلے تو انسان اور کائنات کی تخلیق کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ بےمقصد پیدا نہیں کئے گئے بلکہ کائنات انسان کے لیے اور انسان امتحان کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ جو نیک اعمال کیوجہ سے پاس ہوگیا وہ جنت میں جگہ پائے گا اور جو برے اعمال کی وجہ سے فیل ہوگیا تو وہ دوزخ میں جگہ پائے گا۔ اب مسئلہ پیدا ہوتا ہے اچھے برے اعمال کا، تو یہ کافی تفصیل سے بحث ہوچکی ہے یہاں مختصراً بتایا جا رہا ہے کہ جو چھوٹے گناہ ہیں وہ بڑی نیکیوں کی وجہ سے اللہ معاف کردے گا اور وہ گناہ بھی اللہ نے معافی کے دائرے میں رکھے ہیں کہ جن کو سوچا گیا یا جن کی طرف قدم بڑھایا گیا اور بس، عمل کرنے سے رک گئے۔ یہ بڑی مشکل بات ہے۔ بس یوں سمجھ لینا چاہیے کہ ایک دودھ کی بھری بالٹی میں ایک دو قطرے نجاست کے پوری بالٹی دودھ کو نجس کرسکتے ہیں۔ پھر کیوں نہ چھوٹے گناہوں سے ہی خود کو روک لیا جائے۔ پودا تو پودا ہی ہوتا ہے چاہے خبیث ہو چاہے مفید۔ بہتر یہی ہے کہ اپنی زندگی کے باغ کو مفید اور خوشبودار پودوں سے ہی سجایا جائے تاکہ قریب سے گزرنے والا خوشبو سے لطف اندوز ہو اور بیٹھنے والا سائے اور پھل سے فائدہ اٹھا سکے۔ جھوٹ بظاہر بڑا چھوٹا سا گناہ ہے مگر گناہوں کی جڑ (بنیاد) ہے۔ بہرحال اسی سلسلے میں حدیثملاحظہ فرمائیے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ' سات ہلاکت میں ڈالنے والے امور سے بچو (لوگوں نے) پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! یہ کیا ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ' اللہ کے ساتھ شرک جادو کسی کو ناحق قتل کرنا سود کھانا مڈھ بھیڑ کے دن فرار اور بھولی بھالی پاک دامن مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا۔ (بخاری ومسلم ) اس کے علاوہ بیشمار گناہ ہیں کہ جن کی وجہ سے معاشرہ میں بد امنی اور شروفساد پھیلایا جائے۔ اس کے بعد یہ نکتہ بھی واضح کردیا گیا کہ نیکی و بدی کرنے والے اللہ کی نظر میں ہیں۔ کوئی کتنا بھی پروپیگنڈہ کرلے کہ میں نیک ہوں یا فلاں شخص برا ہے۔ تو اس سے اچھا شخص برا یا برا شخص نیک نہیں ہوسکتا۔ نیتوں کے بھید تو اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ تو اس قدر علیم وخبیر ہے کہ بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے کہ یہ زندہ رہے گا کتنی عمر پائے گا زندگی کس طرح گزارے گا اور پھر کب اور کس طرح مرجائے گا۔ اس لیے اپنے بارے میں یا دوسروں کے بارے میں برا گمان کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اپنے منہ میاں مٹھو بننا کسی صورت بھی اچھی بات نہیں۔ کیونکہ اللہ فرماتا ہے : وہی (اللہ) خوب جانتا ہے اس کو جو بچ کر چلا۔ (32) بہر حال نیک انسان روشنی ہے اپنے لیے اور تمام خلق خدا کے لیے۔ زندگی ایک کتاب ہے وعدہ ہے فرض ہے اور بہت بڑا امتحان ہے۔ جو ان حقیقتوں سے واقف ہو کر زندگی گزارتے ہیں وہی کامیاب انسان ہوتے ہیں۔ نیکی اور بدی بڑی قریب قریب رہتی ہیں۔ ہم اس کی وضاحت اس حدیث شریف سے کرتے ہیں۔ حضرت نواس بن سمعان انصاری ؓ بیان کرتے ہیں۔ کہ ' میں نے رسول اللہ ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا حضور ﷺ نے فرمایا ' نیکی حسن خلق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکا پیدا کرے اور تو اس بات کو ناپسند کرے کہ لوگوں کو اس کا پتہ چلے۔ (مسلم از اسوہ حسنہ ' بنت الاسلام) آخر میں یہی کہنا چاہوں گی کہ گناہ کرنے کے لیے ایسی جگہ تلاش کرنی چاہیے کہ جہاں اللہ سے چھپ کر گناہ کیا جائے۔ مگر ایسی تو کوئی بھی جگہ نہیں ہے۔ وہ تو اندھیرے ' اجالے ' کو نے کھدرے ' فضاؤں میں زمین کے اندر ہر جگہ ہر وقت دیکھ رہا ہے۔ اور اللہ اسی کو پسند کرتا ہے جو گناہوں سے بچے۔ اللہ ہماری مدد فرمائے اور ہمیں اپنے مقبول ترین بندوں میں شامل کردے اور ہم پر ہمارا حساب آسان کردے اور جنت الفردوس میں جگہ دے (آمین)