52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 52:1–12

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

کوہ طور کی قسم۔

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اور لکھی گئی کتاب کی قسم

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

جو کشادہ اوراق میں لکھی گئی ہے

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور آباد گھر کی قسم

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور اونچی چھت کی قسم

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور ابلتے ہوئے دریا کی قسم

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

کہ تمہارے رب کا عذاب ہو کر رہے گا۔

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

اور اس کو روکنے والا کوئی نہیں

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

جس دن آسمان لرزنے لگے کپکپاکر

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پہاڑ چلنے پھرنے لگیں گے۔

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

جو اپنی بیہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔

آخرت کے لیے اللہ کی دی گئی قسمیں کہ یہ یقینی ہے تشریح : قرآن پاک پورے کا پورا بہترین مضامین کا مجموعہ ہے۔ مگر پھر بھی کسی کسی سورت کی کوئی خاص فضیلت احادیث سے ملتی ہے۔ مثلاً حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں ' زمانہ حج میں میں بیمار تھی حضور ﷺ سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ نے فرمایا تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کرلو چناچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت آنحضرت ﷺ بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور والطور کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (بخاری از ابن کثیر) اس سورت میں قیامت کا ایسا ہولناک منظر پیش کیا گیا ہے کہ ہر ذی شعور انسان پر اس کا بےحد اثر اور خوف طاری ہوجاتا ہے۔ جو کہ اس وقت کے نافرمان لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے ضروری تھا۔ اور آج کے لوگوں کے لیے اور تاقیامت لوگوں کے لیے ضروری ہے۔ مکی سورتوں میں خاص طور سے توحید ایمان اور آخرت پر یقین کرنے کی پر زور تاکید کی گئی ہے جیسا کہ اس سے پہلے ہواؤں زمین وغیرہ کی قسم رب العزت نے کھائی تو یہاں آخرت کا یقین دلانے کے لیے الطور لکھی ہوئی کتاب منتشر اوراق بیت معمور بلند آسمان اور موجیں مارتے ہوئے سمندر کی قسم کھائی ہے۔ ان چیزوں کی قسم اسی لیے کھائی ہے کیونکہ یہ کائناتی نظام اور انسانی ضروریات کی واضح چیزیں ہیں۔ بہت سی تفاسیر پڑھنے کے بعد میری سمجھ میں یہی آیا ہے کہ الطور یعنی خاص پہاڑ اس کی خاصیت یہ ہے کہ اس پر حضرت موسیٰ کو نبوت دی گئی۔ پھر لکھی ہوئی کتاب کا ذکر ہے جس کے ساتھ رقیق یعنی وہ باریک جھلی کہ جس پر توراتانجیل، زبور اور کئی صحف آسمانی لکھے جاتے ہیں۔ تو اس سے مراد تمام آسمانی کتابیں ہیں۔ ان سب میں وہی آسان عام فہم پیغام توحید ہی دیا گیا ہے اسی لیے اسے ' کھلی کتاب کہا گیا ہے۔ تیسری چیز ' آباد گھر اس کے لیے بھی بہت سی آراء ہیں حضرت حسن بصری (رح) نے اس کا اشارہ خانہ کعبہ کی طرف کیا ہے۔ کیونکہ یہ خانہ خدا ایسی جگہ پر ہے کہ جہاں کچھ بھی نہ تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ڈھائی سو سال قبل یعنی ان آیات کے نازل ہونے سے اتنا عرصہ پہلے اللہ کے حکم سے اپنی بیوی اور بچہ کو یہاں اللہ کے سہارے چھوڑ دیا تھا اور پھر کچھ مدت بعد وہاں آ کر اللہ کا گھر تعمیر کیا جو اس وقت سے آج تک اور تا قیامت مسلمانوں کا مرکز اور انتہائی محترم و مکرم عبادت گاہ بن چکی ہے۔ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس فرمانبرداری کا ان کو بےمثال اجر اس دنیا میں دیا آخرت کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں۔ تمام دنیا سے لوگ لبیک لبیک پکارتے ہوئے دیوانہ وار یہاں حج کی سعادت حاصل کرنے آتے ہیں اور ہمیشہ طواف کے لیے لوگو سے بھرا رہتا ہے اسی لیے اس کو ' آباد گھر کہا گیا ہے۔ چوتھی چیز جس کی رحمن نے قسم کھائی وہ آسمان ہے۔ آسمان کی بابت بڑی تفصیل سے بیان سورة قٓ میں گزر چکا ہے۔ پانچویں چیز ' البحر المسجور کا ذکر ہے۔ اس کی بھی بڑی مختلف تفاسیر کی گئی ہیں جن کی روشنی میں میں اس کے معنی موجزن ' بھرا ہوا مقید یعنی حدود میں رکھا ہوا اور مخلوط سمندر لے سکتی ہوں۔ کیونکہ ہمارے زمینی سمندر ایسے ہی نظام کے تحت بنائے گئے ہیں۔ جب ہم سمندروں کی ساخت انتظام اور فوائد پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں اس عظیم تخلیق پر نہ صرف حیرت ہوتی ہے بلکہ ہمارا سر اللہ کی عظمت اور شکر کے اعتراف میں جھک جاتا ہے۔ یہ کشش ثقل سرفس ٹینشن یعنی فزکس کے بےمثال اصولوں اور کمالات کا ایک عجوبہ روزگار ہے۔ جو قدرت کا عظیم الشان کرشمہ ہے۔ کتنی بڑی حکمت ہے کہ اس قدر بڑا پانی کا ذخیرہ اس زمین کے گیند پر رکھ دیا گیا ہے یہ گیند نہ صرف فضا میں معلق ہے بلکہ بڑی تیزی سے گھوم بھی رہی ہے۔ یہ سمندر اپنے اندر بیشمار خزانے چھپائے ہوئے ہیں۔ ان کی بناوٹ اتنی زبردست کہ نہ تو وہ زمین کے اندر جذب ہورہے ہیں اور نہ ہی ایک مقررہ حد سے اوپر ہو رہے ہیں نہ نیچے جارہے ہیں۔ کروڑوں سال سے وہ ایک خاص حد پر رکے ہوئے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں اسی قدرتی ڈیم سے پانی بادل کی مدد سے پہنچایا جاتا ہے۔ جو کہ پانی میں موجود کثافت اور نمک سے بالکل پاک صاف ہوتا ہے جبکہ یہی نمک سمندر کے پانی کو سڑنے خراب اور بدبودار ہونے سے بچاتا ہے۔ اس کے اندر ایسا بہترین انتظام کیا گیا ہے کہ بیشمار مخلوقات پیدا ہوتی پلتی بڑھتی اور مرتی رہتی ہیں اور بہت زیادہ تو انسانی غذا کے کام بھی آتی ہیں مگر کیا مجال کہ سمندر کے پانی میں بد بو پیدا ہوجائے۔ کیا یہ کمالات کسی بندے بشر کے اختیار میں ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ مدتوں سے سائنسدان اللہ کی ان حیرت انگیز تخلیقات پر غور و فکر کرکے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر انتہائی محنت کوشش کے باوجود کچھ معمولی سے راز جان سکے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اتنا بڑا ' زبردست حکمت والا رب ذوالجلال جب ہم سے یہ کہتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک دن بالکل فنا ہوجائے گا سب لوگ مرجائیں گے پھر دوبارہ میرے حکم سے زندہ ہو کر میرے حضور پیش ہوں گے اور میں ان کو ان کے اعمال کے مطابق بدلہ ضرور دوں گا۔ تو اس بات کو یقین سے مان لینے میں آخر کون سی رکاوٹ ہے۔ اللہ جو اس قدر حکمت قدرت اور عظمت والا ہے۔ اس نے ہماری موجودہ زندگی کو نیک پاک اور مفید بنانے کے لیے ہی تو ہمیں یہ خبر دی ہے کہ ہمیں بدلہ ضرور ملے گا اور ہم دوبارہ زندہ ضرور کئے جائیں گے اور اللہ نے فرمایا ' جس دن آسمان لرزنے لگے کپکپا کر۔ اور پہاڑ چلنے پھرنے لگیں گے۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔ جو اپنی حجت بازیوں میں کھیل کود رہے ہیں۔ (آیات 9 تا 12) ایسے لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا ؟ اگلی آیات میں دیکھیں۔
Ayahs 52:13–16

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

جس دن ان کو جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے۔

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

تو کیا یہ جادو ہے یا تم کو نظر نہیں آتا

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

اس میں داخل ہوجاؤ۔ صبر کرو یا نہ کرو تمہارے لیے برابر ہے جو کام تم کیا کرتے تھے یہ بدلہ انہی کا تمہیں مل رہا ہے۔

گنہگاروں کی حالت حساب کے دن تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں قیامت کا ہلکا سا نقشہ بیان کیا گیا ہے کہ ' جس دن آسمان لرزنے لگے کپکپا کر اور پہاڑ چلنے پھرنے لگیں گے کائنات میں کشش ثقل اور گردشی حرکت نے ناقابل یقین توازن قائم کر رکھا ہے۔ ایک دن یہ توازن اللہ کے حکم سے ختم ہوجائے گا زمین کی کشش ثقل ختم ہوجائے گی تو زمین پر موجود ہر چیز زمین کو چھوڑ کر اڑنا شروع کر دے گی۔ زمین کے ان حالات کا ذکر بیشمار دفعہ کیا جاچکا ہے اور سائنس دان اس حقیقت کو مان رہے ہیں۔ اور قیامت کے قریب آنے کی نشانیاں سائنس اپنی زبان میں اور قرآن و احادیث اپنے طور پر بیان کر رہے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ ' زمانہ قریب ہوجائے گا اور علم اٹھا لیا جائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے اور (دلوں میں) بخیلی ڈال دی جائے گی اور ہر ج بکثرت ہوگا۔ صحابہ کرام نے پوچھا کہ ہرج کیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ قتل۔ (مسلم) اسی طرح قیامت کا نقشہ حدیث میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ' اللہ تعالیٰ زمین کو مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور فرمائے گا کہ میں ہوں بادشاہزمین کے بادشاہ کہاں ہیں۔ (بخاری) جہنم کا ذکر قرآن پاک میں بہت دفعہ آچکا ہے۔ دوزخ ایک ایسی جگہ ہوگی جہاں جسمانی روحانی اور ذہنی اذیت کے ہر طرح کے سامان ہوں گے غرض ذلت و رسوائی اور دکھ درد کا ایسا ٹھکانا کہ جہاں کوئی مددگار اور غمگسار نہ ہوگا۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ' دوزخ والوں میں سے سب سے ہلکے عذاب والا وہ شخص ہوگا جسے آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گی (ان) جوتیوں کی حرارت سے اس کا دماغ کھولتا رہے گا۔ (صحیح مسلم) پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ یہی وہ عذاب ہے جس کی خبر تمہیں دنیا کی زندگی میں دی گئی تھی مگر کیونکہ تم نے بالکل پرواہ نہ کی اور گناہوں میں ڈوبے رہے اس لیے یہ سزا تم نے خود اپنے لیے چن لی ہے اب اسے بھگتو !۔
Ayahs 52:17–31

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

جو کچھ ان کے رب نے انکو بخشا وہ اس کی وجہ سے خوشحال ہوں گے اور ان کے رب نے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالیا

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

اپنے اعمال کے بدلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو۔

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

تختوں پر جو برابر برابر بچھے ہوئے ہیں تکیے لگائے بیٹھیں۔ اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کو بیاہ دیں گے (رفیق کار بنا دیں گے)

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولادبھی ایمان میں ان کے پیچھے چلی ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے درجے تک پہنچادیں گے اور ان کے اعمال میں سے کچھ کم نہ کریں گے ہر شخص اپنے اعمال میں پھنسا ہوا ہے

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

اور جس طرح کے میوے اور گوشت کو ان کا جی چاہے گا ہم ان کو دیں گے۔

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب جھپٹا کریں گے جس کے پینے سے نہ نشہ چڑھے گا نہ کوئی گناہ کی بات ہوگی۔

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور نوجوان خدمت گار ان کے آس پاس پھریں گے جو ایسے خوبصورت ہوں گے جیسے چھپائے ہوئے موتی

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے آپس میں گفتگو کریں گے۔

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر میں اللہ سے ڈرتے رہتے تھے۔

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

تو اللہ نے ہم کو لو کے عذاب سے بچایا اور ہم پر احسان کیا

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے بیشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے۔

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

تو اے پیغمبر تم نصیحت کرتے رہو تم اپنے رب کے فضل سے نہ تو کاہن ہو اور نہ ہی دیوانے ہو۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

کیا کافر کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے اور ہم اس کے حق میں زمانے کی گردش کے منتظر ہیں۔

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

کہہ دو کہ انتظار کئے جاؤ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

حساب کے دن پرہیزگاروں کے حالات تشریح : کس قدر خوبصورت اور پیارا بدلہ ہے جو نیک پاک اور متقی لوگوں کو دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جہاں سزا اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے تو ساتھ ہی اجر عظیم جنت کا ذکر بھی کرتا ہے۔ تاکہ انسان دنیا کی زندگی عدل و انصاف اور خوش اسلوبی سے گزارے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ دنیا کی گہما گہمی میں آخرت کو بھولنے لگتا ہے اسی لیے رب العزت نے انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے نبی ﷺ کو قرآن دے کر بھیجا اور پھر پیار سے تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ ہدایت دینے پر جو کچھ آپ ﷺ کو کفار کی طرف سے سخت سست سننا پڑتا ہے اور سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ان سے گبھرائیں نہیں بلکہ بڑی مستعدی اور سکون سے اپنا کام کیے جائیں۔ کیونکہ انسان کو یاد دہانی کی ضرورت ہر وقت رہتی ہے اس لیے یہ فرض امت مسلمہ کے ہر فرد کے ذمہ لگا دیا کہ اللہ و رسول کا پیغام لوگوں تک ہر صورت پوری لگن اور خلوص سے پہنچاتے رہیں اور اس کے لیے شرط ہے کہ خلوص مستعدی اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے یہ فرض ادا کریں۔ کیونکہ اگر اس کام میں بد نیتی اور غرور شامل ہوگیا تو سب کیا کرا یا غارت ہوجائے گا۔ اس لیے انسان کو دنیا داری کے تمام کام کرتے ہوئے اس رب اعلی کا خیال اس کا پیغام ' اس کی رحمتیں برکتیں اور جنت و دوزخ کو ہر دم دل و دماغ میں رکھنا چاہیے۔ اور یہ کہاں سے ملتا ہے ؟ قرآن و سنت سے ملتا ہے۔ قرآن پر تفکر اور تدبر ہر مسلمان کا اوڑھنا بچھونا ہونا انتہائی ضروری عمل ہے۔ جب ہم اس طرح کی پاکیزہ ' مطمئن اور خوبصورت زندگی گزارتے ہیں تو ہماری روح اور ہمارا چہرہ نور ایمان سے جگمگا اٹھتا ہے۔ ہمارے اندر ایک ایسا توکل اور تدبر پیدا ہوجاتا ہے جو ہمیں زندگی گزارنے کے لیے انتہائی نڈر معقول اور ناقابل تسخیر انسان بنا دیتا ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں ہمارے جسم و جان ہماری زندگی ہمارے مال اور اولاد والدین سب کچھ اللہ کے پیدا کئے ہوئے اسی کے احسان مند اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ پھر کیوں نہ ہم اس عظیم مہربان کی فرمانبرداری ہی میں اپنی زندگیاں بسر کریں اور یہ عارضی زندگیاں اس ہمیشہ کی بہترین زندگیوں پر قربان کردیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ دو عالم سے کرتی ہے بےگانہ دل کو عجب چیز ہے لذت آشنائی گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا (علامہ اقبال (رح) ) اگر ہم ذرا سا غور کریں تاریخ کو دیکھیں تو ہمیں یہ راز فوراً معلوم ہوجاتا ہے کہ اتحاد توکل علی اللہ خلوص تنظیم اور ایمان کی مضبوطی خودداری کے ساتھ۔ اور اصول اسلام۔ یہی وہ ہتھیار ہیں کہ جن کی بدولت قوموں نے ترقی اور کامیابی حاصل کی اور انہیں تمام ہتھیاروں کی کمزوری سے قومیں ناکام و نامراد ہو کر ذلیل و خوار ہوئیں۔ آیت 17 سے 30 تک ہمیں یہی پیغام دیا گیا ہے غور کریں۔ ہم اس کو پہلے ہی پکارتے تھے (دعائیں کیا کرتے تھے) بیشک وہ (اللہ) احسان کرنے والا مہربان ہے۔