51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 51:1–6

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

بکھیرنے والیوں کی قسم جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر پانی کا بوجھ اٹھاتی ہیں

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر آہستہ آہستہ چلتی ہیں۔

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر چیزیں تقسیم کرتی ہیں۔

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچا ہے۔

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور انصاف کا دن ضرور واقعہ ہوگا

ہواؤں کی قسم اور ہواؤں کے معمولات تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت اپنے بندوں سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ہواؤں کی قسم کھاتے ہوئے یقین دلاتا ہے کہ ” انصاف کا دن ضرور واقع ہوگا “۔ ہواؤں کی قسم اس لیے کھاتا ہے کہ یہ بھی کائنات کے کارخانہ کا ایک بڑا اہم اور عام فہم سا پرزہ ہے۔ مگر ہے بڑا اہم کیونکہ ان کی موجودگی انسانی زندگی اور اس کی ضروریات زندگی پورا کرنے والے اہم اجزاء کی تکمیل حیات اور نشوونما کے لیے بےحد ضروری ہے۔ کیونکہ دنیا کی ہر چیز زندہ ہے اور زندگی کی بقاء کے لیے ہوا بےحد ضروری جزو ہے۔ تیز چلتی ہیں تو تخم پاشی یعنی بیجوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں اور یہ بیج لگانے کا قدرتی عمل ہوتا ہے۔ شہروں کی گندی ہوا جنگلوں کو لے جاتی ہیں۔ مراکز میں الگ الگ ٹمپریچر کی وجہ سے حملی رو (Convectional Currents) ہوا میں بلند ہوتی ہیں۔ ہر طرف سے آنے والی ہوائیں زمین کے ہر مقام تک پہنچتی ہیں۔ زمین کی ساخت اور پہاڑوں کے مناسب سلسلے ہواؤں کے پیدا کرنے اور ان کو مناسب رفتار اور مناسب ٹمپریچر دینے کے لیے بےحد ضروری ہیں۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ ” اللہ نے زمین کو 23.5 ڈگری کے جھکاؤ پر بنایا ہے۔ اس طرح قطب شمالی اور قطب جنوبی کے ٹھنڈا ہونے کا عمل اور سورج کا اثر سال کے ہر دن میں مختلف ہوتا ہے۔ اس طرح ہواؤں کی رفتاروں میں کمی کا اثر بھی پیدا ہوتا ہے۔ جیسے جیسے استوا کے علاقے اور ہر ایک زمینی قطب کے درمیان ٹمپریچر کا فرق کم ہوتا ہے ہوائیں بھی زیادہ متناسب رفتار سے چلنا شروع ہوتی ہیں۔ کیونکہ کرہ باد (فضا) کی موٹائی قطبین کی نسبت استوائی خطے پر مختلف ہوتی ہے اس لیے کرہ باد کے اوپری اور نچلے حصے میں ہواؤں کی رفتار بھی ان دونوں حصوں پر مختلف ہوگئی۔ اس طرح ہواؤں میں گرم اور ٹھنڈے رخ کے نظام پیدا ہوئے اور ہواؤں میں یہ خاصیت بھی پیدا ہوگئی کہ وہ کسی ایک سمت میں چلنے کی بجائے مختلف سمتوں میں چلتی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے زمین پر پہاڑوں کے نمونوں کی ایک طرح سے کشیدہ کاری اس انداز میں کردی ہے کہ زمین پر سال کے ہر دن ہوا کا ایک نیا رخ پیدا ہوتا ہے اور ہوا ہر سمت سے چلتی ہے۔ ہواؤں کی یہ مہم یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی اللہ نے کرہ باد کو دو ایسی اہم خصوصیات عطا کی ہوئی ہیں تاکہ گرم اور سرد مراکز میں ٹمپریچر کا فرق ضرورت سے زیادہ نہ بڑھ جائے اور ہوائیں ناقابل برداشت نہ ہوجائیں۔ پہلی خصوصیت اوزون کی تہہ ہے جو ضرورت سے زیادہ شمسی حرارت کو اپنے اندر جذب کر کے ٹمپریچر کو بےقابو نہیں ہونے دیتی دوسری خصوصیت ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کا کمبل جیسا اثر ہے جو زمین کو ٹھنڈا یخ ہونے سے بچاتی ہے۔ اگر یہ نظام موجود نہ ہوتا تو وہ آندھیاں جو ہمیں خوفزدہ کرتی ہیں ان ہواؤں کے مقابلہ میں نرم رو نسیم سحر کی طرح ہوتیں۔ دراصل طوفان اور شدید آندھیوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمیں دکھایا جائے کہ ہوائیں اصل میں کس طرح کی ہوتی ہیں “ ؟ (از قرآنی آیات اور سائنسی حقائق) یہ توضیحات تو کچھ لمبی ہی ہوگئی ہیں۔ سیدھے سادھے الفاظ میں ہم اس کو یوں بھی بیان کرسکتے ہیں۔ کہ ہماری کائنات کے نظم ونسق میں ہواؤں کا بہت زیادہ اور اہم حصہ ہے۔ کیونکہ جو کچھ بیان کیا جاچکا ہے اس کو اختصار سے یوں کہیں گے کہ سمندر کے پانی کو دور دراز علاقوں میں زراعت اور دیگر کاموں کے لیے لے جانا اور تمام مخلوقات کے کھانے پینے نہانے دھونے اور صنعت وحرفت کو چلانے کا کام ہواؤں کے ہی ذمہ ہے اور پھر پانی کی زیادتی اور کمی کو روکنا یہ بھی ہواؤں کے ہی ذریعہ سے ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ کبھی تیز چلتی ہیں کبھی بخارات کو اوپر اٹھاتی ہیں کبھی بھاری بادلوں کو دھکیل کر دور دراز لے جاتی ہیں پھر مناسب جگہ پر مناسب مقدار میں پانی برساتی ہیں اور باقی بادلوں کو کسی اور ضرورت کی جگہ پر لے جاتی ہیں۔ تو یہ اس قدر اہم ڈیوٹی دے رہی ہیں تو اس قدر اہم جزوِ کائنات کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ کس بات کی یاددہانی میں زور شدت اور پختگی پیدا کر رہا ہے کہ ” انصاف کا دن ضرور واقع ہوگا “۔ (آیت 6) پھر بھی انسان دھیان نہ دے اپنے اعمال اور انجام کی طرف تو پھر اس کی مرضی ہے۔
Ayahs 51:7–14

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

اور آسمان کی قسم جس میں جال دار رستے ہیں

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

کہ (اے اہل مکہ) تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

اس سے وہی پھرتا ہے جو (اس اللہ) کی طرف سے پھر جائے۔

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

اٹکل دوڑانے والے ہلاک ہوں

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

جو بیخبر ی میں بھولے ہوئے ہیں۔

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

پوچھتے ہیں کہ ” جزا کا دن کب ہوگا ؟

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

اس دن ہوگا جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا۔

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

اب اپنی شرارت کا مزہ چکھو یہ وہی ہے جس کے لیے تم جلدی مچایا کرتے تھے۔

آسمان کی قسم، اور قیامت کا عذاب تشریح : جیسا کہ قرآن مجید کا یہ انداز ہے کہ چلتے چلتے ہلکے پھلکے جملوں میں رشد و ہدایت، ڈراوے اور انعام، حکمت و دانائی اور کائنات کے بڑے بڑے رازوں کی طرف اشارہ کردیتا ہے۔ یہاں بھی آسمانوں کی قسم کھاتے ہوئے آخرت کے دن، سزا و جزا اور خوفناک سزا کا ذکر کردیا ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آسمانوں کی قسم کیوں کھائی۔ یہ اس لیے کہ ہواؤں کی طرح آسمان بھی کائنات کے اجزاء میں سے ایک نہایت اہم جز ہے۔ اور پھر آسمان کی خاصیتوں میں سے ایک خاصیت کا ذکر یوں کردیا کہ ” جس میں جال دار راستے ہیں “۔ (آیت 7) اس کو سمجھنے کے لیے ہم موریس بو کائیے کی کتاب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔” جدید فلکیات کے بموجب کائنات میں مادہ کے بیشمار لمبے چوڑے بادل بکھرے ہوئے ہیں جن کو ماورائے کہکشانی سدیم کہا جاتا ہے، ان سدیموں میں سے بعض ابھی دخان کی شکل میں ہیں اور بعض میں مادہ منجمد ہو کر ستاروں کی شکل اختیار کر گیا ہے ہمارا کہکشانی جہان بھی ایسا ہی ایک سدیم ہے جس کا مادہ منجمد ہو کر مختلف سائز کے ستارے بن گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان ستاروں کی تعدادایک کھرب ہے۔ ہمارے کہکشانی جہان کی شکل چکی کے پاٹ کی سی ہے۔ اس پاٹ کا قطر تقریباً ایک لاکھ نوری سال ہے اور موٹائی 20 ہزار نوری سال ہے کہکشانی جہان کے مرکز پر ستاروں کا ہجوم سب سے زیادہ ہے۔ ہمارا سورج بھی ایک ستارہ ہے جو اس کہکشانی جہان کے مرکز سے تقریباً 20 ہزار نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ اور دوسرے ستاروں کی طرح اس کے مرکز کے گرد چکر لگا رہا ہے۔ جس راستے پر سورج چل رہا ہے وہی اس کا مدار ہے یہ مدار اتنا لمبا ہے کہ سورج اپنی سرعت رفتار کے باوجود اس مدار پر ایک چکر 22 کروڑ سال میں پورا کرتا ہے ”۔ (از بائیبل قرآن اور سائنس) یہ تو ایک بڑے ہی معمولی راستہ کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ کائنات جو کہ بےحد و حساب وسیع و عریض ہے اور اس میں بیشمار ستاروں، سیاروں اور نہ جانے کیا کیا چیزیں ہیں جن کا جال بچھا ہوا ہے۔ سب آپس میں ملے ہوئے مگر روشن راستے بنائے ہوئے اپنے اپنے راستے پر چلتے چلے جا رہے ہیں۔ سبحان اللہ، اللہ اکبر کیا شان ہے اس کی ؟ کس حکمت اور کاریگری کا مظاہرہ کرتے ہیں یہ سب اجرام فلکی ! مگر یہ سب اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے، چل رہے ہیں اور آخر کار اللہ کے حکم سے ختم بھی ہوجائیں گے کیونکہ ہر چیز کا فنا ہوجانا اور کسی دوسری شکل میں تبدیل ہوجانا یہ سب اللہ کے نظام میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ بہت بڑی مثال دے کر اہل مکہ اور تمام مخلوق خدا کو یہ یقین دلا رہا ہے کہ اسی طرح تم لوگ بھی ختم ہوتے رہتے ہو مگر تمہارا یہ ختم ہونا صرف جسمانی لحاظ سے ہے کیونکہ تمہاری روحیں موجود رہتی ہیں اور جب اللہ کا حکم ہوگا قیامت برپا ہوگی تو پھر تم سب زندہ ہو کر اللہ کے حضور سزا و جزا کے لیے اکٹھے کیے جاؤگے۔ تو اس بات کا یقین تم ابھی کرلو اور خواہ مخواہ جھگڑے میں نہ پڑو۔ اس دن تمہیں اپنے اس سوال کا جواب مل جائے گا کہ ” جزا کا دن کب ہوگا “ ؟ پھر اس دردناک عذاب کا ذکر ہے جو بار بار قرآن پاک میں بڑا واضح کر کے بتایا گیا ہے۔ استغفر اللہ اور عذاب کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے کہ ” جس دن وہ آگ پر الٹے سیدھے پڑیں گے “ (آیت 13) جو لوگ بھی ان خبروں کو جو قرآن میں دی گئی ہیں سچ سمجھتے ہیں اور آخرت پر یقین کر کے دنیا کی زندگی قرآنی علم و عمل سے گزارتے ہیں بیشک وہ ایسے ہی مبارک لوگ ہیں جن کا ذکر قرآن پاک ان الفاظ میں کرتا ہے۔
Ayahs 51:15–23

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

بیشک پرہیزگار بہشتوں اور چشموں میں عیش کر رہے ہوں گے۔

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

اور جو جو نعمتیں ان کا رب ان کودے گا وہ لے رہے ہونگے بیشک وہ اس سے پہلے نیکیاں کرتے تھے۔

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

رات کے تھوڑے سے حصے میں سوتے تھے

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

اور سحری کے اوقات میں بخشش مانگا کرتے تھے۔

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے دونوں کا حق ہوتا تھا

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور یقین کرنے والوں کے لیے زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تمہاری جانوں میں، تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے۔

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

تو آسمانوں اور زمین کے مالک کی قسم یہ اسی طرح قابل یقین ہے جس طرح تم بات کرتے ہو

پرہیز گاروں کی بہترین زندگیاں تشریح : کس قدر عجیب بات ہے کہ ایک ایسی ہستی کی بات جس نے ہمیں پیدا کیا اور یہ انتہائی عجیب، مشکل اور پیچیدہ کام ہے پھر ہمارے آرام و آسائش اور نشوونما کے لیے اتنی بڑی کائنات جو ایسے ایسے عجیب و غریب اجرام فلکیات سے زمینی نعمتوں سے ہواؤں سے جو کہ بیشمار فوائد کا ذریعہ ہیں اسی طرح ان گنت چیزیں جو ہمارے اردگرد اوپر نیچے بیشمار پھیلی ہوئی ہیں جو ہر صورت اپنی بناوٹ سجاوٹ اور فائدوں کے ذریعے اپنے خالق ومالک کی بڑائی کا اظہار کر رہی ہیں۔ بھلا وہ جو بات بتاتا ہے وہ کیونکر غلط ہوسکتی ہے ؟ ہرگز غلط نہیں ہوسکتی بلکہ اس میں تو شک و شبہ کا ایک ذرہ برابر بھی امکان نہیں۔ یہی وہ یقین و ایمان ہے جو پرہیزگار لوگ رکھتے ہیں۔ جن کی تعریف متقین کہہ کر کی گئی ہے۔ یعنی ڈرنے والے اور بچنے والے۔ کس سے ڈرنا اور بچنا ؟ اپنے معبود برحق الہ العٰلمین اور رب العٰلمین کی ناراضگی سے ڈرنا اور بچنا۔ اس ڈرنے اور بچنے کا درجہ اتنا بڑا آخر کیوں رکھا گیا ہے کہ متقین کو دنیا کی اس چھوٹی سی زندگی کے بعد آخرت میں اس قدر بہترین انعامات دئیے جائیں گے ؟ کیونکہ وہ آخرت کے دن پر انصاف کے دن پر پورا یقین رکھتے ہیں یہ یقین ہی انسان کے لیے سب سے بڑا رہبر، استاد، چوکیدار اور لیڈر ثابت ہوتا ہے۔ وہ کبھی بھی دنیاوی زندگی کے عیش و آرام میں اللہ کی نافرمانی نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ صرف اللہ ہی بےحد رحم کرنے والا، شفقت کرنے والا اور ہر مشکل میں مدد کرنے والا ہے رحمتوں اور برکتوں کا سر چشمہ صرف اللہ ہی ہے اور انسان کی کامیابی کا سرچشمہ بھی صرف تقویٰ ہی ہے۔ ” اللہ تو متقیوں کی نذریں قبول کرتا ہے “۔ ” بیشک اللہ متقیوں کو محبوب رکھتا ہے “۔ ” جنت تو تیار ہی متقین کے لیے کی گئی ہے “۔ (القرآن) ” ایسے ہی لوگ نیکیاں کرتے ہیں رات کے تھوڑے حصے میں سوتے ہیں سحری کے اوقات میں بخشش مانگا کرتے ہیں اور مال میں سے مانگنے والے اور نہ مانگنے والوں کا حق ادا کرتے ہیں “۔ (آیات 19, 18, 17) جب آدمی اپنے مالک کا اس قدر فرمانبردار ہوجاتا ہے تو پھر بھلا وہ مہربان خوش ہو کر اس کو دنیا و آخرت کی نعمتوں، برکتوں اور آسائشوں سے مالا مال کیوں نہ کرے گا۔ اس لیے تقویٰ کی راہ ہی بہترین ہے اخلاق کے ماہرین کہتے ہیں کہ ” انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں۔ انسان کا زندگی گزارنے کا خاص مقصد ہوتا ہے اور وہ ہوتا ہے، فضائل و اخلاق کی بلندی، تقویٰ کی پابندی۔ اور یہ راستہ آسان نہیں لیکن اگر نیت صاف ہو، اللہ کی محبت ہی سب کچھ ہو اور انصاف کے دن پر یقین ہو تو منزل پالینا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ بلکہ زندگی میں سے ڈر، خوف اور حزن و ملال سب کچھ دور ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔” جو تقویٰ اختیار کرے اور اپنی حالت درست کرے، ایسے لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ حزن “۔ (الاعراف آیت 35) حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” اللہ سے ڈرو جہاں کہیں بھی تم ہو اور (اگر) برائی (ہو جائے تو اس) کے بعد نیکی کرلیا کرو، وہ (نیکی) اس (برائی) کو مٹا دے گی۔ اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آیا کرو ”۔ (ترمذی از اسوہ حسنہ) اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام جن لوگوں کے دلوں میں اتر جاتا ہے وہ انہیں رحمت اور سلامتی کا پیکر بنا دیتا ہے۔ سچ ہے کہ متقی کا چہرہ پر نور اور اس کی زندگی سب کے لیے رشد و ہدایت کا روشن چراغ ہوتا ہے۔ آخر میں اللہ کی حاکمیت اور نظام کائنات اور حسن تدبیر کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے کس عمدگی کے ساتھ ہر بندے بشر تمام مخلوقات کا رزق اور نصیب یعنی تقدیرلوح محفوظ میں لکھ کر رکھ چھوڑی ہے کہ وہ ہر ناممکن کام کو کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ تو ایسے قادر مطلق کی قسم کہ قیامت کا دن ضرور آئے گا۔ جزا و سزا ضرور دی جائے گی اور جنت و دوزخ کا وعدہ بالکل پکا اور سچا ہے۔ اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں۔ اگر وہ تمہیں ایک بوند پانی سے پیدا کر کے زندگی کے مختلف مراحل سے گزار کر جوان بوڑھا کرسکتا ہے تو بھلا اس کے لیے یہ کیسے مشکل ہے کہ اپنا کیا ہوا وعدہ پورا نہ کرے تمہیں دوبارہ زندہ کر کے بدلہ نہ دے ؟ یہ ضرور ہوگا۔ ایک تو خود ہماری زندگی جینا مرنا اس کی کھلی مثال ہے۔
Ayahs 51:24–30

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

بھلا تمہارے پاس ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب وہ ان کے پاس آئے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی جواب میں سلام کہا۔ دیکھا تو ایسے لوگ کہ نہ جان نہ پہچان۔

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

تو اپنے گھر جا کر ایک بھنا ہوا بچھڑا لائے۔

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

اور کھانے کے لیے ان کے آگے رکھ دیا اور کہنے لگے کہ ” آپ کھاتے کیوں نہیں ؟۔

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

اور دل میں ان سے خوف کھانے لگے۔ انہوں نے کہا کہ ” خوف نہ کیجئے “ اور ان کو ایک دانش مند بیٹے کی بشارت دی۔

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

تو (ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی) چلاتی ہوئی آئیں اور اپنے چپرے پر تھپکی ماری۔” کہ اوہو ایک تو بڑھیا اور دوسرے بانجھ۔

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

(میری اولاد کیسے ہوسکتی ہے) “ انہوں (فرشتوں) نے کہا ” ہاں تمہارے رب نے ایسے ہی فرمایا ہے بیشک وہ حکمت والا ہے اور خبردار بھی ہے۔

اللہ کی قدرت اور طاقت کی مثال تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب اسی 80 یا نوے 90 برس کے ہوئے تو ان کی دعا کے مطابق اللہ کی طرف سے فرشتے انہیں بیٹے کی خوشخبری دینے کے لیے آئے۔ جب وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر آئے تو انسانی شکل میں تھے اسی لیے وہ انہیں پہچان نہ سکے فرشتوں نے آتے ہی سلام کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں سلام کا جواب دیا اور ان کی مہمان نوازی کے لیے موٹا تازہ بچھڑا ذبح کرکے بھون کر مہمانوں کی ضیافت کے لیے لے آئے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو ان سے ڈر محسوس ہوا اس لیے کہ وہ کھا نہیں رہے تھے انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی ان کی بیوی نے اعتراض کیا میں بوڑھی اور بانجھ ہوچکی ہوں مجھے کیسے بیٹا پیدا ہوگا فرشتوں نے جواب دیا کہ آپ کے رب نے ایسے کہا ہے لہٰذا وہ ایسے ضرور کرے گا۔