50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 50:1–36

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

قۗ قرآن مجید کی قسم

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

لیکن ان لوگوں نے تعجب کیا کہ انہی میں سے ایک ڈرانے والا ان کے پاس آیا تو کافر کہنے لگے کہ ” یہ بات تو بڑی عجیب ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

بھلا جب ہم مرگئے مٹی ہوگئے تو پھر زندہ ہوں گے ؟ یہ زندہ ہونا عقل سے دور ہے

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

ان کے جسموں کو زمین جتنا کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہم کو معلوم ہے اور ہمارے پاس تحریری یاد داشت بھی ہے۔

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

بلکہ عجیب بات یہ ہے کہ جب ان کے پاس دین حق آپہنچا تو انہوں نے اس کو جھوٹ سمجھا سو یہ ایک الجھی ہوئی بات میں پڑ رہے ہیں۔

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیونکر بنایا اور کیونکر سجایا اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو دیکھو اسے ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ رکھ دیے اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگائیں

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

تاکہ رجوع کرنے والے بندے ہدایت اور نصیحت حاصل کریں۔

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور آسمان سے برکت والا پانی اتارا اور اس سے باغ اور گلستان اگائے اور کھیتی کا اناج۔

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور لمبی لمبی کھجوریں جن کا خوشہ تہ بہتہ ہوتا ہے۔

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

یہ سب کچھ بندوں کو روزی دینے کے لیے کیا ہے اور اس پانی سے ہم نے شہر مردہ (مردہ زمین) کو زندہ کیا بس اسی طرح (قیامت کے روز) نکل پڑنا ہے۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

اس سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود جھٹلا چکے ہیں۔

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

عاد فرعون اور لوط کے بھائی

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

بن کے رہنے والے اور تبع کی قوم غرص ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہماری وعید بھی پوری ہو کر رہی

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

کیا ہم پہلی بار پیدا کر کے تھک گئے ہیں ؟ نہیں بلکہ یہ دوبارہ پیدا کرنے پر شک میں پڑگئے ہیں

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور ہم ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں (ہم ان کو جانتے ہیں) اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جب وہ کوئی کام کرتا ہے تو دو لکھنے والے جو دائیں بائیں بیٹھتے ہیں لکھ لیتے ہیں۔

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے۔

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور موت کی بےہوشی حقیقت کھولنے کو طاری ہوگئی (اے انسان) یہی وہ حالت ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور صور پھونکا جائے گا۔ یہی عذاب کی وعید کا دن ہے۔

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور ہر شخص ہمارے سامنے آئے گا ایک فرشتہ اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک اس کے عملوں کی گواہی دینے والا

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

یہ دن ہے کہ اس سے تو غافل ہو رہا تھا اب ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور اس کا ساتھی فرشتہ کہے گا کہ ” یہ اعمال نامہ میرے پاس حاضر ہے

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

حکم ہوگا کہ ہر سرکش ناشکرے کو دوزخ میں ڈال دو ۔

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

جو مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھنے والا اور شبہ نکالنے والا تھا۔

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے اللہ کے ساتھ اور معبود مقرر کر رکھے تھے تو اس کو سخت عذاب میں ڈالدو۔

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کا ساتھی (فرشتہ) کہے گا کہ ” اے میرے رب میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود ہی رستے سے دور بھٹکا ہوا تھا۔

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

اللہ کہے گا کہ ” ہمارے ساتھ جھگڑا نہ کرو ہم تمہارے پاس پہلے ہی عذاب کی خبر بھیج چکے تھے۔

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے۔

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کہ ” کیا تو بھر گئی ”؟ وہ کہے گی ” کچھ اور بھی ہے ؟۔ ’

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی بالکل دور نہ ہوگی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ہر رجوع لانے والے حفاظت کرنے والے سے۔

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو اللہ سے بغیر دیکھے ڈرتا رہا اور رجوع لانے والا دل لے کر آیا

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

وہاں جو چاہیں گے ان کے لیے حاضر ہے اور ہمارے ہاں اور بھی بہت کچھ ہے۔

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے کئی اُمتیں ہلاک کر ڈالیں وہ ان سے قوت میں کہیں بڑھ کر تھے وہ شہروں میں گشت کرنے لگے کیا کوئی بھاگنے کی جگہ ہے۔

قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و خوبی کو خوب اچھی طرح دیکھ اور سمجھ کر اسی کو اپنا معبود بنا لے اور اس کے سوا کسی کو عبادت کے لائق ہرگز نہ سمجھے۔ جب ہمیں اس بات کا یقین ہوجاتا ہے تو پھر ہم یہ بھی اچھی طرح سمجھ جاتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں کیوں پیدا کیا۔ اللہ نے ہمیں پیدا کیا اور ہمارے لیے پوری کائنات کو پیدا کردیا، پھر صاف صاف بتا دیا کہ انسان ہوتے ہوئے تم سب سے زیادہ بہترین مخلوق ہو۔ اسی لیے قرآن پاک میں وہ سب کچھ بتا دیا جو ہمیں کرنا چاہیے، پھر آئندہ کے وہ تمام حالات بھی ہمیں خوب اچھی طرح سمجھا دیئے جو غیب کی باتیں ہیں غیب کے حالات ہیں۔ سب کچھ واضح کردیا کہ کوئی شک و شبہ باقی نہ رہ جائے جب ہم ان تمام آیات کو پڑھتے ہیں تو ہمیں ہر صورت دل میں یقین کرلینا چاہیے کہ ہمارا ہر ہر عمل، ارادہ، سوچ اور نیت سب کچھ فلمایا جا رہا ہے۔ اور ہمیں اپنی ہی بہتری کے لیے اچھے اعمال کرنے چاہییں تاکہ آخرت میں جنت پا سکیں۔ یہ ایک عام جاہل انسان کے لیے ہرگز یقین کرنے کی بات نہیں کیونکہ اس نے دوبارہ زندہ ہوتے ہوئے کسی کو دیکھا ہی نہیں لیکن ایک پڑھا لکھا سائنس دان قرآن کی اس بات پر آنکھیں بند کر کے یقین کرسکتا ہے کہ ہر مرنے والا دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جاہل لوگوں نے قرآن کی اس خبر کو مان لیا اور وہ ایمان لے آئے مگر پڑھے لکھے اس کو مان نہ سکے۔ یہ بات ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر قرآن نازل نہ ہوتا تو پوری انسانیت ایک نہ ختم ہونے والے تاریک دور میں ہی زندگی گزار کر ختم ہوجاتی اور یوں تخلیق کا مقصد پورا ہی نہ ہوسکتا۔ قرآن مجید ایک طرف بڑی آسان زبان میں ہمیں زندگی، اعمال، موت اور سزا و جزا کے راز بتا رہا ہے اور دوسری طرف ہمیں ان تمام سائنسی کمالات سے بھی آگاہ کر رہا ہے جن کا ذکر بہت دفعہ تفصیلاً کیا جا چکا ہے مثلاً دوبارہ زندہ کیے جانے کے لیے اللہ تعالیٰ مردہ زمین کی مثال دیتے ہیں۔ کہ جس طرح خشک اور ویران زمین کو بارش کے پانی سے دوبارہ ہرا بھرا کردیتے ہیں اسی طرح ہمارے لیے تمہارے حیاتیاتی تولیدی کوڈ کو دوبارہ جلا دینا کوئی مشکل بات نہیں۔ یہ سائنسی کمال بڑی تفصیل سے کئی دفعہ بیان کیا جا چکا ہے۔ بہر حال یہ بات تو ایک بچہ بھی سمجھتا ہے کہ سوکھی ہوئیـ بےکار زمین میں ذرا سا پانی اس کو ہرا بھرا کردیتا ہے۔ اسی طرح ہم مرنے کے بعد بیشک چورچور ہوجائیں ہمارے ذرات ہوا میں مٹی میں پانی میں جہاں چاہے پھیل جائیں اللہ کے حکم پر سب اکٹھے ہوجائیں گے اور یوں مادہ و توانائی کا ملاپ ہوجائے گا اور ہم مادی جسم کے ساتھ زندہ سلامت کھڑے ہوجائیں گے۔ نیک لوگ اللہ سے ملاقات پر خوش اور مطمئن ہوں گے جبکہ برے لوگ بد حواس، خوفزدہ اور انتہائی پریشان ہوں گے۔ مگر نہ تو کہیں بھاگ سکیں گے اور نہ ہی کہیں چھپ سکیں گے۔ اس لیے اس زندگی میں جو مختصر ہے، مگر بہت دشوار گزار امتحانی دور ہے اللہ کی طرف رجوع کریں قرآن کی طرف رجوع کریں تاکہ آنے والے نتیجہ کے وقت کی بہترین امید کرسکیں۔ یہ امتحانی دور اس لیے مشکل دور ہے کیونکہ اس میں خواہشات، مسائل اور آزمائشوں کی بھر مار ہوتی ہے۔ اس کو ہم یوں واضح کرسکتے ہیں۔ انسان خواہشات اور مسائل کا ایک ڈبہ ہے۔ دائیں بائیں اوپر نیچے اسے مسائل اور خواہشات گھیرے ہوئے ہیں اور یہی اس کے اس دنیا اور آنے والی دنیا میں دکھوں کا باعث ہیں ان سے نجات کا طریقہ۔ ایمان، نیک عمل اور توکل علی اللہ ہے (از قیامت اور حیات بعد الموت) یہی تو قرآن ہے جو تمام مسائل کا حل ہمیں بتاتا ہے اگر ہم اس کو پڑھنے سمجھنے اور عمل کرنے کی زحمت نہ کریں تو پھر قصور خود ہمارا ہی ہے۔ جب سورة الفاتحہ میں ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ ہمیں سیدھی راہ پر چلا۔ ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا۔ نہ ان کی جو تیرے غضب کے سزا وار ہوئے۔ اور نہ ان کی جو گمراہ ہوئے۔” (القرآن ) پورا قرآن بندے کی اس دعا کے جواب میں نازل ہوگیا اچھے لوگوں کی نشاندہی کردی گئی برے لوگوں کی بھی۔ اب اس کو تین راہ عمل میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا۔ صد یقین، انبیاء، صالحین اور شہداء کا راستہ دوسرا : جنہوں نے ہدایت پانے کے بعد ہدایت کو بھلا دیا مثلاً نوح، ہود، صالح اور موسیٰ علیھم السلام کی قومیں تیسرا : جنہوں نے ایمان کی روشنی کو پسند ہی نہیں کیا اور کفر شرک میں ہی اس جہان سے چلے گئے مثلاً قریش مکہ کے بڑے بڑے سردار ابوجہل آپ کے دادا، چچا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد وغیرہ۔ ہدایت کی طرف لانے کے لیے قرآن کا اسلوب بہترین ہے۔ یعنی وعظ و نصیحت، سزا و جزا کی وضاحت، کفر و ایمان کا فرق، موت اور حیات بعد الموت کی وضاحت، جنت و دوزخ کا نقشہ پھر اللہ کی بڑائی، عظمت، جلال، قدرت، علم، غضب اور رحم کی پوری طرح وضاحت سب کچھ ہی بتا دیا گیا ہے۔ مگر کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر ! علامہ اقبال (رح) تعالیٰ شاعر اپنی زبان میں انسان کو نصیحت کرتا ہے لگاؤ تو لو اس سے اپنی لگاؤ۔ جھکاؤ تو سر اس کے آگے جھکاؤ کرو مہربانی تم اہل زمین پر۔ خدا مہربان ہوگا عرش بریں پر الطاف حسین حالی ؔ