49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 49:1–2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

اے مومنو ! کسی بات کے جواب میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بیشک وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے ایمان والو اپنی آوازیں پیغمبر ﷺ کی آواز سے اونچی نہ کرو۔ اور جس طرح آپس میں اونچا بولتے ہو اس طرح ان ﷺ کے سامنے اونچا نہ بولا کرو ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔

اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے پیش قدمی کی ممانعت تشریح : پہلی آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو اس کا حل خود سے کبھی پیش نہ کرو بلکہ سب سے پہلے قرآن میں دیکھو پھر احادیث میں پھر فرامین جاری کیے جائیں کسی بھی مسئلہ کا حل اپنے پاس سے پیش نہیں کرنا چاہیے۔ یہی حکم اجتماعی اور ملکی معاملات پر بھی عائد ہوتا ہے۔ اصل میں یہ اسلامی آئین کی بنیاد ہے۔ جج بھی اپنے فیصلے میں قرآن و سنت کے قوانین کا پابند ہے۔ مختلف احادیث اور قرآنی آیات بار بار اسی بات کی تلقین کرتی ہیں۔ رب العزت سے خوف کھانا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اللہ کا خوف انسان کو خود اعتمادی دیتا ہے اور تمام لوگوں سے بےنیاز کردیتا ہے۔ کیونکہ اس کا علم وسیع ہے جو اس نے قوانین بنا دئیے ہیں۔ وہی سب سے افضل و اعلیٰ اور مناسب ترین ہیں اور پھر یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ہر بات کو جانتا اور سنتا ہے۔ اس سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں۔ اسی سے مانگنا اور اسی کے احکامات پر عمل کرنا نجات کا ذریعہ ہے۔ دوسرا حکم نبی اکرم ﷺ کی عزت و احترام میں یہ دیا گیا ہے کہ یہ بھی آداب رسول ﷺ اور آداب محفل میں شامل ہے کہ جیسے لوگ آپس میں بےتکلفی سے اونچی آواز میں بات کرتے ہیں اس طرح اونچی آواز میں نبی کے سامنے ہرگز بات نہ کریں۔ کیونکہ یہ عمل اتنا ناپسندیدہ ہے کہ انسان کتنا بھی نیک پاک شریف اور پرہیزگار ہو اگر وہ رسول ﷺ سے بات کرتے ہوئے آداب کا لحاظ نہ رکھے گا تو وہ سمجھ لے کہ اس کے تمام اچھے اعمال ضائع ہوسکتے ہیں اور اسے اس بات کا پتہ بھی نہ چلے گا۔ پھر اس سے یہ بھی سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی اصلیت اسی وقت پتہ چلتی ہے جب وہ کسی محفل کے آداب کا خیال رکھتا ہے۔ ایک بااصول شخص ایک بےاصول شخص کے برابر ہرگز نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” کہ جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز آدمی آئے تو اس کی عزت کرو ”( ابن ماجہ) ۔ عام انسانوں کا بزرگوں کا احترام اپنی جگہ اخلاقی بلندی کا ثبوت ہے مگر رسول مکرم ﷺ کا ادب و احترام بہت بڑا اور خاص درجہ رکھتا ہے کیونکہ آپ ﷺ سے محبت اور آپ ﷺ کا احترام گویا اللہ سے محبت اور اللہ کے احترام کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ اللہ نے ہی آپ ﷺ کو اپنا رسول بنایا اور پھر ان کے احترام کا حکم بھی دیا کہ نہ ان کے آگے چلو نہ ان کے حکم کے خلاف کرو اور نہ ہی ان سے اونچی آواز میں بات کرو۔
Ayah 49:3

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

جو لوگ رسول اللہ کے سامنے بات کرتے ہوئے اپنی آواز نیچی رکھتے ہیں۔ اصل میں یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے تقوی کے لیے جانچ لیا ہے۔ ان کے لیے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے۔

اجرِعظیم کے مستحق لوگ تشریح : اس میں اس خلوص اور محبت کا ذکر کیا گیا ہے جو انسان کو خودبخود اس عمل پر مجبور کرتا ہے کہ اللہ و رسول ﷺ کا احترام کیا جائے کیونکہ انسان جس کو محترم سمجھتا ہے جس سے عقیدت رکھتا ہے اس کا ہر حکم مانتا ہے اس کا ادب کرتا ہے کبھی اس کے ساتھ اونچی آواز سے بات نہیں کرتا نہ اس کی نافرمانی کرتا ہے۔ اور یہی سب باتیں ایک عام انسان کو متقی اور پرہیزگار بناتی ہیں ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ کے پاس بہت زیادہ اجر وثواب اور بخشش ہے۔ تو گویا حب اللہ اور حب رسول تقویٰ کی نشانی ہے۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت انس ؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک بدو نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ قیامت کب ہوگی ؟ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تو نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے عرض کی (میری تیاری یہ ہے کہ میرے دل میں) اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تو (قیامت کے دن) انہی کے ساتھ ہوگا جن سے تجھے محبت ہے۔ (مسلم)
Ayahs 49:4–5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

اے نبی ﷺ جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ کو پکارتے ہیں۔ ان میں سے اکثر بےعقل ہیں۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اگر وہ آپ کے باہر آنے تک صبر کرتے تو انہی کے لیے بہتر تھا۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے

معاشرتی آداب تشریح : یہ مدنی سورت ہے اخلاقی آداب کے سلسلے میں یہاں ایک شائستہ ادب سکھایا جا رہا ہے۔ شان نزول اس آیت کا اسطرح ہے کہ عموماً اطراف عرب سے لوگ آپ ﷺ سے ملنے چلے آتے اور وہ اس بات کا خیال نہ کرتے تھے کہ ملنے کے لیے وقت مناسب ہے یا کہ نہیں۔ بس وہ وقت بےوقت آجاتے اور حجرات نبوی کا چکر کاٹنے لگتے اور بےادب جاہلوں کی طرح باہر سے آوازیں لگانے لگتے۔ یا محمد یامحمد حالانکہ ان کو مہذب شہریوں کی طرح اس بات کا خیال رکھنا چاہیے تھا کہ بجائے آپ ﷺ کو بےآرام کرنے کے اس وقت کا انتظار کرتے جب کہ آپ ﷺ آرام سے فارغ ہو کر باہر تشریف لے آتے تو پھر آپ سے ملاقات کرتے بات چیت کرتے۔ کیونکہ رسول کریم ﷺ بڑے ہی نرم مزاج اور انسان دوست شخص تھے اور پھر اللہ کی اجازت سے ہر کام کرنا پسند کرتے تھے۔ لہٰذا ان لوگوں کی اس بےوقت مداخلت کو برداشت کرتے رہے تو پھر اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی اور ہدایت کی کہ اس ناشائستہ حرکت سے باز آجائیں۔ اب تک لا علمی میں جو کچھ انہوں نے کیا وہ معاف ہے مگر آئندہ اس زرین اصول کو یاد رکھیں۔ پچھلا عمل معاف ہے کیونکہ اللہ کی صفت ہے کہ وہ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے مگر آئندہ احتیاط کریں۔ آج کل کی مہذب دنیا میں باہر سے گھر والوں کو آوازیں لگا لگا کر بلانا بڑا معیوب سمجھا جاتا ہے آج سے چودہ سو سال پہلے اسلام نے اس اخلاقی و معاشرتی اصول کا حکم دیا اور یہاں وقت کا بھی ذکر کیا گیا کہ جب بھی کسی سے ملاقات کرنی ہو تو مہمان کو میزبان کے آرام کا ضرور خیال رکھنا چاہیے۔ اور پھر یہ بھی ہدایت ملتی ہے کہ جان بوجھ کر غلطی یا گناہ کرنا سزا کا موجب ہے۔ نادانی میں کیا گیا قصور رب العزت ویسے ہی معاف کردیتے ہیں کیونکہ معاف کرنا درگزر کرنا اللہ کی صفات ہیں۔
Ayah 49:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو۔ ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو اور تمہیں اپنے کیے پر شرمندہ ہونا پڑے۔

خبر کی تحقیق ضروری ہے تشریح : اس آیت کا شان نزول مولانا مودودی صاحب تفہیم القرآن میں لکھتے ہیں کہ اکثر مفسرین کا بیان ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ واقعہ اس طرح ہے کہ قبیلہ بنی المصطلق جب مسلمان ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے ولید بن عقبہ کو ان لوگوں سے زکوٰۃ لینے بھیجا۔ مگر وہ کسی وجہ سے وہاں نہیں گئے اور واپس آکر کہہ دیا کہ وہ زکوٰۃ دینے سے انکار کررہے ہیں اور مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ خبر سن کر نبی اکرم ﷺ نے فوج کشی کا ارادہ کرلیا مگر قبیلہ کے سردار حارث بن ضرار آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے اور بتایا کہ ” ولید بن عقبہ تو وہاں گئے تک نہیں ہم لوگ اپنے عہد پر قائم ہیں اور زکوٰۃ دینے کے لیے بالکل تیار ہیں ”۔ یوں اصل حقیقت سامنے آگئی اور ایک بہت بڑا خطرہ ٹل گیا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک اصولی ہدایت دی کہ کبھی بھی کسی اہم خبر پر بغیر تحقیق کیے یقین نہیں کرنا چاہیے۔ پوری تحقیق کے بعد کوئی قدم اٹھانا چاہیے کیونکہ اس طرح انسان یا جماعت برے وقت پریشانی اور نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ یہی اصول افواہوں کے لیے بھی بنایا گیا ہے۔ کیونکہ کسی بھی جماعت یا طبقہ کو شکست دینے کا بہت بڑا ہتھیار یہ ہے کہ غلط افواہیں پھیلا کر ان میں بےچینی، بےسکونی اور بد اعتمادی پیدا کردی جائے اس طرح کا اندرونی انتشار کسی قوم کو تباہ کرنے کے لیے بہترین ہتھیار ہے۔ کسی بھی شخص کو یہ اجازت نہیں کہ بلا تحقیق کسی خبر کو آگے پہنچائے۔ ایسا شخص فاسق کہلاتا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے اس کام کو بہت ناپسند کیا ہے حدیث میں آتا ہے۔ محمد بن مثنیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن مہدی کو فرماتے سنا ہے کہ جب تک انسان بعض سنی سنائی باتوں سے زبان کو نہیں روکے گا وہ قابل اقتدا امام نہیں بنے گا۔ (مسلم) از اسوہ حسنہ مصنفہ بنت الاسلام۔ یہاں تک جو معاشرتی آداب سکھائے گئے ہیں ان کو ہم دہرائے لیتے ہیں۔ 1 ۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت 2 ۔ رسول کریم ﷺ کا ادب، نہ ان سے آگے بڑھاجائے نہ آواز اونچی کی جائے اور نہ ہی گھر کے باہر سے آواز لگائی جائے۔ 3 ۔ اور آخر میں بلا تحقیق خبر پر یقین کرنا اور افواہیں پھیلانا۔ یہ اصول ایک فرد سے لیکر پوری دنیا کے لیے سکون، ترقی اور کامیابی کے ضامن ہیں۔
Ayahs 49:7–8

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے۔ اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیا کریں تو تم مشکلات میں پڑجاؤ۔ مگر اللہ نے تمہاری طرف ایمان کو محبوب جان ہے اور اسے تمہارے دلوں میں مزین کردیا ہے۔ اور کفر، گناہ اور نافرمانی کو تم سے ناپسند کیا ہے۔ ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل و احسان سے راہ راست پر ہیں۔

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

اور اللہ سب سے زیادہ جاننے والا اور دانائی والا ہے

صحابہ کرام کے ایمان کی گواہی تشریح : ان آیات کا تعلق بھی تھوڑا سا قبیلہ بنی المصطلق کے واقعہ سے ہے۔ جب صحابہ نے نبی کریم ﷺ کو فوج کشی کا مشورہ دیا تو رب الاعلیٰ نے فرمایا کہ تم اچھی طرح سوچ لو کہ نبی اکرم ﷺ ہر لحاظ سے تم سے زیادہ محترم، کامل اور معاملہ فہم ہیں اس لیے تم لوگ ان کو کسی بھی فیصلہ پر مجبور نہ کرو۔ کیونکہ اب اگر تمہارے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے فوجی اقدام کرلیا جاتا تو تم سب کو کس قدر مشکلات، نقصان اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ؟ پھر ان صحابہ کرام کا ذکر ہے کہ جنہوں نے اس مشورہ دینے میں حصہ نہ لیا تھا۔ ان کی تعریف میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔ کہ صحابہ کرام جن کے دل ایمان و یقین سے بھرے ہوئے ہیں۔ کفر، شرک اور نافرمانی ان کے قریب سے بھی نہیں گزر سکتی اور یہ ہدایت و ایمان کی پختگی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص تحفہ ملا ہوا ہے۔ اور ان کی عظمت کا ذکر رب کریم نے بھی کیا ہے۔ صحابہ کرام میں بھی کچھ درجات ہیں۔ یہ تو رب علیم و حکیم ہی جانتا ہے کہ کس کو کیا درجہ دیا گیا اور کیوں دیا گیا ؟ بہرحال سب صحابہ کرام قابل عزت و احترام ہیں کیونکہ ان کو ایسے نبی کی صحبت میں رہنا نصیب ہوا جو کہ ہر طرح سے مرد کامل، محسن انسانیت اور رہبر مخلوق کائنات ہیں۔ آپ کا شخصی (خود اپنا) کردار رحمت، شرافت، شفقت، عبادت، شجاعت، عدالت، صداقت، سخاوت، فراست، متانت، ایثار، احساس ذمہ داری، عاجزی تواضع، صبر، توکل، ثابت قدمی اور دانش مندی سے مزین (سجا ہوا) ہے۔ کون سی ایسی انسانی صفت ہے جو آپ کو رب العٰلمین نے نہ دے رکھی تھی۔ ایسے مکمل انسان کے پاس جو لوگ ہر وقت موجود رہتے تھے بھلا وہ اخلاقیات میں کس طرح کم تر ہوسکتے تھے۔ اسی لیے تو کہتے ہیں اچھے انسان سے اس کے دوست کی پہچان ہوسکتی ہے اور صحابہ کرام تو اللہ کے فضل و کرم سے خاص طور پر نوازے ہوئے ہوتے ہیں۔ محمد موسیٰ روحانی ” گلستان قناعت ” میں لکھتے ہیں۔” بہر حال صالحین کی صحبت و تربیت کی برکات اظہر من الشمس (سورج سے زیادہ روشن) ہیں۔ ان کی صحبت مبارکہ کی برکت سے انوار باطنیہ و ظاہر یہ حاصل ہوتے ہیں۔ دل کی اصلاح ہوتی ہے۔ حب دنیا، حب جاہ اور رزق کے بارے میں بےاطمینانی و بےقراری کا ازالہ ہوتا ہے۔ اور مال و دولت کی فراوانی سے پیدا ہونے والے خطرات اور برے نتائج سے خلاصی ہوتی ہے۔ غرض یہ ہے کہ اتنے اچھے لوگوں کو بھی اللہ کی طرف سے اخلاقی ہدایات ملتی رہی ہیں ہمیں ان کو غور سے پڑھنا سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہی ایمان کی سلامتی اور انسان کامل بننے میں مدد دے سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہم پر اپنا فضل و کرم کرے اور ہمیں ایمان کی روشنی اور ایمان و یقین کی سلامتی عطا کرے کہ ہم قرآن و سنت کو اپنا رہبر بنا کر نجات دارین حاصل کریں۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 49:9–10

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دو ۔ پھر ان میں سے اگر ایک گروہ دوسرے سے زیادتی کرے تو اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے اور پھر جب وہ اللہ کی طرف پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل اور انصاف سے صلح کرادو۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو اور اللہ سے ڈرو امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا۔

معاشرتی زندگی کا ایک اور اصول تشریح : ان آیات میں مسلمانوں کے نظام حیات کے ایک بہت اہم پہلو کے لیے اسلام کے مخصوص اصول و قوانین اور ضابطے بیان کیے گئے ہیں۔ اور ایک بہت بڑا راز بتایا گیا ہے کہ مسلمان اعتقاد، دین اور تعلیمات میں برابر ہیں۔ کیونکہ مسلمان اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اسلام کا پابند ہے، لہٰذا ان سب کو بھائی بھائی کہنا بالکل مناسب ہے۔ تو اس بھائی چارے کی تعریف رسول کریم ﷺ نے اس طرح کی ہے۔ فرماتے ہیں ” تم مسلمانوں کو باہم ایک دوسرے پر رحم کرنے اور محبت و شفقت میں جسم انسانی کی طرح دیکھو گے کہ اس کے ایک عضو میں تکلیف ہو تو بدن کے سارے اعضاء بخار اور بےخوابی میں مبتلا ہوجاتے ہیں (بخاری) اسی لیے قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے۔ ” نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کی مدد کرو گناہ اور زیادتی میں مدد نہ کرو ”۔ (المائدہ) ایک اور جگہ سرور کائنات ﷺ کا ارشاد ہے کہ ” مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ وہ اس سے خیانت نہیں کرتا۔ اس سے جھوٹ نہیں بولتا اور نہ تکلیف کے وقت اس کو تنہا چھوڑتا ہے۔ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی آبرو مال اور خون حرام ہے۔ (ترمذی) اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی آخر ہے تو انسان ہی۔ کہ جس کے لیے فرشتوں نے بھی کہا تھا کہ ” باری تعالیٰ انسان زمین میں فساد پھیلائے گا ”۔ اسی فطرت انسانی کو درست کرنے کے لیے اللہ نے قرآن کے ذریعے امن سکون سے زندگی گزارنے کے بہترین اصول بتائے ہیں جن میں سے ایک مشکل کا حل بتایا گیا ہے کہ اگر کبھی بھی اہل ایمان کے دو گروہوں میں کسی بھی بات پر لڑائی ہوجائے تو مسلمانوں کی جماعت کا فرض ہے کہ ان میں صلح کروادے۔ جس کا بنیادی مقصد رضائے الہٰی حاصل کرنا ہوگا۔ اور اس کام میں دونوں فریقوں کی پوری بات اچھی طرح سن کر اور پورے عدل اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوگا۔ اور اس کام میں کسی قسم کا ذاتی فائدہ سامنے نہیں رکھا جائے گا۔ صرف عدل و انصاف اور احکامِ الٰہی کی روشنی میں دونوں فریق کی غلط فہمی دور کرکے صلح صفائی کروا دی جائے۔ پھر بھی اگر ایک گروہ دوسرے سے زیادتی کرے تو تم کھلم کھلا ان کے خلاف لڑائی کرو یہ لڑائی اللہ کے حضور جہاد سے کم نہیں ہوگی کیونکہ اس طرح فساد کی چنگاری کو بجھانا مقصود ہے۔ جو کہ کسی وقت بڑھتے بڑھتے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اور جب ظالم گروہ نیکی کی طرف پلٹ آئے تو پھر فرض بنتا ہے کہ ان کی صلح صفائی کروا دی جائے۔ یہ اصول دو مسلمانوں سے لیکر پوری دنیا پر لاگو ہوسکتا ہے۔ صلح صفائی کروانے والا علم وبصیرت میں کامل ہونا چاہیے اور حقیقی صلح وہی ہوگی جو عدل اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کروائی جائے گی۔ کیونکہ اصل میں فساد اسی طرح ٹلتا ہے ورنہ اندر ہی اندر کمزور گروہ پیچ و تاب کھاتا رہتا ہے جو بعد میں کبھی بھی موقع ملنے پر پھٹ پڑتا اور پھر صورت حال زیادہ خطر ناک اور نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ صلح کرواتے وقت فریقین کے دلائل سن کر عدل و انصاف سے کام لینا چاہیے تاکہ کسی بھی فریق کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ عدل و انصاف کو ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ اسی سورت کی آیت 9 میں واضح کردیا گیا ہے کہ ” انصاف کرو بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ”۔ پھر آخر میں تاکید کی گئی ہے کہ ” اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات درست کرو ”۔ یہ آیت مسلمانوں کی آپس کی لڑائی کو ختم کروانے کے لیے شرعی قانون کی اصل بنیاد ہے۔ اس پر عمل کرتے ہوئے اللہ کی رضا فرمانبرداری اور اس کے خوف کو مد نظر ضرور رکھا جائے۔ ایسے ہی اعمال پر رب العزت رحم و کرم اور بخشش کرتے ہیں۔ اسی طرح حکم ہے کہ ” باغیوں کے خلاف جنگ کرنے سے پہلے ان کو قرآن حکیم کے مطابق یاددہانی کروائی جائے اگر سمجھ کر بغاوت سے باز آجائیں تو ٹھیک ورنہ ان کی طرف سے اگر لڑائی کا آغاز ہوجائے تب ان کے خلاف تلوار اٹھائی جائے۔ (تفہیم القرآن صفحہ 81) ۔ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ ملت اسلامیہ پر جتنا زوال اور پریشانیاں آئیں وہ صرف آپس کی نااتفاقی کی وجہ سے آئیں۔ آپس کی بےاتفاقی، لڑائی جھگڑے نے ملت کو کمزور کردیا دشمنوں کے دلوں سے مسلمانوں کا رعب نکل گیا اور مسلمان اللہ کے اس فرمان کو بھول گئے ” مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں “۔ (الحجرات آیت 10) ثابت ہوگیا کہ اسلام بھائی چارے کے لیے آپس میں صلح، امن، سکون اور اتفاق سے رہنا ایک طرف تو اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اور دوسری طرف ملت اسلامی کی مضبوطی اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بھلائی کا ذریعہ ہے اللہ ہم پر فضل کرے اور ہمیں پکا مسلمان بننے کی توفیق دے آمین ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ (ڈاکٹر علامہ اقبال (رح) )
Ayahs 49:11–12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے کو طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے اور جو اس روش سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو۔ کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور تجسس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے کے لیے تیار ہو ؟ دیکھو تم کو بھی اس سے گھن آئے گی۔ اللہ سے ڈرو اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے (رحم کرنے والا ہے) ۔

اخلاقی برائیاں تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں چند اخلاقی اصول بتائے گئے ہیں ان آیات میں اخلاقیات سے متعلق چند اور اصول بتائے جا رہے ہیں۔ کہنے کو یہ بڑی معمولی باتیں ہیں مگر ان کے اثرات اور فضیلتیں بیشمار ہیں۔ حکم دیا گیا ہے کہ کوئی مرد کسی مرد کا اور کوئی عورت کسی عورت کا مذاق نہ اڑائے۔ اسی لیے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ” کوئی مرد کسی مرد کا اور کوئی عورت کسی عورت کا مذاق نہ اڑائے ”۔ دوسری مصلحت یہ ملتی ہے کہ ہوسکتا ہے جس کا ہم مذاق اڑا رہے ہیں وہ اللہ کا پسندیدہ بندہ ہو جو بظاہر درویش صفت ہو تو اس طرح ہم نے کئی گناہ کما لیے۔ ایک تو اس کا دل دکھایا دوسرے بیخبر ی میں اللہ کے مقبول بندے کا مذاق اڑا کر گویا اللہ کی نافرمانی کی صرف نافرمانی ہی نہیں بلکہ بہت بڑا گناہ کیا کیونکہ قابل عزت انسان وہ ہے جو متقی ہے اور اللہ کا مقبول انسان بھی وہی ہے۔ تیسرا ہم نے شیطانی کام پر عمل کر کے ایک غلط کام کی بنیاد رکھی۔ چوتھا یہ کہ معاشرے کو ایک بری حرکت سے خراب کیا گیا یعنی ایک انسان کو ذلیل کر کے مفت کی بد گمانی کی بنیاد رکھ دی گئی۔ اس آیت کے زیر اثر باقاعدہ قانون ہتک عزت ترتیب دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اس بری حرکت سے معاشرہ کو کئی طرح سے نقصان پہنچ سکتا ہے جو قرآن اور احادیث کی رو سے بالکل منع کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ انسانیت کی بھلائی کے لیے زہر کا کام دیتا ہے۔ مذاق صرف زبان سے ہی نہیں اڑایا جاتا بلکہ کسی کی نقل اتارنا، کسی کی طرف اشارے کرنا، کسی کی بات، کام، صورت، لباس، یا اس کی کسی جسمانی کمزوری کی طرف لوگوں کو متوجہ کر کے ہنسنا یا ہنسانا۔ کوئی بھی عقل مند انسان اس حرکت کو اچھی اور فائدہ مند حرکت نہیں کہہ سکتا۔ اسی لیے مسلمانوں کو اس حرکت سے سختی سے منع کیا گیا ہے بلکہ حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بعد ایک بہت بڑی اخلاقی برائی کا ذکر کیا گیا ہے یہاں لمز کا لفظ استعمال کر کے ان تمام برائیوں کو جمع کردیا گیا ہے جن کو ہم اردو میں یوں بیان کریں گے۔ مثلاً طعن وتشنیع کرنا یعنی چوٹیں کرنا، مذاق اڑانا، الزام لگانا، اعتراض جڑنا، عیب چینی کرنا۔ صاف طور پر اور چھپا کر کسی کو ملامت کا نشانہ بنانا۔ یہ سب باتیں انسانی سکون کو شروفساد میں بدل دیتی ہیں اور اسلام امن کا مذہب ہے وہ ان باتوں کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ اسی طرح کسی شخص کو قرآن اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی بھی شخص کو ذلیل کرنے کے لیے کوئی برا نام دے یعنی کسی کو فاسق، منافق، لولا، لنگڑا یا اندھا کہنا۔ اسی طرح کسی کے خاندان یا والدین کی کسی کمزوری سے اس کو مخاطب کرنا یہ سب حرام ہے۔ جب کسی نے اسلام قبول کرلیا تو اس کے لیے ہرگز یہ جائز نہیں کہ کسی کے ساتھ یہ تمام اخلاقی برائیاں کرے جن کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے یا آئندہ کیا جائے گا۔ تو رب العزت خبردار کرتے ہیں کہ جو شخص ان تمام برائیوں سے باز نہ آیا تو گویا اس نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ اب ایک اور اخلاقی برائی کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ دوسرے کے بارے میں تجسس زیادہ نہ کرو۔ تجسس اور گمان کی درجہ بندی ہمیں خود کرنی چاہیے۔ کیونکہ زندگی کے کئی ایسے معاملات ہیں جو اچھے اور صحت مند گمان کے بغیر چل نہیں سکتے مثلاً عدل و انصاف میں تجسس ضروری ہے۔ کسی کی بھول سے کی گئی غلطی کی چھان بین کر کے اس کو بدنامی سے بچانا۔ کسی ایسے استاد مولوی یا لیڈر کی ٹوہ لگانا جو لوگوں کو غلط راہ پر لگا رہا ہو۔ اور پھر ملکی یا فوجی معاملات میں دشمن کی ٹوہ لگانا یہ سب جائز ہے یا پھر کسی بھی ایسے شخص کی ٹوہ لگا کر اس کی گئی ہوئی عزت کو بچانا۔ یہ سب کام ایسے ہیں کہ یہ ایک تو نیک نیتی سے ہوتے ہیں دوسرے اصلاح معاشرہ اور انسانی محبت میں کیے جاتے ہیں۔ لیکن اگر کسی بھی شخص کا مقصد ان تمام اخلاقی اچھائیوں کے علاوہ ہو تو وہ بالکل منع ہے۔ انتہائی ناپسندیدہ ہے اور قابل سزا عمل ہے۔ کیونکہ اس کے برے اثرات صرف ایک انسان پر نہیں پڑتے بلکہ یہ فرد سے چل کر پوری دنیا تک پھیل سکتے ہیں۔ اور پھر تجسس کے بعد غیبت کا نمبر آتا ہے کیونکہ جو انسان کسی بھی بات کی یا شخص کی ٹوہ لگائے گا تو پھر وہ اس کو آگے بیان بھی کرے گا۔ اور یہ غیبت میں شمار ہوجائے گا۔ غیبت کا مطلب یہ ہے کہ وہ بات جو کسی کی غیر موجودگی میں کہی جائے اور وہ اس کو ناپسند کرے۔ یہ بھی بہت سی برائیوں اور اخلاقی کمزوریوں کی جڑ ہے۔ اسی لیے اللہ رب العزت نے اس کی تعریف یوں کی ہے کہ جیسے کسی مردار کا گوشت کھانا قابل نفرت کام ہے اسی طرح غیبت بھی قابل نفرت، قابل فساد اور قابل مذمت فعل ہے۔ حدیث میں آتا ہے حضرت ابوبرزہ اسلمی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اے وہ لوگو جو زبان سے تو ایمان لائے ہو مگر ایمان ابھی تمہارے دلوں میں نہیں اترا مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو اور ان کے چھپے ہوئے عیبوں کی کھوج نہ لگایا کرو کیونکہ جو ایسا کرے گا اللہ خود اس کے چھپے ہوئے عیبوں کی کھوج کرے گا اور اللہ نے جس کے چھپے ہوئے عیبوں کی کھوج کی اسے وہ اس کے گھر میں رسوا کر دے گا “۔ (ابو داؤد) یہ سزا تو رب العزت دنیا میں دے گا آخرت میں تو اس گندی بات کا بہت بڑا عذاب ہے۔ سوچنے کی بات ہے جب ہم کسی بھی شخص کی برائی اس کی غیر موجودگی میں کریں گے تو اس کی عزت اور وقار پر حملہ کریں گے جب اس کو موقع ملے گا تو وہ ہماری غیر موجودگی میں ہماری عزت اور وقار کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔ یعنی دنگا فساد شروع ہوگیا اور دنگا فساد معاشرے کے لیے ہرگز باعث سکون عمل نہیں۔ مثال کے طور پر کسی بھی ملک میں انتخابات کے دوران ہر پارٹی مخالف پارٹی کے ممبر کو کسی نہ کسی طریقہ سے بد نام اور بےآبرو کرتی ہے صرف ووٹ حاصل کرنے کے لیے اور لوگ یہ کام فرض سمجھ کر کرتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ وہ اپنے اوپر اور قوم و ملک کے اوپر کتنا بڑا ظلم کر رہے ہیں۔ اگر تو وہ سچی بات کہہ رہے ہیں تو یہ غیبت ہے اور اگر غلط بات پھیلا رہے ہیں تو یہ بہتان ہے اسکی سزا دونوں صورتوں میں خود کو بھگتنی پڑے گی اور جو قوم و ملک کا نقصان ہوگا اس کا ذمہ بھی ایسے ہی لوگوں کے سر ہوگا جو ایک اچھے اور مخلص انسان کی خدمات سے ملک و قوم کو محروم کرنے کی کوشش کر رہے ہوں گے تو یہ چھوٹی سی بات بہت بڑا اور مہلک ذریعہ ہے ویسے یہ ووٹنگ اور جمہوریت غیر اسلامی طریقہ ہے۔ اور خلافت وامارت اسلامی طریقہ ہے غیبت وغیرہ سے بچ کر اگر الیکشن میں حصہ لیاجائے تو یہ پھر بھی ناجائز ہے، اس لیے والدین اساتذہ اور بزرگان دین کا یہ فرض ہے کہ اس فرمان الہٰی یعنی ” غیبت سے بچاؤ “۔ بچوں کے دل و دماغ اور اخلاق و کردار میں کوٹ کوٹ کر بھر دیں تاکہ جب وہ بڑے ہو کر اپنا منصب سنبھالیں تو اس برائی سے بالکل پاک صاف ہوں اور یوں اپنے گھر، محلہ، شہر، ملک اور پوری دنیا کے لیے انتہائی پسندیدہ انسان ثابت ہوں۔ ان اخلاقی برائیوں سے صرف بچوں کا بچاؤ ہی ضروری نہیں بلکہ ہر انسان دوسرے انسان کو ان برائیوں سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرے اور خود کو ایک بہترین انسان کی شکل میں پیش کرے کہ جو دیکھے ویسا ہی اچھا انسان بننے کی کوشش کرے۔ اخلاق کی پاکیزگی اور کردار کی مضبوطی اس قدر طاقت رکھتی ہے کہ مدینہ کی چھوٹی سی معمولی ریاست نے قیصر و کسریٰ جیسی مضبوط مملکتوں کو ہلا کر رکھ دیا اور اسلام کا جھنڈا دور دور تک لہرایا گیا۔ یہ دور مسلمانوں کے عروج کا پہلا دور ہے۔ جو 622؁ ء 1 ؁ھ سے شروع ہوا۔ اس عروج کی بنیادی وجہ انسانی قدر و عزت کا وہ حقیقی جوہر ہے جو ایمان و عمل اور قرآن و سنت میں موجود ہے۔ اگر نظام اسلام اور شریعت نبوی ﷺ صحیح طریقہ سے نافذ کردی جائے تو زندگی کا ہر شعبہ ترقی کرسکتا ہے چاہے اس کا تعلق اقتصادی نظام، اجتماعی نظام، سیاسی نظام یا ثقافتی نظام سے ہو۔ کیونکہ ان تمام شعبوں کا اخلاقی نظام سے تعلق ہے۔ اسلام نے آتے ہی ان تمام بد اخلاقیوں، بد کرداریوں اور غلط رسومات کا خاتمہ کردیا۔ جن میں جھوٹ، غیبت، ناانصافی، جوا، شراب، سود، قتل و غارت گری شامل ہیں۔ یہ تمام عادات کسی بھی قوم کو ذلیل و خوار کرسکتی ہیں۔ جتنی مدت مسلمانوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھا، یعنی اسلامی قوانین پر سختی سے پابند رہے خوب ترقی کی جونہی مسلمانوں نے اپنے مذہب سے دوری اختیار کی زوال کی طرف بڑھنے لگے۔ ان آیات میں فی الحال یہ حکم دیا گیا ہے کہ کسی کے بارے میں گمان نہ کرو، غیبت نہ کرو، چھان بین نہ کرو۔ چھان بین صرف بہتری کے لیے کی جاسکتی ہے۔ مثلاً شادی کا معاملہ ہو یا پھر مشترکہ کاروبار کا سلسلہ شروع کرنا ہو وغیرہ وغیرہ یعنی چھان بین نیک نیتی سے اصلاح اور بہتری کے لیے کی جائے۔ تو اجازت ہے۔
Ayah 49:13

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ اصل میں اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔

برتری صرف تقویٰ میں ہے تشریح : باقی تمام مذاہب کی تعلیمات کسی خاص قبیلے یا ملت کے لیے ہوتی تھیں لیکن اسلام پوری دنیا کے لیے ہدایت اور نیکی و نجات کا پیغام لے کر آیا ہے۔ اس دین کی خاصیت ہی یہ ہے کہ یہ انسانوں کے بنائے ہوئے دائرے یعنی یہ امیر ہے غریب ہے کالا ہے، گورا ہے، یہودی ہے، عیسائی ہے۔ ان تمام اونچ نیچ اور تفرقات کو بالکل نہیں مانتا کیونکہ یہ عالمگیر دین ہے۔ اس چھوٹی سی آیت میں اللہ رب العزت نے صاف صاف اعلان کردیا ہے اور انسانوں کو ان کی اصل حقیقت سے مطلع کردیا ہے۔ پہلی یہ کہ تم لوگ ایک مادے سے ایک طریقہ سے اور ایک ہی مرد اور عورت یعنی حضرت آدم اور حوا (علیہما السلام) سے پیدا کیے گئے ہو۔ جیسے ایک گھر کے افراد آپس میں کچھ کچھ مختلف ہوتے ہیں اسی طرح آدم (علیہ السلام) کی اولاد جب بڑھنی شروع ہوئی تو دور دراز تک پھیلنے لگی اور ان میں دنیا کے گرم سرد خطوں کی آب و ہوا کے مطابق رنگ روپ نقش اور رہن سہن میں فرق پیدا ہوتا چلا گیا۔ قرآن میں دوسری یہی وضاحت کی گئیـ ہے کہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ پہچان کے لیے تم قوموں قبیلوں اور برادریوں میں تقسیم ہوتے چلے گئے جس طرح ایک خاندان کی بیٹیاں دوسرے خاندان میں بیاہی جاتی ہیں اور پھر وہی بیٹیاں جو ہمیشہ ساتھ رہتی تھیں بعد میں اپنے سسرال اور بچوں کے ساتھ اتنی مصروف ہوجاتی ہیں کہ مدتوں بعد اپنی بہنوں اور میکا میں آتی ہیں یہ ایک دوری پیدا ہونا ضروری عمل ہے۔ مگر یہ دوری مجبوری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان کی اصل میں فرق آجائے۔ اسی لیے تیسری بات اللہ رب العزت نے یہ واضح کردی ہے کہ تم سب کہیں بھی چلے جاؤ، کیسے ہی رہن سہن ہو۔ غریب ہو، امیر ہو، کالے ہو، گورے ہو۔ سب برابر ہو کسی کو کسی پر برتری اگر ہوسکتی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ وہ سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ برائیوں سے بچنے والا ہو۔ نیکی، پاکیزگی میں پکا سچا مسلمان ہو۔ یہ تین باتیں ہیں جن کا خیال رکھنا ہر انسان کا فرض ہے۔ انسانیت کی بنیاد ان پر ہی قائم ہے اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ اور حجۃ الوداع کے موقع پر یہی اعلان کیا کہ سب لوگ برابر ہیں کسی کو کسی پر برتری حاصل نہیں سوائے تقویٰ اور پرہیزگاری کے۔ حدیث میں آتا ہے۔ ” اللہ قیامت کے روز تمہارا حسب نسب نہیں پوچھے گا۔ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ”۔ (ابن جریر) از تفہیم القرآن صفحہ 98 جلد پنجم۔ ایک مسئلہ اور بھی ہے جو اس آیت کریمہ میں حل ہوگیا۔ دنیا جہاں کے مفکر سائنسدان، ڈاکٹر حضرات اور ریسرچ کرنے والے لوگوں کو انسان کی پیدائش کے سلسلہ میں بہت زیادہ فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اللہ نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ انسان آدم و حوا (علیہما السلام) سے پیدا ہوا اور آدم مٹی سے بنائے گئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور رضا ہے کہ اس نے مٹی سے آدم کا پتلا بنایا اور اس میں اپنی روح پھونک دی پھر حضرت حوا کو پیدا کیا اور اس کے بعد دنیا کی آبادی بڑھنی شروع ہوگئی۔ اب انسان کی پیدائش کا ہر مرحلہ انسان کے سامنے ہے اور یہ بھی اسی الہ العٰلمین کی قدرت کا نتیجہ ہے۔ ہر طرف انسانوں کی چلتی پھرتی فیکٹریاں اللہ کے وجود اس کی قدرت اور موجودگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اور پھر اسلام کے دشمنوں کو بھی یہ ماننا پڑا ہے کہ جو اصول و قوانین مسلمانوں کو زندگی گزارنے کے دئیے گئے ہیں وہ اور کسی دین اور مذہب کو نہیں دئیے گئے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ صرف اسلام ہی وہ دین ہے جس نے تمام نسلوں اور قوموں کو ملا کر ایک ملت بنا دیا ہے۔ اور پھر باربارتاکید کی جا رہی ہے کہ اسلام کے دئیے ہوئے اصولوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لو۔ صرف مسلمان کے گھر پیدا ہوجانا ہی کافی نہیں۔ جیسا کہ اگلی آیات میں وضاحت کی گئی ہے۔
Ayahs 49:14–18

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:14 in the Quran reader

یہ دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ فرمادیں کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ابھی تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں سے کچھ کم نہیں کرے گا۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ Open ayah 49:15 in the Quran reader

مومن تو وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر شک میں نہ پڑے اور اللہ کی راہ میں مال اور جان سے لڑے یہی لوگ ایمان کے سچے ہیں۔

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 49:16 in the Quran reader

فرمادیں کیا تم اللہ کو اپنی دینداری کی اطلاع دے رہے ہو۔ اور اللہ تو آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں سے واقف ہے۔

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 49:17 in the Quran reader

اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ یہ لوگ آپ پر احسان جتاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ ان سے کہو کہ اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو۔ بلکہ اللہ تم پر اپنا احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگر تم سچے (مسلمان) ہو۔

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 49:18 in the Quran reader

بیشک اللہ زمین و آسمان کی ہر پوشیدہ چیز کا علم رکھتا ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب اسے دیکھتا ہے ”

اسلام بغیر یقین کچھ نہیں تشریح : یہ آیات دراصل ان چند دیہاتی لوگوں کے ذکر میں ہیں جو مدینہ کے اردگرد رہتے تھے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ مسلمان بڑی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں تو انہوں نے کچھ مالی امداد لینے اور کچھ اپنی حفاظت کی خاطراسلام قبول کرلیا۔ ان قبیلوں میں مزینہ، جہینہ، اسلم اور حزیمہ وغیرہ شامل ہیں۔ مگر یہ پکے مسلمان نہ تھے بس نام کے ہی مسلمان تھے۔ ان کا پول اس وقت کھلا جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور احسان جتانے لگے کہ ہم نے آپکی جماعت کو مضبوط کرنے کے لیے اسلام قبول کرلیا ہے۔ اور ہمیں مالی امداد چاہیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ چلو تم مسلمان ہو ہی گئے ہو تو اللہ اور رسول ﷺ کی فرمانبرداری بھی کرلو۔ یعنی پکے مسلمان ہوجاؤ اگر تم پکے سچے مسلمان بن کر نیک راہ اختیار کرلو گے۔ تو تمہارے لیے بہتری کا سامان ہوجائے گا کوئی نقصان تو نہیں ہوجائے گا۔ تمہارے رویہ اور باتوں سے پتہ چل گیا ہے کہ تم نے اسلام کو پوری طرح قبول نہیں کیا۔ اگر قبول کرلو تو اللہ کی رحمت اور بخشش کے تم حق دار بن سکتے ہو۔ اسلام تو ویسے ہی اللہ کی خاص رحمت ہے بندے کے لیے۔ کیونکہ اسلام انسان کو جسمانی اور روحانی طاقتوں سے مالا مال کر کے دنیا و آخرت میں سر خرو کرتا ہے۔ دنیا و آخرت کی نعمتوں سے جھولی بھر دیتا ہے۔ پھر اللہ رب العزت مومن کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ مومن کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاتا ہے۔ ایسے کہ دل سے یقین اور زبان سے اقرار کرتا ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ آخری کتاب قرآن پاک پر کسی شک و شبہ کے بغیر یقین کرتا ہے۔ اور تیسری بات یہ کہ اس کا مال و جان اور سب کچھ ہر وقت رضائے الٰہی پر قربان ہونے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ وہ اللہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ دین اسلام کی خاطر کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا۔ پوری طرح اسلام کے احکامات پر عمل کرتا ہے۔ یہ نہیں کہ بس کہہ دیا کہ ہم مسلمان ہیں۔ آج کل جو لوگ مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوتے ہیں ان کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ ان کو اپنے مذہب کے بارے میں تفصیل سے کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ اسلام کی حقیقت تو جب پتہ چلتی ہے جب اس کو قبول کرنے کے لیے کوئی جدوجہد کی جائے یا پھر والدین اساتذہ اور علماء دین اور لیڈر حضرات خود اپنی شخصیت کی مثال پیش کردیں اور علوم دینیہ کو کھول کھول کر ہر عمر کے لحاظ سے ہر نکتہ واضح کریں۔ ہر شخص دین کی تبلیغ میں پورا پورا حصہ لے تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک و قوم غلط راہوں کو چھوڑ کر سیدھی راہیں اختیار نہ کرلیں۔ اگر عرب کے بدو ہدایت پاسکتے ہیں تو ہم آج کے مسلمان کیوں ہدایت نہیں پاسکتے۔ میری اپیل ہے تمام عورتوں، مردوں، نوجوانوں، بوڑھوں اور بچوں سے۔ جو کچھ بھی کرسکیں ضرور کریں اور ثواب دارین حاصل کریں۔ کسی بندے کی خوشنودی کے لیے نہیں بلکہ سچی اور صاف نیت سے صرف اور صرف اللہ کی رضاء حاصل کرنے کے لیے کریں۔ ہماری نیتیں، ہمارے اعمال، سب کو اللہ بڑی اچھی طرح جانتا ہے۔ کیونکہ اس کا علم تو اتنا زبردست اور وسیع ہے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ موجود ہے اللہ اس کو خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ ایک ذرہ بھی اس کے علم سے باہر نہیں۔ لہٰذا اس عظیم وعلیم کی ذات پر اس کے رسول ﷺ پر اس کی کتاب پر اتنا پختہ یقین کرو کہ دنیا کی کوئی طاقت تمہیں اس سے ہٹا نہ سکے اور یوں اپنی کھوئی ہوئی عظمت، طاقت اور وقار کو بحال کرلو، ڈاکٹر علامہ اقبال فرماتے ہیں۔ کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا اقبال مسلم نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کیا کبھی تم نے غور کیا ہے کہ تم کس قوم سے تعلق رکھتے ہو ؟ تیرے بزرگوں میں بڑی خوبیاں تھیں افسوس کہ وہ تجھ میں نظر نہیں آتیں۔ خلاصہ سورة الحجرات یہ سورت مومن بندے اور اللہ رب العٰلمین کے باہمی رابطے کو اجاگر کرتی ہے۔ کیونکہ اس میں وہ تمام اصول حیات جمع کیے گئے ہیں جو کہ ایک انسان کامل مقبولِ الٰہی اور مقبول خلقت میں ہونے ضروری ہیں اور پھر یہ بھی اچھی طرح واضح کردیا گیا ہے کہ فرد ہی سے ملت بنتی ہے۔ اچھے برے افراد ہی کسی قوم کی ترقی یا تنزل کا باعث بنتے ہیں۔ یہ احکامات مومن مرد، مومن عورتوں کے لئے یوں ضروری ہیں کہ وہ اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب قرآن الحکیم کو پڑھنے والے ہیں۔ صرف پڑھنے والے ہی نہیں، سمجھنے والے اور عمل کرنے والے بھی ہیں۔ اور جن لوگوں میں یہ صفات موجود ہوں وہ ہی سچے، پکے اور اچھے مسلمان کہلوانے کے حق دار ہوسکتے ہیں۔ یہی تو اللہ کی خاص رحمت ہم مسلمانوں پر کی گئی ہے کہ ہمیں دنیا میں بھیج کر بےیارو مددگار نہیں چھوڑ دیا گیا بلکہ کتاب ہدایت اور حامل قرآن نبی پاک ﷺ کے ذریعے زندگی گزارنے کے تمام چھوٹے بڑے اصول یوں محبت اور تفصیل سے بتادیے گئے ہیں جس طرح ایک مہربان ماں اپنے بچے کو زندگی کے بہترین اصول بتاتی ہے۔ ماں تو اللہ کی محبت کی ایک بڑی ہی معمولی جھلک ہے۔ اللہ نے تو ہماری نجات اور پورے معاشرے کی اصلاح کے لئے اخلاقی، معاشرتی اور سے اسی اصول بڑی وضاحت سے بتادیے ہیں۔ اللہ کا فرمان ہے کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہونے کا درجہ رکھتے ہیں۔ اور یہ انسانیت کی کامیابی ہے۔ اس سے تمام اخلاقی برائیاں دور ہوجاتی ہیں۔ پھر افواہوں کو پھیلانے اور ان پر بغیر تصدیق کے یقین کرلینے پر خاص طور سے نصیحت کی گئی ہے۔ کیونکہ کسی بھی قوم، ملت اور ملک کو تباہ کرنے کا یہ ایک بڑا موئثر ہتھیار ہے۔ اسی لئے افواہیں بنانا، پھیلانا اور پھر بغیر تصدیق کے یقین کرلینا مسلمان کی شان کے خلاف ہے۔ یہ تمام اصول جو اس سور ئہ مبارکہ میں ہم مسلمانوں کو سکھائے گئے ہیں، سنہری اصول ہیں۔ انسانی کردار کی تمام برائیوں کو جڑ سے اکھیڑ دیا گیا ہے۔ تاکہ انسان چمکتی، دمکتی پُر سکون اور پاکیزہ زندگی گزار کر کامیاب و کامران اللہ کے حضور حاضر ہو سکے اور یوں اپنی ابدی زندگی عیش و آرام سے گزار سکے اور یہی تو وہ امتحان ہے جو ہم نے پاس کرنا ہے۔ اللہ کرے کہ ہم اپنے اس امتحانی دور کو خوش اسلوبی سے قرآن و سنت کے سائے میں کامیاب و کامران گزار سکیں۔ آمین۔ اور اللہ کے اس فرمان پر پورے اتر سکیں جو سورة مبارکہ کی آیت 13 میں بیان کیا گیا ہے۔ لوگو ! ہم نے تم کو ایک عورت اور ایک مرد سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسری کو پہچانو۔ اصل میں اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ (القرآن، سورة الحجرات) یقینا ایمان کی مضبوطی ہی بندے کی ڈھال ہے ہر شیطان اور ہر شیطانی کام سے بچنے کے لئے۔ دُعا ہے مالک الملک، خالق العٰلمین اور غفوررّحیم سے، اے ہمارے رب ! ہم پر صبر کا فیضان فرما اور موت دے تو اسلام کی حالت میں۔ (از الاعراف آیت 126) الحمد للہ کہ سورة الحجرات مکمل ہوئی