48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 48:1–4

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو فتح دی ایک واضح فتح

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

تا کہ اللہ آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کردے اور آپ پر اپنی نعمت پوری کردے اور آپ کو سیدھے راستہ پر چلائے

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

اور اللہ آپ کی زبردست مدد کرے۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھے اور آسمانوں اور زمین کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ تشریح : یہ آیات بھی اللہ کی شان نبی ﷺ کی استقامت اور مسلمانوں کی فرمانبرداری اتحاد یقین اور تنظیم کی بہترین مثال پیش کرتی ہیں۔ وہ اس طرح کہ صلح حدیبیہ بظاہر مسلمانوں کے دب کر رہتے ہوئے معاہدہ کرنے کی صورت پیش کرتی ہے مگر درحقیقت حالات اس صورت سے پیش آئے کہ وہی دبنا اور کفار کے کہنے کے مطابق مان لینا، مسلمانوں کے لیے آئندہ کامیابی و کامرانی کا بہت بڑا ذریعہ بنے مثلاً ۔ 1 ۔ اہل مکہ نے مسلمانوں کی آزاد خود مختار قوم ہونے کا اقرار کیا۔ 2 ۔ کفار نے جب مسلمانوں کا جوش و جذبہ دیکھا تو ڈر گئے اور خود جنگ نہ کرنے اور صلح کرنے پر راضی ہوگئے۔ 3 ۔ مکہ مدینہ کے بند راستے کھل گئے اور دین کی تبلیغ و اشاعت کے راستے کھل گئے جس کا ثبوت یہ ہے کہ طویل عرصہ میں 1400 مسلمان ہوئے جب کہ اس معاہدہ کے بعد صرف 2 سال میں دس ہزار ہوگئے۔ عام بدو قبائل بھی اس آزادی سے ملنے جلنے کی وجہ سے دھڑا دھڑ مسلمان ہونے لگے۔ 4 ۔ مسلمانوں کو امن سکون سے اشاعت دین کا موقعہ مل گیا۔ غرض یہ معاہدہ مسلمانوں کے حق میں جس قدر کمزور لگتا تھا یہ اتناہی زیادہ مسلمانوں کے حق میں سود مند اور بہترین ثابت ہوا۔ یہی مصلحت تھی جو اللہ کو معلوم تھی نبی ﷺ کو یقین تھا مگر عام مسلمانوں کو معلوم نہ تھی۔ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ سیدناعمر ؓ بھی اس معاہدہ کی گہرائی سے واقف نہ تھے تو جب انہوں نے اپنی پریشانی کا اظہار رسول کریم ﷺ سے کیا تو انہوں نے جواب میں یوں کہا۔ ” میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول ہوں میں اس کے حکم کی ہرگز مخالفت نہیں کروں گا اور وہ مجھے ہرگز ضائع نہیں ہونے دے گا ”۔ یہ خوشخبری پوری ہوگئی وہ اس طرح کہ آپ کو مسلسل کامیابیاں حاصل ہوئیں دین مکمل ہوگیا اور اسلام کی عظمت دنیا کے کونے کونے میں دکھائی دینے لگی۔ اور اسلام کے غلبہ سے دنیا واقف ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ آپ ﷺ کو آخری نبی ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ یہی وہ تمام نعمتیں ہیں جن کا ذکر اللہ نے کیا ہے۔ اور پھر اگلے پچھلے گناہوں کی معافی کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آپ ﷺ تو معصوم ہیں آپ ﷺ سے گناہوں کا ہونا نہ پہلے ممکن تھا، اور نہ اب بعد میں امکان ہوسکتا ہے۔ تو یہاں ذنب کا لفظ الزام کے معنی میں آیا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے کہا جب اللہ نے ان کو فرعون کے پاس دعوت توحید کے لیے جانے کو کہا۔ آپ (علیہ السلام) نے جواب میں کہا۔ ” انہوں نے مجھ پر الزام قتل لگا رکھا ہے پس مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے ”۔ یہاں ذنب کا معنی الزام کیا گیا ہے۔ اس آیت میں ان تمام الزامات سے آپ ﷺ کو نجات کی خوشخبری دی گئی ہے جو ہجرت سے پہلے اور ہجرت کے بعد آپ ﷺ پر کفار نے لگائے تھے۔ جو اس طرح بتائے جا رہے ہیں۔ ہجرت سے پہلے اعلان نبوت کے بعد کفار مکہ آپ ﷺ کو شاعر، مجنوں، جادوگر، کاہن اور یہودیوں کے علماء سے علم حاصل کر کے لوگوں کو بیوقوف بنانے والا کہتے تھے۔ اور ہجرت کے بعد یوں کہتے تھے۔ مکہ کو برباد کرنے والا خاندانوں کو منتشر کرنے والا اور شرو فساد پھیلانے والاملک کو غیر منظم اور راستوں کو غیر محفوظ کرنے والا وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام الزامات صلح حدیبیہ کے بعد بالکل ختم ہوگئے کیونکہ پہلے تو مسلمان مدینہ میں محصور ہو کر رہ گئے تھے مگر اب وہ آزادی سے گھوم پھر کر مل جل کر اپنا دین اور دین کی خوبیاں لوگوں کو بتانے کے قابل ہوگئے تھے اور یہ مسلمانوں کی کامیابی اور فتح کی بہت بڑی نشانی اور واضح دلیل تھی۔ یہی وہ تمام نعمتیں ہیں جن کا ذکر اللہ نے آیت نمبر 2 میں کیا ہے۔ اور پھر تبلیغ و اشاعت میں اپنی خاص مدد کا ذکر بھی فرمایا ہے کہ زندگی کے کسی بھی مشکل مرحلے میں آپ خود کو تنہا نہ سمجھیں ہماری مدد آپ کے شامل حال ہمیشہ رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی یہ بھی آپ ﷺ کے لیے بہت بڑی نعمت اور برکت ہے۔ پھر سکینہ کا ذکر کیا گیا یہ وہ اطمینان سکون صبر اور نظم و ضبط ہے جو اس قافلے کے ہر فرد کے دل میں اللہ نے ڈال دیا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کی شان اور کامیابی صرف اسی میں ہے کہ اللہ و رسول ﷺ کا سچا فرمانبردار، مخلص، نیک نیت، عزم کا پکا اللہ پر پورا بھروسہ کرنے والا ہو۔ اور یہ تمام باتیں کامیابی اور ایمان کی مزید پختگی کا باعث ہوتی ہیں۔ اور پھر یہی ایمان کی مضبوطی دنیا میں کامیابی اور آخرت میں نجات کا باعث بنتی ہے۔ یہ دنیا یہاں کی زندگی اور کفر و ایمان کی جنگ یہی تو انسان کے لیے ایمان کی پختگی کو جانچنے کی کسوٹی ہیں۔ ورنہ اللہ قادر مطلق زمین و آسمان کا مالک اور بیشمار مخلوقات کا مالک وہ جو چاہے کر دے اس کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں کہ بدی کو سرے سے ختم ہی کردے اور ہر طرف نیکی ہی نیکی دکھائی دے مگر اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو نیکی اور برائی کا اختیار دیا ہے۔ یہی وہ امتحان ہے جس میں سے یہ قافلہ گزرا جو 6 ہجری کو معاہدہ حدیبیہ کے امتحان سے گزرا۔ اگر اس وقت مسلمان ذرا برابر بھی ڈر جاتے فرمان رسول ﷺ کو نہ مانتے اور اللہ پر یقین نہ رکھتے تو بد دلی خوف و ہراس مایوسی اور اشتعال انگیزی کی لپیٹ میں آ کر وہ ان تمام نعمتوں اور برکتوں سے بالکل محروم ہو کر رہ جاتے جن کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔ یہ تمام مضامین اللہ کی حکمت دانائی اختیارات کا ثبوت ہیں اور اسی لیے تو کہتے ہیں۔” اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور دانا ہے۔ (آیت 4) ہم اللہ کی خاص مہربانی سے ایمان کی دولت سے مالامال ہیں ہمیں اس دولت میں اضافہ کرنے کے لیے اللہ کی محبت اور رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری کا پورا پورا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔” اور ایمان والے اللہ سے شدید محبت رکھتے ہیں ”۔ ایک اور جگہ فرمایا۔ ” ایمان والوں کے لیے اللہ کے رسول ﷺ ان کی اپنی جانوں سے بھی مقدم ہیں۔ (الاحزاب 6)
Ayahs 48:5–10

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہوں کو دور کردے اور یہ اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

اور اس لیے کہ منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں جو اللہ کے حق میں برے برے خیالات رکھتے ہیں عذاب دے۔ انہی پر برے حادثے واقع ہوں اور اللہ ان پر ناراض ہوا اور ان پر لعنت کی اور ان کے لیے دوزخ تیار کی اور وہ بری جگہ ہے

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کے لشکر اللہ ہی کے ہیں اور اللہ غالب و حکمت والا ہے۔

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

(اور اے محمد ﷺ ! ) ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور خوف دلانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

تا کہ (مسلمانو ! ) تم لوگ اللہ پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کی عزت کرو اور صبح شام اس (اللہ) کی تسبیح کرتے رہو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے، پھر جو عہد کو توڑے تو عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے اور جو اس بات کو جس کا اس نے اللہ سے عہد کیا ہے پورا کرے تو عنقریب وہ اسے اس کا اجر عظیم دے گا

اللہ کا فضل اور اللہ کا عذاب تشریح : ان آیات میں اللہ کی حاکمیت، رسول اللہ ﷺ کی کاملیت، انسان کی عظمت (جو اللہ نے دی) خلیفۃ اللہ ہونے کا اعزاز اور پھر انسان کی سزا اور جزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سزا و جزا صرف آخرت میں ہی نہیں ملتی بلکہ کافی حد تک دنیا میں بھی بدلہ ملتا رہتا ہے۔ کیونکہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے، اس لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہوا ہے۔ گناہ اور بھول چوک میں فرق ہے بہرحال اللہ سے استغفار کرتے رہنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کو اپنا والی حامی و ناصر بنا لیتے ہیں تو پھر ان کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ یہاں ذکر کیا گیا ہے ” جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ (آیت 10) یہ بیعت رضوان کا ذکر کیا گیا ہے، یعنی اس وقت لوگ جانتے تھے کہ ہم بغیر ہتھیاروں کے آئے ہوئے ہیں تعداد بھی مختصر ہے مگر پھر بھی اللہ پر اس قدر پکا یقین تھا کہ بےخطر ہو کر رسول ﷺ کی پیروی کر ڈالی۔ یہ حکمت کی باتیں اور نجات کے راستے سوائے قرآن کے اور کہاں مل سکتے ہیں کیونکہ یہ غالب اور حکمت والے اللہ کی کتاب ہدایت ہے جو ہر انسان کے لیے نور اور نجات کا ذریعہ ہے۔ انسان کے عقائد پر تاریخی اور سیاسی ردوبدل سے اثر پڑتا رہتا ہے تو ان اثرات سے بچنے کے لیے قرآن کو سمجھ کر پڑھتے رہنا بےحد ضروری ہے۔ اس سورت کی آیات آٹھ، نو اور دس میں اسی بات پر زور دے کر کہا گیا ہے کہ ” جس کا اس نے اللہ سے عہد کیا ہے پورا کرے تو عنقریب وہ اسے اس کا اجر عظیم دے گا۔ (10)
Ayahs 48:11–17

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

جو گنوار پیچھے رہ گئے وہ آپ سے کہیں گے کہ ” ہم کو ہمارے مال اور اہل و عیال نے روک رکھا آپ ہمارے لیے اللہ سے بخشش مانگیں ” یہ لوگ اپنی زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے۔ کہہ دو کہ اگر اللہ تم لوگوں کو نقصان پہنچانا چاہے یا تمہیں فائدہ پہنچانے کا ارادہ کرلے تو کون ہے جو اس کے سامنے تمہارے لیے کسی بات کا کچھ اختیار رکھے ؟ کوئی نہیں بلکہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے واقف ہے۔

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی اور اسی وجہ سے تم نے برے برے خیال کیے اور آخر کار تم ہلاکت میں پڑگئے۔

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ اور اس کے پیغمبر پر ایمان نہ لائے تو ہم نے ایسے کفار کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے سزا دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

جب تم لوگ غنیمت لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیں کہ آپ کے ساتھ چلیں، یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے قول کو بدل دیں۔ کہہ دو کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسی طرح اللہ نے پہلے سے فرما دیا ہے۔ پھر کہیں گے ” نہیں تم تو ہم سے حسد کرتے ہو ”۔ بات یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں مگر بہت کم۔

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

جو گنوار پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہہ دو کہ تم جلد ایک سخت جنگجو قوم کے ساتھ لڑائی کے لیے بلائے جاؤگے ان سے تم یا تو جنگ کرتے رہو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے اگر تم حکم مانو گے تو اللہ تمہیں اچھا بدلہ دے گا اور اگر منہ پھیر لو گے جیسے پہلی دفعہ پھیرا تھا تو وہ تم کو بری تکلیف کی سزا دے گا

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

نہ تو اندھے پر گناہ ہے کہ (جنگ میں شامل نہ ہو) ۔ نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ بیمار پر گناہ ہے۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے پیغمبر کے فرمان پر چلے گا اللہ اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہیں ہیں اور جو حکم عدولی کرے گا اسے درد ناک عذاب دے گا

اعرابی منافقین کا جنگ سے رہ جانا اور ان کے لیے وعید تشریح : ان آیات میں انسانی فطرت کا ذکر کیا گیا ہے کہ مال کے لالچ میں جنگ پہ جانا منظور ہے مگر اللہ کے نام پر جنگ کرنا نامنظور ہے تو بتایا گیا ہے کہ مسلمان تو ہوتا ہی وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں سب کچھ قربان کر دے کیونکہ ان کا تو ایمان ہی یہ ہے کہ :- پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے (علامہ اقبال (رح) ) مطلب یہ ہے مسلمان کی شان اور اہمیت بہت زیادہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ کعبۃ اللہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ ” تو اللہ کے نزدیک بےحد عزیز و محترم ہے لیکن ایک مسلمان اللہ کو تجھ سے زیادہ محبوب ہے ”۔ کیوں نہ ہو جب ایک بندے کو اپنی جان سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ عزیز ہوں تو اس کا اللہ اس پر حد سے زیادہ مہربان کیوں نہ ہو، ایسے ہی لوگوں کو جنت کی خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی آل اولاد میں سے ہوتے ہیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کے لیے کہا گیا ہے۔ بےخطر کود گیا آتش نمرود میں عشق۔ یہ آیات وضاحت کر رہی ہیں ان جانثاروں کی جو آپ ﷺ کے ساتھ عمرہ کے لیے مکہ جانے پر رضا مند ہوگئے تھے اور پھر ان لوگوں کا ذکر ہے جو اس خیال سے ساتھ نہ گئے تھے کہ یہ بڑا خطر ناک کام ہے اور ان کو یقین تھا کہ نبی ﷺ اور مسلمان اس مہم سے واپس نہ آئیں گے کیونکہ یہ بڑی مشکل مہم تھی تو بہانہ انہوں نے یہ کیا کہ ہماری بیویاں پیچھے اکیلی رہ جائیں گی۔ وغیرہ وغیرہ اور یہ سب بہانہ تھا۔ اور نہ جانے والوں میں مدینہ کے نواحی قبیلے تھے، یعنی جہینہ، مزینہ، غفار، اشجع، دیل اور اسلم۔ یہ مسلمانوں کے وفادار بنتے تھے مگر ساتھ جانے سے انہوں نے انکار کردیا تھا۔ اللہ تو بڑا خبر رکھنے والا ہے وہ تو ان کی نیتوں کو خوب اچھی طرح جانتا تھا تو صلح حدیبیہ سے واپسی پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ خیبر پر چڑھائی کر دو اور ساتھ یہ حکم بھی ہوا کہ وہاں صرف وہ لوگ جائیں گے جو صلح حدیبیہ میں موجود تھے۔ نہ جانے والے اس لیے جانے کو تیار ہوگئے کیونکہ ان کو یہاں سے مال غنیمت ملنے کی امید تھی۔ تو اللہ نے فرمایا کہ ان کو بتا دو اب نہیں جاسکتے آئندہ بڑی سخت جنگیں ہونے والی ہیں ان میں یہ ضرور شامل ہوجائیں۔ ان جنگوں سے مراد فتح مکہ، حینن و ہوازن، ثقیف اور پھر جو حضرت ابوبکر ؓ کے زمانے میں مرتدین کے خلاف ہوئیں۔ پھر ان لوگوں کو بتایا گیا کہ اگر اس وقت تم نے مخلص ہو کر جنگ کی تو ضرور بےحد عمدہ اجر پاؤگے۔ یہاں مسلمان کی نیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی (علامہ اقبال (رح) ) ان آیات کی وضاحت ہم یوں بھی کرسکتے ہیں۔ سب سے پہلے مسلمان کی تعریف ہوجائے۔ ایمان اور تقویٰ مسلمان کو مکمل کرتا ہے ایمان مسلمان کی منزل یعنی وحدانیت کا یقین دلا کر ایک بےخوف اور مضبوط انسان بنا دیتا ہے جب کہ تقوی مسلمان کی روح دل اور دماغ کو مضبوط اور روشن کردیتا ہے۔ اور پھر وہ زندگی کے ہر میدان میں جہاد کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ جہاد کئی طرح کیا جاتا ہے مثلاً جہاد بالقرآن، جہاد باللسان، جہاد بالقلم، جہاد بالقلب، جہاد بالمال اور جہاد بالنفس، جہاد بالسیف یہاں پر صرف جہاد بالسیف کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کوشش محنت اور جانثاری صرف اور صرف اللہ اور دین اسلام کی سربلندی کے لیے کی جاتی ہے لہٰذا اس کو جہاد فی سبیل اللہ کہا جاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ عہد رسالت میں بیشمار جنگیں ہوئیں مگر ان پر یہ آیت نمبر 16 فٹ نہیں بیٹھتی پیر محمد کرم شاہ اس آیت سے یہ اشارہ بتاتے ہیں لکھتے ہیں۔ ” یہ وہ جنگ ہے جو عہدصدیقی میں مسلیمہ کذاب کے ساتھ لڑی گئی۔ ہوا یوں کہ نبی اکرم ﷺ کی رحلت کے بعد بیشمار فتنے جاگ اٹھے مثلاً ارتداد، زکوٰۃ دینے سے انکار، خلافت اسلامیہ کے خلاف اور پھر مسلیمہ کا نبوت کا دعویٰ اور اس کی طاقت دو سال میں یوں بڑھ گئی کہ اس کا قبیلہ بنو حنیفہ جو شجاعت اور جنگی مہارت میں بےمثال تھا اس کے گرد جمع ہوگیا۔ پھر لکھتے ہیں۔ کہ عقربا گاؤں کے کھلے میدان میں دونوں لشکر صف آرا ہوئے مسلیمہ ساٹھ ہزار بہادر سپاہیوں کے ساتھ جو کہ مکمل طور پر اسلحہ سے لیس تھے جب کہ اسلامی لشکر میں اکابر مہاجرین اجلہ انصار کی کثیر تعداد اور حفاظ قرآن شامل تھے حضرت خالد ؓ سپاہ سالار تھے۔ یہ لڑائی بڑی شدید جنگ تھی۔ چند گھنٹوں میں دشمن کے سات ہزار سے زیادہ سپاہی ہلاک ہوئے اور پھر مسلیمہ کے قتل کے بعد دشمن نے ہتھیار ڈال دئیے اس دوران مزید دشمن مارے گئے اور یوں ان کی کل تعداد اکیس ہزار ہوگئی۔ مسلمانوں کا بھی جانی نقصان بہت زیادہ ہوا ہزاروں صحابہ کرام شہید ہوگئے اور انکار ختم نبوت کا فتنہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جڑ سے اکھیڑ کر پھینک دیا گیا۔ یہ وہ پہلا معرکہ ہے جو اس آیت کے نزول کے بعد مسلمانوں اور ایک ایسی قوم کے درمیان ہوا جس پر ” اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ ” کا صحیح اطلاق ہوتا ہے اور اس کا انجام بھیتقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْیُسْلِمُوْنَ کے عین مطابق ہوا حضرت نافع ابن خدیج ؓ فرماتے ہیں۔ ” بخدا پہلے ہم یہ آیت پڑھا کرتے تھے لیکن ہمیں یہ علم نہ تھا کہ وہ جنگجو قوم کون سی ہے جس کے ساتھ ہمیں جنگ کی دعوت دی جائے گی۔ جب صدیق اکبر ؓ نے ہمیں بنی حنیفہ کے ساتھ جنگ کرنے کی دعوت دی تو ہم جان گئے کہ یہی وہ قوم ہے جس کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے ”۔ (از ضیاء القرآن جلد چہارم صفحہ 547) دو اور خاص باتیں جن کا یہاں ذکر کیا گیا ہے وہ ہے جہاد کی فرضیت کے بارے میں۔ اسلام نے تمام معاملات میں تحمل اور صبر کی تلقین کی ہے مگر اسلام نے سختی سے حکم دیا ہے کہ اگر کوئی تمہارے انسانی حقوق چھیننے کی کوشش کرے، تم پر ظلم و ستم ڈھائے، تمہارے ایمان اور قوت کو نقصان پہنچانا چاہے، تمہاری املاک چھین لینے کی کوشش کرے، صرف اس لیے کہ تم مسلمان ہو تو اس کے مقابلہ میں ہرگز کمزوری نہ دکھاؤ اعلان جنگ ہوتے ہی تمام مسلمانوں پر جہاد فرض ہوجاتا ہے سوائے ان لوگوں کے جن کا ذکر یہاں کیا گیا ہے مثلاً نابینا، لنگڑے اور بیمار کو اس فرض سے فارغ رکھا گیا ہے۔ دوسرا نکتہ بیعت کا یہاں بیان کیا گیا ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر معاہدہ کرنا کوئی معمولی بات نہیں دراصل یہ رسول ﷺ سے ہی نہیں بلکہ اللہ جل شانہ کے ساتھ معاہدہ تصور کیا جاتا ہے۔ جو ایک انسان پورے خلوص اور محبت سے اپنے خالق ومالک سے جانثاری کا وعدہ کرتا ہے۔ ایسے ہی جانثاروں کے لیے بہشتوں کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ” جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور جو حکم عدولی کرے گا اسے درد ناک عذاب ہوگا۔ ( آیت :17) کون ہے جو شہادت کا رتبہ حاصل نہ کرنا چاہے گا۔ مرنا تو ہے ہی کیوں نہ بہترین مقصد کے لیے جان دی جائے جو دونوں جہانوں میں راحت و آرام اور انعام واکرام کا باعث بنے۔ اگلی آیات میں انعام و اکرام کا وعدہ کیا گیا ہے۔
Ayahs 48:18–21

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ جب مومن آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو اللہ ان سے خوش ہوا اور جو سچائی اور خلوص ان کے دل میں تھا وہ اللہ کو معلوم تھا تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت فرمائی۔

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور بہت سی غنیمتیں جو انہوں نے حاصل کیں اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کی تمہارے لیے جلدی فرمائی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دئیے۔ غرض یہ تھی کہ یہ مومنوں کے لیے اللہ کی قدرت کا نمونہ ہے اور وہ تم کو سیدھے رستے پر چلائے۔

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور مزید غنیمتیں دے جن پر تم قدرت نہیں رکھتے اور وہ اللہ ہی کی قدرت میں تھیں اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے بہترین انعامات کی خوشخبری تشریح : نبی مکرم ﷺ کا مسلمانوں کے ساتھ عمرہ کے ارادے سے مکہ جانا اور پھر حالات و واقعات کے مطابق بیعت رضوان کا واقعہ پیش آنا یہ سب تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مگر یہ منظر کہ کس ذوق و شوق اور رضائے الہٰی و رسول مکرم ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے مومنین اللہ کی محبت اور رسول اللہ ﷺ کی محبت میں ڈوبے ہوئے تسلیم و رضا کا پیکر بنے ہوئے تمام دنیاوی عیش و عشرت سے بےنیاز بیعت رسول ﷺ کے لیے جمع ہونے لگے۔ بڑا ہی دلکش منظر تھا کہ حق تعالیٰ جل شانہ نے انتہائی خوش ہو کر یہ اعلان کیا کہ ہم نے ان پر اپنی نعمتیں برسادیں۔ پہلی نعمت : تو یہ کہ ان کو سکون دل عطا کیا۔ جو ان حالات میں بہت بڑی نعمت تھا۔ دوسری نعمت ” عنقریب فتح ” کی خوشخبری ہے جو کہ فتح خیبر کی صورت میں صلح حدیبیہ کے فوراً بعد ملی۔ تیسری نعمت : بیشمار مال غنیمت ملنے کی خوشخبری ہے جو کہ فتح خیبر میں بیشمار اموال اور املاک کی صورت میں مسلمانوں کو ملا۔ چوتھی نعمت : وہ سکون اور اطمینان تھا جو صلح حدیبیہ کے بعد ملا کہ ” دس سال تک لڑائی نہ کریں گے “۔ اس کا سب سے بڑا فائد یہ ہوا کہ رسول معظم ﷺ نے یکسوئی سے خیبر کے یہودیوں کی خبر لی جو کفار مکہ سے بھی زیادہ خطرناک دشمن اسلام تھے۔ خیبر کے دو بڑے حصے ہیں نطاۃ اور شق ان میں بیشمار مشہور قلعے موجود ہیں مثلاً نطاۃ میں حصن ناعم، حصن العصب، ابن معاذ اور حصن زبیر اور شق کے مشہور قلعے یہ ہیں۔ سموان، نذل، قموص، وطیح اور سلالم۔ خیبر کوئی معمولی علاقہ نہ تھا۔ بڑا وسیع و عریض علاقہ اور انتہائی مضبوط لوگ تھے۔ پھر یہ وعدہ بھی کیا گیا اور یہ وعدہ موجودہ دور کے اور آئندہ دور کے تمام مسلمانوں سے کیا گیا ہے کہ اگر اطاعت اور خلوص اور ایمان و یقین کا ایسا ہی ثبوت دیتے رہو گے تو اللہ کی نعمتوں برکتوں کا نزول ہمیشہ اسی طرح ہوتا رہے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ جذبہ ایمانی ہو جیسا کہ صلح حدیبیہ کے وقت ان 1400 جانبازوں کا تھا۔ اس تاریخی سفر میں قدم قدم پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی بےحد مدد فرمائی، مثلاً جب آپ ﷺ مومنوں کے ساتھ مکہ رخصت ہوئے تو مدینہ میں موجود مسلمانوں کے دشمنوں کو یہ جرات نہ ہوئی کہ مسلمان خاندانوں پر حملہ کرسکیں۔ اس کے بعد خود اہل مکہ پر مسلمانوں کا ایسا رعب ڈال دیا کہ وہ خود صلح کے لیے تیار ہوگئے۔ یہ تمام آیات اللہ رسول اور مسلمان کے اس باہمی تعلق کو ظاہر کرتی ہیں جو اللہ رحیم و کریم اپنے پاکیزہ بندوں سے ہر وقت جوڑے رکھتا ہے۔ اور یہی اس کا فضل و کرم ہے جو تمہارے لیے نیکی، پاکی اور کامیابی کی راہیں کھولتا رہتا ہے۔ مگر شرط وہی یقین کامل کی ہے۔ اتحاد، تنظیم اور یقین ہی مسلمانوں کے بہترین ہتھیار ہیں جو ان کو شیطان اور دشمن کی ہر قسم کی یلغار سے محفوظ و مامون رکھتے ہیں۔ آخر میں ان تمام فتوحات کی خوشخبری دی گئی ہے جو آئندہ زمانوں میں مسلمانوں کو ملیں گی کیونکہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور بےحد علم رکھنے والا ہے وہ ہر غیب و حاضر، یعنی ماضی حال اور مستقبل کا علم رکھتا ہے تو اس نے آیت نمبر 21 میں ان تمام فتوحات کی خوشخبری دے دی ہے جو مسلمانوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھیں۔ مثلاً مغرب میں شام، فلسطین، مصر، شمالی افریقہ، سپین اور مشرق میں عراق، ایران، افغانستان اور برصغیر کے ممالک وغیرہ سب شامل ہیں۔ فتح مکہ کی خوشخبری بھی دی گئی ہے۔ پھر بتا دیا گیا کہ یہ تمام فتوحات آسان کام نہیں یہ صرف اللہ کی مہربانی کی بدولت ہوا جو وہ اپنے پر خلوص مضبوط ایمان رکھنے والے بہترین انسانوں پر کرتا رہتا ہے۔
Ayahs 48:22–26

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور اگر تم سے کافر لڑتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے پھر کسی کو دوست نہ پاتے اور نہ مددگار۔

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

یہی اللہ کا دستور ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے اور اللہ کے دستور کو بدلتے ہوئے تم کبھی نہ دیکھو گے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو ان کافروں پر فتح یاب کرنے کے بعد مکہ کی سرحد پر ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دئیے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روک دیا اور قربانیوں کو بھی کہ اپنی جگہ پہنچنے سے رکی رہیں اور اگر ایسے ایمان والے مرد اور مومنہ عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم ان کو پامال کردیتے تو تم کو ان کی طرف سے بیخبر ی میں نقصان پہنچ جاتا اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرے اور اگر دونوں فریق الگ الگ ہوجاتے تو جو ان میں کافر تھے ان کو ہم دکھ دینے والا عذاب دیتے

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

جب کفار نے اپنے دلوں میں ضد کی اور وہ بھی جاہلیت کی تو اللہ نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور ان کو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق تھے اور اللہ ہر چیز سے خبردار ہے۔

کامیابیاں مسلمانوں کی ہی ہوں گی تشریح : ان آیات میں اللہ کی ان نعمتوں برکتوں اور حکمتوں کا ذکر بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے جو صلح حدیبیہ کی صورت میں مسلمانوں پر ظاہر ہوئیں۔ اگر اس وقت جنگ ہوجاتی تو بھی حق کو ہی فتح ہونی تھی کیونکہ اللہ حق کا ساتھ دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کو اخلاقی تربیت بھی دی گئی ہے۔ جذبات پر قابو رکھنا غصہ کو دبانادور اندیشی سے کام لینا اور ظاہری فائدہ کی خاطر رسول ﷺ اور اللہ کے احکامات کے خلاف کام نہ کرنا۔ ہر صورت توحید، ایمان، مستقل مزاجی اور اتباع رسول ﷺ کو زندگی کا حصہ بنائے رکھنا ضروری ہے۔ صلح حدیبیہ کا واقعہ پورے کا پورا اسی حقیقت کے گرد گھومتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی حکمتوں کو بندوں کے سامنے ظاہر کرتا رہتا ہے۔ نبی مکرم ﷺ کا عمرہ کے لیے جانا اس کی بنیاد بنا۔ حرم میں داخلہ سے منع کرنا ان کے اصول کے خلاف تھا مگر انہوں نے صرف نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں سے دشمنی کی وجہ سے یہ اپنے ہی اصول کے خلاف کام کیا جو خود ان کے حق میں ہی ہر طرح سے ناکامی اور شکست کا باعث بن گیا۔ مثلاً انہوں نے آزاد مسلم قوم کا اقرار خود کرلیا یہ پہلی کامیابی ہوئی۔ دوسری وہ مسلمانوں کے رعب میں آگئے اور خود صلح کی درخواست کی اور اس طرح مسلمانوں کو ہی فائدہ ہوا۔ ایک یہ کہ مکہ میں رہنے والے ایسے مسلمان قتل ہونے سے بچ گئے جنہوں نے قبول اسلام کا اعلان نہ کیا تھا بلکہ مخفی طور پر مسلمان ہوچکے تھے۔ تیسرا۔ کچھ ایسے لوگ قتل ہونے سے بچ گئے جن کے دل ایمان کی طرف مائل ہوچکے تھے جو کچھ مہلت ملنے پر بہترین صاحب ایمان ثابت ہوئے مثلاً حضرت خالد ؓ حضرت عمر وبن العاص ؓ اور بہت سے لوگ جو صلح کے بعد ایمان لائے اور بہترین جرنیل اور سیاستدان کی صورت میں ظاہر ہوئے۔ چوتھا۔ عام میل ملاقات شروع ہوگئی جس سے دین اسلام کی خوبیاں تمام خلقت پر ظاہر ہونے لگیں اور لوگ دھڑا دھڑ مسلمان ہونے لگے۔ سب کو معلوم ہوگیا کہ اسلام امن اور محبت کا دین ہے۔ پانچواں۔ یہاں مسلمان کی تعریف ملتی ہے۔ جو ہمیشہ مثبت رد عمل کا ثبوت دیتا ہے یعنی اس کا سلوک دوسروں کے ساتھ عام حالات میں تو بہترین ہوتا ہی ہے لیکن جب کوئیـ اس کے ساتھ زیادتی کرے تب بھی وہ ایک بااصول خدا پرست انسان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتا۔ بلکہ صبرو تحمل اور عفو و برداشت سے کام لے کر کوئی بہترین راستہ تلاش کرتا ہے اور یہ اللہ کو بےحد پسند ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کو اپنے خاص محبوب ترین بندے کہتا ہے ان کی ہر صورت مدد فرماتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے دعا کرتے ہوئے فرمایا ” اے اللہ میرے دل کو ہدایت دے اور میری زبان کو قول سدید کی توفیق دے “۔ (از ابو داؤد، الترمزی، احمد) ظاہر ہوا کہ قول سدید (درست قول یا بات) کسی انسان کے مومن ہونے کا ثبوت ہے الحمد للہ کہ ہم مسلمان ہیں اللہ ہمیں بہترین مسلمان ہونے کی توفیق دے۔ (آمین)
Ayahs 48:27–29

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader

بیشک اللہ نے اپنے پیغمبر کو سچا اور ٹھیک خواب دکھایا کہ اللہ نے چاہا تو تم مسجد حرام میں اپنے سر منڈوا کر اور اپنے بال کتروا کر امن وامان سے داخل ہو گے اور کسی طرح کا خوف نہ کرو گے جو بات تم نہیں جانتے تھے اس کو معلوم تھی سو اس نے اس سے پہلے ہی جلد فتح کرا دی۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایات کی کتاب اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے اور (حق ظاہر کرنے کے لیے) اللہ ہی کافی ہے۔

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:29 in the Quran reader

محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل، ( اے دیکھنے والے) تو ان کو دیکھتا ہے کہ اللہ کے آگے جھکے ہوئے سربسجود ہیں اللہ کا فضل اور اسکی خوشنودی طلب کر رہے ہیں زیادہ سجدوں کی وجہ سے ان کے ماتھوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں ان کی یہی صفات تو رات میں لکھی ہوئی ہیں اور انجیل میں بھی۔ یہ ( لوگ گویا) ایک ایسی کھیتی ہیں جس نے پہلے زمین سے اپنی سوئی نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور کھیتی والوں کو خوش کرنے لگی تاکہ کافروں کا دل جلائے جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے اللہ نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔

خواب میں بشارت تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کامیابی کی بشارت دی ہے۔ ہوا یوں کہ جب 6 ھ ؁ ذیقعدہ کو رسول ﷺ حدیبیہ سے مدینہ کو واپس تشریف لائے تو ذی الحجہ اور محرم وہاں رکے، ماہ صفر میں آپ ﷺ نے خیبر پر حملہ کیا اور اس کو فتح کیا پھر ذیعقدہ 7 ھ ؁ کو آپ ﷺ عمرہ کرنے کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ ذوالحلیفہ سے آپ ﷺ نے احرام باندھا اور قربانی کے جانور ساتھ لیے اور یوں آپ ﷺ بےخوف و خطر مکہ میں داخل ہوئے اور جو کچھ آپ ﷺ نے خواب میں دیکھا تھا حرف بحرف سچ ثابت ہوا اسی خواب کا ذکر کیا گیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و طاقت کا ذکر اس طرح کیا کہ میں نے لوگوں کی ہدایت کے لیے عظیم الشان پیغمبر کو بہترین کتاب ہدایت قرآن اور بہترین دین اسلام کے ساتھ بھیجا۔ گو کہ ان سے پہلے بہت پیغمبر اور بہت آسمانی کتابیں آچکی ہیں مگر ان کو ہم نے تمام پیغمبروں تمام کتابوں اور تمام دینوں پر فضیلت دی ہے۔ یہی اللہ کا وعدہ تھا جو اس نے پورا کیا۔ اس کے بعد اس دین کی پیروی کرنے والے صحابہ کرام کی ہے جو اپنے نورانی چہروں سے ہی پہچان لیے جاتے ہیں کہ یہ مسلم ہیں پھر ان کی مثال یوں دی ہے کہ جیسے نبی تو ایک پودے کی صورت میں ظاہر ہوئے اور پھر ان کے اردگرد بیشمار پودے نکل آئے اور یہ پہلے نکلنے والا پودا آہستہ آہستہ یوں بڑھا کہ پہلے کمزور پتلا سا تنا تھا پھر ذرا موٹا ہوا اور پھر تنآور درخت بن گیا صحابہ کرام اس کی مضبوطی کا ذریعہ بنے۔ اور پھر یہ کفار کے مقابلہ میں سیسہ پلائی دیوار بن گئے جب کہ آپس میں انتہائی نرم مزاج اور ہمدرد ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اس کی تعریف یوں کی ہے۔ ” مومن کا تعلق مومن کے ساتھ ایسا ہے جیسا کہ دیوار کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو سہارا دئیے ہوئے ہوتا ہے آپ ﷺ نے یہ فرمایا اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے سے ملایا۔ (بخاری) شاعر نے اس کی تشریح یوں کی ہے۔ ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن (علامہ اقبال (رح) ) اس پوری تشریح کو ہم یوں سمیٹتے ہیں کہ ” عویم بن ساعدہ “ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” سب مخلوقات سے اللہ نے مجھے چنا اور پھر میرے لیے اصحاب کا انتخاب فرمایا ان میں سے میرے لیے وزیر، داماد اور سسر بنائے پس جس نے ان کو برا بھلا کہا تو اس پر اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہو۔ روز قیامت اللہ تعالیٰ ان سے کوئی معاوضہ اور کوئی بدلہ قبول نہ کرے گا ”۔ (ازقرطبی) یعنی قیامت کے روز ان کو سزا ملے گی۔ پوری سورت کا مطلب ہم نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے اب یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہم خوب سمجھ لیں کہ یہ سب کچھ احکامات صرف اس زمانے کے لیے نہیں ہیں بلکہ یہ تاقیامت جاری وساری رہنے والے احکامات ہیں اس وقت نبی ﷺ خود موجود تھے اور اب ان کی تعلیمات قرآن و سنہ کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہیں اور انشاء اللہ ہمیشہ اسی طرح موجود رہیں گی۔ مگر ان پر غور و فکر اور عمل کرنے کے لیے وہی جذبہ وہی یقین اور وہی ذوق و شوق چاہیے جو اس وقت کے سچے اور پکے مسلمانوں میں تھا۔ دعا ہے شاعر کی زبان میں۔ عزائم کو سینوں میں پیدا کردے نگاہ مسلماں کو تلوار کر دے (علامہ اقبال (رح) ) خلاصہ سورة الفتح یہ سورت اپنے نام میں ہی اپنا مقصد چھپائے ہوئے ہے۔ کیونکہ اس کا نازل کرنے والا ارفع و اعلی، عظیم و حکیم اور قادر مطلق ہے۔ اس نے دنیا بنائی اور اس میں بیشمار چیزیں بنائیں بیشمار قسم کی مخلوقات بنائیں اور پھر ان تمام مخلوقات میں ارفع و اعلی مخلوق انسان کی صورت میں بنائی جس کو اپنی صفات کا ہلکا ہلکا اثر دیا پھر اس کو عقل و ارادہ کی طاقت بھی دی نیکی بدی کی راہیں بھی اس کے سامنے کھول دیں۔ تو انسان کی ہدایت کے لیے بیشمار پیغمبروکتابیں بھیجیں۔ تمام مخلوق میں انسان اور تمام پیغمبروں میں آخری نبی ﷺ اور تمام کتابوں میں قرآن پاک اور تمام دینوں میں دین اسلام کو فضیلت دی اور وعدہ فرمایا کہ اس دین کو فروغ ہی فروغ ملے گا اور اس کے ماننے والوں کو ہمیشہ فتح و کامیابی حاصل ہوگی کیونکہ ایسے ہی لوگ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں جو زندگی گزاریں تو رب کے لیے جو مریں تو رب کے لیے دنیا کی تمام نعمتوں برکتوں کو پوری طرح استعمال کریں مگر شکر رب کے ساتھ ہر صورت ہر وقت اور ہر لمحہ نیکی کو فروغ دیں اور بدی کو مٹائیں۔ بیشک اس راستے کے راہمناہادیٔ برحق ﷺ ہیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ پیش خدائے پاک رکوع و سجود میں جس نے بھی سر جھکایا وہی سرفراز ہے مولا کے سامنے ہے یہ اظہار بندگی محبوب جس کو بندے کا عجز و نیاز ہے قلب و نظر کو روح کو بالیدگی ملے اک ربط بین بندہ و بندہ نواز ہے ظفراقبال حدیث میں آیا ہے کہ ” حق تعالیٰ شانہ تین چیزوں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ ایک جماعت کی صف کو، ایک اس شخص کو جو آدھی رات تہجد کی نماز پڑھ رہا ہو، تیسرے اس شخص کو جو کفار کے لشکر کے خلاف لڑ رہا ہو۔” عام زبان میں ہم مومن کی صفات تھوڑی سی یوں بیان کریں گے۔ پختگی ایمان، حقوق اللہ اور حقوق العباد، بدی سے بچنا، اعتدال پسندی، جذبہ جہاد، فرض شناسی، اطاعت گزاری، وقت کی پابندی، دلیری اور بےخوفی، جلد اٹھنا، نفاست پسندی، تنظیم اور یقین محکم۔ یہ تمام صفات انسان میں خود بخود پیدا ہوجاتی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کا ﷺ محب ہو۔ جس کو دنیا کے ہر ذرے میں اللہ نظر آئے۔ تو بس ایسا بندہ اور ایسی امت ناقابل تسخیر ہے اور اسی کا وعدہ اللہ جل شانہ نے اس سورة الفتح میں کیا ہے۔ اور اس فتح و کامرانی کی ابتدا، اسی پہلی فتح سے ہوئی جس کا ذکر اس سورت کی پہلی آیت میں کیا گیا ہے۔ ” یقینا ہم نے آپ کو شاندار فتح عطا فرمائی ”۔ اور اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ اور اس وعدے کو پورا ہونے میں دیر نہیں لگی۔ کیونکہ آپ ﷺ کے زمانے میں ہی مکہ پر اسلام کا پرچم لہرانے لگا جو کفر و شرک کا گڑھ تھا پھر خلافت راشدہ میں ایشیاء اور افریقہ کے بر اعظموں میں اس کی عظمت کے ڈنکے بجنے لگے شرق و غرب میں کلمہ توحید کی صدائیں گونجنے لگیں۔ غالب آنے کا مطلب یہ ہے کہ یا لوگ اس کو قبول کرلیں یا اس کی برتری کو تسلیم کرلیں۔ مسلمانوں کے دور انحطاط میں بھی نظر و فکر کے میدانوں میں اسلام کا پرچم لہراتا رہا ”۔ (از ضیاء القرآن پیر کرم شاہ الازہری) القرآن :۔” اے میرے رب ! مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر کیا کروں جو تو نے مجھے اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی ہیں اور یہ کہ مجھے نیک کاموں کی توفیق دے جو تجھے پسند ہوں اور مجھے اپنی خاص مہربانی سے اپنے مقبول ترین بندوں میں شامل کرلیجئے ”۔ (سورۃ النحل آیت 19) یہ دعا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے رب سے کی تھی بڑی مقبول دعا ہے سب کو کرتے رہنا چاہیے۔ صرف زبان سے ہی نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے دعا کرنی چاہیے۔ تو پھر قبول ضرور ہوتی ہے۔ اگر قبول نہ ہو تو یہ بھی بندے کے اپنے ہی فائدہ میں ہوگا لیکن اللہ بہترین بھلائی کرنے والا ہے۔ الحمد للہ کہ سورة الفتح مکمل ہوگئی۔