47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 47:1–3

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور دوسروں کو اللہ کے رستے سے روکا اللہ نے ان کے اعمال برباد کردیے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور جو کتاب محمد پر نازل ہوئی اسے مانتے رہے اور وہ ان کے رب کی طرف سے برحق ہے ان سے ان کے گناہ دور کردیے اور ان کی حالت سنوار دی۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ اس لیے ہوا، کہ جو منکر ہوئے انہوں نے جھوٹی بات کی پیروی کی اور جو ایمان لائے اور اپنے رب کے دین حق کے پیچھے چلے اسی طرح اللہ لوگوں سے ان کے حالات بیان کرتا ہے

منکر و مومن کا مقابلہ تشریح : یہ آیات مومن اور کافر کا فرق بڑی وضاحت سے کرتی ہیں۔ کیونکہ صرف قرآن کو پڑھ لینا اور پھر لپیٹ کر رکھ دینا ہی اسلام لے آنا نہیں کہلاتا بلکہ نیکی، ایمان، تقوی اور اللہ رسول اور قرآن پر پورا پورا یقین رکھنا اور اس میں بتائے گئے تمام احکامات پر خلوص نیت سے عمل کرنا دوسروں کو عمل کرنے کی تاکید کرنا اور یہ سب کچھ دل و جان سے کرنا۔ مومن کی نشانی ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کی طرف سے خاص رحمتیں، برکتیں اور مدد نازل ہوتی رہتی ہے۔ اس تمام عمل کے دوران اگر کوئی غلطی ان سے ہوجاتی ہے تو اللہ غفور الرّحیم ان کی خطائیں معاف فرما دیتا ہے کیونکہ اللہ پوری خبر رکھنے والا ہے وہ نیتوں کو خوب جانتا ہے اس لیے ریا کاری اور منافقت سے کیے گئے کام لوگوں کو تو دھوکہ دے سکتے ہیں مگر اللہ کو ہرگز دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔ نیک عمل، نیک کام اور بہترین زندگی گزارنے کے بہترین اصول کتاب مقدس قرآن پاک میں بڑی وضاحت سے اور بڑے آسان و سادہ الفاظ میں بیان کردیے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو اچھے اور برے کی تمیز ہوجائے۔ جیسا کہ یہاں بھی فرمایا ” اسی طرح اللہ لوگوں سے ان کے حالات بیان کرتا ہے۔
Ayahs 47:4–19

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اڑا دو یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کر چکو تو جو زندہ پکڑے جائیں ان کو مضبوطی سے قید کرلو پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہیے یا کچھ مال لے کر۔ یہاں تک کہ دشمن ہتھیار ڈال دے یہ حکم یاد رکھو اور اگر اللہ چاہتا تو اور طرح ان سے انتقام لے لیتا لیکن اس نے چاہا کہ تمہاری آزمائش ایک سے دوسروں کو لڑوا کر کرے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کے عملوں کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

بلکہ ان کو سیدھے رستے پر چلائے گا اور ان کی حالت درست کر دے گا۔

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور ان کو بہشت میں داخل کر دے گا جس سے ان کو واقف کروایاجاچکا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

اے اہل ایمان اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تم کو ثابت قدم رکھے گا۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں ان کے لیے ہلاکت ہے اور وہ ان کے اعمال کو برباد کر دے گا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ اللہ نے جو چیز نازل فرمائی انہوں نے اس کو پسند نہ کیا تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے۔

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

کیا انہوں نے ملک کی سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ اللہ نے ان پر تباہی ڈال دی اور اسی طرح کا عذاب ان کافروں کو ہوگا

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ مومن کا کارساز اللہ ہے اور کافروں کا کوئی کار ساز نہیں

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو اللہ بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا۔ اور جو کافر ہیں وہ فائدے اٹھاتے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جیسے حیوان کھاتے ہیں اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں تمہاری بستی سے جس کے رہنے والوں نے تمہیں وہاں سے نکال دیا زور اور قوت میں تم سے کہیں بڑھ کر تھیں ہم نے ان کو تباہ و برباد کردیا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوا

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

بھلا جو شخص اپنے رب کی مہربانی سے کھلے رستے پر چل رہا ہو وہ ان کی طرح ہوسکتا ہے جن کے اعمال بد انہیں اچھے کر کے دکھائے جائیں اور جو اپنی خواہشوں کی پیروی کریں۔

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

جنت، جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلے گا اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے سراسرلذت ہیں اور خالص شہد کی نہریں ہیں (جو خوب میٹھی ہیں) اور وہاں ان کے لیے ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے۔ کیا یہ پرہیزگار ان کی طرح ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جن کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو تمہاری طرف کان لگائے رہتے ہیں یہاں تک کہ سب کچھ سنتے ہیں لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو علم دین رکھنے والوں کو کہتے ہیں کہ ” بھلا انہوں نے ابھی کیا کہا تھا ؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا رکھی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور جو لوگ ہدایت رکھتے ہیں ان کو وہ اور بھی ہدایت دیتا ہے اور پرہیزگاری عنایت کرتا ہے۔

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

اب تو یہ لوگ قیامت ہی کو دیکھتے ہیں کہ اچانک ان پر آجائے سو اس کی نشانیاں وجود میں آچکی ہیں پھر جب وہ ان پر نازل ہوگی اسوقت انہیں نصیحت کوئی کام نہ دے سکے گی۔

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

پس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور ساتھ ہی مومن مردوں، مومن عورتوں کے لیے بھی۔ اور اللہ تمہارے چلنے پھرنے اور ٹھہرنے سے خوب واقف ہے

دنیا سے فسق و فجور اور فسادجہاد کے ذریعے مٹا نے کا حکم تشریح : آیت نمبر چار بہت اہم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کا حکم صاف الفاظ میں زور دار طریقہ سے دیا گیا ہے اور پھر جہاد کی کچھ خاص شرائط، احکامات اور فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ یہ کن حالات میں اتری تھی ورنہ اس کو پڑھ کر غیر مسلم جہاد کو بڑے ہی غلط معنی دیتے ہیں جیسا کہ محققین بر ٹانیکا نے جہاد کو جنگ کہہ کر اس کا پورا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا۔ اور موجودہ زمانے میں بھی مخالفین اسلام یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان اسلام کو تلوار یا بندوق کے زور پر پھیلا رہے ہیں اور بڑا غلط پروپیگنڈہ اسلام اور جہاد کے بارے میں کر رہے ہیں۔ تو جب ہم یہ معلوم کرلیتے ہیں کہ جہاد کا مفہوم اصل میں کیا ہے اور یہ آیت مسلمانوں کو کن حالات میں جہاد کا حکم دیتی ہے تو پھر مسئلہ کافی حد تک حل ہوجاتا ہے یہاں تو خیر صاف طور سے مقابلہ میں قتل کرنے کا حکم ہے۔ ورنہ مسلمان کے تو رگ و ریشہ اور روح میں اللہ ، رسول اور ان کے احکامات اس قدر سما چکے ہوتے ہیں کہ ان کی زندگی کا کوئی عمل، کوئی حرکت، کوئی بات اور کوئی سوچ ایسی نہیں ہوتی کہ جو اس کوشش سے خالی ہو کہ وہ اللہ کی خوشنودی چاہتا ہے۔ اسی کوشش و جدوجہد کا نام ہے جہاد۔ میدان جنگ میں اپنی پیاری زندگی کو اللہ کی راہ میں قربان کردینے کے لیے نکل پڑنا جہاد بالسیف ہے۔ سورة الحج میں آیت 39 میں حکم ہوا۔ ” جن مسلمانوں سے خواہ مخواہ لڑائی کی جاتی ہے ان کو اجازت ہے کہ وہ بھی لڑیں کیونکہ ان پر ظلم ہو رہا ہے اور اللہ ان کی مدد کرے گا وہ یقینا ان کی مدد پر قادر ہے۔” جیسا کہ مکہ میں مسلمانوں کو اس قدر تنگ کیا گیا کہ وہ اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ مکہ میں صبر کی تلقین کی گئی تھی لیکن جب مسلمان مدینہ میں ہجرت کر آئے تو وہاں بھی ان پر ظلم و ستم کرنے کی کوشش کی جاتی رہی تو سورة حج کی اس آیت میں جنگ کرنے کی اجازت دی گئی اور اب کیونکہ نبی کریم ﷺ کی بہترین تدابیر، فہم و فراست اور بہترین انتظامات کی وجہ سے مدینہ میں ایک چھوٹی سی اسلامی ریاست کافی مضبوط ہوگئی تو پھر لڑائی کا حکم دیا گیا اور ساتھ ہی جنگ کے ابتدائی قوانین کی وضاحت بھی کردی گئی۔ اور یہ تسلی بھی دی گئی کہ اپنے بےسرو سامان ہونے، مالی کمزوری اور تعداد کی کمی کی فکر ہرگز مت کرو کیونکہ تم حق کے لیے لڑ رہے ہو اس لیے اللہ کی خاص مدد تمہارے ساتھ ہے اور اللہ کی مدد جس کے ساتھ ہو بھلا اس کو کون ہرا سکتا ہے۔ اس وقت ضروری تھا کہ کفار کو ان کے ظلم وستم، زیادتی اور کمزوری کا احساس دلا دیا جاتا اور وہ ایسے ہی تھا کہ بےدریغ ان کو قتل کردیا جائے تاکہ ان کی فوجی طاقت کمزور ہوجائے اور ان کے حوصلے پست ہوجائیں۔ پھر کیونکہ نفرت اور ظلم و ستم سے اسلام نے منع کیا ہے اس لیے جنگی قوانین کی وضاحت کردی گئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ صحابہ کرام اور حکماء دین کی عملی زندگی سے جو تشریحات ان اصول و قوانین کی ملتی ہیں وہ یوں ہیں۔ 1 ۔ دشمن کی جنگی طاقت کو توڑنا۔ 2 ۔ آخر تک ان کا پیچھا کرنا اور جو زندہ پکڑے جائیں ان کو جنگی قیدی بنا لینا۔ قتل نہ کرنا۔ 3 ۔ کیونکہ اس آیت میں جنگی قیدی کو قتل کرنے سے صاف طور پر منع نہیں کیا گیا اس لیے رسول اللہ ﷺ نے بدر کے 70 قیدیوں میں سے صرف عقبہ بن ابی معیط اور نضربن الحارث کو خاص وجہ سے قتل کیا۔ اسی طرح جنگ احد کے ابو عزہ قیدی کو قتل کیا گیا۔ یہی طریقہ کار فتح مکہ کے بعد اختیار کیا اور پھر یہ طریقہ خلفائے راشدین میں بھی اختیار کیا گیا۔ (از تفہیم القرآن ) 4 ۔ قیدیوں پر احسان کرو یا فدیہ کا معاملہ کرلو۔ اس کی تین صورتیں ہیں۔ مالی معاوضہ لیا جائے۔ خاص مدت کے لیے خاص خدمت لی جائے۔ قیدیوں کا تبادلہ کرلیا جائے۔ 5 ۔ اسلامی شریعت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ جنگی قیدی کو بھوکا ننگا رکھا جائے یا تکلیف پہنچائی جائے۔ جنگ بدر کے قیدیوں کو حضور ﷺ نے صحابہ کرام میں بانٹ دیا اور فرمایا ” ان قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ ” 6 ۔ جنگی قیدی تا حیات قید نہ رکھے جائیں۔ ان کی واپسی کا حتی الامکان بہترین طریقہ سوچا جائے۔ اگر قید ہوجانے کے بعد قیدی اسلام قبول کرلے تو آزاد نہ کیا جائے گا۔ حدیث میں آتا ہے۔ بنی عقیل کا ایک شخص قیدی بننے کے بعد کہنے لگا کہ میں نے اسلام قبول کرلیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” اگر یہ بات تو نے اس وقت کہی ہوتی جب تو آزاد تھا تو یقینا فلاح پا جاتا۔ (مسند احمد ترمذی اور مسلم) ۔ اس حکم میں مصلحت یہ ہے کہ آزاد ہونے کے لیے سب ہی اسلام قبول کرلیتے جو کہ نامناسب ہے۔ 7 ۔ قیدیوں سے جزیہ لے کر ان کو ذمی رعایا بنا لیا جائے۔ یعنی وہ ایک مقررہ رقم ادا کر کے اقلیت کی صورت میں آزاد زندگی گزار سکیں۔ امام محمد، السیر الکبیر میں لکھتے ہیں کہ ” ہر وہ شخص جس کو غلام بنانا جائز ہے اس پر جزیہ لگا کر اسے ذمی بنا لینا بھی جائز ہے ”۔ (از تفہیم القرآن ) 8 ۔ قیدی کو اس کے بہترین کردار اور اچھی شہرت کی وجہ سے اعتماد کرتے ہوئے بغیر کسی شرط کے آزاد کردیا جائے۔ جیسا کہ یمامہ کے سردار ثمامہ بن اثال کو اچھی شہرت اور نیک کردار کی وجہ سے آزاد کردیا تو وہ فورا مسلمان ہوگئے۔ صحابہ کرام کے دور میں بھی قیدیوں کو احسان کے طور پر بلا کسی شرط کے آزاد کیا جاتا رہا ہے مثلاً حضرت ابوبکر ؓ نے اشعث بن قیس کندی کو رہا کیا ”۔ (از کتاب الاموال لابی عبیدہ) 9 ۔ مالی معاوضہ لے کر قیدیوں کو چھوڑا جاسکتا ہے۔ 10 ۔ کسی خدمت کے بدلے میں آزاد کیا جاسکتا ہے۔ مثلا قریشی قیدیوں پر حضور نے یہ شرط لگائی کہ وہ انصار کے دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔ (از مسند احمد، طبقات ابن سعد) 11 ۔ قیدیوں سے قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے۔ جیسا کہ ایک دفعہ قبیلہ ثقیف کے دوست قبیلے بنی عقیل کا ایک آدمی مسلمانوں کی قید میں آگیا۔ جس کے بدلے میں دو مسلمانوں کو رہا کرا لیا گیا۔ (از مسلم، ترمذی) ان تمام قوانین کو غور سے پڑھنے اور عمل کرنے سے وہ تمام مسائل خود بخود حل ہوجاتے ہیں جو عام طور پر جنگی قیدیوں کی وجہ سے بیشمار مسائل پیدا کردیتے ہیں۔ اللہ کے یہ بنائے ہوئے قوانین ہر لحاظ سے بےحد مکمل، واضح، آسان اور فائدہ مند ہیں۔ کیوں نہ ہوں اللہ کے وضع کیے ہوئے قوانین بندوں کے بنائے ہوئے قوانین کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں۔ وہ رحیم و کریم، رب العٰلمین، مالک کل کائنات، بہترین خالق اور حی القیوم اس کی ہر بات میں مصلحت اس کے ہر کام میں معقولیت اور حکمت ہے۔ اب یہ دنیا اور مخلوقات کا جو سلسلہ اللہ نے بنا رکھا ہے تو اس میں بھی حکمت ہی حکمت ہے۔ اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ گنہگاروں کو ایک سکینڈ میں تباہ و برباد کر کے رکھ دے مگر یہ سب تو بندوں کی آزمائش کا سلسلہ ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے کون مخلص ہے کون کافر ہے، کون ریا کا رہے اور کون منافق ہے ؟ تاکہ پھر قیامت کے دور ان سب کا حساب کتاب لے کر ان کو جنت و دوزخ کی راہ دکھائی جائے۔ جنت کیا ہے ایک ایسی بہترین پر آسائش جگہ کہ جس میں ایسا بہترین پانی ہوگا جیسا دنیا میں کبھی دیکھا نہ پیا، دودھ ایسا ہوگا کہ جس میں لذت ہی لذت ہوگی۔ اسی طرح شہد اور شراب ایسے مصفیّٰ کہ نہ ان میں چھتے مکھی کی کوئی علامت ہوگی اور نہ شراب میں وہ بدبو اور نشہ ہوگا جو دنیا کی شراب میں ہوتا ہے۔ بلکہ وہ صرف اور صرف مفرح مشروب ہوگا۔ یہی وہ انعام ہے جو اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دیا جائے گا۔ شہداء کی تو بیشمار فضیلتیں ہیں جو بیان سے باہر ہیں۔ یہاں ان کے تین درجات کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 ۔ اللہ تعالیٰ ان کی راہنمائی کرے گا۔ یعنی جنت کا راستہ دکھائے گا۔ 2 ۔ حالت درست کر دے گا یعنی ان کو بنا سنوار کر دنیا میں کی گئی تمام خطاؤں اور گناہوں سے بالکل پاک صاف کر دے گا۔ 3 ۔ ہر چیز اور ہر جگہ ان کو مانوس لگے گی کیونکہ قرآن و حدیث میں یہ سب کچھ ان کو بتایا جا چکا ہے۔ اور شہادت کے وقت بھی وہ اپنا مقام و مرتبہ دیکھ لیتے ہیں۔ اللہ کی محبت میں جان تک دے دیتا ہے تو بھلا وہ ایسے انعامات کا حق دار کیوں نہ ہوگا۔ یقینا ایسے ہی لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور متقی و پرہیز گا رہیں اللہ والے ہیں سب اپنے اعمال کے مطابق اپنے اپنے درجات ضرور حاصل کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” کیا یہ پرہیز گار ان کی طرح ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ دوزح میں رہیں گے۔ ، ، (آیت 15) یہ وہ لوگ ہوں گے جو نبی اکرم ﷺ کی باتیں سننے کے بعد کہتے تھے یہ کیا کہہ رہے تھے ؟ یعنی ان کے کان حق سننے کو تیار نہ تھے۔ دل کسی اچھی بات کو ماننے کو تیار نہ تھے دماغ کسی نیک عمل کو سمجھنے سوچنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ان کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے، یعنی پھر ان کو شیطان کی دوستی اور شیطانی عمل اس قدر بھا چکے ہیں کہ وہ انہی کاموں کو اچھا، سچا اور فائدہ مند سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” جن کے دلوں میں اللہ نے مہر لگا رکھی ہے ”۔ یعنی جو لوگ نیکی، ہدایت اور مغفرت کی دعا کرتے ہیں اللہ ان کے لیے نیکی، ہدایت اور مغفرت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ دوزخ کا نقشہ بیشمار دفعہ قران پاک میں بتایا گیا ہے۔ بڑا ہولناک منظر ہوگا۔ رب العٰلمین ہماری خطائیں معاف فرمائے نیکی کی ہدایت دے اور دوزخ کے عذاب سے بچائے ( آمین) ۔ مگر کفار کا یہی عقیدہ ہے عیش کرلو زندگی میں جو مرضی دیکھا جائے گا جب قیامت آئے گی۔ دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ یہاں زندگی کے تمام عیش جائز، ناجائز خوب کرلو۔ ” بابر بہ عیش کوش کہ دنیا دوبارہ نیست ”۔ ان غافل لوگوں کو یہ خبر ہی نہیں کہ قیامت بہت قریب آچکی ہے اور قیامت آنے کی نشانیاں ظاہر ہو رہی ہیں۔ پہلی نشانی تو یہ ہے کہ محمد الرسول اللہ ﷺ اللہ کے آخری نبی تشریف لا چکے ہیں ان کے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا۔ اور رسول اللہ ﷺ قیامت کے قریب آئیں گے۔ اس کے علاوہ بیشمار قیامت کی نشانیاں ظاہر ہوچکی ہیں مثلاً حدیث میں آتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” زمانہ قریب ہوجائے گا، علم اٹھ جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے، (دلوں) میں بخیلی ڈال دی جائے گی اور ہرج بکثرت ہوگا۔ صحابہ نے پوچھا کہ ہرج کیا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ” قتل ”۔ (مسلم از اسوہ حسنہ) قیامت کا دن بڑا سخت دن ہوگا اس کی تیاری میں ہر وقت مصروف رہنا چاہیے۔ استغفار کا ورد کرتے رہنا چاہے۔ ابو داؤد نسائی کی روایت میں ہے کہ رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہوا ہے کہ ” میں دن میں سو بار اللہ سے استغفار کرتا ہوں ”۔ سب کچھ جان لینے کے بعد کون ہے جو شیطان کا ساتھی بنے گا ؟ رب العزت اپنے پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ ” پس اے نبی ! خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تو معافی مانگو اپنے قصور کے لیے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی اللہ آپ کی سرگرمیوں کو بھی جانتا ہے اور آپ کے ٹھکانے سے بھی واقف ہے ”۔ (آیت 19) یہاں مخاطب تو پیارے نبی ﷺ کو کیا گیا ہے مگر نصیحت تمام انسانوں کے لیے ہے۔ سمجھ یہی آتا ہے کہ ایک تو اللہ تعالیٰ نے نصیحت کی ہے کہ اپنے اعمال نیک پر کبھی غرور نہ کرو بلکہ اللہ کو ہی بڑا اور واحد جانو اسی سے ہر وقت مغفرت کی دعائیں کرتے رہو صرف اپنے لیے ہی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں مردوں اور عورتوں کو بھی اپنی دعاؤں میں ہمیشہ شامل رکھو۔ اور یہ یقین رکھو کہ ہمارا ظاہر باطن، مرنا جینا اس جہاں میں مرنے اور قبر کی جگہ، پھر آخرت میں جزا و سزا کا علم صرف اللہ کو ہی ہے۔ اس لیے اپنے اعمال پر ہی بھروسہ نہ کرتے رہو بلکہ اس کی رحمت پر زیادہ بھروسہ رکھو اور اس سے ہر وقت مغفرت مانگتے رہو۔ استغفار ہر مشکل کی دعا ہے۔ حدیث ملاحظہ ہو۔ حضرت عبد اللہ بن بسر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” مبارک باد ہے اس کو جو اپنے نامہ ٔ اعمال میں استغفار بہت پائے۔ (ابن ماجہ از بنت الاسلام) اسی طرح دعا کی فضیلت بھی بہت زیادہ بتائی گئی ہے۔ خاص طور سے وہ دعا جو اپنے کسی غائب بھائی بہن کے لیے مانگی جائے۔ حضرت ابو درداء ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” جو کوئی مسلمان بندہ اپنے بھائی کے لیے پس پشت دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تیرے لیے بھی اسی کے مثل ہو۔ (مسلم از اسوہ حسنہ۔ بنت الاسلام) یہ بات مسلمان کے باہمی بھائی چارے، خلوص اور نیک نیتی کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہی ہمارا مولیٰ ہے ہمارے لیے شفیق و رحیم ہے، ہمارا خیر خواہ ہے اسی لیے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لیکر اب تک اس نے ایک ہی پیغام دیا ہے فرماتا ہے۔ ” اور وہ یہ ہے کہ ہم تقویٰ کی زندگی بسر کریں ”۔ ایک اور جگہ فرمایا کہ ” تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرتے رہو ”۔ (سورۃ النساء آیت 13) اللہ ہم سب کو اس کی توفیق دے آمین ثم آمین
Ayahs 47:20–32

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور مومن لوگ کہتے ہیں کہ جہاد کی کوئی سورت نازل کیوں نہیں ہوتی ؟ لیکن جب صاف لفظوں میں سورت نازل ہوتی ہے اور اس میں جہاد کا ذکر ہو۔ تو جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے تو تم دیکھو گے کہ وہ تمہاری طرف یوں دیکھیں گے جیسے کسی پر موت کی بےہوشی طاری ہو رہی ہو، سو ان کے لیے خرابی ہے۔

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

(اچھا کام تو یہ ہے) فرمانبرداری اور پسندیدہ بات کہنا ہے۔ پھر جب جہاد کی بات پکی ہوگئی تو اگر یہ لوگ اللہ سے سچے رہنا چاہتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا۔

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

اے منافقو ! تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہوجاؤ تو ملک میں خرابی کرنے لگو اور اپنے رشتہ داروں سے قطع تعلق کروگے۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے ان کے کانوں کو بہرا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا ہے۔

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

بھلا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگ رہے ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

جو لوگ راہ ہدایت ظاہر ہونے کے بعد پیٹھ دے کر پھرگئے شیطان نے یہ کام ان کو خوبصورت کر کے دکھایا اور ( انہیں لمبی عمر کی) امید دلائی

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب سے بےزار ہیں یہ ان سے کہتے ہیں کہ ” بعض کاموں میں ہم تمہاری بات بھی مانیں گے اور اللہ ان کے پوشیدہ مشوروں سے واقف ہے۔

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

تو اس وقت ان کا کیسا حال ہوگا جب فرشتے ان کی جان نکالیں گے اور ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر مارتے جائیں گے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ جس بات سے اللہ ناخوش ہے یہ اس کے پیچھے چلے اور اس کی رضا کو اچھا نہ سمجھا تو اللہ نے بھی ان کے عملوں کو برباد کردیا

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ سوچے ہوئے ہیں کہ اللہ ان کے کینوں کو ظاہر نہیں گرے گا ؟

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور تم ان کو ان کے چہروں سے ہی پہچان لیتے اور تم ان کو ان کے انداز گفتگو سے ہی پہچان لو گے اور اللہ تمہارے اعمال سے واقف ہے۔

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور ہم تم لوگوں کو آزمائیں گے تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے ثابت قدم رہنے والے ہیں ان کو معلوم کریں اور تمہارے حالات جانچ لیں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

جن لوگوں کو سیدھا رستہ معلوم ہوگیا اور پھر بھی انہوں نے کفر کیا اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا اور پیغمبر کی مخالفت کی وہ اللہ کا کچھ بھی بگاڑ نہـیں سکیں گے اور اللہ ان کا سب کیا کرایا اکارت کر دے گا۔

منافقین کا جہاد سے راہ فرار اور غداری تشریح : ان آیات میں ان حالات کا تھوڑا سانقشہ کھینچا گیا ہے۔ جب مدنیہ میں مسلمانوں کی چھوٹی سی ریاست قائم ہوچکی تھی اور کفار مکہ ان کو ہر طرح سے ستانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے تو مسلمان خواہش کرتے تھے کہ ان کو اللہ کی طرف سے جنگ کرنے، لڑنے اور بدلہ لینے کی اجازت مل جائے تو اچھا ہے۔ اور جب جہاد کا حکم اللہ کی طرف سے ملا تو جو سچے مسلمان تھے وہ تو اللہ کی راہ میں لڑنے پر خوش ہوئے مگر جو منافق تھے ان کی تو جان ہی نکل گئی یعنی سخت پریشان ہوئے۔ اصل میں اس وقت تین قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو سچے مسلمان ایک کمزور مسلمان اور ایک منافق۔ تو منافقین کے لیے ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ” اے منافقو ! اگر تم حاکم ہوجاؤ تو تم سے بعید نہیں کہ ملک میں خرابی کرنے لگو اور قطع رحمی کرنے لگو۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے ”۔ (آیت 23) مطلب یہ ہے کہ منافق کی سزا بڑی سخت بتائی گئی ہے۔ کیونکہ ایسے لوگ تو خود اپنے آپ سے بھی مخلص نہیں ہوتے دوسروں سے کیا خلوص برتیں گے۔ ان کا کام تو فساد پھیلانا، خود غرضی، قطع رحمی اور نفاق پھیلانا ہوتا ہے اور پھر یہ اس غلط فہمی میں بھی مبتلا رہتے ہیں کہ ہماری اصلیت کسی کو معلوم نہیں۔ ان کو اللہ کی قدرت طاقت اور برتری کا علم ہے مگر پھر بھی دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں ان کی حالت تو یہ ہے کہ ہر برے کام کو اچھا سمجھتے ہیں گویا جان بوجھ کر شیطان کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور یوں لگتا ہے یہ نیک بات سننے سے عاجز ہیں یعنی بہرے ہیں اور انہیں نیکی کا راستہ دکھائی نہیں دیتا گویا اندھے ہیں اور ان کے دل و دماغ برائی گناہ اور خباثت کی تہہ میں بالکل غرق ہوچکے ہیں تو ایسے لوگوں کی دنیا بھی خراب اور آخرت میں تو خیر ان کی بری ہی حالت ہوگی۔ بلکہ ان کو موت بھی تکلیف دہ ہوگی عالم برزخ بھی تکلیف دہ ہوگا اور حساب کے دن تو دوزخ کا عذاب ان کے لیے مقرر کیا جا چکا ہے جو کہ بڑا ہی ہولناک منظر ہے۔ اللہ اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔ ( آمین) منافق لوگ تو زیادہ ہی عذاب کے مستحق ہوں گے کیونکہ یہ تو سب احکامات خداوندی سن کر بھی اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑتے ہیں تو ایسے لوگوں کو یہ اچھی طرح جان لینا چاہیئے کہ ان کی نماز، روزہ کی یا عبادت کی اللہ کو نہ تو ضرورت ہے نہ فائدہ بلکہ یہ سب جو بھی وہ کرتے ہیں خود اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے ” اللہ ان کا کیا کرایا اکارت کر دے گا ” (آیت 32) سبق ہمیں یہی ملتا ہے کہ تدبرِّ قرآن ہر مسلمان کا فرض ہے۔ جب یہ تدبرّ حاصل ہوجاتا ہے تو پھر انسان چاہے زندگی کے کسی بھی یا دور سے گزر رہا ہو کامیاب و کامران زندگی گزار سکتا ہے۔ کیونکہ قرآن پاک ہی تو زندگی کے ہر راستے کو روشن کر کے ہمیں برائی کے گڑھوں سے بچا لیتا ہے۔ علمِ الٰہی نے ہی تو انسان کو فرشتوں پر فضیلت دلوائی ہے۔ ” یونانی حکیم سقراط کا یہ مقولہ علم کی اہمیت کی دلیل ہے کہ "Knowledge is the virtue" (اصل نیکی علم ہے) ( انوار القرآن از ڈاکٹر ملک غلام مرتضی صاحب ) بقول علامہ اقبال دنیا میں مظلوم ترین چیز قرآن مجید ہے۔ جس پر ظلم خود مسلمانوں نے ہی کیا ہے۔ قرآن پاک جو دنیا بھر کے انسانوں کی کامیابی و کامرانی کے لیے نشان منزل ہے، ہدایت ہے، فلاح کا ضامن ہے۔ اسی کتاب ہدایت سے مسلمانوں نے منہ موڑ لیا۔ یہ مظلوم اہل ایمان سے مطالبہ کرتا ہے کہ ا۔ اسکے کتاب اللہ ہونے، اسکے نور ہونے پر دل کی گہرائیوں سے یقین کیا جائے اور اس پر ایمان لایا جائے۔ ب۔ اس کی تلاوت اس یقین سے کی جائے کہ اس سے برکتیں اور سعادتیں ملتی ہیں۔ ج۔ اس کی تلاوت یہ سوچ کر کی جائے کہ یہ ہمارے مالک کا ہمارے نام پیغام ہے۔ خط ہے۔ جس میں مالک نے ہماری دنیاوی و آخروی زندگی کی کامیابی کے لیے رہنما اصول وتعلیمات درج کیے ہیں۔ لہٰذا اس کو پوری کوشش سے سمجھنا چاہیے۔ د۔ اس پیغام کو جاننے کے بعداس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ تاکہ ان سنہری تعلیمات سے کردار کو سنوار لیا جائے۔ ہ۔ اس کو دوسروں تک پہنچایا جائے تاکہ اس کی نورانی تعلیمات سے ہر طرف اجالا ہوجائے۔ و۔ اس کے احکام کو اپنی اور احباب کی انفرادی و اجتماعی اور قومی زندگی میں نافذ کیا جائے۔ کیونکہ جو لوگ ایسا نہیں کرتے ان کے لئے مالک کی سخت وعید ہے ” اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں۔ وہی کافر ہیں ”۔ (المائدہ 44) (ماخوز از مطالعہ قرآن۔ پاکستان ملٹری اکاڈمی کا کول) اگر تو اس کو کھلی آنکھوں سے پڑھیں تو سب کچھ سمجھ میں آجاتا ہے۔ ورنہ کچھ بھی نہیں۔ ابو رافع ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر ؓ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ سورة یوسف پڑھ رہے تھے جب اس آیت پر پہنچے تو آپ پر ایسا گر یہ طاری ہوا کہ مجھے ان کی ہچکیوں کی آواز دور سے سنائی دی۔ آیت یہ ہے ” اس نے کہا، میں اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا ”۔ ( سورة یوسف آیت 86) اللہ ہم تمام مسلمانون کو اس کی توفیق دے۔ ( آمین)
Ayahs 47:33–38

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

مومنو ! اللہ کا کہا مانو اور پیغمبر کی فرمانبرداری کرو اور اپنے عملوں کو ضائع نہ ہونے دو

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

یہ لوگ کافر ہوئے اور اللہ کے رستے سے روکتے رہے پھر کافر مرگئے اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

تو تم ہمت نہ ہارو اور دشمنوں کو صلح کی طرف نہ بلاؤ۔ تم تو غالب ہو اور اللہ تمہارے ساتھ ہے وہ ہرگز تمہارے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشہ ہے اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو وہ تم کو تمہارا اجر دے گا اور تم سے تمہارا مال طلب نہیں کرے گا

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اگر وہ تم سے مال طلب کرے اور تم پر تنگی کرے تو تم بخل کرنے لگو اور وہ بخل تمہاری بد نیتی ظاہر کر کے رہے

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے بلائے جاتے ہو تو تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بخل کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔ اللہ بےنیاز ہے اور تم محتاج ہو۔ اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہارے جیسے نہیں ہوں گے۔

ایمان والوں کو ہدایت تشریح : ان آیات میں چند رہنما اصول بیان کردیے گئے ہیں اور یہ اصول ایسے بنیادی اور پکے ہیں کہ انسان کی پوری زندگی اور موت پھر زندگی بعدالموت سب کچھ انہی کے گرد گھومتے ہیں اسی لیے قرآن پاک جو کہ مسلمانوں کے لیے ہدایت و کامیابی کا نسخہ ہے۔ بار بار ان بنیادی اصولوں کو دہراتا ہے تاکہ ہر مسلم کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا یہ اصول بن جائیں۔ 1 ۔ اللہ کو پہچانو اور پھر صرف اسی کا کہا مانو۔ 2 ۔ پیغمبر کیونکہ اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا معلم ہوتا ہے جو اللہ کے اصول و ضوابط کی تشریح کرتا ہے اور اپنی عملی زندگی سے انکے فوائد ذہن نشین کرواتا ہے اس لیے صرف اس کی بات مانو اسی پر عمل کرو تو ہر طرح کامیاب و کامران رہو گے۔ 3 ۔ کفر و شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ اللہ اس کو ہرگز معاف نہ کرے گا۔ کفر بہت بڑا ظلم ہے۔ کفر کا مطلب ہے انکار، شرک کا مطلب ہے حصہ داری، شراکت۔ اور شرک بیشمار صورتوں میں ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی کہے ” اللہ حافظ ” یہ ٹھیک ہے اور اگر کوئی کہے ” اللہ نبی حافظ ” تو یہ شرک ہے۔ اسی لیے رسول کریم ﷺ صحابہ کرام کو بار بار تاکید کرتے تھے کہ ” خبر دار اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا ”۔ (بخاری، مسلم، ابن ماجہ، نسائی) ۔ شرک سے دوری ہی انسان میں توکل اور بھروسہ پیدا کرتی ہے۔ ” توکل ” کو سمجھنا بھی اسی طرح بڑا نازک مسئلہ ہے جس طرح شرک کو سمجھنا بڑا نازک کام ہے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں توکل کا مطلب یہ ہے کہ اپنی طرف سے پوری پوری محنت کوشش اور خلوص سے کام کرنا اور پھر پورے یقین کے ساتھ نتیجہ اللہ کے سپرد کردینا۔ یہ توکل جب دل میں پوری طرح پیدا ہوجاتا ہے تو پھر انسان کبھی بھی ناامیدی، فکر اور غم سے دو چار نہیں ہوتا بلکہ دل اور دماغ پوری طرح مطمئن ہوجاتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ” اگر تم اللہ پر اس طرح توکل کرتے جیسا کہ اس پر توکل کرنے کا حق ہے تو تمہیں اس طرح روزی دی جاتی جس طرح کہ پرندوں کو دی جاتی ہے کہ وہ صبح بھوکے پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے واپس آتے ہیں۔ (ترمذی) اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ جنگ میں بھر پور توکل سے کام لو۔ 4 جنگی اصول :” تو تم ہمت نہ ہارو اور دشمنوں کو صلح کی طرف نہ بلاؤ۔ تم ہی غالب ہو اور اللہ تمہارے ساتھ ہے وہ ہرگز تمہارے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا۔ یہ آیت اللہ پر بھروسہ کرنے کی ایک نہایت پکی دلیل ہے۔ یہ آیت تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے اللہ کا پیغام ہے اور مسلمان کی شان ہے کہ وہ اگر جدوجہد کے بعد اپنا سب کچھ الہ العٰلمین کے سپرد کرتا ہے تو اس کو جواب میں ایک بےمثال، مضبوط، لازوال اور پائیدار مدد اور سہارے کی یقین دہانی بھی کروائی جا رہی ہے۔ تاریخ اس کی گواہ ہے۔ ایک اکیلے شخص کا اعلان نبوت اور اعلان توحید کرنا اور پھر انتہائی تھوڑی مدت میں شرقاً غرباً چھا جانا یہ توکل کا ہی نتیجہ ہے۔ پھر غزوہ بدر، احد، فتح مکہ۔ کون سوچ سکتا ہے کہ اتنی بڑی مشرک آبادی سے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے یہی کامیابیاں ہیں جو مسلمانوں کو اپنے زہدو تقویٰ سے بھری زندگی کے بدلہ میں دنیا میں دی گئیں آخرت کے انعامات کا تو کیا ہی کہنا۔ 5 ۔ خبردار کیا گیا ہے کہ جو لوگ بھی اوپر بیان کی گئی تمام باتوں کو اپنی عملی زندگی میں شامل نہیں کریں گے تو ان کو اچھی طرح یاد رکھ لینا چاہیے خوب سمجھ لینا چاہیے کہ پھر بد نیت، بخیل نافرمان، مشرک اور کافر کو اللہ تعالیٰ ایک مہلت دینے کے بعد عذاب دے کر نیست و نابود کردیتا ہے اور وہاں کسی دوسری اچھی قوم کو آباد کردیتا ہے۔ یہ تو چند اصول بتائے گئے ہیں۔ قرآن پاک تو امن و سلامتی کا پیغام دیتا ہے۔ ہاں برائی کو مٹانے کے لیے جنگ کرنی پڑے تو پھر ہمت نہ ہارو اور دشمنوں کو صلح کی طرف نہ بلاؤ ”۔ اس کی تشریح ہوچکی اور اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ بلاوجہ جنگ پر تلے رہو بلکہ جنگ امن اور نیکی کے لیے بدامنی اور برائی کے خاتمہ کے لیے کی جاتی ہے۔ اگر صلح کرنے سے یہ مقاصد حاصل ہوسکتے ہوں تو مسلمان صلح بھی کرتا ہے۔ جیسا کہ صلح حدیبیہ کی مثال موجود ہے۔ آپ ﷺ کی تمام زندگی ہمارے سامنے ہے۔ آپ ﷺ اتنا بڑا انقلاب لائے مگر جو زیادہ تر امن کی طاقت سے ہوا نہ کہ جنگ کی طاقت سے ہوا۔ جنگ جب بھی ہوئی دفاع کے لیے کی گئی۔ پیغمبر آخر الزمان ﷺ کو خاص طور پر عرب میں ہی بھیجا گیا۔ یہ بہترین منصوبہ بندی تھی۔ کیونکہ رب العزت خوب جانتا تھا کہ تبلیغ اسلام کے لیے کون سی جگہ سب سے زیادہ موزوں تھی۔ ایک تو یہ دنیا کا سنٹر اور پھر عرب ہزار برائیوں کے باوجود حق شناس کو مانتے تھے۔ بہر حال شاعر علامہ محمد اقبال نے کہا۔ ولائت، پادشاہی، علم اشیا کی جہانگیریں یہ سب کیا ہیں ؟ فقط اک نکتہ ایمان کی تفسیریں مطلب یہ ہے کہ قوموں سلطنتوں میں مضبوطی اور علوم و فنون میں کا ملیت ایمان کامل کی وجہ سے ہی ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ پر پکا ایمان اور بھروسہ انسانی کامیابیوں کی بنیاد ہے۔ جیسے ہی یقین و ایمان میں کمزوری آتی گئی مسلمانوں کا تنزل ہونے لگا۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہماری کوتاہیوں کمزوریوں کو معاف کر دے اور ہمیں مضبوط امت مسلمہ بننے کا اعزاز عطا کرے ( آمین) ۔ خلاصہ سورت محمد ﷺ اس سورت کا دوسرا نام قتال ہے کیونکہ اس میں جہاد بالسیف کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے ایک تو بدی اور کفر کو ختم کیا گیا اور دوسرے، ان تین گروہوں کی چھانٹی ہوگئی جو اس وقت مدینہ میں موجود تھے۔ یعنی کافر، مسلمان اور منافق۔ مسلمانوں کو رہنما اصول بتائے گئے۔ اور واضح کردیا گیا کہ تقویٰ کی زندگی ہی کامیاب زندگی ہے۔ جنگی اصول قرآن کی عظمت، علم کی برکت اور توکل کا پھل اور توکل کی اصل تعریف مقولہ ہے ” Do the Best and Trust in God” علماء کی عظمت، منافقین کا کردار اور ان کا انجام بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ایمان کی برکت، مسلمانوں کو انعامات کی یقین دہانی اور پھر ایمان کی کمزوری اور اللہ سے دوری کے برے نتائج سے بھی خبردار کردیا گیا ہے۔ کہ جو کرو گے اپنے لیے کرو گے اللہ کو تمہارے ایمان تقویٰ یا مال کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں وہ تو ہر چیز سے بےنیاز ہے۔” اللہ الصمد ” بےنیاز ہے وہ تو ساری مخلوق کو یک دم مومن بنا دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ یہ جو موت حیات کا سلسلہ ہے یہ تو لوگوں کو آزمانے کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ لوگ کسی خاص مقصد کو سامنے رکھ کر زندگیاں گزاریں اور پھر جنت یا دوزخ کے وارث ہو سکیں۔ مقصد کیا ہے ؟ اللہ کی وحدانیت پر دل سے یقین اور زبان سے اقرار کرنا۔ اس کی صفات پر یقین کرنا، موت کے بعد آخرت میں اللہ سے ملاقات، حساب کتاب، جنت، جہنم، انبیاء، کتب، ملائکہ پر ایمان لانا۔ جب کہ یہ سب باتیں غیب کی باتیں ہیں ان پر یوں یقین کرو گویا آنکھوں سے دیکھ رہے ہو اور پھر اللہ کی بندگی، عبادت یوں کرو گویا اس کو تم دیکھ رہے ہو۔ اس کے لیے تقویٰ اور ذکر و فکر اور قرآن کی تلاوت سمجھ کر کرتے رہنا ضروری ہے۔ خود کو دیکھو تو اللہ کی عظمت دکھائی دینے لگتی ہے۔ دیتی ہے ہر چیز گواہی پاک ہے تیری ذات الہٰی ہم کو سیدھی راہ دکھانا نیکی کے رستے پہ چلانا ہمت دینا عزت دینا علم کی یا رب دولت دینا (ساقی جاوید )