46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 46:1–10

حٰمٓۚ Open ayah 46:1 in the Quran reader

حٰـمۗ(حروف مقطعات میں سے ہے)

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

یہ کتاب اللہ غالب اور حکمت والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ دونوں میں ہے حکمت پر اور مقررہ وقت تک کیلئے پیدا کیا ہے اور کفار کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

فرمادیں کہ ' بھلا تم نے ان چیزوں کو دیکھا ہے جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ذرا مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے ؟ اگر سچے ہو تو اس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے پاس لاؤ یا انبیاء کے علم میں سے کچھ لکھا ہوا موجود ہو تو وہ مجھے دکھاؤ۔

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایسوں کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکیں اور ان کو ان کے پکارنے تک کی خبر نہ ہو

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی پوجا سے انکار کریں گے

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر حق کے بارے میں جو ان کے پاس آچکا تھا کہتے ہیں کہ ' یہ تو صریح جادو ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ یہ سب اس نے خود ہی بنا لیا ہے۔ فرمادیں کہ ' اگر میں نے یہ اپنی طرف سے بنا لیا ہو تو تم اللہ کے سامنے میرے بچاؤ کا کچھ اختیار نہیں رکھتے وہ اس بات چیت کو خوب جانتا ہے جو تم اس کے بارے میں کرتے ہو۔ وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

فرمادیں کہ ' میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو وحی مجھ پر آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

فرمادیں کہ بھلا دیکھو تو ! اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہو اور تم نے اس سے انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اسی طرح کی ایک کتاب کی گواہی دے چکا اور ایمان لے آیا اور تم نے سرکشی کی تو تمہارے ظالم ہونے میں کیا شک ہے۔ بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

تخلیق کائنات بےمقصد نہیں تشریح : اللہ کی وحدانیت بیشمار ذریعوں سے ثابت ہوچکی ہے کائنات کا نظام ایک مستحکم اور کامل مرکزی نظام ہے۔ جس کو ایک اکیلے اللہ نے پیدا کیا وہی چلا رہا ہے اور وہی اس کو اپنی مرضی اور مقرر کردہ وقت پر ختم بھی کر دے گا۔ یہ اختتام دراصل دوسری تخلیق کا آغاز ہوگا اور اس طرح ہم اس کو تخلیقی امر کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ جس طرح اس دنیا میں آنے کیلئے پیدائش کا عمل ہوا اسی طرح دوسری دنیا میں جانے کیلئے موت کا عمل منتقل ہونے کا تخلیقی عمل ہے۔ اس پر یقین کرنا عام انسان کیلئے یوں مشکل ہے کہ یہ غیب کی بات ہے۔ آنکھوں دیکھی بات نہیں۔ انسان اس کے کھوج میں لگا رہتا ہے۔ لہٰذا تاریخی لحاظ سے مذہبی لحاظ سے اور سائنسی لحاظ سے اس عمل پر تحقیقات ہوتی رہتی ہیں۔ اور ان تینوں شعبوں میں سب سے زیادہ محکم، ٹھیک، پکا اور سچا شعبہ ہے مذہبی لحاظ سے تحقیق کا کام، کیونکہ تاریخ بدلتی رہتی ہے۔ سائنسی تجربات تو ہر لمحہ بدلتے رہتے ہیں البتہ دینی اور قرآنی ثبوت و احکامات نہ بدلنے والے ہیں۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ ہر مذہب کے لوگ دوبارہ زندہ ہونے کو مانتے تھے مثلاً فراعنہ مصر کے اہرام، کہ ان میں مرنے والے کے ساتھ گھوڑے غلام اور بیشمار ضروریات زندگی کی چیزیں اس خیال سے دفن کردی جاتی تھیں کہ جب یہ دوبارہ جی اٹھیں گے تو استعمال کریں گے اسی طرح قدیم چینی امریکہ کے ریڈانڈین جنوبی امریکہ اور آسٹریلیا کے اصلی باشندے۔ ہندو، بدھ اور جین مذہب والے سب ہی بار بار پیدا ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ غرض دنیا کے ہر مذہب میں دوبارہ زندہ ہوٍنے پر یقین رکھا جاتا ہے۔ ہم مسلمان جب مذہبی معیار سے اس بات کو دیکھتے ہیں تو قرآن پاک اس غیب کے واقعہ اور عمل کو باربار دہراتا ہے۔ اور قرآن کا یہ بتا دینا ہم مسلمانوں کیلئے سچی حقیقت ہے اور یہی عقیدہ بتاتا ہے کہ نہ تو کائنات کھیل تماشہ ہے اور نہ ہی ہماری اس دنیا کی زندگی ہی بےمقصد ہے۔ یہ مقصد کہ ہم نے اس دنیا میں کئے گئے اعمال کا بدلہ جنت اور دوزخ کی صورت میں ضرور پانا ہے ہماری زندگیوں کو سیدھا، صاف اور سچا راستہ دکھاتی ہیں۔ کیونکہ جب ہم آخرت کے بدلے کو سامنے رکھ کر زندگی کا ہر لمحہ گزارتے ہیں تو ہم اپنی کامیابی کو اپنا نظریہ حیات بنا کر زندگی گزارتے ہیں۔ کیونکہ ہر شخص کامیابی کیلئے ہی جدوجہد کرتا ہے تو مسلمان آخرت میں کامیابی کو سامنے رکھ کر زندگی گزارتا ہے۔ اور یہ مقصد ہے کائنات کے بنانے کا اور انسان کی زندگی کا اور پھر آخرت کا کہ جو ہم بوئیں گے وہی کاٹیں گے اس صورت میں کون ایسا بیوقوف ہوگا جو اس فانی دنیا اور اسکی ختم ہوجانے والی آسائشوں کی خاطر آخرت کی ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کو حاصل نہ کرنا چاہے گا ؟ اب تیسرا یقین ہے سائنسی لحاظ سے تو تمام سائنسدان تقریباً اس بات پر متفق ہوچکے ہیں کہ سورج ایک دن ضرور ٹھنڈا ہوجائے گا۔ کائنات اپنے عمل سے رک جائے گی سیارے ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں گے اور دنیا ختم ہوجائے گی اور دنیا کا یہ ختم ہوجانا نئی دنیا کے آغاز کی بنیاد ہوگی۔ اور پھر وہ نئی دنیا ہمیشہ رہنے والی ہوگی۔ اسی دنیا کی ہمیشہ رہنے والی نعمتوں، برکتوں، آسائشوں اور رحمتوں کو حاصل کرنے کا بہترین نسخہ قرآن پاک بتاتا ہے۔ '” جو اللہ کے دوست ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا ان کیلئے کسی خوف اور رنج کا امکان نہیں۔ دنیا و آخرت دونوں زندگیوں میں ان کیلئے بشارت ہی بشارت ہے۔ اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے۔ “ ( سورة یونس 64-63-62) قرآن پاک مسلمانوں کیلئے بہترین گائیڈ بک ہے۔ اللہ فرماتا ہے۔ ' کامیاب زندگی وہ ہے جس میں مشکلات آسان ہوں دشواریوں میں راستہ نکلے رزق نصیب ہو ہر کام آسان ہو۔ اس کا وعدہ متقین سے کیا گیا ہے۔ (القرآن) ایسے ہی لوگوں سے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یہی مقصد ہے کائنات کا انسانی زندگی کا اور پھر آخرت کا۔ قرآن پاک، احادیث، اولیائے کرام کے مشاہدات اور جدید سائنس کے تجربات کو جان لینے کے بعد بھی اگر کوئی شخص آخرت پر یقین نہیں رکھتا تو پھر اس کیلئے سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں۔ کیونکہ عقیدہ آخرت پر قائم رہنے والوں کیلئے اللہ فرماتا ہے۔ ' اے نفس مطمٔنہ رکھنے والے ! واپس چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اس سے راضی وہ تم سے راضی۔ پس شامل ہوجا میرے بندوں میں اور داخل ہوجا میری جنت میں۔ (سو رۃ الفجر آیات 27 تا 30) قرآن پاک کا یہی تو کمال ہے کہ اس نے انسان کو ماضی حال مستقبل اور غیب سے پوری طرح آگاہ کردیا ہے اور صاف صاف بتا دیا ہے کہ خالق ومالک الہ العٰلمین نے کائنات کا ذرہ ذرہ مفید اور کارآمد بنایا ہے یہاں چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی بےکار اور فضول نہیں بنائی گئی۔ ہر چیز ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ اسی طرح قیامت بھی تخلیق کائنات کا مقصد پورا کرنے کیلئے ہی آئے گی۔ اسی لیے قیامت کو خاتمہ نہیں بلکہ ایک واقعہ کا نام دیا گیا ہے جو دوسری تخلیق کا ذریعہ ثابت ہوگا۔ کب ہوگا ؟ یہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پروگرام میں طے کر رکھا ہے جس کا علم سوائے اس کے کسی کو نہیں۔ اس کے بارے میں اللہ فرماتا ہے۔ ' بیشک وہ گھڑی آنے والی ہے۔ میرے سامنے اس کو پوشیدہ رکھنے میں مقاصد ہیں۔ کہ ہر نفس کو اس کی کوشش کے مطابق بدلہ دیا جائے '۔ (سورۃ طہ آیت 15) سب کچھ کفار مکہ پر ظاہر ہوچکا تھا اور آج کے کفار پر بھی ظاہر ہوچکا ہے مگر پھر بھی رسول کو اللہ کا نبی ماننے سے مسلسل انکار کرتے تھے اور کرتے ہیں اس حجت بازی میں کئی قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ مثلاً نبی ﷺ کو علم الغیب کیوں نہیں ہوتا ان کے آگے پیچھے فرشتے کیوں نہیں پھرتے اور یہ عام انسانوں کی طرح زندگی کیوں گزارتے ہیں وغیرہ وغیرہ تو اس کا جواب اللہ نے دیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ ' میں کوئی انوکھا رسول تو نہیں آگیا میری طرح بیشمار رسول آچکے ہیں۔ میں تو صرف وحی الٰہی کے مطابق ہی بات کرتا ہوں میرا کام تو صرف راہ راست پیش کرنا ہے اور منکر لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانا ہے۔ اس قسم کی تعلیمات مجھ سے پہلے بنی اسرائیل کی آسمانی کتابوں میں آچکی ہیں اور ان کی کتابوں میں میرے نبی آخر ہونے اور قرآن پاک کی صداقت کے بارے میں بھی بڑی وضاحت سے آچکا ہے۔ اور وہ مان بھی چکے ہیں اور تم بھی جان چکے ہو کہ اللہ کی تعلیمات وحی کے ذریعہ ہی نازل کی جاتی ہیں۔ پھر بھی منکرین اگر نہیں مانتے اور الٹے سیدھے اعتراضات کر کے انکار کے پہلو نکالتے ہیں تو یہ صرف بےبنیاد غرور ہٹ دھرمی اور نافرمانی ہے۔ اور کچھ نہیں۔ تو ایسے ہی لوگوں کیلئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ' ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔ (آیت 10) رسول رحمت ﷺ نے فرمایا : میری شفاعت صرف اس کو مفید ہوسکتی ہے جو اس حالت میں فوت ہوا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا۔ (ترمذی، مشکوۃ) شرک کرنے والوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے۔ ان کا آخری ٹھکانا جہنم ہے اور وہ قیام گاہ بہت ہی بری ہے جو ان ظالموں کو نصیب ہوگی۔ ( سورة آل عمران :151)
Ayahs 46:11–20

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ ' اگر یہ (دین) کچھ بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے پہلے نہ دوڑ پڑتے اور جب وہ اس سے ہدایت نہ پا سکے تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی لوگوں کیلئے رہنما اور رحمت، یہ کتاب عربی زبان میں ہے اس کی تصدیق کرنے والی تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکوکاروں کو خوشخبری سنائے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر قائم رہے تو ان کو نہ کچھ خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے۔

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہی اہل جنت ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا۔ اس کی ماں نے اس کو تکلیف سے پیٹ میں رکھا اور تکلیف ہی سے جنا اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھوڑنا ڈھائی برس میں ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب خوب جوان ہوتا اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ ' اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ تو نے جو احسان مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ان کیلئے شکر کروں اور یہ کہ نیک کام کروں جن کو آپ پسند کریں اور میرے لیے میری اولاد میں اصلاح اور تقویٰ دے میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کے نیک اعمال ہم قبول کریں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر کریں گے اور یہی اہل جنت میں سے ہوں گے۔ یہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جاتا ہے۔

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ ' اف اف '! تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ میں زمین سے نکالا جاؤں گا، حالانکہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں اور وہ دونوں اللہ کی جناب میں فریاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ' اے خرابی تیری تو ایمان لے آ۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ تو کہنے لگا ' یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں جنوں اور انسانوں کی دوسری امتوں میں سے جو ان سے پہلے گزر چکیں عذاب کی بات پکی ہوچکی بیشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے۔

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور لوگوں نے جیسے کام کئے ہوں گے ان کے مطابق سب کے درجے ہوں گے۔ غرض یہ ہے کہ ان کو ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان کا نقصان نہ کیا جائے۔

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور جس دن کا فردوزخ کے سامنے کیے جائیں گے تو کہا جائے گا کہ تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے اور ان سے برت چکے سو آج تم کو رسوائی والا عذاب ہے۔ یہ اس کی سزا ہے کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے اور اس بات کی کہ بد کرداری کیا کرتے تھے۔

تمام انبیاء نے آسمانی دین کی ہی تعلیم دی ہے تشریح : آیت گیارہ میں تو کفار کی حجت بازی کا ذکر کیا گیا ہے اور جواب دیا گیا ہے۔ جیسا کہ حضرت آدم ؓ کے زمانے سے لے کر ہمیشہ انسان کی اصلاح کیلئے رسول اور آسمانی کتابیں آتی رہی ہیں اور مخالفت کرنے والے بھی آتے رہے ہیں اور مخالفت کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے اس طرح قرآن پاک جو کہ تمام پہلے نازل ہونے والی کتابوں یعنی تو رات، انجیل اور زبور کے علاوہ تمام آسمانی کتابوں کا نچوڑ ہے اور ان سب کو سچی کتابیں بھی کہتا ہے کچھ باتیں تو ان کتابوں کے مطابق ہیں اور کچھ باتوں کا قوانین اور شریعت میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ بہر حال ایک بات کہ ' اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ تمام رسولوں اور کتابوں میں بتائی گئی ہے۔ یہ سب سے پہلا اصلاحی مذہبی اور قانونی حکم ہے جو وحی کے ذریعے تمام انبیاء کو بتایا گیا۔ یہاں بھی اسی کا ذکر سب سے پہلے کیا گیا ہے۔ دوسرا حکم آخرت کا ہے۔ کہ اس میں نیک لوگوں کو انعامات ملنے کی خوشخبری دی گئی ہے اور برے لوگوں کو سخت عذاب کی خبر دی گئی ہے۔ چند اسلامی اور شرعی احکامات طبی اور اخلاقی لحاظ سے کچھ یوں بتائے گئے ہیں۔ پہلا حکم حقوق العباد میں سے ایک یہ ہے کہ والدین کے ساتھ ہر صورت بھلائی کرو۔ خاص طور سے ماں کے ساتھ اور اس کی وجہ طبی نکتہ نظر سے یہ بتائی گئی ہے کیونکہ وہ بچے کو پیٹ میں پرورش کرتی ہے جو بڑا مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ پھر بچے کی پیدائش ہوتی ہے جو کہ بےحد تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے اور پھر اس کی پرورش بچے کو دودھ پلانا۔ یہاں ایک بہت بڑا طبی نقطہ جو کہ موجودہ صدی میں معلوم کیا گیا ہے قرآن پاک میں اس کو بڑے واضح الفاظ میں بہت پہلے بیان کیا گیا ہے۔ یعنی بچے کی پیدائش اور دودھ پلانے کی انتہائی مناسب اور ٹھیک مدت بتائی گئی ہے یعنی ڈھائی سال۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دو سال دودھ پلاؤ اور چھ ماہ میں بچے کی پیدائش طبی لحاظ سے بالکل مناسب ہے۔ جبکہ عام طور پر یہ مدت 9 ماہ ہی گنی جاتی ہے مطلب یہ ہے کہ چھ ماہ میں بچہ جسمانی لحاظ سے بالکل مکمل ہوجاتا ہے۔ باقی تین ماہ اس کی مزید پختگی میں لگ جاتے ہیں اس لیے اگر کوئی ماں 6 ماہ کے بعد پیدائش کا عمل پورا کرلیتی ہے تو وہ گناہگار نہیں۔ اس سے مطابقت میں حضرت عبداللہ جہنی (رح) یوں فرماتے ہیں کہ، ہمارے قبیلہ کی ایک عورت نے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ پیدا کیا تو اس کے خاوند نے حضرت عثمان سے شکایت کی کہ اس کی عورت نے ناجائز بچہ کو جنم دیا ہے۔ جب عورت آئی تو اس نے اپنی بےگناہی میں قسم اٹھائی مگر کیونکہ عام طور پر بچہ کی پیدائش 9 ماہ کے عرصہ کے بعد ہوتی تھی اس لیے اس کی بےگناہی نہ مانی گئی اور اس کو زانیہ ہونے کی وجہ سے سزا سنا دی گئی جس پر حضرت علی ؓ نے حضرت عثمان ؓ کو آیت 15 دکھائی جو اس عورت کی بےگناہی ثابت کرنے کیلئے کافی تھی لہٰذا اس عورت کی سزا معاف کر کے اس کو باعزت زندگی دلائی گئی۔ اس آیت میں حمل اور دودھ پلانے کے تیس مہینے بتائے گئے ہیں۔ چوبیس مہینے دودھ پلانے کے اور 6 مہینے حمل کے۔ قرآن کریم سے معلوم ہوا کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے۔ مزید وضاحت کیلئے عرض ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ، جب کسی عورت کو 9 ماہ میں بچہ پیدا ہو تو اس کی دودھ پلائی کی مدت 21 ماہ کافی ہے اور جب 7 ماہ میں ہو تو پھر دودھ پلائی کی مدت 23 ماہ ہے اور جب 6 ماہ میں بچہ ہوجائے تو پھر مدت رضاعت دو سال کامل۔ اس لیے کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے کہ، حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے۔ (از تفسیر ابن کثیر) بچہ جوان ہونے تک اور عقل و شعور کی پختگی کو حاصل کرنے میں 40 سال لگا دیتا ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے بنو امیہ کو مشقی گورنر حجاج بن عبداللہ حلیمی فرماتے ہیں کہ چالیس سال کی عمر میں تو میں نے نا فرمانیوں اور گناہوں کو لوگوں کی شرم وحیا سے چھوڑا تھا اسکے بعد گناہوں کو چھوڑنے کا باعث خود ذات خداوندی سے حیا تھی پھر اس کی دعا کا بیان ہے۔ (از ابن کثیر) مطلب یہ ہے کہ انسانی زندگی کو اس کی عقل و شعور اور جسمانی طاقت کے لحاظ سے کئی ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جس میں عقل و طاقت کا دور چالیس سال کی عمر میں عروج پر ہوتا ہے۔ اکثر انبیاء کی بعثت اسی عمر میں ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی سے صاف طور پر معلوم ہوجاتا ہے۔ کہ 40 سال کی عمر میں آپ ﷺ کو نبوت ملی اور شروع کے 13 سال ہر لحاظ سے انتہائی مشکل محنت طلب اور بےحد صبر آزما واقعات سے بھرے ہوئے ہیں۔ جو اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ 40 سال کی عمر بھرپور طاقت کی عمر ہوتی ہے۔ اس عمر میں جو اللہ سے ڈرتے ہیں نیک کام کرتے ہیں اور اللہ سے دعائیں کرتے ہیں وہ بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کی دعاؤں کے جواب میں اللہ فرماتا ہے۔ ، یہی وہ نیک لوگ ہیں جن کے نیک اعمال ہم قبول کریں گے ،۔ (آیت 16) مگر جو لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے ماں باپ کی نافرمانی کرتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں تو ایسے ہی لوگوں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ عذاب کی بات پکی ہوچکی بیشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے۔ (آیت 18) ثابت ہوگیا کہ نافرمانی، کفرو شرک اور بد عملی کی سزا تو ہر شخص کو اور ہر صورت میں ضرور ملے گی۔ مگر جوانی میں کی گئی عبادت اور نیکی کا درجہ بہت بڑا ہے اسی طرح جوانی میں کیے گئے گناہ و بدکاری کا انجام بھی بڑا سخت خراب ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ یہ اس کی سزا ہے کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے اور اس بات کی کہ بد کرداری کیا کرتے تھے۔ (آیت 20) ان آیات میں اسلامی قانون کے کچھ نکات بیان کیے گئے ہیں بچہ ماں باپ اور خاندان کو بربادی سے بچانے کے لیے یہ طبی حقیقت جو انسان کے علم سے باہر تھی اللہ نے وحی و قرآن کے ذریعہ واضح کردی کہ ماں کے پیٹ میں نشوونما پا کر ولادت کے لیے مکمل ہوجانا صرف 28 ہفتے کا کام ہے۔ یہ مدت ساڑھے چھ مہینے سے کچھ زیادہ بنتی ہے۔ یہ بڑا نازک معاملہ ہے لہٰذا اس کی وضاحت قرآن میں اچھی طرح کردی گئی ہے۔ قرآن پاک کی سچائی کے لیے یہ بھی ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔ اسی طرح غیب کا وہ سلسلہ جو موت کے بعد زندہ ہونے عذاب اور ثواب کے ملنے کا پتہ دیتا ہے اس کی اطلاع بھی قرآن پاک میں ہی دی گئی ہے۔ اور یہ اطلاع ثبوت ہے اس حقیقت کا کہ واقعی اللہ ایک ہے وہی رب العٰلمین ہے مالک یوم الدین ہے۔ سمیع وبصیر ہے۔ اور انسان کے ہر ہر عمل کو دیکھ رہا ہے نوٹ کر رہا ہے بلکہ فلم بن رہی ہے۔ جو قیامت کے دن انسان کے دنیا کے اعمال کی گواہی دے گی تاکہ کسی کے ساتھ بےانصافی نہ ہوجائے۔ اللہ تو سب سے بڑا اور بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ ان تمام لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی صرف اس دنیا کی ہی ہے۔ اصل زندگی موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر شروع ہوگی۔ یہ بالکل سچ ہے اس میں ایک ذرہ برابر بھی غلطی نہیں۔ انسان کو انسانیت کے دائرے میں رکھنے کے لیے یہ بہترین نسخہ ہے۔ اور اسی میں بہت بڑی کامیابی ہے۔ بڑی کامیابی کے لیے ایک قصہ سنیے سیدنا جبار بن سلمی ؓ ایک صحابی تھے۔ جو بڑے کٹر غیر مسلم تھے۔ ایک جنگ میں مسلمانوں کے خلاف لڑ رہے تھے کہ ایک مسلمان سیدنا حضرت عامر ؓ کو اپنے نیزہ سے شہید کردیا۔ جب سیدنا عامر ؓ تڑپ کر زمین پر گرے تو ان کی زبان سے یہ جملہ نکلا، کعبہ کے رب کی قسم میں تو کامیاب ہوگیا۔ اس جملے نے سیدنا جبار بن سلمی ؓ کی دنیا ہی بدل دی فوراً مسلمان ہوگئے اور پھر نامور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں شامل ہوئے۔ (از، ہمارا سنگین ترین مسئلہ، مصنف محمد منظور الحق)
Ayahs 46:21–28

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور قوم عاد کے بھائی ہود کو یاد کرو کہ جب انہوں نے اپنی قوم کو سرزمین احقاف میں ہدایت کی۔ ان سے پہلے اور بعد والے ہدایت کرنے والے گزر چکے تھے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا ڈر لگتا ہے

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

کہنے لگے، کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر دو ۔ اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے ہم پر لے آؤ۔

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے۔ میں تو جو (احکام) دے کر بھیجا گیا ہوں وہ تمہیں پہنچا رہا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی میں پھنس رہے ہو

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس عذاب کو دیکھا کہ بادل کی صورت میں ان کے میدانوں کی طرف آ رہا ہے تو کہنے لگے کہ، یہ تو بادل ہے جو ہم پر برس کر رہے گا نہیں بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کے لیے تم جلدی کرتے تھے آندھی جس میں درد دینے والا عذاب بھرا ہوا ہے۔

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے تباہ کیے دیتی ہے، تو وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہ آتا تھا۔ گنہگار لوگوں کو ہم اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو ایسی چیزوں کا مقدور دیا تھا جن کا مقدور تمہیں نہیں دیا۔ انہیں کا نآنکھیں اور دل دئیے تھے۔ تو جب وہ اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے تھے تو نہ ان کے کان ہی ان کے کچھ کام آسکے نہ آنکھیں اور نہ دل اور جس چیز کا وہ مذاق اڑاتے تھے اس نے ان کو آگھیرا۔

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور تمہارے اردگرد کی بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا اور باری باری اپنی نشانیاں ظاہر کردیں تاکہ وہ رجوع کریں۔

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

تو جن کو ان لوگوں نے اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لیے اللہ کے سوا معبود بنایا تھا انہوں نے ان کی کیوں مدد نہ کی ؟ بلکہ وہ ان کے سامنے سے گم ہوگئے۔ اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور یہ وہ افترا کیا کرتے تھے

قوم عاد کا قصہ جو کہ نافرمان تھی تشریح : قوم عاد کا قصہ ان لوگوں کے لیے بیان کیا جا رہا ہے جو اس زمانے میں نخوت غرور بڑائی لاپرواہی اور کفروشرک کی وجہ سے ناشکری اور نافرمانی پر اڑے رہتے تھے۔ ان لوگوں کو اللہ نے ہر قسم کی نعمت عزت عقل و فہم اور صحت و تندرستی دے رکھی تھی مگر وہ ان تمام نعمتوں کے نشے میں بد مست اپنے نبی کی ہدایت پر چلنے کو تیار نہ تھے بلکہ الٹا نبی کا مذاق ہی اڑایا کرتے تھے۔ اور جس عذاب کی اطلاع ان کا نبی ان کو دیتا تھا اس کو مذاق سمجھتے تھے۔ جیسا کہ آج کل کے پڑھے لکھے لوگ عقل و فہم رکھتے ہوئے بھی اللہ کو اور اس کی بتائی ہوئی باتوں کو بالکل فضول (نعوذ باللہ) اور بےکار بےمعنی سمجھ کر اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتے تو ایسے تمام لوگوں کو اس قوم کی تباہی اور اس جیسی کئی قوموں کی تباہی و بربادی سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ قوم عاد بڑی ترقی یافتہ خوشحال قوم تھی ان کا علاقہ عمان سے یمن تک پھیلا ہوا تھا۔ قرآن میں ان کا اصل وطن الاحقاف بتایا گیا ہے۔ اب وہ علاقہ اس قدر ویران اور ہولناک ہے کہ اس کے اندرونی حصوں میں جانے کی کوئی جرات نہیں کرسکتا کیونکہ اگر حضرموت کی شمالی سطح مرتفع پر کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو یہ صحرا ایک ہزار فٹ نشیب میں دکھائی دیتا ہے اور اس میں جگہ جگہ باریک سفید ریت کے ٹکڑے نظر آتے ہیں تجربہ سے معلوم ہوا ہے اگر ان میں کوئی چیز گر جائے تو دلدل کی طرح ان کے اندر غرق ہوجاتی ہے اور بالکل گل سڑ جاتی ہے۔ یہ کیا ہے ؟ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ کبھی یہاں شاندار قوم رہتی تھی۔ اس علاقے کی تباہی اور اس کی اس درجہ ہولناکی اللہ تعالیٰ نے صرف اسی لیے محفوظ کر رکھی ہے کہ مشرک اور منکر خدا لوگ عبرت حاصل کریں۔ جیسا کہ فرعون کی لاش بھی اللہ تعالیٰ نے عبرت کے لیے اس دنیا میں محفوظ کر کے رکھ چھوڑی ہے۔ آخر انسان ان باتوں کو کیوں نہیں مان لیتا کہ اللہ ایک ہے وہی ہمارا سب کچھ ہے کیونکہ اسی نے ہمیں پیدا کیا ہے وہی پالنے والا ہے اور اسی کے پاس واپس جائیں گے۔ نیکی میں نجات ہے اور روشنی ہے۔ بدی میں عذاب ہے اور اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ چورڈاکوقاتل کبھی سکون سے زندگی نہیں گزار سکتے جبکہ اللہ کے نیک بندے پر سکون اور خوش و خرم ہوتے ہیں۔ وہ بالکل بےفکرے ہوتے ہیں۔ ان کو نہ کوئی غم ہوتا ہے نہ کوئی فکر ہوتی ہے۔ وہ جانتے ہیں اللہ کا فرمان بالکل سچا ہے۔ اللہ نے فرمایا :، ہم انسان کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔ (سورۃ ق :16) پھر اللہ رحیم ہے کریم ہے اس کو اپنے بندوں سے اس قدر پیار ہے کہ ہم اس کا اندازہ یوں کرسکتے ہیں کہ تمام دنیا میں ایک حصہ رحمت ہے اور ننانوے حصے رحمت کے اللہ کے پاس ہیں جو اللہ اپنے بندوں سے کرتا ہے اور قیامت کے دن کرے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ، اے نبی ! میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں بتا دو کہ میں ان کے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے میں اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ (سورۃ بقرہ آیت 186) پھر فرمایا کون ہے جو بےقرار کی دعا سنتا ہے جب کہ وہ پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے ؟ (سورۃ نحل آیت 62) یہ ایسی سچی بات ہے کہ اس کو بیشمار دفعہ دلیلوں کے ساتھ قرآن میں کہا گیا ہے۔ بھلا اس خالق مطلق کی کہی ہوئی بات کبھی غلط ہوسکتی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا کل کائنات کو پیدا کیا وہی خالق ہے وہی مالک ہے اور اسی کی طرف ہم سب لوٹ کر جائیں گے۔ اسی لیے باربار کہا گیا ہے کہ، اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ (سورۃ ہود آیت 19) سچے اور پکے مسلمان کے سامنے دنیا کی کوئی طاقت ٹھہر نہیں سکتی۔ ـہم کو طوفان سے ڈرائیں نہ زمانے والے کشتیاں ہم سر ساحل ہیں جلانے والے (خالد کفایت)
Ayahs 46:29–35

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور جب ہم نے جنوں میں سے ایک گروہ کو تمہاری طرف متوجہ کردیا کہ قرآن سنیں تو جب وہ اس کے پاس آئے تو آپس میں کہنے لگے کہ خاموش رہو۔ جب ختم ہوا تو اپنی برادری کے لوگوں میں واپس گئے کہ ان کو نصیحت کریں۔

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

کہنے لگے کہ، اے قوم ! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی۔ جو کتابیں اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق کرتی ہے۔ سچا دین اور سیدھا رستہ بتاتی ہے۔

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے قوم ! اللہ کی طرف بلانے والے کی بات قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ۔ اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور تمہیں دکھ دینے والے عذاب سے پناہ میں رکھے گا۔

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے گا تو وہ زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کرسکے گا اور نہ اس کے سوا اس کے حمایتی ہوں گے یہ لوگ صریح گمراہی میں ہیں

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں سمجھا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں وہ اس بات پر بھی قادر رہے کہ مردوں کو زندہ کر دے ہاں ہاں وہ ہر چیز پر قادر ہے

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

اور جس دن انکار کرنے والے آگ کے سامنے کیے جائیں گے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے ؟ تو کہیں گے کیوں نہیں ہمارے رب کی قسم حق ہے۔ حکم ہوگا کہ تم جو دنیا میں انکار کیا کرتے تھے اب عذاب کے مزے چکھو۔

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

پس جس طرح عالی ہمت پیغمبر صبر کرتے رہے ہیں اسی طرح آپ بھی صبر کرو اور ان کے لیے عذاب جلدی نہ مانگو۔ جس دن یہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو خیال کریں گے کہ گویا دنیا میں رہے ہی نہ تھے مگر گھڑی بھر دن۔ یہ قرآن کا پیغام ہے۔ سو اب وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے۔

قرآن انسانوں اور جنوں کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے جنوں کا ذکر آتا ہے۔ ان کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور بہت سے دوسرے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے۔ کہ جب رسول کریم ﷺ طائف سے مایوس ہو کر مکہ کی طرف واپس آ رہے تھے تو نخلہ کے مقام پر نماز میں تلاوت کر رہے تھے کہ جنوں کا ایک گروہ ادھر سے گزرا اور وہ قرآن سننے لگا۔ ان کے موجود ہونے کی خبر آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے دی گئی ہے۔ کیونکہ جن انسان کی طرح مٹی سے نہیں بلکہ آگ سے بنائے گئے ہیں۔ اس لیے دکھائی نہیں دیتے ان آیات میں بہت سے نئے موضوعات پر بات کی گئی ہے۔ ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ انسانوں کے علاوہ بھی مخلوقات ہیں جو کہ بیشمار ہیں مگر عقل سمجھ رکھنے والی مخلوقات، جن میں فرشتے اور جن بھی شامل ہیں۔ دوسرا۔ انسان کو ان مخلوقات پر فوقیت دی گئی ہے کیونکہ انسان اللہ کا نائب بنایا گیا اور عقل کے ساتھ ارادہ بھی رکھتا ہے۔ تیسرا۔ انسان مٹی سے بنایا گیا ہے جبکہ فرشتے نور سے اور جنات آگ سے بنائے گئے ہیں۔ چوتھا۔ جنات بھی نیک بد اور کافر و مشرک ہوتے ہیں۔ پانچواں۔ پیغمبر انسانوں سے ہی بھیجے گئے۔ جنات میں سے رسول نہیں بھیجے گئے۔ چھٹا۔ جنات پہلے سے آسمانی کتابوں پر ایمان لا چکے تھے۔ کیونکہ انہوں نے قرآن سننے کے بعد کہا کہ ' اے قوم ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی۔ (30) ساتواں۔ جنات نے گواہی دی کہ قرآن بہترین کتاب ہے کیونکہ انہوں نے یوں کہا ' جو کتابیں اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں یہ کتاب ان کی تصدیق کرتی ہے۔ سچا دین اور سیدھا راستہ بتاتی ہے۔ (30) آٹھواں۔ جنات نے بھی قرآن، اللہ، رسول اور دین اسلام کی پوری طرح تصدیق کردی۔ نواں۔ جنوں نے بھی اسی پیغام کو دہرایا جو بار بار قرآن پاک میں دیا گیا ہے یعنی اللہ ایک ہے۔ وہی قادر مطلق ہے زندگی ہنسی مذاق نہیں بلکہ پورا پورا حساب لیا جائے گا اور پھر دوزخ یا جنت ملے گی۔ آخر میں کیونکہ آپ ﷺ طائف کے لوگوں کی طرف سے بےحد ناامید اور رنجیدہ ہو کر آئے تھے تو اللہ تعالیٰ ان کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ' پس جس طرح عالی ہمت پیغمبر صبر کرتے رہے ہیں اسی طرح آپ بھی صبر کریں۔ اور ان کے لیے عذاب جلدی نہ مانگو۔ (35) اس کی تفصیلات گزر چکی ہیں۔ ان آیات میں ایک نیا موضوع متعارف کروایا گیا ہے اور وہ ہے جنوں کی تخلیق۔ قرآن و احادیث سے اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ انسان کے علاوہ ایک شعور رکھنے والی مخلوق جن بھی ہے۔ اور یہ انسان سے کم تر درجہ رکھتے ہیں۔ یہ کچھ لحاظ سے مضبوط ہوتے ہیں مثلاً بجلی کی طرح تیزی سے سفر کرنا دور تک دیکھ سکنا اور بغیر تھکے کام کرتے جانا۔ کمزور کردار کے انسانوں کے ذہنوں کو بدل سکتے ہیں کیونکہ ان میں بھی انسانوں کی طرح کوئی مسلمان کوئی ہندو عیسائی اور کافر ہوتے ہیں لیکن اکثریت شریر طبیعت والے ہوتے ہیں۔ اس موضوع پر سلطان بشیر محمود صاحب بہت خوب لکھتے ہیں ملاحظہ ہو۔ ' جیسا کہ قرآن پاک اور احادیث مبارکہ سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ انسانی روح کی بنیاد بھی نور ہے فرشتے بھی نوری مخلوق ہیں اس کے مقابلہ میں جنات کی فطرت ناری ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور البتہ تخلیق کی ہم نے انسان کی بجنے والی مٹی سے جو ایک سڑے ہوئے کیچڑ نما گارے پر مشتمل تھی اور اس سے پہلے ہم نے پیدا کیا جنات کو آگ کی لو سے۔ ( سورة حجرآیات 26 تا 27) مزید لکھتے ہیں۔ '' آگ کی لو کا جدید سائنس کی زبان میں مطلب ہاٹ گیس پلازما (Hot Gas Plasma) ہے۔ جو انتہائی گرم گیس کا شعلہ ہے۔ سورج ستارے بھی اسی طرح کی آگ سے بنے ہیں۔ دراصل یہ آگ بجلی اور مقناطیسی شعاؤں پر مشتمل ہے ''۔ (از قیامت اور حیات بعدالموت) ۔ بہر حال اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں البتہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ اللہ جل شانہ نے ہر چیز کو پوری کائنات کو تمام مخلوقات کو ایک خاص قائدے قانون اور مقدار کے مطابق بنایا ہے۔ یہ قائدے قانون اور مقدار سمجھ لینا پوری طرح سے انسان کے بس میں نہیں۔ یہ جان لینا کافی ہے کہ ہمارے ساتھ دو مخلوق شر کی اور خیر کی لگی رہتی ہیں۔ اگر ہم اپنے عقائد میں مضبوط ہوں تو جن یا شیطان کوئی بھی ہمیں برے راستوں پر چلانے کی ہرگز طاقت نہیں رکھ سکتے۔ اللہ سے مدد مانگتے رہنا چاہیے وہی بہترین مددگار ہے اور محافظ بھی۔ فرشتوں اور جنوں کی مدد حاصل کرنے کے لیے چلے کاٹنا بالکل غلط کام ہے۔ یہ شرک اور بدعت میں شامل ہے۔ اللہ عالم الغیب نے صاف فرما دیا ہے '' اے اولاد آدم ! دیکھو کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر بہکا دے ' جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا ''۔ ( سورة اعراف آیت 27) رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے کہ '' اگر کوئی شخص ایسا کام کرتا ہے جو ہمارے عمل کے مطابق نہیں تو وہ قابل قبول نہیں ہوگا '' (بخاری ' مسلم ' مسند احمد) جو لوگ اپنے نفس پر قابو نہیں رکھ سکتے وہ شیطان کے بہکانے میں بڑی آسانی سے اپنا رخ شیطانی کاموں کی طرف موڑ لیتے ہیں۔ القرآن : '' شیطان نے ان کے برے کرتوت انہیں خوشنما بنا کر دکھائے ''۔ ( سورة نحل آیت 63) '' اے اللہ ! تیرے ہی نام پر مجھے مرنا اور تیرے ہی نام پر مجھے جینا ہے ''۔ (بخاری و مسلم) حضرت یوسف کی بہترین دعاؤں میں سے ایک ہے۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ! آپ ہی میرے کارساز ہیں دنیا میں بھی آخرت میں بھی مجھے پوری فرمانبرداری کی حالت میں دنیا سے اٹھا لیجیے اور مجھے خاص نیک بندوں میں شامل کردیجیے۔ آمین (سورۃ یوسف۔ 101) خلاصہ سورة الاحقاف یہ سورت بھی بیشمار حقائق سے بھری ہوئی ہے۔ سب سے پہلی اور آخری حقیقت تو یہی ہے کہ اللہ ارحم الراحمین مالک و حاکم جس نے ہمیں پیدا کیا تمام کائنات مخلوقات اور یوم آخر یعنی قیامت کے بعد حساب و کتاب کے دن کا مالک ہے۔ ان حقائق کے بعد قرآن کا مضمون ہمیں یہ وضاحت بتاتا ہے۔ انسان کیا ہے ؟ مومن کی زندگی کا مقصد کیا ہے ؟ پیدائش سے پہلے ہمارا مقام کہاں تھا ؟ مرنے کے بعد ہم کس مقام میں ٹھہریں گے ؟ قیامت کیسے آئے گی کب آئے گی ؟ دوبارہ زندہ کیسے کیے جائیں گے ؟ محشر میں کیا ہوگا ؟ جنت دوزخ کی کیا صورتیں ہوں گی ؟ جنات اور فرشتوں کی کیا حقیقت ہے ؟ انہی تمام سوالوں کے جوابات پورے قرآن پاک میں اور اس سورت میں بھی واضح کر دئیے گئے ہیں۔ امت مسلمہ کا فرض ہے کہ قرآن کو پڑھے سمجھے دوسروں کو سمجھائے اور یوں امت مسلمہ ہونے کا حق ادا کرے۔ یاد رہے کہ آپ مسلم ہیں اور آپ اس عظیم رہنما کی دعاؤں کا نتیجہ ہیں جو انسانیت کا امام '' اللہ کا دوست '' مقبول خدا انتہائی بر گزیدہ انسان تھا۔ اور وہ ہیں ابراہیم (علیہ السلام) ۔ آپ نے فرمایا '' ابراہیم نے کہا کہ میں رب العٰلمین کا مسلم یعنی فرمانبردار ہوں ''۔ اللہ جل شانہ کے اس حکم کو ہر وقت سامنے رکھیں۔ (القرآن) ' تم کو ایک ایسی امت بن کر رہنا چاہیے جو خیر کی طرف لوگوں کو دعوت دے۔ اگر ہم نے اپنا یہ فرض ادا نہ کیا تو پھر ہمارا انجام بھی اس حدیث کے مطابق ہوگا۔” خدائے بزرگ و برتر سے جبریل (علیہ السلام) نے کہا رب العزت ! ان میں تو تیرا ایک ایسا نیک بندہ ہے جس نے پلک جھپکانے کی حد تک بھی کبھی تیری نافرمانی نہیں کی۔ رب العزت نے فرمایا۔ ” ہاں جبریل بستی کو اس پر بھی الٹ دو اور دوسروں پر بھی اس لئے کہ ان بستیوں میں علی الاعلان میری نافرمانی ہوتی رہی اور اس نے کچھ بھی نہیں کیا ” (مشکوۃ باب الامر بالمعروف عن جابر ؓ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دعوت و تبلیغ کا کام بڑا مشکل نازک مگر بہت ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ”۔