45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 45:1–13

حٰمٓۚ Open ayah 45:1 in the Quran reader

حٰم (حروف مقطعات میں سے ہے)

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا اللہ غالب اور دانا کی طرف سے ہے

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کیلئے اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہاری پیدائش میں بھی اور جانوروں میں بھی جن کو وہ پھیلاتا ہے یقین کرنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

رات اور دن کے ردو بدل میں اور جو اللہ نے رزق کا ذریعہ آسمان سے اتارا (یعنی بارش) پھر اس سے مردہ زمین کو زندہ کیا ‘ اس میں اور ہواؤں کے بدلنے میں عقل والوں کیلئے نشانیاں ہیں

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو پڑھ کر سناتے ہیں سچائی کے ساتھ۔ تو یہ اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے۔

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

ہر جھوٹے گنہگار پر افسوس ہے

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

کہ اللہ کی آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ‘ اور وہ ان کو سن بھی لیتا ہے مگر پھر غرور سے ضد کرتا ہے کہ گویا ان کو سنا ہی نہیں تو ایسے شخص کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب ہماری آیات میں سے کچھ اسے معلوم ہوتا ہے تو ان کی ہنسی اڑاتا ہے ایسے لوگوں کیلئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ان کے لیے دوزخ ہے اور جو کام وہ کرتے رہے کچھ بھی ان کے کام نہ آئیں گے اور نہ ہی وہ معبود ان کے کام آئیں گے جن کو انہوں نے اللہ کے سوا معبود بنا رکھا تھا اور ان کیلئے بڑا عذاب ہے۔

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ ہدایت کی کتاب ہے اور جو لوگ اپنے رب کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت قسم کا درد دینے والا عذاب ہوگا

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے قابو میں کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ اس کے فضل سے معاش تلاش کرو اور شکر کرو۔

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے حکم سے تمہارے کام میں لگا دیا۔ جو لوگ غور کرتے ہیں ان کیلئے اس میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں ‘

اللہ کی برتری کا یقین تشریح : اللہ کو پہچان کر اس پر یقین کرلینا اور اس کی کتاب کو غور سے پڑھ کر زندگی ‘ کائنات ‘ اور کائنات کی تمام چیزوں سے واقفیت حاصل کر کے ان سے پورا پورا فائدہ اٹھانا یہ بڑی سیدھی آسان اور معقول بات ہے۔ اللہ نے انسان کو سچائی کی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یعنی جب عالم ارواح میں تمام روحوں سے اللہ نے سوال کیا کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے تو سب نے یک زبان جواب دیا کہ اللہ نے۔ اسی طرح کوئی کتنا ہی برا منکر خدا، پکا کافر ہی کیوں نہ ہو جب آپ اس سے پوچھتے ہیں کہ بھئی تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو وہ فورا جواب دے گا اللہ نے مسلمان تو اپنے خالق کو اللہ کہتا ہے جبکہ غیر مسلم اپنی زبان میں god پر وبھو ‘ یا دیوتا کہتے ہیں۔ مطلب ان کا خدا ہی ہوتا ہے۔ وہ لوگ اصل حقیقت سے پوری طرح واقف ہیں کہ سوائے اللہ کے کوئی اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ انسان ‘ حیوانات ‘ فرشتے ‘ جنات اور بیشمار مخلوقات کو پیدا کرے پھر ان کی روزی رزق ‘ نشوونما کیلئے اتنی بڑی کائنات آسمان ‘ زمین ‘ پہاڑ ‘ دریا ‘ سمندر ‘ سورج ‘ چاند ستارے اور پھر ان سب کامل کر ایسا بہترین کام کرنا کہ انسان کی تمام ضروریات خود بخود پوری ہوتی چلی جائیں۔ چند منٹ کیلئے ہوا نہ ملے تو زندگی ختم ہوجائے اسی طرح ہوا روشنی پانی اور دن رات مخلوقات کیلئے ایسے ہی ضروری ہیں جس طرح ہماری جسمانی زندگی کیلئے روح کا ہونا ضروری ہے۔ ان آیات میں جو سب سے بڑی حقیقت بیان کی گئی ہے وہ ہے اللہ کا صرف ایک ہونا۔ اور پھر یہ کہ انسان کا درجہ اتنا بلند ہے کہ اس کیلئے پوری کائنات بنا دی گئی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ کائنات کو چلانے کیلئے انسان کا ہونا ضروری نہیں کیونکہ اس کو تو صرف الہ العٰلمین ہی چلا سکتا ہے جبکہ انسانی زندگی ‘ انسانی وجود کیلئے پوری کائنات کام میں لگی ہوئی ہے۔ یعنی پوری کائنات کو اللہ نے انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ پوری کائنات میں تقریباً دس کھرب مخلوق خدا موجود ہے۔ جو صرف اللہ کی ہی پیدا کی ہوئی ہے کوئی بڑے سے بڑا سائنسدان مفکر یا عالم دین اس کی قدرت نہیں رکھتا۔ مغرب کے ایک طبیعی ہیکل نے کہا تھا کہ مجھے ہوا ‘ پانی اور فلاں فلاں کیمیائی اجزاء دے دو ۔ میں انسان بنا دوں گا۔ لیکن وہ یہ نہ بتا سکا کہ زندگی یا روح کہاں سے لائے گا ؟ اسی طرح جب ہم اپنے جسمانی نظام پر غور کرتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں۔ کس انداز سے غذا منہ میں جاتی ہے۔ دانت اس کو چباتے ہیں پھر 6 قسم کے گلینڈز اس میں انتہائی مناسب مقدار میں لعاب شامل کرتے ہیں جیسا کہ آٹا گوندھتے ہوئے اس میں تھوڑا تھوڑا پانی دودھ یا کوئی چیز ڈالی جاتی ہے۔ یہ گلینڈز دو کانوں کے نیچے، زبان کی جڑ میں اور دو نچلے جبڑے کے نشیب میں ہوتے ہیں یہ۔ تقریباً ایک لیٹر لعاب روزانہ پیدا کرتے ہیں۔ اس لعاب میں ایسے کیمیائی اجزاء ہوتے ہیں جو غذا کو ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ پھر اس کے اوپر جگر اپنا تیار کیا ہوا اڑھائی پونڈ تیزاب ڈالتا ہے۔ تو غذا پتلی ہو کر انتڑیوں میں چلی جاتی ہے۔ انتڑیوں کی سوراخ دار اور کھردری دیواریں خوراک میں سے تمام ضروری مواد مثلاً حیاتین ‘ نشاستہ اور دوسری مفید اجزاء چوس کر خون میں شامل کردیتی ہیں اور بےکار مواد باہر پھینک دیتی ہیں۔ جسم کا ہر حصہ اپنی ضرورت کے مطابق اجزاء حاصل کرلیتا ہے یعنی یہ نہیں ہوتا کہ ہڈیاں گوشت کی مطلوبہ طاقت حاصل کرلیں ہڈیوں کو کیلشیم کی ضرورت ہے تو وہ پروٹین حاصل نہیں کریں گی اسی طرح ناخن اپنی ضرورت کی خوراک بال اپنی مطلوبہ طاقت حاصل کرلیتے ہیں۔ کس قدر حیرت ناک نظام ہے اور ان تمام طاقتوں کا بنیادی نظام کائنات کی ہر چیز کا محتاج ہے۔ انسان مٹی سے بنایا گیا اور مٹی کے اوپر رہتا ہے اس سے پیدا ہونے والے پھل پھول اور اناج سے پلتا بڑھتا ہے جو کہ ہوا پانی اور روشنی کے بہترین نظام فطرت سے مہیا ہوتا ہے پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سارا نظام ہستی کون چلا رہا ہے ؟ جواب میں اللہ وحدہ لا شریک لہ کا ہی نام آتا ہے۔ کیونکہ ان تمام مظاہر فطرت اور مخلوقات کی کوئی ایک ذرہ برابر بھی ایسی چیز نہیں جس کو اللہ کے سوا کوئی بھی اپنی قدرت سے پیدا کرسکے۔ پھر بھی ہٹ دھرم اور بیوقوف لوگ اللہ پر ایمان لانے کو تیار نہیں ہوتے پھر بھی کہتے ہیں کہ اللہ کہاں ہے ؟ اللہ تو ہر ہر ذرے میں ہماری ہر سانس میں موجود ہے۔ صرف اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے اسی ضرورت کو قرآن پاک میں بار بار کھول کھول کر آسان ترین ذریعوں سے آسان ترین الفاظ میں اور آسان ترین مثالوں سے سمجھا دیا گیا ہے۔ جو لوگ اللہ کو اپنے سامنے کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں تو ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ انسان کی معمولی آنکھ ‘ عقل اور فہم اس درجہ پر نہیں پہنچ سکتے کہ اللہ کو بےحجاب دیکھ سکے۔ یہ حجاب قیامت کے بعد حساب و کتاب کے دن ہی اٹھ سکے گا۔ اس زندگی میں جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کی نشانیوں سے اور اخلاق، کردار کی بلندیوں پر پہنچنے سے قرآن و حدیث کی دی گئی ہدایات کے ذریعہ سے بندہ کامل بن کر اللہ کا دیدار میدان حشر میں کرسکیں گے۔ اور جو اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں یا کوئی اہمیت نہیں دیتے تو ایسے ہی لوگوں کیلئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ایسے شخص کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو تو کچھ لوگ ایسے ہیں جو سنتے ہیں مگر پرواہ نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کو اور بھی زیادہ درد ناک عذاب دیا جائے گا۔ لیکن لوگ غور کرتے ہیں ان کیلئے اس میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ ( آیات نمبر 13) اگلی آیات میں مومنوں کیلئے پیغام ہے۔
Ayahs 45:14–20

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

مومنوں سے کہہ دو کہ جو لوگ اللہ کے دنوں کی (جو اعمال کے بدلے کیلئے مقرر ہیں) تو قع نہیں رکھتے ان سے درگزر کریں تاکہ وہ ان لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے لیے اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو (ہدایت کی) کتاب ‘ حکومت اور نبوت بخشی اور پاکیزہ چیزیں عطاء کیں اور دنیا بھر کے لوگوں پر فضیلت دی

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور ان کو دین کے بارے میں دلیلیں عطاء کیں ‘ تو انہوں نے جو اختلاف کیا وہ علم آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے کیا ‘ بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے رستے پر قائم کردیا تو اسی رستے پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

یہ اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہ آئیں گے اور ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور اللہ پرہیزگاروں کا دوست ہے

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ قرآن لوگوں کیلئے دانائی کی باتیں ہیں اور جو یقین رکھتے ہیں ان کیلئے ہدایت اور رحمت ہے “

مومنین کو صبر کی تلقین تشریح : ان آیات میں انسانی کردار و اخلاق کی بہتری کے کچھ اصول مثالوں کے ساتھ بتائے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو صبر و سکون کی ہدایت کی گئی ہے۔ جب انسان مد مقابل میں کمزور ہو تو اس کو صبر سے کام لینا چاہیے کیونکہ ایسے حالات میں صبر ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے جیسا کہ ہجرت سے پہلے مکہ کے مسلمان ہر لحاظ سے کمزور تھے تو ہدایت کی گئی کہ منکرین کی سختیوں بد تمیزیوں اور بحث و مباحثہ کی پرواہ کئے بغیر اپنے کاموں میں مشغول رہو اور پوری نیک نیتی سے تبلیغ دین میں لگے رہو اور وحی کے احکامات پر پوری طرح عمل کرتے رہو اللہ تمہاری ضرور مدد کرے گا اور پھر ایسے ہی ہوا ہجرت کے بعد مسلمان جب مضبوط ہوگئے تو پھر جنگ کا حکم ہوا۔ یہ کامیابی صبر و سکون محنت اور یقین کامل کا نتیحہ تھی۔ دوسرا بہترین سبق جو مسلمانوں کو دیا گیا ہے وہ ہے اللہ کے راستے پر سختی سے پابند رہنا اور اس کی عنایات کا شکر ادا کرتے ہوئے اور بھی زیادہ فرمانبرداری کرنا۔ کیونکہ نا شکری اور نافرمانی اللہ کو ہرگز پسند نہیں۔ تیسرا سبق ہے اتحاد و یکجہتی پر قائم رہنا۔ نااتفاقی اور گروہ بندی ہر شخص ہر قوم اور امت کی تباہی کا باعث بنتی ہے۔ ان تمام اصولوں کو اچھی طرح واضح کرنے کے لیے بنی اسرائیل کی مثال دی گئی ہے، جیسا کہ متعدد دفعہ بنی اسرائیل کا ذکر ہوچکا ہے۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ یہ قوم اللہ کی بڑی عزیز ترین قوم تھی جیسا کہ یہاں بھی دہرایا گیا ہے کہ اللہ نے ان کو کتابیں دیں ‘ رسول ان میں بھیجے ‘ حکومت دی ‘ بہترین غذائیں عطاکیں اور پھر اس وقت کی تمام قوموں پر ان کو فضیلت اور برتری دی۔ مگر اس قوم نے بڑھ چڑھ کر نافرمانی کی ناشکرگزاری کی ‘ بیشمار گروہوں میں بٹ گئے اور آپس میں نااتفاقی بڑھ گئی۔ جس کے نتیجہ میں اللہ ان سے ناراض ہوگیا۔ ان پر لعنت بھیجی گئی اور ان کو در بدر کردیا گیا حکومت نبوت ان سے چھین لی گئی۔ یہ تو عذاب ہوا دنیا میں جبکہ آخرت کا عذاب بڑا شدید ہوگا۔ تو اس تمام قصے کو بیان کرنے کا مقصدصرف انسانوں کو نصیحت اور انسانیت کے بہترین اصولوں کی وضاحت کرنا اور تاکید کرنا تھا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ اس کا کوئی اصول، کوئی قانون ایسا نہیں جو انسانی بھلائی سے خالی ہو یا، جس پر عمل کرنا مشکل ہو۔ اس لیے ایک آخری اور بہترین بات یہ بھی بتا دی گئی ہے کہ یہ قرآن لوگوں کیلئے دانائی کی باتیں ہیں اور جو یقین رکھتے ہیں ان کیلئے ہدایات اور رحمت ہے (آیت 20) پھر سب سے بڑی سبق آموز بات جو ان آیات میں واضح کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسان جو بھی عمل کرتا ہے وہ سو فیصد اپنے لیے ہی کرتا ہے۔ مثل مشہور ہے کر بھلا سو ہو بھلا۔ بنی اسرائیل نے بھلائی کے راستے چھوڑ کر اپنا ہی نقصان کیا بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی مشکلات میں مبتلا کردیا۔ تو آخر میں اللہ تعالیٰ ان تمام مہربانیوں کا ذکر فرماتا ہے کہ سب سے بڑی مہربانی تو یہ کی گئی کہ تمہیں مسلمان بنایا گیا اور تمہارا یہ فرض ہے کہ اس مہربانی کا شکر ادا کرو اور اس دین فطرت کی پیروی کرو۔ یہ کس قدر مزے کی بات ہے کہ ہماری فطری ضروریات کے مطابق ہمیں دین فطرت عطاء کیا گیا۔ اور پھر مزید مزے کی بات یہ ہے کہ ہمیں اس دین پر پابند رہنے کا بہترین اجر وثواب بھی دیا جاتا ہے۔ اور پھر اس دین فطرت یعنی مذہب اسلام پر عمل کرنے کا ثواب اس کی تبلیغ و تربیت دینے کا انعام علیحدہ ہے۔ یعنی ایک سچے ‘ اچھے اور پکے مسلمان کیلئے اس جہان میں بھی انعام ہی انعام ہیں اور آخرت میں تو ایسے ایسے انعامات ہیں کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دیتا ہے اس میں سب سے بہتر عطیہ یہ ہے کہ وہ اس کی تربیت و اصلاح کرے “۔ نیز آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا : جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے عمل کا موقع ختم ہوجاتا ہے مگر تین قسم کے اعمال ایسے ہیں کہ ان کا ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے ایک یہ کہ وہ صدقہ ‘ جاریہ کر جائے دوسرا یہ کہ وہ ایسا علم چھوڑ جائے جس سے لوگ اس کے بعد بھی فائدہ اٹھائیں اور تیسرا یہ کہ نیک اولاد چھوڑ جائے جو اس کے بعد اس کیلئے دعائے خیر کرتی رہے۔ (صحیح مسلم ) کتنی خوبصورت ‘ پر سکون اور پر آسائش ہے وہ زندگی جو اس جدوجہد میں گزرے کہ خود بھی اور اپنی آل و اولاد کو بھی دین کے راستے پر چلاتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوں ہمارا ہر قدم نیکی کی طرف اٹھے ہمارا ہر مقصد دین کی ترقی میں گزرے اور ہماری ہر خواہش اس بات پر ختم ہو کہ ہم ایمان و قرآن اللہ و رسول کی فرمانبرداری میں تمام زندگی گزار کر جنت الفردوس کے وارث بن جائیں۔ کتنا مزہ آئے گا جب ہم جنت کی پر فضاء زندگی میں اپنے بیوی بچوں والدین اور عزیز و اقرباء کی قربت بھی حاصل کرسکیں گے۔ اس دین میں انسان کیلئے بھلائی ہی بھلائی ہے دراصل ایمان حقیقت اعلیٰ کی دریافت ہے ‘ ایمان علوم کے سرے کو پکڑنا ہے ‘ ایمان معانی کے سمندر میں داخل ہونا ہے۔ ایمان زمینی پستیوں سے اٹھ کر آسمانی بلندیوں تک پہنچ جانا ہے ‘ ایمان یہ ہے کہ آدمی ایک ایسے روحانی سفر کا مسافر بن جائے جہاں ہر آن نیا تجربہ ہو وہاں ایک ایسا شعوری ارتقا (عقل و سمجھ کی بلندی) ہے جس کا سلسلہ کبھی اور کہیں ختم نہیں ہوتا چناچہ ایمان کو قرآن میں ایک ارتقا پذیر حقیقت بتایا گیا ہے ‘ ایک ایسا قلبی سرمایہ جس میں ہمیشہ اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس تمام عمل کو کامیاب بنانے کیلئے ضروری ہے کہ قرآن کو سمجھ کر پڑھا جائے اس کے احکامات اور خوبیوں پر بحث و مباحثہ کیا جائے۔ حق و صداقت کو دل و جان سے قبول کر کے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اپنی زندگی کا مقصداعلیٰ بنا لیا جائے کہ یہی راستہ جنت کی طرف جاتا ہے۔ ہے نا ! پتے کی بات ؟ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ سبق پھر پڑھ صداقت کا ‘ عدالت کا ‘ شجاعت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا (اقبال (رح) تعالیٰ ) اقبال مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ اب جب کہ تمام نظاموں اور قوموں نے انسانیت کو بری طرح مایوس کیا ہے اسے دکھوں اور مصیبتوں کے سوا کچھ نہیں دیا وقت کا تقاضہ ہے کہ اسلام کے علمبردار آگے بڑھیں اور دکھی انسانیت کو سکون دیں اور اس کام کیلئے ضروری ہے کہ مسلمان اپنے اندر حق پرستی ‘ عدل و انصاف ‘ صد ق و یقین اور بہادری کے اوصاف پیدا کریں جن کی وجہ سے مسلمانوں نے دنیا سے کفر و جہالت ‘ ظلم و زیادتی اور غلامی کے اندھیروں کو احترام انسانیت اور اسلام و ہدایت کی روشنی میں بدل دیا کیونکہ بقول علامہ محمد اقبال : یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز سلیمانی اخوت کی جہانگیری ‘ محبت کی فراوانی پس اللہ کے قانون کا یہی مقصد ہے کہ دنیا امن و سکون کا گہوارہ بن جائے اور انسان اللہ کا بندہ بن جائے۔ اللہ ہم سب کو اس کی توفیق عطاء کرے (آمین)
Ayahs 45:21–37

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور ان کی زندگی اور موت برابر (یعنی ایک جیسی) ہوگی ؟ یہ جو دعوے کرتے ہیں برے ہیں

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اللہ نے آسمان و زمین کو حکمت سے پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص اپنے اعمال کا بدلہ پائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور جانتے بوجھتے ہوئے گمراہ ہو رہا ہے تو اللہ نے بھی اس کو گمراہ کردیا۔ اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اب اللہ کے سوا ان کو کون راہ پر لاسکتا ہے ؟ تو کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے۔

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ یہیں مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ مار دیتا ہے اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں صرف ظن سے کام لیتے ہیں۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کی حجت یہی ہوتی ہے کہ ” اگر سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر لائو۔

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم کو اللہ ہی جان بخشتا ہے پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور پھر قیامت کے دن کہ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں تم کو جمع کرے گا لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے اور جس دن قیامت برپا ہوجائے گی اس دن اہل باطل نقصان میں پڑجائیں گے۔

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور تم ہر فرقے کو دیکھو گے کہ گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوگا اور ہر ایک جماعت اپنے اعمال کی کتاب کی طرف بلائی جائے گی جو کچھ تم کرتے ہو آج تم کو اس کا بدلہ دیا جائے گا

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کردے گی جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کا رب انہیں اپنی رحمت کے باغ میں داخل کرے گا ‘ یہی صریح کامیابی ہے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا ان سے کہا جائے گا کہ بھلا ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں ؟ مگر تم نے تکبر کیا اور تم نافرمان لوگ تھے

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے قیامت میں کچھ شک نہیں تو تم کہتے تھے کہ نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے ہم اس کو صرف خیالی ہی سمجھتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس عذاب کی وہ ہنسی اڑاتے تھے وہ ان کو آگھیرے گا

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اسی طرح آج ہم تم کو بھلا دیں گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو مذاق بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ سو آج یہ لوگ نہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ہی ان کی توبہ ہی قبول کی جائے گی۔

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

پس ہر طرح کی تعریف کے لائق اللہ ہی ہے جو آسمانوں کا مالک اور زمین کا مالک اور تمام جہانوں کا پالنے والا ہے

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں اسی کیلئے بڑائی ہے اور غالب و دانا ہے

مومنوں اور منکروں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوگا تشریح : غافل ‘ مغرور اور نافرمان بندے اس قدر غافل ہوجاتے ہیں کہ نہ تو ان کو برائی بری لگتی ہے اور نہ ہی اچھائی کا کوئی فائدہ نظر آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نیکی کا ارادہ کرنے والے کیلئے اچھے اسباب پیدا کردیتا ہے اور برائی کی طرف بڑھنے والے کیلئے برائیوں کے اسباب پیدا کردیتا ہے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ شکر خورے کو شکر مل جاتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کو غفلت سے جگانے کیلئے خبردار کیا جا رہا ہے کہ ایسے غافل لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ انصاف کرنے والا خبردار اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کا بندوبست زمین و آسمان کی بہترین بناوٹ میں بڑی عمدگی سے کردیا گیا ہے۔ یہ ایک سائنٹیفک طریقہ ہے جس کو کچھ سائنسدانوں نے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بڑی تفصیل سے بتایا جا چکا ہے۔ مختصراً عر ض ہے کہ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا جیسی بڑی کتاب جس کیلئے کئی الماریاں درکار ہیں آج وہ سب ایک پن کے سرے جتنی الیکٹران چپ کے اوپر ریکارڈ ہوسکتا ہے اس لیے انسانی ذرات یا اس کے اپنے بدن کے ذرات پر اندراج یا ریکارڈ ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں اور اگر یہ سب کچھ ایک فانی انسان کیلئے کھیل بن گیا ہے تو خالق کیلئے یہ کوئی بات ہی نہیں کہ ہم سب کے اعمال ریکارڈ کرے۔ (از قیامت اور حیات بعد الموت مصنف سلطان بشیر محمود صاحب) ۔ یہ بات پوری طرح ثابت ہوچکی ہے کہ ہمارے اعمال کے مطابق ہمیں سزا یا انعام ضرور ملے گا۔ جو لوگ بھی خواہ وہ کسی زمانے کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں اگر وہ اس حقیقت سے انکار کرتے ہیں تو پھر ان کیلئے صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ واقعی آنکھیں رکھتے ہوئے بھی حقیقت کو نہ دیکھنا چاہتے ہیں نہ سمجھنا چاہتے ہیں تو گویا وہ آنکھیں رکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں اور عقل رکھتے ہوئے بھی سمجھنا نہیں چاہتے۔ ایسے لوگ زندہ ہو کر بھی مردوں جیسی حالت میں رہتے ہیں۔ کیونکہ ایمان کا مطلب ہے روشنی اور زندگی جب کہ کفر و نافرمانی کا مطلب ہے موت اور اندھیرا۔ ایسے لوگ جب زیادہ ہی پریشان ہوتے ہیں تو پھر حجت بازی پر اتر آتے ہیں اور خواہ مخواہ کے سوال جواب کرتے ہیں ایسے ہی غافل لوگوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے بار بار قیامت ‘ آخرت اور سزاو جزا کا ذکر کیا ہے۔ واقعی وہ دن بڑا سخت ہوگا۔ تمام لوگ پریشانی ‘ خوف ‘ گبھراہٹ اور تھکن سے جھکے چلے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کر دے گی جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کا رب انہیں اپنی رحمت کے باغ میں داخل کرے گا۔ یہی صریح کامیابی ہے “ (آیات 29 اور 30) اس کے برعکس برے لوگوں کو جہنم میں ضرور ڈالا جائے گا۔ یہ سب کچھ قرآن پاک اور اس سے پہلے آنے والی تمام آسمانی کتابوں میں بار بار صاف الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ یہ باتیں کسی معمولی شخصیت کی کہی ہوئی نہیں ہیں۔ اچھی طرح سوچ لینا چاہیے اور سمجھ لینا چاہیے کہ یہ اس الہ العٰلمین کی کہی ہوئی باتیں ہیں جو ہر طرح کی تعریف کے قابل ہے : جو آسمانوں کا مالک ‘ زمین کا مالک اور تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اسی کیلئے بڑائی ہے اور وہ غالب و دانا ہے۔ “ (آیات 36 تا 37) تمام بھلائیاں دنیا میں اور آخرت میں صرف اس انسان کے لیے ہیں جو خود کو سمجھ لے ‘ اللہ کو سمجھ لے اور دین کو سمجھ لے۔ ایسے شخص کی زندگی صرف اپنے لیے ہی فائدہ مند نہیں ہوتی بلکہ ہر اس شخص کیلئے بھی روشنی کا مینار ہوجاتی ہے جو اس کے اردگرد یا اس کے قریب رہتا ہے۔ بلکہ اس کی روشنی اس شخص کو بھی منور کردیتی ہے جو اس سے کبھی کبھی ملتا ہے۔ ہر انسان کی ذات ‘ گفتگو اور طرز زندگی دوسروں کیلئے ضرور باعث زحمت یا باعث رحمت ہوتی ہے۔ اور یوں ہر شخص اللہ کا نمائندہ بن جاتا ہے یا شیطان کا نمائندہ بن جاتا ہے ہر شخص کی زندگی خود اپنے لیے اور دوسروں کیلئے ایک خاموش سبق ہے۔ اس لیے وہ شخص بڑا ہی خوش نصیب اور مبارک ہے جو دین ‘ اللہ ‘ رسول اور قرآن کی تعلیمات سے واقف ہو اور ان پر عمل بھی کرتا ہو۔ اور یوں ہر انسان اللہ کا نیکی کا پیغام دینے والا بن جاتا ہے جو کہ بہت بڑی سعادت اور بہت بڑی کامیابی ہے دنیاوی اور اخروی۔ سیدنا معاویہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی شخص کیلئے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین میں صحیح فہم و بصیرت عطاء فرماتا ہے (صحیح بخاری) اور یہ رحمت اسی کو نصیب ہوتی ہے جو دین کی طرف رغبت رکھتا ہے اور اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کیلئے اللہ سے دعا کرتا ہے کہ سیدھے راستے پر چلایا جائے تو اللہ اس کی دعا قبول کرتے ہوئے اس کی خواہش پوری کرتا ہے شاعر کی زبان میں دعا : لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری خلاصہ سورة الجاثیہ اس سورت میں یہی سبق دیا گیا ہے کہ جو شخص اپنی جڑ بنیاد سے واقف رہتے ہوئے اپنی زندگی گزارتا ہے اور عام بیماریوں سے اپنی روح کو پاک رکھتا ہے بس وہی اللہ کا مقبول ترین بندہ ہے ایسے شخص کیلئے دنیا و آخرت کو کامیاب بنایا گیا ہے۔ فخرو غرور ‘ حسد و بغض اور غفلت و نافرمانی سے بچ بچا کر نیک ‘ پاک اور بہترین زندگی گزارنے والا ہی کامیاب انسان ہوتا ہے۔ اور ان کاموں کیلئے انسان کا امیر ہونا ‘ صحت مند اور بزرگ ہونا ضروری نہیں۔ یہ کام غریب سے غریب کمزور سے کمزور اور چھوٹا، بڑا، عورت، مرد، جوان بوڑھا سب ہی بڑی خوش اسلوبی سے کرسکتے ہیں۔ جیسا کہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے۔ حضرت علی ؓ نے اس وقت حق کا ساتھ دیا جب وہ ناتواں نو عمر تھے تو آپ ﷺ پر ایمان لے آئے۔ اسی طرح حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت خدیجہ ؓ اور اسی طرح ان حواریوں کا ذکر ملتا ہے جو بالکل معمولی حیثیت کے بےیارومددگار حواری تھے جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی خدمات پیش کیں اور کہا نحن انصار اللہ۔ یعنی ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ اسی طرح جب ہم کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونے کا اعلان کرتے ہیں تو ہم اپنے آپ پر فخر ضرور کرتے ہیں مگر غرور نہیں کرتے کیونکہ غرور و نافرمانی کی سزا ہم دیکھ چکے ہیں بنی اسرائیل کی زندگی کی ابتداء انتہاء اور پھر انجام۔ اللہ ہمیں ایسے انجام سے محفوظ و مامون رکھے ( آمین) ۔ بلکہ ہماری وفاداری تو یہ ہے کہ ہم ہر صورت 1 اللہ کے فرمانبردار ‘ وفادار اور جان نثار بنیں۔ 2 ہماری زندگی صرف اور صرف ایمان کی روشنی میں گزرے۔ 3 ہم اللہ کے بھیجے ہوئے قرآن پر بغیر کسی شک و شبہ کے پکا ایمان رکھیں۔ 4 ہمارا ایمان تمام رسولوں پر اور نبی آخرالزمان ﷺ پر پکا ہو۔ 5 ہمارا ہر قول ہر فعل اس بات کا ثبوت دے کہ ہم دین حق ‘ دین کامل یعنی دین اسلام کے پیروکار ہیں۔ 6 ہمیں دنیا کا کوئی لالچ ‘ کوئی خوبی ‘ کوئی بڑائی ‘ اور کوئی نفع اپنے ان تمام عقائد سے ایک رتی بھر بھی ہٹا نہ سکے۔ دعا : یا اللہ تو ہماری مدد فرمانا اور ہمیں اپنے عہد پر قائم رہنے کی توفیق دینا۔ کیونکہ توفیق دینے والا ‘ مدد کرنے والا اور کامیاب کرنے والا تو ہی ہے۔ اس لیے کہ تو ہی آسمان و زمین کا مالک ہے۔ تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔ آسمان و زمین میں تیرے لیے ہی بڑائی ہے اور تو غالب و دانا ہے۔ الحمد للہ جلد نمبر 5 مکمل ہوئی۔