44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 44:1–37

حٰمٓۚۛ Open ayah 44:1 in the Quran reader

حٰـمۗ۔ (حروف مقطعات میں سے ایک ہے )

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

اس روشن کتاب کی قسم۔

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل فرمایا بیشک ہم تو ڈرانے والے ہیں

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اسی رات میں تمام حکمت کے کاموں کا فیصلہ کیا جاتا ہے

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

یعنی ہمارے ہاں سے حکم ہو کر بیشک ہم ہی پیغمبر کو بھیجتے ہیں۔

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

یہ تمہارے رب کی رحمت ہے۔ وہ تو سننے والا جاننے والا ہے

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک ہے اگر تم واقعی یقین کرنے والے ہو

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے وہی تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے۔

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

مگر یہ لوگ شک میں کھیل رہے ہیں

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

اور اس دن کا انتظار کرو کہ آسمان سے صاف طور سے دھواں نکلے گا۔

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

جو لوگوں پر چھا جائے گا یہ درد دینے والا عذاب ہے۔

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

اے ہمارے رب ہم سے اس عذاب کو دور کر ہم ایمان لاتے ہیں۔

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

اس وقت ان کو نصیحت کیا کام دے گی جب ان کے پاس پیغمبر آچکے جو کھول کھول کر بیان کردیتے تھے

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر انہوں نے اس سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگے یہ تو پڑھایا ہوا اور دیوانہ ہے۔

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہـیں مگر تم پھر کفر کرنے لگتے ہو۔

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

جس دن ہم بری طرح پکڑیں گے تو پھر انتقام لے کر چھوڑیں گے

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

اور ان سے پہلے ہم نے قوم فرعون کی آزمائش کی اور ان کے پاس ایک بلند مرتبہ پیغمبر آئے۔

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

جنہوں نے یہ کہا کہ ” اللہ کے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو میرے حوالے کر دو میں تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں۔

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور اللہ کے سامنے سرکشی نہ کرو میں تمہارے پاس کھلی دلیل لے کر آیا ہوں۔

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کر دو میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اور اگر مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے علیحدہ ہوجاؤ

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

تب موسیٰ نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ نافرمان لوگ ہیں

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات چلے جاؤ اور فرعونی ضرور تمہارا پیچھا کریں گے

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

اور دریا خشک ہور رہا ہوگا تو اس سے پار ہوجاؤ تمہارے بعد ان کا تمام لشکر ڈبو دیا جائے گا

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

وہ لوگ کتنے ہی باغ اور چشمے چھوڑگئے۔

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

کھیتیاں اور نفیس مکان۔

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

اور آرام کی چیزیں جن میں عیش کیا کرتے تھے

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

اسی طرح ہوا اور ہم نے دوسرے لوگوں کو ان کا مالک بنا دیا

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

پھر ان پر نہ تو آسمان اور زمین کو رونا آیا اور نہ ہی ان کو مہلت ہی دی گئی۔

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ Open ayah 44:30 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی

مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 44:31 in the Quran reader

یعنی فرعون سے بیشک وہ سرکش اور حد سے نکلا ہوا تھا۔

وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 44:32 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دنیا کے لیے جان بوجھ کر منتخب کیا تھا

وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ Open ayah 44:33 in the Quran reader

اور ان کو ایسی نشانیاں دی تھیں جن میں صاف طور پر آزمائش تھی

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 44:34 in the Quran reader

یہ لوگ یہ کہتے ہیں

اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ Open ayah 44:35 in the Quran reader

کہ ہمیں صرف ایک بار مرنا ہے اور پھر اٹھنا نہیں

فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 44:36 in the Quran reader

پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر لائو۔

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 44:37 in the Quran reader

بھلا یہ اچھے ہیں یا تُبّع کی قوم اور وہ لوگ جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا بیشک وہ گنہگار تھے

قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول اور استعداد کا انتظار کرتا ہے تو وہ ایک مدت تک کے لیے عالم انسانی سے الگ ہو کر ملکوتی خصائص (انتہائی پاکیزہ عادات) میں جلوہ گر ہوتا ہے اسی وقت سے اس کے دل و دماغ میں وحی الہٰی کا سرچشمہ موجیں مارنے لگتا ہے۔ کوہ سینا کا پر جلال پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تو رات لینے جاتا ہے تو چالیس روز بھوکا اور پیاسا رہتا ہے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، اس سے پہلے کہ اس کے منہ سے انجیل کی زبان گویا ہو، وہ چالیس روز وشب بھوکا پیاسا رہا۔ ا سی طرح فاران کا آتشین شریعت والا پیغمبر حضرت محمد ﷺ نزول قرآن سے پہلے چالیس دن تک حراء نام کی ایک مکہ کی غار میں ہر قسم کی عبادتوں میں مصرف رہتا ہے اور بالاخر ناموس اکبر اقراء باسم ربک الذی خلق (پڑھ اپنے اللہ کے نام سے جس نے پیدا کیا ) ۔ کا مزدہ جانفزا لے کر نمودار ہوتا ہے۔ اور یہ عظیم واقعہ ماہ رمضان اور اس کی مبارک رات یعنی لیلۃ لقدر میں ہوا۔ (از مطالعہ قرآن) یہ سب ایک مقصد اور اس کے حصول کا طریقہ بتاتا ہے کہ جب کوئی طالب علم فرسٹ پوزیشن حاصل کرنا چاہتا ہے تو کچھ عرصہ کے لیے اپنی تمام مصروفیات سے دور ہو کر پوری توجہ دلچسپی اور دھیان سے اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ جس قدر زیادہ توجہ محنت اور جانفشانی سے کام کرے گا کامیابی اس قدر زیادہ یقینی اور بلند حاصل کرے گا۔ بالکل یہی طریقہ اللہ کی قربت حاصل کرنے کا بھی ہے۔ پھر نبوت تو بہت ہی بڑی چیز ہے۔ اس کا حصول تو زیادہ ہی محنت، پاکیزگی، توجہ اور دنیاوی جھمیلوں سے دور رہنے سے ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے مسلسل عبادت ریاضت اور توجہ کا ایک چھوٹا سا ذریعہ ماہ رمضان میں اعتکاف کی صورت میں بتایا گیا ہے۔ یہی جذبات و حالات جو ہم اعتکاف کے دوران اپنے اوپر طاری کرتے ہیں تو یہ اللہ کی بڑائی بیان کرنے اور ہدایت کی کتاب قرآن پاک کی نعمت حاصل کرنے کا ایک شکریہ کا انداز ہے۔ اور پھر رسول کی پیروی کا بہترین طریقہ بھی ہے جیسا کہ قرآن پاک میں فرمایا : اگر تم اللہ سے پیار کرتے ہو تو پھر میری پیروی کرو اللہ تم سے پیار کرے گا “۔ (سورت ال عمران) ۔ اب یہ ثابت ہوچکا کہ رب صرف ایک ہے اسی نے ہمیں بنایا آسمان بنائے، زمین بنائی اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب کچھ بنایا ہماری پرورش کے لیے بیشمار سہولتیں بنائیں اور ہماری ہدایت کے لیے بہترین انسان بہترین اصول و ضوابط دے کر بھیج دیئے تو پھر ہمارا یہ فرض بنتا کہ ہم اس کی کتاب پر یقین کریں، عمل کریں اور اس کے ذریعے بہترین راستے معلوم کر کے جنت کی نعمت حاصل کریں اور دنیا میں بھی بےفکری خوشی اور کامیابی کی زندگی گزاریں وہ اس طرح کہ چور کبھی بھی پر سکون نہیں ہوتا اس کو ہر وقت پکڑے جانے کا خوف لگا رہتا ہے اسی طرح ہر قسم کی تمام برائیاں انسان کو بےسکون کرتی رہتی ہیں جب کہ نیک سچا اور مخلص انسان بےفکر اور پر سکون خوش باش رہتا ہے۔ یہی تو وہ اصول اور طریقے ہیں جو ہمارے پیارے رب نے پیارے نبی کے ذریعہ پیاری کتاب میں سکھائے ہیں۔ مگر بد نصیب لوگوں کی کمی نہیں وہ بجائے ایمان لانے کے الٹی سیدھی تاویلیں دے کر شیطان کی دوستی میں پڑ کر کفر وشرک کی دلدل میں پھنسے رہتے ہیں تو ایسے ہی لوگوں کے لیے جہنم کا عذاب اور دنیا میں بربادی اور عبرت ناک تباہی کا پیغام دیا گیا ہے اور پھر مشہور و معروف فرعون کی مثال دی گئی ہے۔ فرعون اور بیشمار دوسری ایسی قومیں گزر چکی ہیں جن میں سے یہاں تُبّع کا ذکر کیا گیا ہے۔ فرعون حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کا قصہ بڑی وضاحت سے کئی بار بیان کیا جا چکا ہے۔ تُبّع دراصل یمن کے ہر اس بادشاہ کو کہا جاتا جو حمیری خاندان سے تعلق رکھتا ہو، جیسے ایران کے بادشاہوں کا لقب کسریٰ ، روم کے بادشاہوں کا لقب قیصر اور حبشہ کے بادشاہوں کا لقب نجاشی تھا قوم تبع سے مراد قوم سبا ہی ہے تبع دراصل قوم تبع کے جد امجد کا نام تھا جو بذات خود ایک ایماندار آدمی تھا اور اپنے وقت میں اس کا ڈنکا بجتا تھا اس نے بہت سے علاقے فتح بھی کرلیے تھے ممکن ہے کہ اس کی اسی شہرت کی بنا پر بعد میں آنے والے بادشاہوں نے اپنے لیے یہی لقب اختیار کیا ہو وہ بڑے ترقی یا فتہ لوگ تھے ہر قسم کی آرام و آسائش ان کو حاصل تھی مگر جب وہ اللہ کی سرکشی، نافرمانی، بغاوت اور عداوت پر اتر آئے تو اللہ کے غصہ کا شکار ہوئے ان کا تمام مال و منام ادھر ہی رہ گیا اور وہ عبرت کا نشان بن کر نیست و نابود ہوگئے۔ موجودہ دور میں بھی ہمیں بیشمار ایسی قومیں دکھائی دیتی ہیں جو اللہ کے غصہ کا نشانہ بنیں مثلاً سکندر نے ایران کو اور ایرانیوں نے بابل اور نینواکو، تاتاریوں نے رومتہ الکبریٰ کی تاریخ ہی ختم کر ڈالی اور پھر اتنی بڑی ترقی یافتہ مضبوط ترین طاقت روس کا کیا حال ہوا۔ یہ سب انسان اس کے کردار اور رویہ کی داستانیں اور سزاء و عذاب کے واقعات ہیں جو ہمیں عبرت اور اصلاح کا سبق دیتے ہیں۔ تاکہ اس زندگی میں ہی اپنی اصلاح کرلیں اس کے بعد نہ تو موقع ملے گا نہ مہلت نہ گنجائش اور نہ ہی توبہ کی قبولیت ہی ہوگی۔ یہ زندگی ہی سب سے بڑی مہلت ہے۔ قران میں آیا ہے : اور وہ لوگ جو تم سے پہلے تھے ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا بیشک وہ گنہگار تھے۔ (آیت 37) اصل بات یہ ہے کہ انسان کو اپنے جذبات سے زیادہ لگاؤ ہوتا ہے۔ وہ حقیقت کو دیکھ کر بھی اسے مشکل سے قبول کرتا ہے بلکہ جذباتی رویوں سے چمٹا رہتا ہے۔ یہی جذباتی رویے بدلنے کے لیے قرآنی تعلیمات، ریاضت اور عبادت کو بار بار طرح طرح سے انسان کے سامنے مثالیں دے کر بیان کیا گیا ہے۔ جو چاہتا ہے اللہ اس کی ہدایت کو آسان کردیتا ہے لیکن جو نیکی کی راہوں کو پسند ہی نہیں کرتا تو پھر اللہ بھی اس کے لیے شیطان کی راہوں کو آسان کردیتا ہے۔ مگر مومن بلند کردار مضبوط انسان ہوتا ہے۔ حدیث میں حسن اخلاق کی تعلیم کثرت سے دی گئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ اچھے اخلاق کی تکمیل کروں “۔ پھر فرمایا : سب سے زیادہ کامل ایمان اس کا ہے جس کا اخلاق سب سے زیادہ اچھاہو۔ “ پھر آپ نے فرمایا کہ ” قیامت کے دن میزان میں سب سے افضل چیز اچھا اخلاق ہوگا دراصل پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ اخلاق کے اسی اعلی معیار پر تھے اس طرح آپ ﷺ نے خود نمونہ بن کر لوگوں کو عملی طور پر بتایا کہ وہ کس طرح اپنی زندگیوں کو عملی طور پر حقیقی معنوں میں بااخلاق بنائیں۔ اس قسم کا کردار کسی شخص کے بارے میں یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک بااصول انسان ہے ایسے آدمی کی شخصیت حالات کی پیداوار نہیں ہوتی۔ ایسا اخلاق کسی آدمی کے بارے میں اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ سچا انسان ہے، وہ فطرت کے راستے پر قائم ہے انسان کی پیدائش بڑے اعلیٰ مقاصد کے لیے کی گئی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اگلی آیات ملاحظہ ہوں