44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 44:38–42

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 44:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے ان کو کوئی کھیل نہیں بنایا

مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 44:39 in the Quran reader

ان کو ہم نے تدبیر سے پیدا کیا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 44:40 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ فیصلے کا دن ان سب کے اٹھنے کا وقت ہے

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَۙ Open ayah 44:41 in the Quran reader

جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کو مدد ملے گی

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 44:42 in the Quran reader

مگر جس پر اللہ مہربانی کرے، وہ تو غالب اور مہربان ہے۔

زمین و آسمان اور انسان کی پیدائش کا ایک مقصد ہے، کھیل نہیں تشریح : یہاں انسان کی پیدائش کو معمولی اور فضول کھیل سے بلند ایک با مقصد تخلیق قرار دیا جا رہا ہے۔ کفار جو اس زندگی کو صرف عیش و عشرت تک ہی محدود سمجھتے ہیں کہ بس مرگئے تو قصہ ختم مگر اللہ تعالیٰ نے بار بار اس بات کی وضاحت کی ہے کہ تمہاری زندگی کا ایک ایک لمحہ نوٹ کیا جا رہا ہے اس لیے کہ جب مرنے کے بعد تم دوبارہ زندہ کر کے اللہ کے سامنے اپنے نامہ اعمال کے ساتھ پیش کئے جاؤ گے تو پھر تمہیں اپنی زندگی کا مقصد معلوم ہوجائے گا۔ سائنس دان جب کائنات کی تحقیق میں کچھ تھوڑا بہت کامیاب ہوئے تو ان کو معلوم ہوگیا کہ کائنات میں حیرت انگیز طور پر ہر شخص کا نامہ اعمال رات دن مسلسل ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اس کے ثبوت بڑی تفصیل سے گزر چکے ہیں اور یہ سب سسٹم بغیر وجہ کے قائم نہیں کیا گیا بلکہ یہ امتحان کا پرچہ ہے جو ہم یہاں حل کر رہے ہیں تاکہ حساب کے دن اس کے مطابق ہماری کامیابی یا ناکامی کا اعلان کر کے ہمیں اس کے مطابق انعامات یا سزائیں دی جائیں۔ یہ سب انسان کے علم سے بالکل باہر ہے یہ غیب کی باتیں قرآن پاک میں اسی لیے بتائی گئی ہیں کیونکہ اللہ جل شانہ کو اپنے بندوں سے بڑا پیار ہے اور وہ پسند کرتا ہے کہ اس کے بندے نیکی اختیار کریں اور دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہوں۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق دے ( آمین ثم آمین) قیامت کا دن، حساب کا دن بڑا سخت دن ہوگا خاص طور پر گنہگاروں کے لیے کیونکہ رب العزت نے فرمایا ہے : جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کو مدد ملے گی۔ مگر جس پر اللہ مہربانی کرے وہ تو غالب اور مہربان ہے “۔ (آیات 42-41) دعا ہے : میں اس اللہ سے معافی اور بخشش چاہتا ہوں جو حی وقیوم ہے اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں “۔ (جامع ترمذی)
Ayahs 44:43–59

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِۙ Open ayah 44:43 in the Quran reader

بلاشبہ تھو ہر کا درخت

طَعَامُ الْاَثِیْمِ٤ۖۛۚ Open ayah 44:44 in the Quran reader

گنہگار کا کھانا ہے

كَالْمُهْلِ١ۛۚ یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِۙ Open ayah 44:45 in the Quran reader

جیسے پگھلا ہوا تانبہ پیٹوں میں اس طرح کھولے گا

كَغَلْیِ الْحَمِیْمِ Open ayah 44:46 in the Quran reader

جس طرح گرم پانی کھولتا ہے

خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَآءِ الْجَحِیْمِۗۖ Open ayah 44:47 in the Quran reader

حکم دیا جائے گا کہ اس کو پکڑ لو اور کھینچتے ہوئے دوزخ کے بیچوں بیچ لے جاؤ

ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِؕ Open ayah 44:48 in the Quran reader

پھر اس کے سر پر کھولتا ہوا پانی انڈیل دو کہ عذاب پر عذاب ہو

ذُقْ١ۙۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ Open ayah 44:49 in the Quran reader

اب مزہ چکھ تو بڑی عزت والا اور سرداربنا پھرتا تھا

اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 44:50 in the Quran reader

یہ وہی دوزخ ہے جس میں تم لوگ شک کیا کرتے تھے

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ Open ayah 44:51 in the Quran reader

بیشک پرہیزگار لوگ امن کے مقام میں ہوں گے

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚۙ Open ayah 44:52 in the Quran reader

یعنی باغوں اور چشموں میں

یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَۚۙ Open ayah 44:53 in the Quran reader

باریک اور گاڑھے ریشم کا لباس پہن کر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔

كَذٰلِكَ١۫ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍؕ Open ayah 44:54 in the Quran reader

وہاں اسی طرح ہوگا۔ اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی سفید رنگ کی عورتوں سے ان کو بیاہ دیں گے۔

یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 44:55 in the Quran reader

وہاں وہ امن و اطمینان سے ہر قسم کے میوے طلب کریں گے۔

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى١ۚ وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 44:56 in the Quran reader

وہاں وہ موت کا مزہ نہیں چکھیں گے بس پہلی موت جو دنیا میں آچکی (سو آچکی) اور اللہ ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا

فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 44:57 in the Quran reader

یہ تمہارے رب کا فضل ہے۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 44:58 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان مـیں آسان کردیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں

فَارْتَقِبْ اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ۠ Open ayah 44:59 in the Quran reader

پس تم بھی انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں

گنہگاروں کا حال اور نیکو کاروں کا حال تشریح : قیامت، حساب کا دن اور پھر بدلے کا دن۔ یہ سب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ ایک بار پھر ہم اس پر غور کرتے ہیں بیشک انسانی تاریخ میں حق شناسی کی چنگاریاں بھی ملتی ہیں۔ مگر اس کا بڑا حصہ حق تلفی کی رو داد سے بھرا پڑا ہے۔ مورخ کو بڑی مایوسی ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ انسان کا ضمیر جو کچھ چاہتا ہے دنیا کے واقعی حالات اس کے خلاف ہیں یہاں ہم چند اقوال نقل کرتے ہیں۔ والٹر : ” انسانی تاریخ محض جرائم اور مصائب کی تصویر ہے “۔ ہربرٹ اسن پر : ” تاریخ محض بےفائدہ گپ ہے “۔ نپولین : ” تاریخ تمام کی تمام لایعنی قصے کا نام ہے “۔ کیا انسانیت کا یہ عظیم الشان ڈرامہ اسی لیے کھیلا گیا تھا کہ وہ اس طرح کی ایک ہولناک کہانی وجود میں لا کر ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے ؟ ہماری فطرت جواب دیتی ہے کہ نہیں، ایک دن ایسا آنا ضروری ہے جب حق اور ناحق الگ ہو۔ ظالم کو اس کے ظلم کا اور مظلوم کو اس کی مظلومیت کا بدلہ ملے، یہ ایک ایسی طلب ہے جس کو اسی طرح تاریخ سے الگ نہیں کیا جاسکتا جس طرح اسے انسان سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ ہونا چاہے، دونوں کا فرق ثابت کرتا ہے کہ ابھی زندگی کے ظہور کا کوئی اور سٹیح باقی ہے یہ خلا پکار رہا ہے کہ ایک وقت ایسا ہونا چاہے جب دنیا کی تکمیل ہو قیامت نہ ہو تو ان ظالموں کا سر کون توڑے ؟ بہر حال نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ زندگی کی ٹھیک، بہترین اور منصفانہ تنظیم کے لیے آخرت کا تصور اس قدر ضروری ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آخرت اس دنیا کی بہت بڑی حقیقت ہے۔ اس حقیقت سے انکار بہت بڑی حماقت اور نقصان کی بات ہے۔ اسی لیے مسلمان کا کردار غیر مسلم سے کافی فر ق ہوتا ہے اب سوال یہ ہے کہ مسلم ممالک میں بےایمانی، جھوٹ قتل و غارت گری اور بےراہ روی اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے ہی ممالک اور ایسے ہی لوگ برائے نام مسلم ہیں۔ انہی لوگوں کے لیے دوزخ کا ہولناک منظر قرآن پاک میں بتایا گیا ہے۔ کیا یہ منظر ایمان تازہ کرنے کے لیے اور خود کو بدلنے کے لیے کافی نہیں ؟ دنیا اور آخرت کا لفظ قرآن پاک میں 115 مرتبہ آیا ہے۔ اور ساتھ ہی ان لوگوں کے لیے آخرت کی بہترین زندگی جنت اور اس کے مزے بڑی وضاحت سے بیان کئے گئے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ خیالی باتیں ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ اسی سورت کے شروع میں رب ذوالجلال نے قرآن پاک کی قسم کھائی ہے کہ یہ روشن کتاب ہے۔ اور قسم کھانے والا کوئی معمولی نہیں۔ وہ بادشاہوں کا بادشاہ تمام جہانوں کا مالک، قادر مطلق، زندہ و قائم اور ہر قسم کی شان و شوکت والا ارفع ٰو اعلیٰ واحدہ لاشریک ارحمٰ الرٰ حمین اپنی اس بہترین کتاب ہدایت، روشن کتاب قرآن پاک کی قسم کھا کر یقین دلا رہا ہے کہ بیشک یہ کتاب سچ ہے ہمارا بھیجا ہوا پیغمبر بالکل سچ ہے اور ہم نے اس پر یہ کتاب نازل کی ہے۔ جب ایک انسان یہ یقین کرلیتا ہے کہ اس کو پیدا کرنے والا صرف اللہ ہی ہے وہ اللہ جو ہمارے ایک ایک لمحہ سے واقف ہے جو بڑا مہربان ہے مگر بڑا ہی سخت حساب لینے والا بھی ہے اور وہ برے لوگوں کو پوری طرح ضرور سزا دے گا اور اچھے لوگوں کو بہت زبردست انعام دے گا۔ تو پھر ایسا بندہ کبھی بھی بھٹک کر اپنے لیے عذاب نہیں خریدتا۔ یا رب العٰلمین اپنے فضل و کرم اور مہربانی سے ہمیں پکا سچا اور بہترین مسلمان بننے کی توفیق عطاء فرماتا کہ ہم تیرے مقبول ترین بندوں میں شامل ہو کر جنت الفردوس کے وارث بنیں۔ (آمین) ۔ الحمدﷲ کہ سورة الدخان مکمل ہوئی۔ خلاصہ سورة الدخان یہ سورت انسانی زندگی اور اس کا اللہ کے ساتھ رابطہ بڑی وضاحت سے پیش کرتی ہے۔ جب ہم اپنے اوپر غور کرتے ہیں تو فخر کرتے ہیں مگر شکر کے ساتھ کہ اس نے ہمیں مسلمان گھرانے مسلم ملک میں پیدا کیا۔ یہ اللہ رحمن و رحیم کی طرف سے بہت بڑی مہربانی ہے۔ تو اس مہربانی کا شکریہ صرف اس طرح ہی ادا کیا جاسکتا ہے کہ ہم اسلام کا بہترین نمائندہ بن کردکھائیں۔ اگر ماضی میں ہم سے غلطی ہوچکی کہ ہم نے خود کو اسلام کا سچا پیرو کار ثابت نہیں کیا تو کوئی بات نہیں اللہ بڑا غفور رحیم ہے۔ آج سے ہمیں یہ عہد کرلینا چاہیے کہ زندگی کے ہر قدم پر ہر معاملہ میں صرف اللہ کی بندگی کو مدِنظر رکھیں گے کیونکہ ہم اس عظیم الشان رہنما کی دعاؤں کا نتیجہ ہیں جو خلیل اللہ کا خطاب رکھتے ہیں۔ ابراہیم نے کہا : میں رب العٰلمین کا مسلم اور فرمانبردار ہوں “۔ (القرآن) ہم ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہوتے ہوئے دنیا کے لیے ہدایت کا نمونہ بھی بن سکتے ہیں اور گمراہی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ اللہ نے ہمیں بہت بڑا درجہ بھی دیا ہے اور بہت بڑی ذمہ داری بھی سونپی ہے۔ کیونکہ ہمارا رہن سہن، گفتگو، لین دین، معاملات حتی کہ ہمارا اٹھنا بیٹھنا سب کچھ دوسرے پر اچھا یا برا اثر ڈال رہا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ بیشک اسلام اللہ کا پاکیزہ اور بہترین دین ہے اور یہ دلوں کو مسخر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور ہم اسلام کے نمائندے ہیں۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم بہت بڑے عہدے پر ہیں، امیر ہیں غریب ہیں، پڑھے لکھے ہیں یا ان پڑھ ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں صرف اسی کی ہی عبادت کرتے ہیں، اس کے بھیجے ہوئے رسول کو اور اس کی بھیجی ہوئی کتاب پر پکا یقین رکھتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں پکا یقین ہے کہ یہ زندگی کھیل تماشہ نہیں بلکہ ایک امتحان کا زمانہ ہے ہم مرنے کے بعد دوبارہ ضرور زندہ کئے جائیں گے ہمارا حساب کتاب ضرور لیا جائے گا۔ ہمیں سزا اور جزاء ضرور ملے گی۔ قیامت اس دنیا کی ایک سچی حقیقت ہے جو ہمارے سامنے آکر رہے گی۔ جنت و دوزخ اللہ کے بنائے ہوئے ٹھکانے ہیں جن میں سے کوئی ایک ہمیں مل کر ہی رہے گا۔ ان سے فرار کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ بس دعا یہ ہے کہ اے اللہ میں تجھ سے مانگتا ہوں تندرستی ایمان کے ساتھ اور ایمان حسن اخلاق کے ساتھ “۔ (مستدرک حاکم عن ابی ہریرہ) دعا : اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں نیکی اور آخرت میں بھی نیکی دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا “۔ (البقرہ 201) (آمین ثم آمین)