43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 43:1–9

حٰمٓۚۛ Open ayah 43:1 in the Quran reader

حٰـم) حروف مقطعات میں سے ایک ہے

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

روشن کتاب کی قسم۔

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

ہم نے اس کو عربی (زبان) میں اتارا ہے تاکہ تم اس کو سمجھو۔

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور یہ بڑی کتاب یعنی لوح محفوظ میں ہمارے پاس لکھی ہوئی ہے یہ بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے۔

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

کیا ہم یہ کتاب تمہاری طرف سے موڑ کر پھیر دیں گے اس لیے کہ تم حد پر نہیں رہتے۔

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے لوگوں میں بھی بہت سے نبی بھیجے ہیں۔

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور کوئی بنی ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کرتے تھے

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

تو جو ان میں سخت زور والے تھے ان کو ہم نے ہلاک کردیا اور اگلوں کی مثال گزر چکی ہے۔

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہیں گے کہ ان کو غالب اور علم والے اللہ نے پیدا کیا ہے ‘

قرآن زبردست اور بہترین کتاب ہے تشریح : کسی چیز یا بات میں زور پیدا کرنے کے لیے قسم کھائی جاتی ہے۔ سو یہاں قرآن پاک کی سچائی کے لیے اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی ہی قسم کھا کر فرمارہا ہے کہ یہ کتاب بڑی فضیلت اور بڑی حکمت والی ہے اسی کی قسم کھا کر ہم اس کی معقولیت، جامعیت اور کتاب الٰہی ہونے کا یقین دلاتے ہیں۔ کیونکہ یہ کوئی معمولی کتاب نہیں اس کو ام الکتاب یعنی تمام کتابوں حکمتوں ہدایتوں اور برکتوں کی جڑ، بنیاد اور مجموعہ کہا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو اس کا مرتب کرنے والا اور بھیجنے والا اتنا بڑا، سب سے بڑا علیم و حکیم ہے کہ اس کے برابر کا کوئی بھی ہو نہیں سکتا دنیا میں بہت سی کتابیں بھیجی گئی ہیں مگر وہ وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوگئیں جبکہ اس کتاب کی اور حفاظت کا ذمہ خود اللہ نے لیا ہے اور پھر یہ کتاب ان بھیجی گئی تمام کتابوں کا مجموعہ اور نچوڑ ہے ہمیشہ قائم دائم اور محفوظ رہے گی یہ وعدہ ہے کہ یہ اللہ کے پاس محفوظ رکھی ہوئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ پیغمبروں کو ستایا جانا کوئی عجیب بات نہـیں اور پھر ستانے والے برے لوگوں کا انجام بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جھوٹے اور برے لوگ کبھی عذاب سے بچ نہیں سکتے نہ اس جہاں میں اور نہ اگلے جہاں میں۔ اسی لیے قرآن پاک حکمت و ہدایت کا مجموعہ پوری دنیا کے لوگوں کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ یوں تو انسان ہر طبقہ کا چاہے کافر ہو مشرک ہو، اللہ کی حاکمیت سے واقف ہے وہ خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کو پیدا کرنے والا پا، لنے والا وہ اللہ ہی ہے جو سب سے زیادہ زبردست، غالب اور ہر طرح کا علم رکھنے والا ہے، مگر عقل کی کمی، کہ پھر بھی اس کے شریک بناتے ہیں تو پیغمبر کو حکم دیا جا رہا ہے کہ ان کو اور بھی ہدایت دینے کی کوشش کرو شاید کہ یہ راہ راست پر آجائیں۔ اللہ کی طاقت اور قدرت ان کے سامنے بیان کرو۔ جیسا کہ اگلی آیات میں آ رہا ہے۔
Ayahs 43:10–14

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھو نا بنایا اور اس میں تمہارے لیے رستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو۔

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے ایک اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس سے مردہ شہر کو زندہ کیا، اسی طرح تم بھی زمین سے نکالے جاؤ گے۔

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے تمام قسم کے حیوانات پیدا کئے، تمہارے لیے کشتیاں اور چار پائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو اور اس پر بیٹھ کر اپنے اللہ کے احسان کو یاد کرو اور کہو کہ وہ ذات پاک ہے جس نے اس کو ہمارے زیر فرمان کردیا اور ہم میں طاقت نہ تھی کہ اس کو اپنے بس میں کرسکتے۔

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

اللہ کی نعمتیں تشریح : یہ آیات بظاہر بڑی سیدھی سادی ہیں مگر ان کے اندر بیشمار سائنسی حقائق پوشیدہ ہیں۔ مثلاً : زمین کی ساخت اس کے اوپر کئے گئے تمام انتظامات یعنی راستوں کا بننا، پانی کا برسنا پھر نقل و حمل کے ذرائع اور پھر بالآخر مر کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کرجانا۔ یہ سب کچھ کیونکہ ہر روز ہوتا رہتا ہے اس لیے ہمارے لیے معمولی باتیں ہیں۔ لیکن جب ہم ان تمام چیزوں پر غور کرتے ہیں تو پھر ہمیں ان تمام باتوں کی تہہ میں بڑے بڑے عجیب و غریب راز دکھائی دیتے ہیں جو اللہ کی عظمت اور طاقت کا زندہ ثبوت ہیں سب سے پہلے ہم زمین کو لیتے ہیں زمین کے بارے میں بڑی تفصیلات بیان کی جا چکی ہیں۔ مختصراً یہ ہے کہ اس عجیب و غریب گولے کو پوری طرح جان لینا انسان کے لیے فی الحال ممکن نہیں ہوسکا۔ ہم اسی سے پیدا کئے گئے اسی پر پرورش پاتے ہیں اور پھر اسی کے اندر چھپا دیئے جاتے ہیں جب کہ ہماری روح اللہ کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ بارش اور زمین کا تعلق بڑا گہرا ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب لکھتے ہیں : ایک تحقیق میں امریکہ کے ونسٹن جے شیفرڈ نے بتایا کہ پانی کے قطرے جب وہ بہت چھوٹے اور خالص ہوں تو 4C ڈگری تک نہیں جمتے اگر پانی ناخالص اور بڑی مقدار میں ہو تو وہ صفر ڈگری سینٹی گریڈ پر جم جاتا ہے۔ بادل ایک خاص مادی ساخت ہے جو بھاپ سے بنتا ہے لیکن جو فورا ًہی پانی کے باریک قطروں میں تبدیل ہوجاتا ہے اس لیے عام پانی سے مختلف ہوتا ہے فضائی بادل جمتے نہیں اور نہ ہی 3C (نقطہ انجماد سے نیجے) زمین پر گرتے ہیں۔ مزید لکھتے ہیں : سمندر میں نمکین پانی، بخارات کے عمل میں شامل ہو کر نمک کے قطرے بھاپ میں شامل کردیتا ہے یہ تمام عمل ایک انتہائی خاص اور باریک انداز کو ظاہر کرتا ہے۔ جو اللہ کی قدرت کو ظاہر کرتا ہے پھر یہ کہ کہاں اور کس وقت کتنی بارش کی ضرورت ہے۔ یہ سب اللہ کی حکمتیں اور اندازے کو ظاہر کرتے ہیں۔ جس کا ذکر آیت نمبر (11) میں کیا گیا ہے۔ دوسرا نقطہ جو اسی آیت میں بیان کیا گیا ہے وہ ہے تشبیہ یعنی جس طرح مردہ زمین بارش سے زندہ ہوجاتی ہے انسان بھی اسی طرح دوبارہ زندہ ہوجائے گا۔ اس کی وضاحت بھی ہوچکی ہے مختصراً دوبارہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ بارش حیاتی سلسلے کو کس طرح جلا بخشتی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کو بڑے اچھے انداز میں یوں بیان کرتے ہیں : زندہ چیزوں کے بنیادی کیمیائی اجزاء ہائیڈروجن کا ایک پل سا ہوتا ہے جس سے ایک عضو کی زندگی قائم رہتی ہے جسے ہائیڈروجن بندھن (Hydrogen Bond) بھی کہتے ہیں یہ ہائیڈروجن اکثر تبدیل ہو کر نئے بندھن بناتا ہے اور اس طرح vitality کو بدلتا رہتا ہے۔ یہ ہائیڈروجن کے متبادل صرف پانی کے بہاؤ یا روانیت سے پیدا شدہ ہائیڈروجن سے ممکن ہوسکتا ہے اس لئے پانی زندگی کے لیے ناگزیر (ضروری) ہے۔ ہمارا دوبارہ زندہ ہونا اللہ کے حکم کے مطابق ہمارے زندگی کے قوانین code کی مثل ہے جو زمین میں باقی رہتے ہیں۔ جس طرح بارش ایک مردہ زمین سے نامیاتی کو ڈکو بروئے کار لاتی ہے اور فورا زندگی جلا پاتی ہے اسی طرح اللہ کے حکم یا مرضی سے انسانی کوڈ بھی دوبارہ زندہ ہوجائے گا۔ جس طرح اللہ بارش کی معرفت زیر زمین زندگی کو جلا دیتا ہے اسی طرح وہ جب چاہے گا ہمیں دوبارہ زندگی دے دے گا۔ ( از قرآنی آیات اور سائنسی حقائق) یہ وضاحت بڑی خوبصورت ہے جو اس تشبیہ کی، کی گئی ہے جو آیت نمبر (11) میں دی گئی ہے۔ آخر میں سفر کے وہ ذرائع بیان کیے گئے ہیں جو انسان کو اللہ نے اپنی قدرت سے عطاء کیے ہیں ورنہ انسان میں اتنی قدرت کہاں کہ جانوروں پانیوں اور ہواؤں کو اپنے قابو میں رکھ کر ان سے نقل و حمل کا کام لے سکتا اسی لیے جب بھی سفر پر روانہ ہوں تو یہ مقبول دعا ضرور پڑھنی چاہیے کہ وہ ذات پاک ہے جس نے اس کو ہمارے زیر فرمان کردیا اور ہم میں طاقت نہ تھی کہ اس کو اپنے بس میں کرسکتے اور ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں “۔ (آیات 14, 13) کون ایسا بیوقوف انسان ہے جو یہ سب کچھ جان لینے کے بعد بھی اللہ سے انکار کرتا ہے یا اس کے علاوہ اس کی پیدا کردہ چیزوں کی عبادت کرتا ہے ؟ اصل میں اللہ کے یہ پیغامات دوسروں تک پہنچاتے رہنا چاہیے کہ جو ان سے بیخبر ہیں ان کو بھی خبر ہوجائے۔ اور یہ فرض ہر شخص کے ذمہ لگا دیا گیا ہے کہ جو کچھ بھی کسی کو معلوم ہو دوسروں تک ضرور پہنچا دے۔ امت مسلمہ کو اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ اعزاز بھی حاصل ہے۔ دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس پر پورا اترنے کی توفیق عطا کرے۔ (آمین) مشہور دعا ہے ” اے اللہ ! تیرے ہی نام پر مجھے مرنا ہے اور تیرے ہی نام پر مجھے جینا ہے “۔ (بخاری و مسلم) نبی محمد ﷺ کی دعا ہے ” اے میرے رب مجھے مزید علم عطا کر “۔ (طہٰ 114)
Ayahs 43:15–31

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کے لیے اولاد ٹھہرائی بیشک انسان صریح نا شکرا ہے

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تم کو چن کر بیٹے دیے

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو خوشخبری دی جاتی ہے جو انہوں نے اللہ کے لیے بیان کی ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ غمگین ہوجاتا ہے

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات نہ کرسکے، اللہ کی بیٹی ہوسکتی ہے ؟۔

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی اللہ کی مخلوق ہے اللہ کی بیٹیاں بنا دیا ہے۔ کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے ؟ عنقریب ان کی شہادت لکھ لی جائے گی اور ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے ان کو اس کا کچھ علم نہیں یہ تو صرف اندازے لگا رہے ہیں

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

یا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس کو پکڑے ہوئے ہیں

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ہدایت کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

پیغمبر نے کہا اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا دین لاؤں کہ تمہارے باپ دادا کے رستے سے کہیں زیادہ سیدھا ہو ؟ کہنے لگے کہ جو دین تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

ہاں جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہی مجھے سیدھا راستہ دکھائے گا

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ اللہ کی طرف رجوع کریں۔

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

) اصل میں ان کفار کو اور ان کے باپ دادا کو متمنع کرتا رہا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آپہنچا

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس سچا قرآن آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور یہ بھی کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں یعنی مکہ اور طائف میں سے کسی بڑے آدمی پر نازل کیوں نہ کیا گیا ؟

مشرکین کا بدترین فعل تشریح : یہ تمام آیات ان بیوقوف لوگوں کی بےبنیاد باتوں کے جواب میں ہیں جو کفر و شرک کی دلدل میں پھنس کر الٹی سیدھی دلیلیں دیتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دین اسلام اور اسے لے کر آنے والے حضرت محمد ﷺ سب جھوٹے ہیں اور اللہ پر الٹے سیدھے بہتان لگاتے ہیں۔ مثلاً پہلا بہتان کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسرا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تیسرا صرف اپنے باپ دادا کی دیکھا دیکھی مخلوق خدا کی ہی پرستش شروع کردی۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی مرضی تھی تب ہی تو ہم اللہ کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں۔ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی آزادی دے کر اس کو نیکی و بدی میں تمیز کرنے کے لیے رسول اور کتاب ہدایت دی۔ اپنے اختیار سے ہی وہ اچھا یا برا راستہ اپناتا ہے۔ اللہ نے بندے کی ہدایت کے لیے ہمیشہ رسول بھیجے جن کی تعلیم یہی تھی کہ اللہ کو ایک مانو اور کسی کو اس کا شریک مت بناؤ۔ مگر پھر بھی یہ لوگ غلط باتیں کرتے ہیں، یہاں تک کہ خود تو بیٹوں کے خواہش مند ہوتے ہیں اور اللہ کو بیٹیوں سے نوازتے ہیں۔ جب کہ ان کے خیال میں لڑکیوں کا پیدا ہونا نحوست ہے۔ یہ بھی کفار کی ایک بہت بڑی غلطی تھی کہ بیٹیوں کو نحوست سمجھتے تھے جبکہ عورت و مرد دونوں انسان ہونے اور ذمہ داریاں نبھانے کے لحاظ سے بالکل برابر ہیں۔ عورت کی ذمہ داری گھر کے اندر اور مرد کی گھر سے باہر مقرر ہوچکی ہے اور اسی لحاظ سے ان کی جسمانی ساخت اور جسمانی طاقت بنائی گئیـ ہے۔ اور اسی لیے مرد کو عورت کی نسبت زیادہ مضبوط کہا گیا ہے۔ لیکن اہل مکہ اسلام سے پہلے عورت اور بیٹی کو بڑا نچلا مقام دیتے تھے اسی لیے بیٹی کی پیدائش پر غم زدہ ہوجاتے بلکہ بیٹی کو مار ہی دیتے تھے۔ پھر ان کی اس دلیل کا جواب دیا گیا ہے کہ ہم تو صرف اپنے باپ دادا کی ہی پیروی کر رہے ہیں۔ تو ان کے جد امجد تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے ان کی تعلیم تو ہرگز شرک کی نہ تھی بلکہ انہوں نے تو توحید کی تعلیم دی تھی۔ جو ہمارے خالق ومالک کے معاملہ میں اصولی تصور ہے۔ اور اسی مخلوق کے معاملہ میں اصولی تصور ہے انسانیت یہ دونوں تصور انسان کو امن و سکون اور کامیابی کی راہ دکھاتے ہیں۔ یہی تصور یہی تعلیم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دی ہے اگر یہ لوگ باپ دادا کی تعلیم کو کہتے ہیں تو ان کی تعلیم کفر و شرک سے بہت دو رتھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بہترین انسان تھے اور اللہ کے انتہائی فرمانبردار نبی تھے۔ حالانکہ ان کے والد بت بنانے والے اور اردگرد تمام لوگ بت پرست تھے۔ مگر انہوں نے بڑی جرأت سے بتوں سے بیزاری اور توحید پر عمل کا اعلان کیا۔ ان کی یہ جرأت مندی اور اللہ سے محبت کی ادا اللہ کو اس قدر پسند آئی کہ آپ (علیہ السلام) کو آپ (علیہ السلام) کی آل اولاد کو توحید کا معلم قرار دے دیا اور ان کو تمام انسانوں پر فضیلت و برتری عطا کی جو رہتی دنیا تک برقرار رہے گی۔ آپ کو خلیل اللہ کا لقب ملا اور اپنے بعد آنے والے تمام نبیوں کے جد امجد کہلائے۔ جیسا کہ ہمیشہ کا دستور ہے کہ رسول کو طرح طرح کے الزامات دیئے جاتے رہے ہیں۔ آپ کو بھی اہل مکہ نے جادو گر وغیرہ کہا اور پھر یہ بھی کہ آپ ﷺ کی بجائے کسی بڑے مالدار کو نبی بنایا جاتا تو بات بھی تھی تو اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا رحمت خداوندی کے یہ مالک ہیں ؟ یہ نبوت کی نعمت تو صرف اس کو دی جاتی ہے جو سب سے زیادہ پاکیزہ، نیک فطرت اور پاکیزہ گھرانے سے تعلق رکھتا ہو۔ اس میں دنیاوی جاہ و حشمت کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح ہر قسم کی عزت، طاقت مال و دولت غرض ہر چیز اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے وہ جسے جتنا چاہتا ہے دیتا ہے اگلی آیات اسی بارے میں ہیں۔ ملاحظہ ہو۔
Ayahs 43:32–39

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

کیا یہ لوگ تمہارے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں ؟ ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا اور ایک دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لیں اور جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں تمہارے رب کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہوجائیں گے تو جو لوگ اللہ سے انکار کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ہیں

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور خوب زینت و آرائش کردیتے اور یہ دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے اور آخرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں کے لیے ہے

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کی یاد سے آنکھیں بند کرے یعنی غافل ہوجائے تو ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور یہ شیطان ان کو رستے سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سیدھے رستے پر ہیں

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے تو کہے گا کہ کاش مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا توُ برُا ساتھی ہے

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اور جب تم ظلم کرتے رہے تو آج تمہیں یہ بات فائدہ نہیں دے سکتی کہ تم سب عذاب میں شریک ہو

دنیا و آخرت کی بڑائی کفر و شرک کا انجام تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو دنیاوی اور آخروی نعمتوں، برکتوں، مال و اسباب اور اجر وثواب کا مقابلہ کیا گیا ہے۔ اول تو مال و دولت اور درجات کی تقسیم اللہ تعالیٰ نے اپنے منصوبے، پروگرام اور نظام دنیا کی بہترین طریقہ سے چلانے کے لحاظ سے مقرر کر رکھا ہے۔ تفصیلات پہلے بھی گزر چکی ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو دیکھیں تو مسئلہ بڑی آسانی سے سمجھ آسکتا ہے۔ مثلاً باہر کے کام مشکل ہوتے ہیں تو مرد کو جسمانی لحاظ سے مضبوط بنا دیا گھر کے اندر ہلکے اور نازک کام ہوتے ہیں تو عورت کو نرم و نازک اور نسبتاً کمزور طاقت والا بنا دیا گھر میں کام کاج میں مدد کے لیے کم حیثیت یعنی مالی لحاظ سے کمزور انسان بنا دیئے تاکہ وہ اپنی کمائی کا ذریعہ صبر و شکر سے چھوٹے موٹے کاموں کو بنا سکیں ذرا غور کریں تو معلوم ہوجاتا ہے کہ گھر میں جہاں جس کی ضرورت تھی اسی لحاظ سے انسانوں کو مقرر کردیا گیا ہے۔ مرد کی جگہ عورت اور آقا کی جگہ خادم کام نہیں کرسکتا بالکل اسی طرح اللہ جل شانہ نے ہر شخص کو اس کی حیثیت سے مقرر کر رکھا ہے کیونکہ تمام دنیا کا نظام ایسے ہی ٹھیک چل سکتا ہے۔ پھر یہ بھی بتا دیا کہ یہ تمام درجات انسان کے امتحان کا ذریعہ ہیں۔ جو بھی اپنی ڈیوٹی نیک نیتی، خلوص، محبت اور حب الہٰی حاصل کرنے کے لیے صبر و شکر اور سنت و قرآن کے اصولوں کے مطابق ادا کرتا ہے تو گویا اس نے سب کچھ کما لیا۔ کیونکہ دنیا کے عیش و آرام مال و دولت اور اعمال تو آخرت کے عیش و آرام اور مال و دولت کی نسبت بالکل صفر کا درجہ رکھتے ہیں۔ دنیا کی غربت شیطان سے دور رکھنے کا ہتھیار ہے اور جنت میں پہلے داخل ہونے کی ضمانت ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے۔ کہ اہل مال فقراء کے مقابلہ میں پانچ سو سال بعد جنت میں جائیں گے وہ حساب دیتے رہیں گے اور فقراء بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوجائیں گے “۔ (مشکوٰۃ ) ڈاکٹر ملک غلام مرتضی صاحب بڑے خوبصورت انداز سے اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ : ” دنیا کا مال و دولت تو اللہ کے ہاں اس قدر کم تر اور ناقدری کی چیز ہے کہ کافروں کو زیادہ دیتا ہے مگر اس کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ مومن اس سے محروم رکھے جائیں گے۔ کیونکہ مومن کی دلداری کی غرض سے ابھی تک کفار کا مال محدود ہے۔ وگرنہ اللہ تعالیٰ ان کو اس قدر دے دیتا کہ ان کے گھروں کی چھتیں اور سیڑھیاں چاندی کی اور گھروں کے دروازے اور خوبگا ہیں سونے کی ہوتیں “۔ ایک حدیث میں آتا ہے۔ حضرت انس ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں فقر (تنگدستی) لوگوں کے ہاں عیب و نقص سمجھا جاتا ہے اور قیامت کے دن یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سبب زینت ہوگا۔ (یعنی فقر کی بدولت آدمی کو بہت بڑے اعزازو اکرام سے نوازا جائے گا) (کنز الاعمال بحوالہ گلستان قناعت) سب سے بڑا نقصان دنیاوی مال و دولت اور عیش و آرام کا یہ ہے کہ یہ اکثر ایسے نشہ کا باعث بنتا ہے کہ انسان کو اللہ سے دور کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔ اور یہی انسان کی بد نصیبی کا باعث ہوتا ہے۔ ایسا انسان بڑی آسانی سے نفس کا تابع ہوجاتا ہے اور یہی وہ شیطان ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت 36 میں کیا ہے۔ مال کی محبت میں ایسا شخص حلال و حرام کی پہچان بھول جاتا ہے اور جب ایک دفعہ بھولتا ہے تو پھر یہ بھول جانا اس کی عادت بن جاتا ہے اور یوں وہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ جو کچھ بھی وہ کر رہا ہے ٹھیک کر رہا ہے یعنی اچھائی اور برائی میں فرق کرنا اس کیلئے مشکل ہوجاتا ہے۔ اسی کے لیے کہا گیا ہے کہ شیطان ان کو رستے سے روکتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سیدھے رستے پر ہیں “ (آیت 37) یہ انسانی فطرت ہے کہ اگر ایک دفعہ برا کام کرلے تو پھر وہ برائی کی راہوں پر چلنے لگتا ہے اور اس کو یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ برائی کی راہیں اختیار کرچکا ہے اس لیے کوئی چھوٹی سے چھوٹی برائی بھی ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ اور اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان ہر وقت اللہ کی یاد اور ذکر میں مشغول رہے۔ عبد اللہ بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ شریعت کے احکام تو بہت سے ہیں لیکن مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجئے جس کو میں اپنا مشغلہ بنا لوں “۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : تیری زبان ہر وقت ذکر اللہ سے تر و تازہ رہے۔ (ابن ماجہ) سیدھی اور آسان سی بات ہے جب کوئی شحض اللہ سے غافل ہو کر زندگی گزارتا ہے تو اس کو یہ نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔ وہ شیطان کے قبضہ میں آجاتا ہے۔ اللہ کے شکر کی بجائے نا شکری کرتا ہے۔ اس کا دل قناعت اور توکل سے بالکل خالی ہوجاتا ہے۔ دنیاوی ترقی اور تنزل کی فکر میں ہر وقت پریشان رہتا ہے۔ سکون اور امن کی نعمت سے دل دماغ بالکل خالی ہوجاتا ہے موت اور مال کے نقصان کی فکر سے راتوں کی نیندیں ختم ہوجاتی ہیں اور پھر وہ اس قدر عاجز آجاتا ہے کہ موت کی تمنا کرنے لگتا ہے۔ جبکہ ذکر الہٰی کرنے والے شخص کی زندگی اس کے بالکل خلاف ہوتی ہے ہم ایک حدیث سے اس کا خلاصہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا وہ آدمی جو اللہ کو یاد کرتا ہے اور وہ آدمی جو یاد الہٰی سے غافل ہے ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے یعنی جو بندہ ہر وقت اللہ کا ذکر کرتا رہتا ہے وہ زندہ دل ہے اور جو ذکر نہیں کرتا اس کا دل مرجاتا ہے “۔ (بخاری و مسلم) ایسے لوگ جن کے دل میں یاد الٰہی اور زبان سے ذکر الہٰی ہوتا رہے وہ اللہ کے مقبول ترین انسان بن جاتے ہیں یہاں تک کہ اللہ کا نور ان کے چہروں پر دکھائی دینے لگتا ہے۔ جو اس کے علاوہ راستے اختیار کرتے ہیں تو انہی لوگوں کے لیے اللہ فرماتا ہے : اور جب تم ظلم کرتے رہے تو آج تمہیں یہ بات فائدہ نہیں دے سکتی کہ تم سب عذاب میں شریک ہو “۔ (آیت 39) دعا ہے : الٰہی مجھے اس گروہ میں شامل کر جو کثرت سے توبہ کرتا ہے اور پاکیزگی اختیار کرتا ہے۔ آمین