43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 43:40–56

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

کیا تم بہرے کو سنا سکتے ہو یا اندھے کو رستہ دکھا سکتے ہو، اور جو صریح گمراہی میں ہو اسے راہ پر لاسکتے ہو ؟

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ Open ayah 43:41 in the Quran reader

اگر ہم آپ کو (دنیا سے) اٹھا لیں تو ان لوگوں سے ہم انتقام لے کر رہیں گے۔

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ Open ayah 43:42 in the Quran reader

یا تمہاری زندگی میں تمہیں وہ عذاب دکھا دیں گے جن کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ہم ان پر قابو رکھتے ہیں۔

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 43:43 in the Quran reader

پس تمہاری طرف جو وحی کی گئی ہے اس کو مضبوط پکڑے رہو بیشک تم سیدھے رستے پر ہو

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:44 in the Quran reader

اور یہ قرآن تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے نصیحت ہے اور لوگو ! تم سے عنقریب باز پرس ہوگی۔

وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ Open ayah 43:45 in the Quran reader

اور اے محمد ﷺ ! جو ہم نے تم سے پہلے پیغمبر بھیجے ہیں ان کے حالات دیکھ لو۔ کیا ہم نے اللہ رحمن کے سوا اور معبود بنائے تھے کہ جن کی عبادت کی جائے ؟۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 43:46 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس بھیجا تو انہوں نے کہا کہ میں اپنے رب العٰلمین کا رسول ہوں۔

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ Open ayah 43:47 in the Quran reader

جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے ہنسی کرنے لگے۔

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:48 in the Quran reader

اور جو نشانی ہم ان کو دکھاتے ہیں وہ دوسری سے بڑی ہوتی ہے اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا تاکہ باز آئیں۔

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 43:49 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ اے جادوگر ! اس عہد کے مطابق جو تیرے رب نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر تو ہمیں ہدایت مل جائے گی

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 43:50 in the Quran reader

سو جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا تو وہ عہد شکنی کرنے لگے

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ Open ayah 43:51 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا کہ اے میری قوم ! کیا مصر کی حکومت میرے ہاتھ میں نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں جو میرے محلات کے نیچے بہہ رہی ہیں، میری نہیں ہیں ؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ Open ayah 43:52 in the Quran reader

بھلا میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ایک ذلیل آدمی ہے اور بات بھی صاف طور پر نہیں کرسکتا۔

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ Open ayah 43:53 in the Quran reader

تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ اتارے گئے یا یہ ہوتا کہ فرشتے جمع ہو کر اس کے ساتھ آتے

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 43:54 in the Quran reader

غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی اور انہوں نے اس کی بات مان لی بیشک وہ نافرمان لوگ تھے

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 43:55 in the Quran reader

جب انہوں نے ہم کو ناراض کیا تو ہم نے ان سے انتقام لے کر ان سب کو ڈبو دیا

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 43:56 in the Quran reader

اور ان کو گئے گزرے کردیا اور آنے والوں کے لیے عبرت بنا دیا ‘

برُوں کا انجام اور عبرت کا مقام تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو تسلی کے طور پر مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے کفر کو نکال کر ایمان کی روشنی ڈالنا کوئی آسان کام نہیں جیسا کہ شروع دن سے یہی ہوتا آیا ہے کہ نبی آتے رہے لوگوں کو توحید و ایمان کی تعلیم دیتے رہے کچھ نے مانا اور بہت سوں نے نہ مانا اور جنہوں نے نہ مانا وہ اللہ کے غصے کا شکار ہوئے عذاب آیا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کو عذاب ہی ملے گا۔ تو فرمایا اے پیارے نبی ﷺ ! آپ اپنا تبلیغ کا کام کئے جائیں ان تمام لوگوں سے ہم خود نمٹ لیں گے۔ اس کی مثالیں تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔ ایک مثال تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی آپ کے سامنے موجود ہے۔ یہ قصہ بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے مختصراً عرض ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون قبطیوں اور نبی اسرائیل کی طرف معجزے دیکر توحید کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ مگر وہ باوجود عذاب دیکھنے کے راہ راست پر نہ آئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دو مشہور معجزے ہیں یعنی لاٹھی کا اژدھا بن جانا اور ہاتھ کا روشن ہونا، اسی طرح فرعونیوں پر اللہ کے عذاب آتے رہے مثلاً طوفان آیا، ٹڈیاں آئیں، جوئیں آئیں، مینڈک کی بارش ہوئی، اور تمام کھیت مال مویشی تباہ و برباد ہوگئے۔ ہر عذاب کے آنے پر توبہ استغفار کرتے مگر پھر اپنی پہلی چال پر چلنے لگتے یعنی شرک و کفر۔ تو یوں انہوں نے رب العزت کو بالکل ناراض کرلیا تو بالاخر ان پر اتنا شدید عذاب آیا کہ سب کے سب غرق ہوگئے اور ایسے غرق ہوئے کہ قیامت تک تمام لوگوں کے لیے عبرت کی مثال بنے رہیں گے۔ وہ یوں کہ فرعون کی لاش عجیب و غریب حال میں مصر کے عجائب گھر میں محفوظ پڑی ہوئی ہے۔ جس کو لوگ دیکھنے جاتے ہیں اور توبہ توبہ کرتے ہیں۔ یہ حال تو اس کا دنیا میں ہو رہا ہے آخرت میں تو نجانے کیا ہوگا۔ یہ سب کچھ اس کو اپنے کئے گئے اعمال کے بدلے میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جیسا کہ تفصیلات آیات 46 سے 56 میں بیان کی گئی ہیں۔ تو جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن میں بار بار قصوں کو دہرایا گیا ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن پاک ہدایت کی کتاب ہے۔ ہدایت دینے کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ مثالیں دے کر ہر بات کو اچھی طرح واضح کردیا جائے یعنی سبق دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے متعلقہ مضامین کو زندہ کہانیوں کے ذریعے واضح کردیا جائے جیسا کہ درس و تدریس کا بہترین ذریعہ اخبارات رسائل ریڈیو اور ٹیلی ویژن ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کے حالات تفصیل سے بار بار بیان کرتا ہے کہ لوگ ہدایت پائیں اور برائی کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ اسی سلسلہ میں اگلی آیات میں حضرت مریم (علیہ السلام) و حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے۔ ملاحظہ ہو۔
Ayahs 43:57–67

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ Open ayah 43:57 in the Quran reader

اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ کا حال بیان کیا گیا تو تمہاری قوم کے لوگ اس سے چلا اٹھے

وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ Open ayah 43:58 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ عیسیٰ ؟ انہوں نے صرف جھگڑنے کے لیے ہی آپ سے عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال بیان کی ہے دراصل یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 43:59 in the Quran reader

وہ تو ایک بندے ہی تھے جن پر ہم نے فضل کیا اور بنی اسرائیل کے لیے ان کو اپنی قدرت کا نمونہ بنا دیا۔

وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ Open ayah 43:60 in the Quran reader

اور اگر ہم چاتے تو تم میں سے فرشتے بنا دیتے جو تمہاری جگہ زمین میں رہتے

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:61 in the Quran reader

اور وہ عیسیٰ قیامت کی نشانی ہیں لہذا اس میں ہرگز شک نہ کرو میرے پیچھے چلو یہی سدھا راستہ ہے

وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:62 in the Quran reader

اور کہیں شیطان تم کو اس سے روک نہ دے وہ تو تمہارا اعلانیہ دشمن ہے

وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 43:63 in the Quran reader

اور جب عیسیٰ نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ میں تمہارے پاس دانائی کی کتاب لے کر آیا ہوں اور اس لیے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کرتے ہو تم کو سمجھا دوں تو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:64 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ میرا اور تمہارا رب اللہ ہی ہے پس اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 43:65 in the Quran reader

پھر کتنے فرقے ان میں سے پیدا ہوگئے تو جو لوگ ظالم ہیں ان کو درد دینے والے عذاب سے خرابی ہے۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 43:66 in the Quran reader

یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت اچانک آجائے اور ان کو خبر تک نہ ہو۔

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ Open ayah 43:67 in the Quran reader

جو آپس میں دوست ہیں اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے پرہیزگار کہ وہ (اس دن) آپس میں دوست ہی رہیں گے۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور قوم کا قصہ تشریح : یہاں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب حضرت عیٰسی (علیہ السلام) کا ذکر کفار مکہ کے سامنے کیا گیا تو وہ لوگ پھولے نہ سمائے اور نعرے لگانے لگے اور شور مچانے لگے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تو ان کی قوم اللہ مانتی ہے کوئی ان کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اگر ہم نے بیشمار معبود بنا رکھے ہیں تو کونسی عجیب بات ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب لوگوں کے اپنی گمراہی کے عقیدے ہیں کیونکہ عیسیٰ ابن مریم نے تو اللہ کے ایک ہونے اور لاشریک ہونے کی ہی تعلیم دی تھی یہ تو ان کے بعد لوگ مختلف گروہوں میں بٹ گئے اور مختلف عقیدے گھڑ لیے اور یہ بھی کہ ان کی قوم نے تو اپنی طرف سے ان کو سولی پر چڑھا دیا تھا جب کہ قرآن پاک اس کی تردید کرتا ہے اور ان کی دوبارہ دنیا میں آمد کی اطلاع دیتا ہے کہ وہ دنیا میں اس وقت دوبارہ آئیں گے جب قیامت بالکل قریب ہوگی گویا ان کا آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جیسا کہ آیت نمبر 61 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور وہ عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی نشانی ہیں “۔ پھر لوگوں کو تلقین کی گئی کہ نبی ﷺ کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے کیونکہ انہوں نے اس رب العزت، علیم و حفیظ اور قادر مطلق رب العٰلمین کی عبادت کا حکم دیا ہے جو تمام لوگوں کے لیے دنیا و آخرت میں بھلائی کا راستہ ہے۔ توحید کا سبق پہلا بنیادی سبق ہے دوسرا آخرت پر یقین اور تیسرا سنت رسول کی پیروی اس بحث کو محمد یوسف اصلاحی یوں بیان کرتے ہیں : یہ اللہ کا دین ہے جو تمام انسانوں کا رب ہے، سارے ہی انسان اس کے بندے ہیں اور اس کو سب سے یکساں پیار ہے، یہ ہر اس انسان کا دین ہے جو اس کو اپنا کر اس کے مطابق زندگی گزارے تو اسلام کی برکتوں سے مالا مال ہوسکتے ہیں۔ (از شعور حیات) توحید پر قائم ہونا گویا تمام دنیا کے خوف وخطر سے بےنیاز ہو کر ایک کامل انسان بن جانے کی دلیل ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے کیا ڈر جو ہو ساری خدائی بھی مخالف کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے یہی وہ عقیدہ اور جذبہ ہے جو مسلمان کو سیسہ پلائی دیوار بنا دیتا ہے۔ غیر مسلم اس حقیقت سے بیخبر ہے اس لیے گھبراہٹ میں وہ مسلمان کو دہشت گرد کا خطاب دے دیتا ہے جب کہ اسلام امن کا سبق دیتا ہے، ظلم زیادتی، جنگ و جدل اور فساد سے منع کرتا ہے۔ توحید کے بارے میں میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب یوں لکھتے ہیں : ” اللہ پر ایمان صرف عقلی دلائل سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ یہ کائناتی علم، روحانی واردات و مشاہدات کے اشتراک سے جنم لیتا ہے۔ آج کا سائنس دان ایک عجیب مقام پر رکا ہوا ہے وہ نہ تو وجود کائنات کی کوئی توجیہہ پیش کرسکتا ہے اور نہ وہ دانش اعلیٰ کو تسلیم کرتا ہے بایں ہمہ وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں ایسے شعور، احساس اور فکر کے سر چشسمے کو ضرور محسوس کرتا ہے۔ جسے روح اکبر کہنا زیادہ موزوں ہوگا۔ انسان کی روح اسی روح اکبر کو پکارتی آرہی ہے۔ “ (از مطالعہ قرآن ) ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا گیا ہے کہ وہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت اچانک آجائے اور ان کو خبر تک نہ ہو “۔ (آیت 67) اگلی آیات میں ان لوگوں کو خوشخبری دی گئی ہے جو اللہ کے مقبول، متقی اور پرہیزگار بندے ہیں کہ ان کو بڑے بڑے انعامات دیئے جائیں گے۔