Ayahs 50:37–45سمجھنے والے اللہ کی قدرت کو دیکھتے ہیں
تشریح : سب سے پہلے تو اس بات پر توجہ دلائی گئیـ ہے کہ قرآن کو سمجھنا اور اللہ کا ادراک یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جو اس طرف رجحان رکھتے ہیں۔ جن کی طبیعت میں پاکی اور روحانیت کا کچھ حصہ موجود ہوتا ہے۔ وہ قرآن کے مضامین سے ہدایت حاصل کرلیتے ہیں اس سے اللہ کی طرف سے اعجاز سمجھتے ہیں ان کو اللہ کی بنائی ہوئی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی قدرت دکھائی دیتی ہے وہ اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں سے اس کی تمام صفات کو پہچان لیتے ہیں۔ اس کی وحدانیت، خلاقی، عظمت، حسن و خوبی، قدرت اور لافانیت۔ سب کچھ ان کو خود اپنے جسموں کی بناوٹ میں آسمانوں، زمین، پھول، پھل رات دن، ہوا اور پانی چاند سورج اور ستارے غرض ہر چیز خود اپنے خالق کی موجودگی اور تعریف کو ظاہر کر رہی ہے۔ اس کی مثال ہم یوں دے سکتے ہیں کہ جب بھی کوئی بہترین پینٹینگ کوئی بہترین کتاب ہم دیکھتے ہیں تو فوراً ہمارے دل میں مصور کی مصنف کی قدرو قیمت، لیاقت اور مہارت کا خیال آتا ہے ہم ضرور اس کے بارے میں پوچھتے ہیں، کس نے بنائی یا کس نے لکھی اب اس سوچ میں ہماری جس قدر زیادہ پختگی یا گہرائی ہوگی اس قدر زیادہ ہم اس مصور یا مصنف کے زیادہ قریب ہوجائیں گے۔ اسی طرح جب آیت 38 میں اللہ تعالیٰ آسمانوں زمین کی پیدائش چھ دن میں مکمل کرنے کا ذکر فرماتے ہیں اور یہ کہ ہم تھکتے نہیں تو فوراً اللہ تعالیٰ کا ایک بہترین تصور ہمارے دل و دماغ پر چھا جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو ہم اس کی قدرت، مہارت اور شاندار تخلیق کے قائل ہوجاتے ہیں پھر یہ کہ ” میں تھکتا نہیں ”۔ یہ اس کی بےپناہ طاقت کا اظہار ہے کہ جس کا اندازہ کرنا بھی ہمارے لئے مشکل ہے۔ ہاں یہ ضرور سوچ سکتے ہیں کہ وہ جن وانس اور فرشتوں سے بہت بہت اور بہت ہی زیادہ بلند وبالا ہے کیونکہ تھکنا، سونا جاگنا یا آرام کرنا یہ سب اس کی فطرت سے باہر ہیں یہ کمزوریاں اس کی پیدا کردہ مخلوقات میں تو ضرور ہیں مگر اس میں ہرگز نہیں وہ تو اتنا زیادہ بلند وبالا اور طاقت و عظمت والا ہے کہ انسانی عقل اس کا احاطہ ہی نہیں کرسکتی پھر ایک باریک نکتہ بندے کے لیے یہ بیان کردیا کہ یہ تمام تخلیقات ہم نے چھ دن میں کی ہے یہ بات قرآن مجید میں سات دفعہ کہی گئی ہے۔ ان کو ہم یوں بیان کرسکتے ہیں یعنی (1) الاعراف آیت 54 (2) یونس آیت 3 (3) ھود آیت 7 (4) الفرقان آیت 59 (5) السجدہ آیت 4 (6) ق آیت 38 (7) الحدید آیت 4 ۔
اب مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ چھ دن کا کیا مطلب ہے کیا یہ ہمارے زمینی دن اور رات یعنی 24 گھنٹے پر مشتمل ہے یا پھر کچھ اور ؟ سمجھ میں یہ آتا ہے کہ محض مدت کا اظہار کیا گیا ہے ورنہ دن و رات کا سسٹم تو تخلیق کائنات کے بعد شروع ہوا وہ یوں کہ زمین کی محوری گردش کے دوران جو حصہ سورج کے سامنے آتا ہے وہ روشن ہو کر دن کہلاتا ہے اور جو حصہ سورج سے چھپا ہوا ہوتا ہے وہ اندھیرے کی وجہ سے رات بن جاتا ہے۔ جب کہ تخلیقاتِ کائنات زمینی گردش سے پہلے ہوچکی تھی اور اس وقت کا دن ہمارے اس وقت کے دن کے حساب سے بالکل مختلف دورانیہ رکھتا ہوگا۔ جیسا کہ ڈاکٹر دلدار احمد قادری صاحب امام راغب اصفہانی صاحب کے حوالے سے لکھتے ہیں۔ ” لفظ یوم مطلقاً وقت اور زمانے کے لیے استعمال ہوتا ہے خواہ وہ زمانہ کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو ”۔ (مفردات) مزید لکھتے ہیں۔ ” خود قرآن حکیم میں لفظ یوم بہت سے مقامات پر عام دن کے مفہوم میں نہیں بلکہ مطلق وقت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً مرنے کے بعد جی اٹھنے سے شرو ع ہونے والے وقت کو بہت سے مقامات پر ” یوم القیامہ ” کہا گیا ہے جس میں یوم سے مراد عام زمینی دن نہیں ہے۔ خود قرآن میں اس کی مدت پچاس ہزار سال کے برابر بتائی گئی ہے۔ جو کہ ہمیں سورة المعارج کی آیت 5 میں ملتا ہے۔ اور الحج کی آیت 47 میں ہمارے ہزار برس کے برابر اللہ کے حساب سے ایک دن ہوگا۔ اسی طرح سورة السجدہ کی آیت 5 میں بھی کہا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تخلیق کے ایام طویل مدت کے دورانیے ہیں۔ ان سے تخلیق کے مراحل یا مدارج بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ ”۔ مزید لکھتے ہیں ” آخر میں اس نکتہ کی طرف بھی توجہ دلانا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ یہ احساس تخلیق کے چھ ایام سے چھ عام دن مراد نہیں بلکہ طویل مدت ہے، آج کی بات نہیں بلکہ شروع سے چلا آرہا ہے۔ مثلاً تفسیروں میں حضرت ابن عباس ؓ سے منسوب ایک قول ملتا ہے کہ یہاں یوم سے مراد ایک ہزار سال کی مدت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تخلیق کے ایام آخرت کے ایام کے معنوں میں ہیں اور آخرت کا ہر دن ہزار سال کے برابر طویل ہے۔ (نیشا پوری بحوالہ ضیاء القرآن جلد دوئم تفسیر آیت 7:54) (از کائنات قرآن اور سائنس)
صاف ظاہر کہ ہمارے دن اور رات تخلیقِ کائنات کے بعد شروع ہوئے اسی طرح آخرت کے معاملات بھی تخلیقِ کائنات کے معاملات ختم ہونے یعنی قیامت کے بعد ہوں گے جب کہ زمینی گردش اور دن رات کا وجود ختم ہوچکا ہوگا اس لیے دنیا کے وجود سے پہلے اور وجود کے خاتمہ کے بعد وقت کا میزانیہ یقینا کچھ مختلف ہی ہوگا۔ جو کہ پچاس ہزار سال کے برابر اور ہزار سال کے برابر اندازہ کرنے کے لیے بتائے گئے ہیں۔ میرا خیال ہے یہ شک و شبہ اور ابہام اب اچھی طرح دور ہوچکا ہوگا۔ اس بیان کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے پیارے رسول ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” تو جو کچھ یہ کفار بکتے ہیں اس پر صبر کرو ” اور پھر عبادت کے اوقات اور طریقہ بتاتے ہیں۔ جس کی وضاحت ہمارے سامنے سنت رسول ﷺ کی روشنی میں ہوتی ہے۔ ” رب کی تسبیح حمد کے ساتھ کرتے رہو ”۔ اس قسم کی آیات پہلے بھی سورة بنی اسرائیل، طہ اور روم میں بھی آچکی ہیں اور ان کا مطلب ہے ” نماز ”۔ اور یہاں نماز کے اوقات اور نماز کے بعد ذکر کی تاکید کی گئی ہے۔ اس کی وضاحت یہ حدیث کرتی ہے۔ ” حضرت زید بن ثابت ؓ کی روایت ہے کہ ” رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ہدایت فرمائی تھی کہ ہم ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 بارالحمد اللہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر کہا کریں ”۔ بعد میں ایک انصاری نے عرض کیا ” میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی کہتا ہے کہ اگر تم 25 مرتبہ یہ تین کلمے کہو 25 مرتبہ لا الہ الا اللہ کہو تو یہ زیادہ بہتر ہوگا ”۔ حضور نے فرمایا ” اچھا اسی طرح کیا کرو۔ (احمد، نسائی، دارمی از تفہیم القران)
صلوۃ کا مطلب ہے ” دعا، رحمت، استغفار اور حسن ثناء۔ یہ ایک بدنی اور روحانی عبادت ہے یہ تمام زمانوں میں پہلی امتوں کے نیک لوگوں کا عمل رہا ہے۔ ہمارے دین میں نماز کی تاریخ کچھ یوں ملتی ہے۔ غار حرا میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے سب سے پہلے عبادت کا جو طریقہ آپ کو سکھایا وہ نماز ہی ہے۔ پھر مکی زندگی کے 13 سال صرف نماز ہی فرض رہی باقی عبادات مدنی دور میں فرض ہوئیں۔ شروع میں صبح و شام صرف دو نمازیں تھیں معراج کے بعد پانچ ہوگئیں۔ جیسا کہ ان آیات میں ذکر کیا گـیا ہے کہ ” آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے ( فجر) اور غروب ہونے سے پہلے، یعنی (ظہر و عصر) اور رات کے بعض اوقات میں بھی ( مغرب اور عشاء) (آیات 39، 40) مدنی زندگی میں دس سال صحابہ کرام نے آپ ﷺ کو جس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اسی طرح خود بھی پڑھی اور دوسروں کو بھی سکھائی۔ اور نماز کے ارکان میں قیام، رکوع، سجود، تشہد اور تکبیر شامل ہیں۔ اس کے بعد تسبیح و تقدیس کا عمل جو کہ بتایا جا چکا ہے نماز پنجگانہ کے علاوہ نفلی نمازیں آپ ﷺ کی پیروی میں ہی پڑھی جاتی ہیں۔ مثلاً تہجد، اشراق، جمعہ، عیدین اور نماز جنازہ وغیرہ۔ رکعت جو احادیث میں بیان ہوئی ہیں وہ یہ ہیں آنحضرت ﷺ کی اتباع میں کچھ درجہ بندی کردی اور یوں فجر میں چار رکعتیں دو فرض دو سنتیں، ظہر میں 10 جس میں 4 فرض ہیں 6 سنتیں اور عصر میں چار فرض مغرب میں پانچ یعنی تین فرض دو سنتیں اور پھر عشاء میں 9 رکعات 4 فرض 2 سنتیں 3 وتر۔ یہ وہ سنتیں ہیں جن پر آپ ﷺ نے ہمیشگی اختیار کی سفر کے علاوہ طہر کے بعد دو رکعت پڑھنے کا بدلہ جہنم سے آزادی ہے اور عصر سے قبل چار رکعت ادا کرنے سے اللہ کی رحمت حاصل ہوتی ہے مغرب کی نماز سے قبل دو رکعت پڑھنا بھی بہت اجرو ثواب کا باعث ہے یہ بات رکھیں سنتیں ہوں یا نوافل دو دو کر کے ادا کرنے چاہییں یہی سنت طریقہ ہے۔ یہ وضاحت کردی گئی تاکہ فرض نماز ہر صورت میں ادا کی جائے۔ نماز کے فرض کرنے کے کئی مقاصد ہیں اور یہ ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے۔ بیشمار فوائد میں سے چند کا ذکر کرتے چلیں۔ مثلاً نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ طہارت کا ذریعہ ہے۔ اللہ سے توبہ کرنے دعا کرنے اور سکون قلب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ انسانی زندگی میں نظم و ضبط پیدا کرتی ہے۔ نفس کو زیر کرنے کا ذریعہ بنتی ہے وقت کی پابندی کا عادی بناتی ہے نماز روحانی ترقی “ میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ عبادات ہمارے لیے آخرت کا بہت بڑا سہارا ہیں کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے اسے جنت کی کنجی کہا ہے۔ یہ کنجی تو ہر شخص کے لیے بےحد ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ہم ہی تو زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے “ (43 آیت)
اتنا زیادہ کچھ بتانے کے بعد پیارے رسول ﷺ کو اللہ تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں ” پس جو ہمارے عذاب کی خبر سے ڈرے اسے قرآن سے نصیحت کرتے رہو۔ (آـیت 45)
ہر وقت ہر شخص کو راہ راست اختیار کرنے کی کوشش میں زندگی گزارنی چاہیے۔ قرآن میں آتا ہے ” نبی کی پیروی اختیار کرو۔ امید ہے کہ تم راہ راست پالو گے، ،۔ (سورۃ الاعراف آیت 158)
خلاصہ سورة ٔ ق
یہ سورت ہر انسان کو اس کے فرائض سے اور اس کے انجام سے خبردار کرتی ہے۔ انسان کو اچھی طرح اس بات کا دھیان رکھنا چاہیے کہ اللہ نے جو کچھ نعمتیں اس کو دے رکھی ہیں ان سب کو بہترین کام میں استعمال کرے مثلاً دل، دماغ، آنکھیں، ہاتھ پاؤں اور سب کچھ۔ اللہ و رسول نے جو راستے بتائے ہیں ان پر چلے۔ یہ خود اس کے اپنے اختیار میں ہے کہ دل دماغ کو اچھی سوچ میں لگائے خوبصورت اور نیک منصوبے بنائے کیونکہ اللہ ہی کے بنائے ہوئے تمام لوگ ہیں مگر دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ تو ولی اللہ ہیں کچھ درمیانہ کردار کے ہیں اور کچھ شیطان کے دوست ہیں جو قتل و غارتگری، جھوٹ، فساد، چوری ڈاکے اور فسق و فجور میں ڈوب کر زندگی گزارتے ہیں۔ وہ یوم آخر اور جہنم کو بالکل یاد نہیں رکھتے تو ایسے لوگوں کو سوچ لینا چاہیے کہ یہ سب کچھ وہ خود کر رہے ہیں اور اس کے ذمہ دار بھی خود ہی ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف بتا دیا ہے کہ ” سب کو اکٹھا کر کے ایک جگہ جمع کردینا ہمارے لئے کوئی مشکل کام نہیں جس دن زمین پھٹ کر وہ سب نکل پڑیں گے دوڑتے ہوئے۔ اور یوں سب کو اکٹھا کرلینا ہمارے لیے آسان ہے ”۔ پھر فرمایا ” سو تو قرآن سے اسے ڈرا جو میرے ڈرانے سے ڈرے ”۔ (آیت 45)
ہر شخص کی زندگی اس کے اپنے اختیار میں ہے جو چاہے سو کرے اور پھر مرنے کے بعد اپنے کیے کا اجر پائے۔ اس میں نہ کسی دوست کا قصور ہے نہ اللہ کا اور نہ ہی رسول کا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رسول کے ذریعے قرآن مجید نازل فرما دیا یہ متقین کے لیے گائیڈ بک ہے، تربیتی کو رس ہے۔ بہترین نصاب زندگی ہے۔ اور اسی سے جنت ملے گی جو ادھر کا رخ نہیں کرتے جہنم میں جائیں گے۔ پرچہ حل کرنے کے لیے یہ دنیا اور زندگی دے دی گئی ہے۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت عباس بن عبد المطلب بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ ” اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اس بات پر راضی ہوگیا کہ اللہ اس کا پروردگار ہے، اسلام اس کا دین اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں “۔ (مسلم) کتنے خوش نصیب ہیں ہم کہ مسلمان ہـیں کتنی پیاری کتاب ہے ہماری اور کتنے اچھے اصول ہیں جو اس کتاب میں دیے گئے ہیں۔
القرآن : ” جو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کارویہ اختیار کیا، ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقعہ نہیں۔ دنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں ان کے لیے بشارت ہی بشارت ہے۔ اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ “ (سورۃ یونس آیات 64, 63, 62) صرف زبان سے اقرار کرلینا ہرگز کافی نہیں کیونکہ یہ منافقوں کا کام ہے اور یہ صرف خود کو دھوکہ دینے والی حرکت ہے۔ اللہ تعالیٰ تو دلوں کے بھید جانتا ہے۔ زبانی کلامی دعوے تو کھوٹے سکے کے برابر ہیں جو آخرت میں نہیں چل سکتے بلکہ وہاں تو سوائے اعمال کے کچھ بھی نہ چل سکے گا۔
زبان نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلمان نہـیں تو کچھ بھی نہیں
الحمد للہ سورة ق مکمل ہوگئی