Ayahs 51:31–46نافرمان اقوام پر عذاب اِلٰہی
تشریح : تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ وہ فرشتے جو انسانوں کی شکل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے کی خوشخبری لائے تھے وہ اسرافیل جبرئیل اور میکائیل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ حکمت والا اور علم والا ہے۔ تم جس عزت و اکرام کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ( صفحہ 95) پھر ان قوموں کا ذکر دہرایا گیا ہے کہ جو اپنی نافرمانی، ہٹ دھرمی اور کفر وشرک کی سزا میں نیست و نابود کردی گئیں جن میں قوم نوح (علیہ السلام) طوفان سے برباد ہوئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن پر پتھروں کا عذاب آیا۔ پھر فرعون اور اس کی قوم کا ذکر ہے۔ ان کو پانی میں ڈبو دیا گیا اور فرعون کو عبرت کا نشان بنانے کیلئے مردہ لاش کی صورت میں دنیا کے سامنے موجود رکھا گیا ہے۔ اسی طرح قوم عاد کو زوردارآندھی سے تباہ و برباد کردیا گیا۔ اسی طرح قوم ثمود بھی شدید کڑک کی خوفناک آواز سے نیست و نابود کردی گئی۔ ان کی تباہ شدہ بستیاں اور ان کے عبرت ناک حالات دنیا کے سامنے موجود رکھے گئے ہیں تاکہ لوگ ان سے سبق سیکھیں اور اچھی طرح جان لیں اللہ اگر رحیم و کریم ہے تو جبار و قھار بھی ہے۔ وہ کسی سے بےانصافی نہیں کرتا مگر جو حد سے بڑھ جائیں نافرمان ہوجائیں تو پھر اللہ بڑی قدرت والا ہے وہ فرمانبرداروں کو انعامات اور نافرمانوں کو عذاب دیتا ہے اس جہاں میں تباہ و برباد کر کے اور دوسرے جہاں یعنی آخرت میں تو شدید عذاب کا پیغام بار بار دیا گیا ہے۔
یہ سب لوگ بھی اسی طرح غفلت اور عیاشی میں پڑے ہوئے تھے جس طرح آج کل کے کفار و مشرکین غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ وہ لوگ اور آج کے لوگ کبھی سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ ان کو یوں اللہ تعالیٰ اپنی نظر میں رکھے ہوئے ہے۔ بلکہ وہ تو طاقت عزت مال و اولاد اور دولت کے نشے میں یہ تک بھولے ہوئے ہیں کہ ان کو جس نے پیدا کیا ہے وہ ان کو اپنے دربار میں ضرور حاضر کرے گا اور پھر ان کے اعمال کے مطابق دوزخ یا جنت ضرور ملے گی۔ فرمانبردارلوگوں کو تو خوب خیال ہے۔ اللہ سے ڈرتے ہوئے ہر صورت نیکی کا راستہ اختیار کرتے ہیں مگر نافرمان لوگ یہاں بھی بےسکون اور وہاں بھی بےسکون رہیں گے۔ کتنا ہی اچھا ہو کہ ہر شخص آخرت پر اور اپنی موت پر نگاہ رکھے تو پتہ چلتا ہے کہ ہم تو کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے پھر اکڑناغرور کرنا اور نافرمانی کرنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ غیب کی کوئی خبر کوئی انسان نہیں رکھتا یہ سب خبریں تو ثبوت کے ساتھ اللہ تعالیٰ قرآن پاک کے ذریعے ہم کو دی ہیں۔ ہمارا کام ہے ان پر دل و جان سے یقین کریں اور سچے اور پکے مسلمان بن کر زندگیاں گزاریں۔
نہ جا اس کے تحمل پر کہ بےڈھب ہے گرفت اس کی
ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
ہوئی ختم اس کی حجت اس زمین کے بسنے والوں پر
کہ پہنچایا ہے ان سب تک محمد ﷺ نے کلام اس کا
مولانا ظفر علی خان
Ayahs 51:47–49اللہ کی قدرتوں کو دیکھو اور ہوش سے کام لو
تشریح : ان آیات میں کائنات کے دوبڑے اہم راز بیان کئے گئے ہیں ایک یہ کہ کائنات پھیل رہی ہے اور دوسرے ہر چیز کے جوڑوں کی صورت میں تخلیق۔ پہلے ہم ہاتھ کی وضاحت کرتے ہیں یہ ہماری طرح کے ہاتھ نہیں بلکہ جس طرح انسانی صلاحیت کو سامنے لانے کیلئے انسان کے ہاتھ ایک خاص حصہ رکھتے ہیں یعنی جو بھی بنانا ہو اس کیلئے ہاتھوں کی طاقت اور اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں اللہ کی قدرت اور طاقت کو ظاہر کرنے کیلئے ہاتھوں کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
اسی طرح موسعون کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ وُسْعٌ سے فاعل بنا ہے اور وُسْعٌ کا مطلب ہے طاقت بس اور زور۔ موسعون کا مطلب ہے وسیع طاقت رکھنے والا، سب کچھ اپنے بس میں رکھنے والا۔ پھر آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بارے میں بتایا۔ زمین کے بارے میں بچھانے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ کچھ مفسرین نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ ہم کائنات کو پھیلا رہے ہیں۔ راشد مسعود صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں کہ ماضی قریب کی تحقیق کے مطابق تمام اجرام سماوی ایک دوسرے سے نہایت برق رفتاری سے فاصلہ بڑھا رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہ فاصلہ پانچ سو میل فی سیکنڈ کے حساب سے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ بعض اندازے اس سے بھی زیادہ تیز رفتاری کے ہیں۔ کائنات کی مسلسل توسیع پر سائنس متفق ہے۔ مگر یہ تو سیع کس شرح سے اور کن سمتوں میں ہو رہی ہے ابھی تحقیق طلب اور زیر بحث مسئلہ ہے یہاں ہمارا موضوع متفقہ مسئلہ ہے یعنی توسیع ہے۔ تو مصنف نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے۔ ' اور آسمان کو ہم نے اپنی قدرت خاص سے بنایا ہے اور ہم اس میں توسیع کئے جا رہے ہیں۔ (آیت 47) اس طرح ہمیں علم ہوا کہ کائنات کی مسلسل توسیع کا انکشاف اللہ نے تقریباً تیرہ سو سال قبل کردیا تھا۔ (از ذوق آ گہی)
اسی طرح موجودہ سائنسدانوں اور ماہرین فلکیات نے اس انکشاف کی تصدیق یوں کی ہے۔ ڈاکٹر دالدار احمد قادری لکھتے ہیں۔ ' پھیلتی ہوئی کائنات کا تصور سب سے پہلے 1922ء میں ایک روسی طبیعات دان نے اور ما ہرِریاضی الیگزنڈر فرائیڈمن نے پیش کیا۔ اس کی تصدیق 1929ء میں ایک امریکی سائنسدان ایڈون ہبل نے کی، اس کی مزید تصدیق دو امریکی سائنسدان ” ارنوپنزی اس “ اور ” رابرٹ و لسن “ نے 1965ء میں کی۔ (از کائنات قرآن اور سائنس)
یہ آیت ہے کہ دیکھو ہم خوب بچھانے والے ہیں۔ (آیت 48) اللہ کے لاشریک ہونے اور خلاق اعظم ہونے کا ثبوت ہے۔ جب ہم سوچتے ہیں کہ ہے کوئی ایسا بنانے والا کہ جو زمین کا ایک ذرہ ہی اپنی ذاتی قدرت سے بنا سکے ؟ تو جواب نفی میں ہی ہوتا ہے۔ جب کوئی ایک ذرہ نہیں بنا سکتا تو یہ اتنی بڑی زمین و آسمان کیسے کوئی بنا سکتا ہے ؟۔ سبحان اللہ ' لا شریک لہ خالق ومالک اور عظیم وخبیر علیم و حکیم صرف اور صرف اللہ کی ذات ہی ہوسکتی ہے۔ پھر اپنی قدرت کا اظہار اللہ تعالیٰ یوں کرتے ہیں کہ ' ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے۔ (49) یہ چھوٹا سا جملہ یا آیت بہت بڑی حقیقت کو بیان کر رہی ہے جو اللہ کی وحدانیت اور اللہ کی تخلیق کے ایک بہت بڑے اصول کی وضاحت کرتی ہے۔ یہ بحث کچھ طویل ہے مگر ضروری ہے۔ اس کی وضاحت کیلئے ہم سید نصیر حسین صاحب کی کتاب سے مدد لیتے ہیں۔ بڑی خوبصورت وضاحت کی گئی ہے۔ ملاحظہ ہو۔
' فیسا غورث کہا کرتا تھا کہ اعداد اور ان کے مبداء یعنی ایک (جو دو سے پہلے ہے) کا علم اللہ جل جلالہ کی وحدانیت کا علم ہے اور اعداد کی خصوصیات ان کی درجہ بندی اور ترتیب کا علم خالق ذوالجلال کی تخلیقات اور اس کی صنعت کی ترتیب اور درجہ بندی کا علم ہے۔ اعداد کی سائنس روح میں مرکوز ہے اور یہ علم کسی غوروفکر کے بغیر وجدانی طور پر واضح ہوجاتا ہے اور کسی ثبوت کے بغیر سمجھ میں آجاتا ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے جب تمام مخلوق کو پیدا کیا اور تمام چیزوں کو وجود بخشا اور ایک ایسے عمل سے ان کو عدم سے وجود میں لایا (پیدا کیا) کہ جو ایک کے عدد سے دیگر اعداد کی پیدائش سے مماثل تھا تاکہ اعداد کی کثرت اس کی اپنی وحدت پر دلیل ہو۔
اور ان کی درجہ بندی اور ترتیب سے ان کا کمال تخلیق ظاہر ہو یہ اس حقیقت کا ثبوت بھی ہوگا کہ وہ (مخلوق) اپنے خالق سے اسی طرح تعلق رکھتی ہے جس طرح اعداد اس ' ایک سے تعلق رکھتے ہیں جو دو سے قبل ہے اور جو اعداد کی اصل ان کا سرچشمہ ہے چونکہ حق سبحانہ تعالیٰ حقیقت میں اور ہر لحاظ سے اور ہر پہلو سے واحد ہے۔ اس لیے یہ ناممکن ہے کہ اس کی مخلوق جو اس کی صفت ہے حقیقت میں واحد ہو اس کے برعکس یہ ضروری ہے کہ وحدت میں کثرت یا دوئی ہو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے واحد عمل سے کہ جو دراصل علت العلل ہے واحد کے معمول (جس پر عمل کیا گیا ہو) کو وجود میں لانے کا آغاز کیا اس طرح اس عمل میں وحدت نہیں بلکہ ایک حد تک دوئی تھی اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ موجودات کو وجود میں لایا اور اس نے جوڑے پیدا کیے اور دوئی (جوڑوں) ہی کو آئندہ کیلئے تخلیق کا قانون اور وجود میں آنے کا اصول بنایا۔ اور یہی وجہ ہے کہ دوئی (جوڑوں) کی وضاحت الفاظ میں کی گئی ہے۔
مثلاً روشنی اور تاریکی، نیک و بد اور نفرت و محبت وغیرہ اور پھر کائنات میں یوں ملتے ہیں مثلاً عیاں و پنہاں اور بلندو پست وغیرہ حیوانات و نباتات میں یوں موجود ہے۔ مثلاً زندگی و موت خواب و بیداری اور مفید و مضر وغیرہ معاشرتی اور مذہبی لحاظ سے یوں ہے مثلاً امرونہی اطاعت و بغاوت اور سزا اور جزا وغیرہ مزید لکھتے ہیں۔
چونکہ تمام چیزوں کے صرف جوڑے بنانا ہی مطابق حکمت نہ تھا، اس لیے بعض چیزوں کو تین تین، چار چار، پانچ پانچ، چھ چھ، سات سات علی ہذا القیاس غیر معین تعدا میں بنایا گیا ہے،۔ (از اسلام میں سائنس اور تہذیب صفحہ 171 تا 172)
مطلب یہ ہے کہ کائنات کا اس قدر زبردست انتظام کیا ہے کہ ہر قدم پر اللہ کا کمال دکھائی دیتا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے بار بار بتایا جا رہا ہے ' تا کہ تم نصیحت پکڑو۔ (آیت 49)
Ayahs 51:50–60اللہ کا پیغام رسول کیلئے اور بندوں کیلئے
تشریح : جب اللہ کی تمام نشانیاں کھول کھول کر بتا دی گئیں تو پھر رسول اللہ ﷺ نصیحت فرماتے ہیں کہ عقل سے کام لو اور اسی ایمان کے راستے پر چلو جو میں تمہیں دکھا رہا ہوں۔ اب تو یقین کرلو کہ اللہ واقعی ایک ہی ہے۔ اور میں اسی کی طرف سے بھیجا جانے والا رسول ﷺ ہوں۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ گھبرائیں نہیں کیونکہ شروع دن سے ہی انسان کی یہی فطرت رہی ہے کہ وہ توحید کے پیغام سے اسی طرح بھاگتے چلے آئے ہیں جیسے یہ کفار مکہ بھاگ رہے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی پیغمبر آئے تو شیطان فطرت لوگوں نے ان کی خوب مخالفت کی سوائے ان چند لوگوں کے جن کو سعادت نصیب ہوئی اور پھر اللہ کا یہ فرمان نبی ﷺ کے لیے کہ ' تم نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت مومنوں کو نفع دیتی ہے۔ (55) جو لوگ خر دماغ ہوتے ہیں وہ تو کبھی بھی نیکی اختیار نہیں کرتے لیکن جو نیک فطرت لوگ ہیں وہ نصیحت ضرور قبول کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اللہ نے ان کو اور جنوں کو عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ان کی عبادت اور ایمان سے اللہ کو ہرگز کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ یہ تو خود ان کے اپنے فائدے کے لیے کہا گیا ہے۔ ان کا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح وہ لوگ ادھراُدھربھٹکنے اور ذلیل و خوار ہونے سے بچ کر ایک صاف ستھری بنی بنائی منظم زندگی گزارسکیں اور یوں دنیا و آخرت میں سر خرو ہو سکیں۔ کیونکہ اللہ ہی پیدا کرنے والا رزق دینے والا اور رحم کرنے والا ہے یہ نصیحت دینے کے لیے پیغمبر کا بھیجنا اور آخرت کے تمام راز بتا دینا اللہ کی رحمت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ نیکی اختیار کریں پر سکون زندگیاں گزاریں اور پھر آخرت میں بھی اللہ کی رحمتوں کے حقدار بنیں۔ اور یہ سب کچھ اللہ نے نظام بنا رکھا ہے کہ انسان و جن کو ارادہ اور اختیار دے رکھا ہے۔ اس کی مرضی ہے جو راستہ چاہے اختیار کرلے اس میں نہ اللہ کا کام ہے نہ ہی پیغمبر کی ذمہ داری ہے۔
پیغمبر کی ذمہ داری ہے ' راستہ دکھانا اور پھر ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ نیکی کرنے کی تلقین کرے اور مومن کی ہر صورت مدد کرے حدیث میں ہے۔ حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ' اپنے بھائی کی مدد کر چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ اس پر ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! جب وہ مظلوم ہو تو میں اس کی مدد کرتا ہوں مگر جب وہ ظالم ہو تو فرمائیے کہ میں کس طرح اس کی مدد کروں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تو اسے ظلم کرنے سے روک دے کہ یہی اس کی مدد ہے۔ (بخاری)
رب العزت بار بار اس خبر کو بیان فرماتے ہیں کہ کائنات انسان کے لیے پیدا کی گئی ہے اور یہ انسان کے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ ایک ایسی تجربہ گاہ جو انسان کو ایسا ماحول حالات اور عمل کرنے کا ایک ایسا کھلا وسیع و عریض میدان مہیا کرتی ہے جو اسے اللہ یا شیطان کیطرف لے جاسکے۔ کائنات انسانی ضروریات کے مطابق اللہ نے بنائی ہے۔ پھر نصیحت سے بھرا ہوا قرآن نازل فرمادیا اور صاف بتا دیا کہ انسان و جن کی تخلیق کا مقصد عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب یہ نہیں کہ چند ظاہری رکوع و سجود کرلیے بلکہ عبادت کی روح یہ ہے کہ اپنی زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق بسر کی جائے اور اس کی پہلی شرط اور آخری شرط یہی ہے کہ معرفت (اللہ کی پہچان) کا وہ درجہ حاصل کرلیا جائے کہ جس کی تعریف الفاظ میں بیان نہ ہوسکے۔ یہ ایک روحانی درجہ ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے دو ضروری خیال اور عمل ہیں۔
1 ۔ ہر حال میں اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے ' چلتے پھرتے غرض زندگی کے ہر سانس میں اللہ کی یاد کا احساس۔
2 ۔ کائنات کی تخلیق اور اپنی تخلیق پر ہر دم غور و فکر کرنا۔ ایسے ہی لوگ اپنی زندگی کے بلند مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور اللہ کے مقبول ترین بندوں میں شامل کرلیے جاتے ہیں۔
اللہ جل شانہ ایسے لوگوں کے لیے فرماتے ہیں۔ اے نیک مطمئن روح ! واپس چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی پس شامل ہوجا میرے بندوں میں اور داخل ہوجا میری جنت میں۔
(سورۃ الفجر آیات 27 تا 30)
اور نافرمان لوگوں کے لیے اللہ نے فرمایا۔ ' آخر تو تباہی ہے کفر کرنے والوں کیلئے اس روز جس کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے۔ یہ کہنا یا سمجھ لینا کہ مذہب ایک فریب ہے انتہائی بےوقوفی کی بات ہے کیونکہ اس طرح خود کو ان تمام پابندیوں سے آزاد کرلینے کا ارادہ ہے جو سماجی اخلاقی مذہبی انفرادی اور مجموعی نظام حیات کو درست رکھنے کے لیے بےحد ضروری ہیں۔ مشہور جرمن فلسفی ” کانٹ “ اللہ کے تصور سے انکار کرتا ہے مگر اخلاقی پہلو سے وہ مذہب کی علمی معقولیت کو مانتا ہے۔
جو لوگ آخرت کو فرضی تصور کہتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک فرضی چیز ہماری زندگی کے نظم و نسق کے لیے اس قدر ضروری کیوں ہے ؟ آخرت پر یقین نہ کرنے والے اور جانور میں کوئی فرق نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ' عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو مطیع کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے اور احمق وہ ہے جس کا نفس اپنی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ سے امیدیں باندھے۔ لہٰذا اللہ پر یقین اور آخرت پر یقین ہمارے بہت سارے مسائل حل کردیتا ہے۔ آپ جب بھی کسی پریشانی میں مبتلاء ہوجائیں۔ ضرورت چھوٹی ہو یا بڑی، دنیاوی ہو یا دینی ہو صرف اپنے رب کی طرف رجوع کریں اور دل کی گہرائیوں سے اس سے مدد مانگیں وہ کبھی مایوس نہیں کرے گا اور فوری طور پر آپ کو اس عمل سے انتہائی سکون اور اطمینان حاصل ہوجائے گا۔ انشاء اللہ العزیز۔
خلاصہ سورة الذاریات
یہ سورت انسان کی جسمانی، روحانی، ذہنی ' سماجی ' انفرادی اور اجتماعی بیماریوں کا اکسیر نسخہ ہے۔ شرط یہ ہے کہ اس کو غور سے پڑھا جائے اور اس پر خوب تفکر و تدبر کیا جائے۔ اس میں مومن کے لیے نصیحت اور خوشخبری ہے جبکہ کافر کے لیے نصیحت اور تنبیہہ ہے جو چاہو کما لو۔
سچ ہے کہ حیات خود نہیں بنتی بنائی جاتی ہے۔ چراغ خود نہیں جلتے جلائے جاتے ہیں۔
دولت عزت کے شوکت حکمت کے سلطنت عبادت کے صورت سیرت کے اور شجاعت سخاوت کے مقابلے میں ہیچ ہے۔
(الحمد للہ سورة الذاریات مکمل ہوئی)