54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 54:9–52

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی تو انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا کہ دیوانہ ہے اور انہیں ڈانٹا بھی۔

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

تو انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ ' یا اللہ میں ان سے کمزور ہوں تو ان سے بدلہ لے

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

پس ہم نے زور کی بارش سے آسمان کے دہا نے کھول دیئے

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور زمین میں چشمے جاری کردیے پھر سب پانی ایک کام پورا کرنے کے لیے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا۔

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ایک کشتی پر جو تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی سوار کردیا۔

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی۔ یہ سب کچھ اس بندے کے انتقام کے لیے کیا گیا جس کو کافر مانتے نہ تھے۔

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو ایک عبرت بنا چھوڑا، تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

سو دیکھ لو کہ میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

عاد نے بھی تکذیب کی تھی سو دیکھ لو کہ میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا ؟۔

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

ہم نے سخت منحوس دن میں آندھی چلائی

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

وہ لوگوں کو اس طرح اکھیڑ ڈالتی تھی گویا اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

سو دیکھ لو کہ میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے۔

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

ثمود نے بھی ہدایت کرنے والوں کو جھٹلایا

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

اور کہا کہ بھلا ایک آدمی جو ہم ہی میں سے ہے اس کی پیروی کریں ؟ یوں ہو تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑگئے

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

کیا ہم سب میں سے اسی پر وحی نازل ہوئی ہے ؟ نہیں ! بلکہ یہ جھوٹا، خود پسند ہے

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

ان کو کل ہی معلوم ہوجائے گا کہ کون جھوٹا خود پسند ہے۔

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

اے صالح ہم ان کی آزمائش کے لیے اونٹنی بھیجنے والے ہیں تو تم ان کو دیکھتے رہو اور صبر کرو۔

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور ان کو آگاہ کر دو کہ ان میں پانی کی باری مقرر کردی گئی ہے، ہر باری والے کو اپنی باری پر آنا چاہیے

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے اپنے رفیق کو بلایا اور اس نے اونٹی کو پکڑ کر اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں ٖ ۔

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

سو دیکھ لو کہ میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک چیخ بھیجی تو وہ ایسے ہوگئے جیسے باڑوالے کی سوکھی اور ٹوٹی ہوئی باڑ

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

) اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

لوط کی قوم نے بھی ڈر سنا نے والوں کو جھٹلایا تھا۔

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

تو ہم نے ان پر کنکر بھری ہوا چلائی، مگر لوط کے گھر والے کہ ہم نے ان کو پچھلی رات سے ہی بچا لیا تھا

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

اپنے فضل سے شکر کرنے والے کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور لوط نے ان کو ہماری پکڑ سے ڈرا بھی دیا تھا مگر انہوں نے ڈرانے میں شک کیا۔

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور ان سے ان کے مہمانوں کو لینا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں سو اب میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور ان پر صبح سویرے ہی اٹل عذاب آنازل ہوا

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

تو اب میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو۔

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:40 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ Open ayah 54:41 in the Quran reader

اور قوم فرعون کے پاس بھی ڈر سنانے والے آئے

كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ Open ayah 54:42 in the Quran reader

انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو اس طرح پکڑ لیا جس طرح ایک قوی اور غالب پکڑ لیتا ہے

اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِۚ Open ayah 54:43 in the Quran reader

اے اہل عرب کیا تمہارے کافر ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمہارے لئے پہلی کتابوں میں فارغ خطی لکھ دی گئی ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ Open ayah 54:44 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت بڑی مضبوط ہے۔

سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ Open ayah 54:45 in the Quran reader

عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے

بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ Open ayah 54:46 in the Quran reader

ان کے وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت بڑی سخت اور بہت تلخ ہے

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ Open ayah 54:47 in the Quran reader

بیشک گناہگار لوگ گمراہی اور دیوانگی میں مبتلا ہیں

یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ١ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ Open ayah 54:48 in the Quran reader

اس روز منہ کے بل دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے، اب آگ کا مزہ چکھو۔

اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ Open ayah 54:49 in the Quran reader

ہم نے ہر چیز اندازہئ مقرر کے ساتھ پیدا کی ہے

وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ Open ayah 54:50 in the Quran reader

اور ہمارا حکم تو آنکھ کے جھپکنے کی طرح ایک بات ہوتی ہے

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْیَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:51 in the Quran reader

اور ہم تمہارے ہم مذہبوں کو ہلاک کرچکے ہیں تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

وَ كُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْهُ فِی الزُّبُرِ Open ayah 54:52 in the Quran reader

اور جو کچھ انہوں نے کیا ان کے اعمال ناموں میں درج ہے

نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب کا نشانہ بنیں، تباہ و برباد کردی گئیں اور دنیا میں ان کی کہانیاں صرف عبرت سکھانے کے لیے باقی رکھی گئیں۔ پھر یہ بھی واضح کردیا گیا کہ عذاب اور قدرتی حادثات میں بڑا واضح فرق ہے وہ یوں کہ مثلاً حضرت نوح (علیہ السلام) نے عذاب آنے سے پہلے قوم کو اس عذاب سے آگاہ کردیا تھا اسی لیے بچاؤ کے لیے اللہ کے حکم سے کشتی تیار کی۔ اللہ کا ہر کام بڑے حساب کتاب اور اندازے سے بڑی حکمت سے ہوتا ہے۔ وہ کسی قوم کو بےقصور تباہ نہیں کرتا اور نہ ہی کسی شخص کو بےقصور سزا دیتا ہے وہ ہمیشہ عذاب آنے سے پہلے اعلان کروا دیتا اور عذاب آنے پر اپنے نیک پاک متقی پرہیزگار بندوں اور اپنے پیغمبروں کو اس عذاب سے بچا لیا کرتا۔ قرآن پاک کیا ہے ؟ ایک بہت ہی آسان، جامع، واضح اور علم و عرفان، واعظ و نصیحت سے بھری ہوئی اللہ کی کتاب ہے جو انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے رحمتوں اور برکتوں سے بھری ہوئی ہے۔ جس میں ہر ہر طرح سے بار بار ڈرایا گیا ہے کہ سزا کے دن سے ڈرو کیونکہ وہ بڑا سخت دن ہوگا۔ دنیا میں سر کشی، ظلم و ستم، کفر و نافرمانی، فخر و غرور اور گناہوں سے بھری زندگیاں گزارنے والے دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوتے ہیں اور آخرت میں آگ کا درد ناک عذاب دیا جائے گا۔ یہ بات یہ غیب کی خبریں یہ ڈرانے، سمجھانے اور خبردار کرنے والی باتیں اس جلیل القدر غالب اور زبردست الہ العٰلمین کی کہی ہوئی ہیں جو ہر کام آنکھ جھپکنے کی دیر میں کرلیتا ہے۔ اس کا بندوبست اس کا نظام کار اور اس کی قدرت اتنی حیرت ناک اور ناقابل فہم ہے کہ کوئی اس کا اندازہ بھی نہیں کرسکتا۔ انسان کی زندگی دنیوی اوراخروی سنوارنے کے لیے قرآن بھیجا گیا اور اس پر غور و فکر کرنے کی تاکید کی گئی مثال کے طور پر اسی سورة مبارکہ میں آیات 32, 22, 17 اور 40 میں یہی تاکید کی گئی ہے ' ہم نے اس قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے پھر کیا ہے کوئی اس نصیحت کو قبول کرنے والا۔ (40, 32, 22, 17) قرآن کو سمجھنے کا بہترین طریقہ تذکیر ہے۔ یعنی یاد کرنا سمجھنا اور دوسروں کو نصیحت کرنا۔ ان دونوں کا مفہوم ہم یوں سمجھ سکتے ہیں۔ کہ کسی بھی مضمون کو جب ہم بار بار غور سے پڑھتے ہیں تو اس کا اصل مقصد ہمارے سامنے روشن ہونے لگتا ہے۔ جب روشن ہونے لگتا ہے تو پھر دل و دماغ نفس کو مجبور کرنے لگتے ہیں کہ اس پر عمل بھی کیا جائے اور یوں وہ مضمون ہماری زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ اور جب ہماری زندگی کا حصہ بن جاتا ہے تو پھر ہم اس کا ذکر دوسروں سے ضرور کرنے لگتے ہیں۔ جب اس کی اچھائیاں دوسروں کو بتانے لگتے ہیں تو اس کے وہ چھپے ہوئے نکات بھی ابھر کر ہمارے سامنے آنے لگتے ہیں جو ہماری نظر سے نہ گزرے تھے اور یوں ان آیات کا مطلب واضح ہوجاتا ہے کہ قرآن کوئی مشکل اور نہ سمجھ آنے والی کتاب نہیں ہے۔ بس ذرا سا غور کرو تو یہ تمہیں سمجھ آنے لگے گا۔ پھر اس کو بار بار پڑھو تو اور بھی واضح ہو کر تم پر اثر کرنے لگے گا پھر دوسروں کو سکھاؤ گے تو اس کے مضامین اور بھی آسان اور واضح ہو کر تمہارے سامنے آنے لگیں گے اور پھر اسی کے اصول ہی تمہارا اوڑھنا بچھونا بن جائیں گے یعنی تمہاری پوری زندگی ہی قرآن کے گرد گھومنے لگے گی۔ ہماری بد قسمتی، لاپرواہی اور بےوقوفی اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی کہ ہم نہ اس کو پڑھتے ہیں نہ غور کرتے ہیں اور نہ ہی عمل کرتے ہیں۔ اتنی بڑی نعمت سے بالکل فائدہ نہیں اٹھاتے حالانکہ ہم مسلمان ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اس قربت کی وجہ سے اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔ انسان کی عظمت جو اللہ نے اسے دی ہے اتنی لاجواب ہے کہ اگر انسان اپنے دل، دماغ اور روح کو شیطان سے دور کرلیتا ہے تو خدائے بزرگ و برتر جوالہ لعٰلمین ہے تو ایسے پاکیزہ دل میں اس کی محبت سما جاتی ہے اور اس بلند وبالا مقام کے بارے میں ہی حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ ' جس نے پہچانا اپنے نفس کو اس نے پہچانا اللہ تعالیٰ کو۔ اور یہ پہچان ہی انسانیت کی تکمیل ہے۔ اسی تکمیل انسانیت کے لئے اللہ نے بار بار فرمایا ہے :” ہم نے اس قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے، پھر کیا ہے کوئی ؟ اس نصیحت کو قبول کرنے والا “۔ (آیت 40) مولانا وحید الدین خان صاحب بڑی خوبصورت بات کہتے ہیں۔ ایمان میں زیادتی کس طرح ہوتی ہے۔ اس کا پہلا ذریعہ تفکر و تدبر ہے۔ انسان خدا کی باتوں کو پڑھتا ہے، وہ خدا کی چیزوں میں غور کرتا ہے (آل عمران 191) اس طرح حق و صداقت کی نئی نئی تجلیاں اس پر منکشف ہوتی ہیں پھر وہ اہل ذوق کے ساتھ ان پر مذاکرہ کرتا ہے جیسا کہ عمر فاروق ؓ نے کہا : تَعَالَ نُؤْمِنْ سَاعَۃً ، ھَلُمَّ فَلْنَذْکُرَ رَبَّنَا۔ اس طرح فکری تبادلہ کے ذریعہ ہر ایک اپنے علم کو بڑھاتا ہے ہر ایک اپنی معرفت میں اضافہ کرتا ہے۔ (از دین انسانیت) مطلب یہ ہے کہ انسان ہر وقت اپنے ذہن کی کھڑکیوں کو کھلا رکھے ہر صورت اور ہر وقت علم و عرفان، مطالعہ، مشاہدہ اور مذاکرہ و تدبر و تفکر قرآن میں مشغول رہے۔ اللہ نے حکم دیا ہے کہ انسان کو یہ دعا کرتے رہنا چاہیے۔ اور کہو اے میرے رب ! میرا علم زیادہ کر دے۔ (طہ 114) سورة القمر کی آیت 10 میں مقبول و مشہور دعا ہے جس کی فضیلت یہ بیان کی گئی ہے کہ تکلیف اور پریشانی میں بڑی موثر دعا ہے۔ ' یا اللہ ! میں ان سے کمزور ہوں تو ان سے بدلہ لے۔ (آیت 10) اللہ تعالیٰ کی قدرت، کبریائی، طاقت اور تدبر کسی سے پوشیدہ نہیں مگر سوائے ان لوگوں کے جو دنیا کی زندگی میں گم ہو کر سب کچھ بھلائے بیٹھے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کو ہوش میں آنا چاہیے اور قرآن پاک کی اس غیب کی خبر کی طرف توجہ کرنی چاہیے کہ قیامت آنے والی ہے اور وہ تو اتنی اچانک آئے گی کہ جتنی آنکھ جھپکنے میں دیر لگتی ہے۔ اور پھر دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور ہر شخص اپنے دنیا میں کئے گئے اعمال نامے کے ساتھ حاضر کیا جائے گا۔ یہ بات اتنی ہی سچ ہے جتنی ہماری یہ زندگی سچ ہے۔ قرآن و احادیث اور جدید سائنس کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ انسان کا مرنا یقینی ہے دوبارہ زندہ ہو کر حساب کتاب دینا ضروری ہے اور سزاء اور جزا پانا بھی ضروری ہے۔ جیسا کہ رب العزت نے فرمایا۔ اس روز منہ کے بل دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے اب آگ کا مزہ چکھو۔ (آیت 48)