54. Surah Al-Qamar
القمرThe Moon · 55 ayahsمفہوم القرآن
وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ Open ayah 54:53 in the Quran reader
ہر چھوٹا اور بڑا کام لکھ دیا گیا ہے
اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ Open ayah 54:54 in the Quran reader
جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں اور نہروں میں ہوں گے
فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۠ Open ayah 54:55 in the Quran reader
یعنی پاک مقام میں ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بار گاہ میں
نیک لوگوں کا انعام
تشریح : اللہ سبحانہ تعالیٰ بےحد انصاف کرنے والا رحمن و رحیم ہے وہ کسی شخص کو بھی قصور کے بغیر بدلہ نہیں دے گا۔ اگر گناہگاروں کو دوزخ کا عذاب ملے گا تو نیکو کاروں کو جنت ملے گی۔ جس میں ہر طرح کی تمام نعمتیں برکتیں اور آسائشیں موجود ہوں گی یہ اللہ کا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔ اسی لیے سبحانہ تعالیٰ بار بار یاددہانی کرواتے ہیں۔ ایک جگہ فرمایا۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں خود اپنا نفس بھلا دیا یہی لوگ فاسق ہیں دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہوسکتے جنت میں جانے والے ہی اصل کامیاب ہیں۔ (سورۃ الحشر آیات 20-19)
خلاصہ سورة القمر
یہ سورة علم و عرفان کا خزانہ ہے۔ اگر کوئی شخص اس کو پوری توجہ اور گہرائی سے پڑھے گا تو اس کو قرآن میں دی گئی تمام خبریں بالکل سچی اور پکی دکھائی دیں گی اور یہی ہے ایمان کامل کی نشانی۔ گزشتہ انبیا اور ان کی قومیں اپنے نبیوں کو جھٹلاتی رہیں باوجود اس کے کہ ان کو معجزات بھی دکھائے گئے مثلاً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے آگ کو گلزار بنا دینا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصاء کا اژ دہا بن جانا، ہاتھ کا چمک جانا، اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں مرض کی شفاء دینے کی قوت یہ سب ایسے معجزات تھے کہ جو عام فطرت کے اصولوں سے ہٹ کر ایک ایسی طاقت تھی کہ جو اس وقت کے لوگوں کو پیغمبر کے سچا ہونے کا یقین دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جاتی تھی۔ جو کہ ان نبیوں کے وقت کے ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی تھی اور پھر یہ بھی لازم تھا کہ جو معجزے دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائیں گے ان کو عذاب دینا یعنی تباہی و بربادی ملنا ضروری ہوجاتا تھا۔ جب کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور ان کی امت کو قیامت تک مہلت دی گئی ہے۔ اور آپ ﷺ کو دیا گیا معجزہ خلاف فطرت نہیں بلکہ عین فطرت انسانی اور فطرتِ کائنات کے مطابق ہے اسی لیے اس معجزہ میں بجائے تنزل آنے کے اس کی سچائی میں دن بدن اضافہ، مضبوطی اور سچائی پیدا ہوتی چلی جا رہی ہے۔
اس کا ایک سبب تو اللہ کا وعدہ ہے اور دوسرا انکشاف فطرت جو انسانی ترقی، علم و عرفان اور تحقیق و تجسس آئے دن کے نئے نئے تجربات، نئے نئے انکشافات اور سائنسی ترقیاں یہ سب اس کو محکم اور دائمی بناتے چلے جا رہے ہـیں۔ اور وہ معجزہ کیا ہے ؟ وہ ہے قرآن حمید۔ صاف ظاہر ہے۔ قرآن پاک میں نہ صرف ماضی بعید کے حالات تفصیل سے بتادیے گئے ہیں بلکہ حال اور مستقبل کی اتنی بڑی بڑی خبریں بڑی وضاحت سے بتا دی گئی ہیں جو کہ کسی بڑے سے بڑے عالم فاضل، محقق، ریاضی دان، ماہر نجوم، سیاست دان، لیڈر اور ماہر نفسیات، ماہر فلکیات یا کسی بہترین حساب دان ماہر جغرافیہ، ماہر طبیعات کے بس میں نہیں کہ وہ اللہ کے اتنے بڑے کارخانہئ کائنات کی وضاحت کرسکے ہاں جوں جوں انسان فطرت کے قریب ہوتا جاتا ہے اللہ کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ مگر ایسے ہٹ دھرم ضدی اور بیوقوف لوگوں کی ابھی بھی کمی نہیں جو اب بھی اللہ سے انکار کرتے اور کفر وشرک سے وابستہ رہنا چاہتے ہیں تو ایسے ہی لوگوں کے لئے اللہ نے فرمایا ہے۔ ' اس روز منہ کے بل دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے اب آگ کا مزہ چکھو۔ (سورۃ القمر آیت 48)
اور نبی پاک ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ! یقین جانو کہ جس نے یہ قرآن تم پر فرض کیا ہے وہ تمہیں ایک بہترین انجام کو پہنچانے والا ہے۔ ( سورة القصص آیت 85) یہ سب کچھ ایک شعور رکھنے والے کے لئے بہت کافی ہے۔