Ayahs 56:58–74مسلمان کے بنیادی عقائد توحید و آخرت
تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ ہمارا خالق ہے ہم اور ہماری تمام کائنات اور کائنات کی ہر چیز صرف اور صرف اللہ کی حکمت اور خلاقی کا اظہار کرتی ہے لیکن وہ تمام راز، غیب کی باتیں اور زندگی کا راز یعنی جن باتوں کا انسان کو اس زندگی میں جان لینا ضروری نہیں وہ راز اللہ تعالیٰ نے انسان سے جنوں سے پوشیدہ رکھے۔ مثلاً جینے مرنے کا راز قیامت کا راز کہ کب آئے گی مستقبل کا حال۔ کہ کیا ہونے والا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ یہ اور اس طرح کے بیشمار راز ہیں جو انسان کو ہرگز کسی صورت بھی معلوم نہیں ہوسکتے یہ ایک حقیقت ہے اور یہی حقیقت اگر انسان دل سے مان لے تو وہ بڑی آسانی اور سچائی کے ساتھ اللہ کو مان سکتا ہے جان سکتا ہے اس کے سامنے عجز و انکسار کے ساتھ جھک سکتا ہے وہ اللہ کے خوف کو ہر وقت محسوس کرسکتا ہے۔ اسی کا نام ہے تقویٰ ۔ اور جس نے تقویٰ حاصل کرلیا گویا وہ سکون پا گیا کیونکہ اللہ کی ذات کو اپنے اوپر طاری کرلینے کا نام ہے۔ کہ سکون و اطمینان سے پوری طرح منسلک ہونے کا راز مل گیا۔ اور یہی کامیابی کی نشانی ہے۔ ورنہ جو لوگ اس دنیا کی عارضی خوشیوں، مال و دولت آل اولاد اور جائیداد کو ہی خوشیوں اور سکون کا ذریعہ سمجھ لیتے ہیں وہ کیونکہ اللہ سے دور ہوجاتے ہیں اس لیے ہمیشہ تفکرات میں ہی زندگی گزار دیتے ہیں جو ان کو دنیا و آخرت دونوں میں ناکام کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ یہ بات خوب اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ کائنات میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں کہ جو اللہ سے جڑی ہوئی نہ ہو اور اس کے حکم سے باہر ہو یا اللہ کے سامنے جھکنے والی نہ ہو۔ ہر چیز اللہ کے حکم سے ہوتی ہے اور اسی لیے اسی کے سامنے جھکتی ہے اور پھر ختم ہوجانے کے بعد اسی کی طرف ہی لوٹائی جائے گی۔ اسی پختہ ایمان کی وجہ سے ہی تو مسلمان ہر نقصان پر بولتا ہے ' بیشک ہم اللہ کے لیے ہی ہیں اور اسی کی طرف ہی لوٹائے جائیں گے۔ غرض توحید پر مکمل یقین انسان میں بہت سی صفات پیدا کردیتا ہے یعنی نفس پاکیزہ ہوجاتا ہے۔ علم و عرفان کی وجہ سے خود اعتمادی پیدا ہوجاتی ہے۔ مایوسی اور بےیقینی ختم ہوجاتی ہے۔ قناعت اور بےنیازی پیدا ہوجاتی ہے اور یوں انسان میں بےپناہ صبر و توکل اور عزم و حوصلہ کی صفات پیدا ہوجاتی ہیں جو اس کو مرد آہن بنا دیتی ہیں۔ اور کامیاب و کامران کردیتی ہیں ایسے ہی مرد مومن کی تعریف علامہ اقبال (رح) نے یوں کی ہے۔
خاکی و نوری نہاد بندہ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بےنیاز
(اقبال)
اتنا کچھ بتا چکنے کے بعد رب العٰلمین حکم دیتا ہے۔ تو تم اپنے خدائے بزرگ کی تسبیح کرو۔ (74) کون ہے جو نافرمانی کرسکے گا ؟ سوائے ان لوگوں کے جو اس راہ مبارک پر آنا ہی نہیں چاہتے اور جن کے دل، ضمیر اور روحیں مردہ ہوچکے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کو اپنے بد ترین انجام کے لیے تیار رہنا چاہیے جو ان کو موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ملے گا۔ ضرور ملے گا کیونکہ یہ اس رب بزرگ و برتر کا قول ہے جس نے اس کو پیدا کیا جس کے ہاتھ میں اس کی موت ہے اور جو بڑا سخت حساب لینے والا ہے۔ اور یہ سب قرآن پاک میں درج ہے۔ قرآن پاک کی فضیلت کے بارے میں اگلی آیات ملاحظہ ہوں۔
Ayahs 56:75–82قرآن کی اہمیت، برکت اور سچائی
تشریح :۔ ان آیات میں قرآن پاک کی فضیلت اور اس کی سچائی کے بارے میں قسم کھاتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی اس قسم کھانے کے مضمون کے مطابق بہت سی سورتیں گز رچ کی ہیں۔ یہاں کیونکہ کفار کی خصلت بد کا پہلے ذکر آیا تھا جس کے مطابق وہ قرآن پاک کو آسمانی کتاب ماننے سے انکار کرتے تھے تو اس آیت میں فَلَآ ' انہیں کے واسطے سے بولا گیا ہے یعنی ' پس نہیں یہ کتاب نہ تو معمولی ہے نہ محض کہانت ہے بلکہ اس کی سچائی کے لیے ہم ( اللہ ) قسم کھاتے ہیں ستاروں کے مواقع کی۔ اب پہلے فلا کی توضیح تفسیر ابن کثیر کے حوالے سے کی جا رہی ہے ملاحظہ ہو۔ لکھا گیا ہے۔ ' بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر لا زائدہ ہے۔ اور انہ لقران الخ جواب قسم ہے، اور لوگ کہتے ہیں ' لا کو زائد بتلانے کی کوئی وجہ نہیں کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے، جبکہ جس چیز کی قسم کھائی جائے وہ منفی ہو۔
جیسے حضرت عائشہ ؓ کے اس قول میں کہ ' لا واللہ الخ ' ترجمہ اللہ کی قسم رسول کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ میں لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا۔ اس طرح یہاں بھی ' لا ' قسم کے شروع میں مطابق قائدہ ہے نہ کہ زائد۔ تو کلام کا مقصود یہ ہے کہ تمہارے جو خیالات قرآن کریم کی نسبت ہیں کہ یہ جادو ہے یا کہانت ہے۔ غلط ہیں بلکہ یہ پاک کتاب کلام اللہ ہے۔ پہلے ہم اس چیز کی وضاحت کرتے ہیں جس کی قسم کھائی گئی پھر اس کی وضاحت کریں گے جس چیز یعنی قرآن کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لیے کھائی گئی۔ ستاروں کے ٹھیک جگہ ہونے کی خصوصیات کا مطالعہ، یہ کیونکہ سماوی فزکس کا مضمون ہے۔ لہٰذا اس کی وضاحت کے لئے ہم ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی کتاب سے رجوع کرتے ہیں لکھتے ہیں۔
آسمانی طبیعیات کے علم نے پچھلے پندرہ سالوں میں ستاروں کی جگہوں اور مقامات کے بارے میں کیا کیا دریافتیں کی ہیں۔ کائنات میں ایسی جگہیں ہیں جنہیں روسی سائنسدان ' ستاروں کے مقامات کہتے ہیں اور مغربی سائنسدان انہیں سفید غار یا سیاہ غار کہتے ہیں۔ آسمانی طبیعیات کے علم میں ترقی کی وجہ سے پچھلے پندرہ سالوں میں سائنس نے ہمیں ستاروں، سیاروں یا انجم کی کائنات کی معلومات بہم پہنچائی ہیں اس سلسلے میں دو قسم کے مواقع یا جگہیں کائنات میں پائی جاتی ہیں جو ستاروں کی خصوصیات نہـیں رکھتیں۔
(1) سفید شگاف یا کو ثرز
(2) کالے شگاف یا غار
پہلا سفید شگاف :۔ یہ انجم کی جگہ یا موقعہ ایک ناقابل یقین مقدار میں طاقت کا ذخیرہ ہوتا ہے اور یہ اپنی طاقت کی وجہ سے اربوں ستاروں کا گچھا بناتے ہیں۔ کچھ سائنسدان ان کو ثرز کو کہکشاں کے بیج تصور کرتے ہیں جن سے مزید اجرام فلکی نکلتے ہیں۔
دوسرا سیاہ شگاف : یہ شگاف اس جگہ کی نشان دہی کرتے ہیں جو اس ستارے کے فنا ہوجانے سے خالی رہ جاتے ہیں۔ گویا کہ ستارے کا مقبرہ ہے جو ہر چیز کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔
مزید لکھتے ہیں کہ ' ستارے کے فنا ہونے یا مرجانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ توانائی جو اس کے حجم کو قائم رکھے ہوئے تھی ختم یا خرچ ہوچکی ہے۔ جیسے ہی ایک ستارہ مرتا ہے وہ اپنے ہی کشش ثقل سے اس قدر بھنچ کر یا دب کر اتنا چھوٹا ہوجاتا ہے کہ صرف ایٹموں کے نکلائی ہی رہ جاتے ہیں۔ مزید لکھتے ہیں کہ :
اوپن ہائمر اور سنیڈر نے اس کی سائنسی توجیہات دی ہیں اور ان کو (نکتوں کو) کائنات میں توازن کے علاقے کہا ہے۔ ایک ستارے کا توازن ایک طرف تو نکلائی رد عمل کی وجہ سے پھیلاؤ اور دوسری طرف شدید ثقل کی موجودگی سے قائم ہوتا ہے۔ کائنات میں اربوں کھربوں کی تعداد میں ستاروں کا توازن ایک ناقابل یقین کمپیوٹری نظام پر قائم ہے۔ ایک نظریہ کے مطابق نکلائی ردعمل بھی کئی ثریاؤں یعنی ستاروں کے جھرمٹوں کے لیے بیج کا کام دیتا ہے۔
پھر ایک حدیث مبارکہ بیان کر رہے ہیں۔ ' پیارے نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اپنے بچوں کو سورة واقعہ پڑھاؤ اور وہ اپنے بچوں کو پڑھائیں '۔ کیا اللہ کا یہ معجزہ اب صاف نظر نہیں آتا، اس سورة کو پڑھیں اور نتیجتاً اس آیت کو ایک نسل سے دوسری نسل کو پڑھائیں۔ آخر میں یہ انتہائی اہم کائناتی راز بےنقاب ہوجائے گا۔ اس سورة مبارکہ کا نام ہی اس آیت کی تشریح میں خدائی طور پر اثر انداز ہے۔ ہم نے اوپر اس آیت کو کائناتی طبیعیات کے نقطہ نظر سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ قرآن پاک کی حقانیت، کاملیت اور علم و فضل کے مجموعہ ہونے کے بارے میں موصوف نے بہت خوب لکھا ہے ملاحظہ ہو۔ '
کائنات میں مخلوقات کے ہجوم کھربوں ستاروں کے راز، انسانی ذہن کے لئے بعید از قیاس نہیں، مگر قرآن مجید میں ان کے حجم اور ساخت کو بعض اوقات تفصیلاً اور بعض اوقات دوسری طرح سے بیان کیا گیا ہے۔ صرف ایک ہی سوال ہے اور ایک ہی راز کہ قرآن کی طرف دل کی آنکھ کھلی رکھی جائے۔ مثال کے طور پر ہوسکتا ہے ہم دیکھیں تو ایک صاف دل مومن اس آیت مبارکہ کے پڑھے جانے پر رو رہا ہو اگرچہ وہ عربی بھی نہیں جانتا اور نہ ہی اس نے طبیعیات پڑھی ہے۔ وہ اپنی حالت سے خود بھی غافل ہوسکتا ہے۔ مگر دل کی آنکھ کو ایک راز بتا دیا گیا ہے جو اس کے خاص اور پاکباز ہونے کی وجہ سے ہے۔ ' (ازقرانی آیات اور سائنسی حقائق)
بہت خوب سبحان اللہ جزک اللہ ۔ مصنف نے بڑے پیارے انداز سے قرآن کی فضیلت اور اس خزانے کو حاصل کرنے کا طریقہ بھی سمجھا دیا ہے اور وہ ہے، خلوص توجہ اور باقاعدگی سے ذکر الہٰی۔ جب ذکر الہٰی سے مومن کا دل چمک اٹھے تو پھر معرفت الٰہی کے انوار پھوٹنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر الیگزنڈر کا نن اپنی کتاب میں لکھتا ہے :
جو شخص اللہ کی ذات میں محو ہوجاتا ہے وہ اس سے ایک ایسا رابطہ قائم کرلیتا ہے جو ایک غیب بین کو نوری خط کی صورت میں نظر آتا ہے۔ اللہ اس نوری تعلق کو محسوس کرتا ہے اور جواباً ایسی کہربائی لہریں بھیجتا ہے جو بندے تک پہنچ کر مسرت میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ (از مطالعہ قرآن مصنف میجر جنرل غلام محمد ملک)
تلاوت قرآن کے آداب میں سے ایک کا یوں ذکر کیا گیا ہے اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں۔ (آیت 79) اور بد نصیب کفار کو تنبیہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اپنا حصہ تم یہی لیتے ہو کہ اسے جھٹلاتے رہو۔ (آیت 82) جب کہ وہ سچ ہے۔
دو روزہ زیست غنیمت ہے ذکر حق کرلے
بدن میں جان، دہن میں زبان رہے نہ رہے
Ayahs 56:83–96زندگی کا فائدہ اٹھاؤ اور آخرت کماؤ
تشریح : پورا قرآن پاک ہی حکمت و دانائی سے بھرا پڑا ہے۔ اسی طرح یہ آیات بھی معرفت الہٰی کو واضح کرنے اور توحید کے مطلب کو واضح کرنے کے لیے دلیل دے رہی ہیں۔ اللہ کی حاکمیت، وحدانیت، عظمت و طاقت اس وقت ہر جاہل و عالم پر پوری طرح عیاں ہوجاتی ہے جب وہ اپنے سامنے اپنے عزیز رشتہ دار اور دوست احباب کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اس وقت بالکل بےبس ہوتے ہیں کیونکہ یہ معاملہ صرف اس بندے اور اس کے خالق کا ہوتا ہے۔ پھر اس کے مرجانے کے بعد کا تمام معاملہ بھی خالق اور اس کے درمیان ہوتا ہے جیسا کہ آیات 88 سے 96 تک بیان کیا گیا ہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اللہ کی قربت حاصل کرنے کا طریقہ کچھ یوں بھی واضح کیا جاسکتا ہے۔
جیسا کہ جناب سید حسین نصر صاحب نے لکھا ہے۔ ' کسی نے ایک صوفی سے پوچھا ' خالق کے وجود کی کیا دلیل ہے ؟ جواب دیا، ' میرے لیے چراغ کی جگہ صبح کا وجود ہی اس کے ہونے کی دلیل ہے۔ ایک دوسرا شخص کہتا ہے وہ شخص جو حق کی تلاش کے لیے دلیلیں تلاش کرتا پھرتا ہے وہ ایسا ہے جیسے کوئی سورج کو چراغ لے کر تلاش کرنے نکلے۔ '
اصل میں نور معرفت اچانک انسان کے دل کو منور کردیتا ہے بس ذرا علم و عرفان، توجہ اور جستجو کی ضرورت ہوتی ہے پھر جس پر اللہ مہربان ہوجائے۔ اسی سلسلے میں مصنف موصوف مزید لکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمر ؓ نے کہا ' میرے دل نے اللہ کو دیکھ لیا ہے ' اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کہا اگر نقاب اٹھ بھی جائے تو میرا ایمان اس سے زیادہ نہیں بڑھے گا اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانوں کے لیے سعادت کبریٰ سے بڑھ کر کوئی اہم چیز نہیں۔ تمام باتیں سعادت کے مقابلے میں کم تر ہیں۔ سعادت کو حاصل کرنے کا سب سے بڑا وسیلہ علم معرفت ہے۔ جب اللہ کی معرفت کا نور حاصل ہوجاتا ہے تو فطرت انسانی خود بخود پاک صاف اور روشن ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ موصوف مزید لکھتے ہیں ' رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ' مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور کی مدد سے دیکھتا ہے۔ اور حضرت عمر ؓ کے بارے میں فرمایا ' بیشک سکون عمر کی زبان سے بولتا ہے مزید لکھتے ہیں اور ایسا شخص جو سکون کے عالم میں ہو سکون و سرخوشی سے مالا مال ہوتا ہے اور روحانی دنیا کے مدارج طے کرتا ہے۔ (از اسلام میں سائنس اور تہذیب) ۔
جب ہم اس موضوع کو زیادہ قریب سے دیکھتے ہیں تو پھر ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ معرفت الٰہی کے مختلف مدارج ہیں اور اہل ایمان کے مختلف مراتب ہیں۔ جو ذاتی محنت اور مجاہدہ سے حاصل ہوسکتے ہیں۔ اور جیسے جیسے معرفت الٰہی سے بلند درجات حاصل ہوتے جائیں اسی قدر زیادہ انسان میں تقوی، انسانیت اور انسانی کردار میں پختگی، سچائی، عقیدت، محبت، خوف الہٰی، اور بندگی الہٰی کا جذبہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہی ہیں وہ خاص نکات جو الہ العٰلمین اپنے بندوں پر ہر طرح سے واضح کرنا چاہتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ پس اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرتے رہو۔ آیت 96 اسی میں اللہ کی شان برتری اور بندے کی شان عجزو نیاز ہے۔ بس یہی تعریف ہے مالک الملک اللہ جل شانہ کی اور نائب الٰہی ابن آدم و حوا کی۔
دیر و حرم کی کشمکش ہوگی کہیں یہاں نہیں
تیری قیام گاہ سے آگے کوئی جہاں نہیں
(انجم بدایونی)
خلاصہ سورة الواقعہ
یہ سورت بھی اپنے مضمون، ترتیب اور جامعیت کے لحاظ سے ایک مثالی کلام کی حیثیت رکھتی ہے۔ بندے اور اللہ کا تعلق مالک اور غلام کا ہے جو بھی اس سے سرکشی کرے گا بالآخر سزا ضرور پائے گا اور جو فرمانبرداری کرے گا بہترین انعامات پائے گا۔ اللہ تو رحمن و رحیم ہے۔ بندہ جس وقت گناہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر چار احسان فرماتا ہے۔
1 ۔ انسان کا رزق بند نہیں کرتا۔
2 ۔ اس کی تندرستی نہیں چھینتا۔
3 ۔ گناہ کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ (دنیا میں)
4 ۔ فوراً عذاب نہیں کرتا۔
اس رحمن و رحیم کی شان میں حمد ملاحظہ کیجیے۔
مہ و ستارہ ہیں تجھ سے یہ کہکشاں تجھ سے
بہار تجھ سے ہر ایک صبح گلستان تجھ سے
میرے خدا یہ زمین تجھ سے آسمان تجھ سے
ہے سجدہ ریز تیرے در پہ گردش ایام
تجھی سے رنگ فنا ہے تجھی سے رنگ دوام
ثبات تجھ سے زمانے کو ہے اماں تجھ سے
خیال و فکر کا ایک ایک کارواں تجھ سے