56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 56:7–57

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اور تم تین قسم کے ہوجاؤ

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

تو داہنے ہاتھ والے سبحان اللہ ، داہنے ہاتھ والے کیا ہی چین میں ہیں

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور بائیں ہاتھ والے ؟ کیا برے لوگ ہیں بائیں والے۔

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

اور جو آگے بڑھنے والے ہیں ! ان کا کیا کہنا، وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

وہی اللہ کے مقرب ہیں

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

نعمتوں کے باغوں میں

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

زیادہ ہیں پہلوں میں سے

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

قیمتی پتھروں سے جڑاؤ تختوں پر۔

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے۔

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

نوجوان خدمت گزار لڑکے جو ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہیں گے ان کے آس پاس پھریں گے

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

یعنی آبخورے اور آفتابے اور صاف شراب کے گلاس لے کر

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

اس (شراب) سے نہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ ان کی عقلیں زائل ہوں گی

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور پرندوں کا گوشت جس کی ان کو خواہش ہو

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں۔

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

جیسے صدف کے اندر چھپے ہوئے آبدار موتی۔

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے اور نہ گالی گلوچ

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

مگر ہر طرف سلام ہی سلام ہوگا۔

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور داہنے ہاتھ والے سبحان اللہ، داہنے ہاتھ والے کیا ہی عیش میں ہیں

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

یعنی بغیر کانٹوں کی بیریوں کے درختوں

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

اور تہہ بہ تہہ کیلوں۔

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

اور لمبے لمبے سایوں

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

اور پانی کے جھرنوں

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

اور بیشمار میووں کے باغوں میں۔

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ کوئی ان سے روکے۔

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اور اونچے اونچے بچھونوں میں۔

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

ہم نے ان حوروں کو پیدا کیا۔

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

اور ان کو کنواریاں بنایا۔

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

شوہروں کی پیاریاں اور ہم عمر

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

یعنی داہنے ہاتھ والوں کے لیے

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

یہ بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہیں

وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:40 in the Quran reader

اور بہت سے پچھلوں میں سے

وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ Open ayah 56:41 in the Quran reader

اور بائیں ہاتھ والے ؟ افسوس بائیں ہاتھ والے کیا ہی عذاب میں ہیں۔

فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:42 in the Quran reader

یعنی دوزخ کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی میں

وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍۙ Open ayah 56:43 in the Quran reader

اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں

لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ Open ayah 56:44 in the Quran reader

جو نہ ٹھنڈا ہے اور نہ خوشنما

اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ Open ayah 56:45 in the Quran reader

یہ لوگ اس سے پہلے عیش نعیم میں پڑے ہوئے تھے

وَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 56:46 in the Quran reader

اور بڑے سخت گناہ پر اڑے ہوئے تھے۔

وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 56:47 in the Quran reader

اور کہا کرتے تھے کہ بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے اور ہڈیاں ہی ہڈیاں رہ گئے تو کیا ہمیں پھر اٹھنا ہوگا ؟۔

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 56:48 in the Quran reader

اور کیا ہمارے باپ دادا کو بھی ؟

قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 56:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ بیشک پہلے اور پچھلے

لَمَجْمُوْعُوْنَ١ۙ۬ اِلٰى مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 56:50 in the Quran reader

سب ایک روز، مقرر وقت پر جمع کئے جائیں گے

ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ Open ayah 56:51 in the Quran reader

پھر تم اے جھٹلانے والے گمراہو !

لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ Open ayah 56:52 in the Quran reader

تھوہر کے درخت کھاؤ گے

فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ Open ayah 56:53 in the Quran reader

اور اسی سے پیٹ بھرو گے۔

فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ Open ayah 56:54 in the Quran reader

اور اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے۔

فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ Open ayah 56:55 in the Quran reader

اور پیو گے بھی اس طرح، جس طرح پیاسے اونٹ پیتے ہیں۔

هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 56:56 in the Quran reader

جزا کے دن یہ ان کی ضیافت ہوگی

نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ Open ayah 56:57 in the Quran reader

ہم نے تم کو پہلی بار بھی تو پیدا کیا ہے تو تم دوبارہ اٹھنے کو کیوں سچ نہیں سمجھتے ؟

تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے کہ درس قرآن کی تفسیر پر یقین کرلیا جائے۔ لکھتے ہیں کہ جو سب سے پہلے ایمان لائے انکے درجے سب سے بلند ہوں گے، ان کا درجہ اللہ کے قریب ہوگا ان میں پہلے زمانے والوں کی تعداد زیادہ ہوگی اور پچھلوں کی کم ' (جلد ساتویں صفحہ 88) ۔ جیسا کہ ظاہر ہے اللہ کے مقبول ترین اور جنت میں اعلیٰ ترین درجات کے وارث یہ سب سے اگلا گروہ ہوگا۔ پھر دوسرا درجہ دائیں ہاتھ کے گروہ کا ہوگا وہ بھی جنت کے وارث ہوں گے مگر دوسرے درجہ کی جنت ملے گی اور پھر بائیں ہاتھ والا گروہ یہ تو بالکل بد نصیب گناہ گاروں کا گروہ ہوگا جن کے لیے دوزخ کی سختیوں اور آخرت کی بد نصیبوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ محض قصہ کہانی نہیں بلکہ قرآن پاک اور احادیث میں ان تمام حقیقتوں کو بڑے واضح طور پر کئی مرتبہ بیان کیا جا چکا ہے۔ اور اس کا ثبوت ہماری یہ زندگی ہے۔ اور اس دنیا کے ہر قسم کے آرام و آسائش ہیں۔ تو آخرت میں ہمیں اپنے اس مادی جسم کے ساتھ نیک اعمال کے بدلے میں اس جہاں سے زیادہ آرام و آسائش اور راحت و سکون کیوں نہیں دیا جاسکتا ؟ بندے کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ اس فانی زندگی میں ہمیشہ رہنے والی بہترین آرام و آسائش کی زندگی کا خیال کرے اور ہر دم اس آخرت کی زندگی کے لیے نیک اعمال واطوار اپنائے۔ اس زندگی اور آخرت کی زندگی کے درمیان ایک مرحلہ آتا ہے۔ جسے عالم برزخ کہا گیا ہے روایات شاہد ہیں کہ اس دوران روح اور جسم کا رشتہ قائم رہتا ہے۔ مثلاً روایت ہے جو شخص اپنے کسی شنا سا کی قبر سے گزرے اور اسے سلام کہے، تو حق تعالیٰ اس کی روح کو لوٹا دیتے ہیں، اور وہ اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔ (اضواء البیان) اسی ضمن میں کچھ احادیث ملاحظہ ہوں۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے پوچھا ' جانتے ہو قیامت کے روزکون لوگ سب سے پہلے پہنچ کر اللہ کے سایہ میں جگہ پائیں گے ؟ لوگوں نے عرض کیا، اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا وہ جن کا حال یہ تھا کہ جب ان کے آگے حق پیش کیا گیا تو انہوں نے قبول کرلیا۔ جب ان سے حق مانگا گیا تو انہوں نے ادا کردیا اور دوسروں کے معاملے میں ان کا فیصلہ وہی کچھ تھا جو خود اپنی ذات کے معاملہ میں تھا (مسند احمد) ۔ اسی طرح آیات 36-35 اور 37 کی مناسبت سے عورتوں کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا۔ ابن ابی حاتم نے حضرت سلمہ ؓ عنہابن یزید کی یہ روایت نقل کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا۔ اس سے مراد دنیا کی عورتیں ہیں خواہ وہ با کرہ مری ہوں یا شادی شدہ۔ ہم سن ہونے کی وضاحت حدیث کی روشنی میں یوں کی گئی ہے۔ حدیث میں آتا ہے۔ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو ان کے جسم بالوں سے صاف ہوں گے مسیں بھیگ رہی ہوں گی مگر داڑھی نہ نکلی ہوگی، گورے چٹے ہوں گے، گٹھے ہوئے بدن ہوں گے، آنکھیں سر مگین ہوں گی، سب کی عمریں 33 سال کی ہوں گی۔ (مسند احمد مرویات ابی ہریرہ ؓ اب ذکر ہوجائے بائیں طرف والے گروہ کا۔ جیسا کہ مذکورہ آیات میں ان کا حال بیان کیا گیا ہے۔ انتہائی خوف ناک، درد ناک اور دل کو ہلا دینے والا نقشہ کھینچا گیا ہے جس قدر خوبصورت زندگی جنت حاصل کرنے والوں کی ہوگی اس قدر بھیانک زندگی بائیں ہاتھ والے یعنی دوزخ میں جانے والوں کی ہوگی۔ اس کو احادیث میں یوں واضح کیا گـیا ہے۔ تھوہر جو دوزخیوں کی غذا ہوگی اس کے بارے میں فرمایا، اگر زقوم (تھوہر) کا ایک قطرہ بھی دنیا میں گر پڑے تو دنیا والوں کے لیے ان کی زندگی اور رہائش کو برباد کر دے۔ پھر بھلا اس کا کیا حال ہوگا ؟ جس کا کھانا ہی یہ درخت ہوگا۔ (ترمذی /4، ابن ماجہ، زہد /38، احمد /301) ۔ جہنم کی آگ کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس آگ کو تم جلاتے ہو، دوزخ کی آگ کی گرمی کے سترویں حصہ میں سے ایک ہے۔ اس پر صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم یہی کافی تھی، فرمایا اس سے 69 واں حصہ اس میں گرمی زیادہ ہے۔ (متفق علیہ الفاظ مسلم کے ہیں، بخاری ) ۔ اسی طرح دوسری حدیث ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ' کیا تم دنیا کی آگ کی طرح جہنم کی آگ کو بھی سرخ سمجھتے ہو ؟ بلکہ وہ تو کو لتار سے کہیں زیادہ سیاہ ہے۔ (موطا =156/3) جنتیوں کی خوبصورتی کے مقابلہ میں دوزخیوں کی بد صورتی کا حدیث میں یوں ذکر کیا گیا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یعنی ان کو آگ بھون دے گی، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اوپر والا ہونٹ سکڑ کر سر کے بیچ میں آلگے گا اور نچلا ہونٹ ناف تک لمبا ہوجائے گا (احمد 88/3 ترمذی جہنم 59) ۔ ایک اور حدیث شریف میں دوزخیوں کا حال یوں بیان کیا ـگـیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا، بعض دوزخیوں کو آگ ٹخنوں تک پکڑ لے گی، بعض کو گھٹنوں تک، بعض کو کمر تک، بعض کو گردن تک اور بعض کو ہنسلی تک (مسلم 150/8) ۔ کس قدر زبردست عذاب ہے منکرین اور کافروں کے لیے۔ ' اے رب ہمارے ! ہمیں دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا ( سورة البقرہ آیت 201) ۔ کفار کو تنبیہ کی گئی ہے۔ ' ہم نے تم کو پہلی بار بھی تو پیدا کیا ہے پھر تم دوبارہ اٹھنے کو کیوں سچ نہیں سمجھتے '۔ (آیت 57)