60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 60:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

اے ایمان والوتم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست نہ بنا لینا کہ ان سے محبت کا اظہار کرنے لگو درآنحالیکہ تمہارے پاس جو (دین) حق آچکا ہے اس کے وہ منکر ہیں رسول کو اور خود تم کو اس بناء پر شہر بدر کرچکے ہیں کہ تم اپنے پروردگار اللہ پر ایمان لے آئے ہو، اگر تم میرے راستہ میں جہاد کرنے اور میری رضا کی تلاش میں نکلے ہو،1۔ تم ان سے چپکے چپکے محبت کرتے ہو، اور مجھے خوب علم ہے جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرکے کرتے ہو، اور جو کوئی تم میں سے ایسا کرے گا، وہ راہ راست سے بھٹک گیا،2۔

1۔ اس فقرہ (آیت) ” ان کنتم “۔ الخ کا تعلق آیت کے پہلے حکم (آیت) ” لاتتخذوا عدوی وعدوکم “۔ سے ہے۔ یعنی اگر تم واقعی رضاء کی طلب اور ہماری راہ میں جہاد کو نکلے ہو، تو ان دشمنان دین سے دوستی اور محبت کا برتاؤ کیسا ؟ (آیت) ” عدوی “۔ یعنی اللہ اور اس کے دین سے بیر رکھنے والے (آیت) ” عدوکم “۔ یعنی امت اسلامی سے اس کے اسلام کی بناء پر بیر رکھنے والے۔ (آیت) ” تلقون الیھم بالمودۃ “۔ یعنی دلی محبت ودوستی رکھنا تو خیر الگ ہے، ان دشمنان خدا ودشمنان امت سے عملی برتاو ابھی دوستوں کا سا رکھنا کب روا ہے۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا “۔ اس خطاب کے معا بعد ذکر بعض مسلمانوں کے ایک گناہ کبیرہ کا یعنی دشمن سے مکاتبت ومراسلت کا آرہا ہے، لیکن اس ارتکاب کبیرہ کے بعد بھی مومن مومن ہی رہا، دائرہ ایمان سے خارج نہیں ہوگیا۔ اور یہیں سے اہل سنت کو خوارج کے مقابلہ میں یہ دلیل ہاتھ آئی کہ مومن کبیرہ کے بعد بھی مومن ہی رہتا ہے۔ وفیہ دلیل علی ان الکبیرۃ لاتسلب اسم الایمان (مدارک) (آیت) ” ان تؤمنوا “۔ یعنی اخراج کی علت تمہارا یہی ایمان باللہ ہے۔ تعلیل لیخرجون (مدارک) فقہاء نے آیت سے یہ بھی نکالا ہے کہ مال واولاد کے تحفظ کے خیال سے تقیہ جائز نہیں۔ وفی ھذہ الایۃ دلالۃ علی ان الخوف علی المال والاولاد لایبیح التقیۃ فی اظھار الکفروانہ لایکون بمنزلۃ الخوف علی نفسہ (جصاص) وما ذکرناہ یدل علی صحۃ قولنا ویدل علی ان الخوف علی المال والاھل لا یبیح التقیۃ ان اللہ فرض الھجرۃ علی ال مومنین علم یعذرھم فی التخلف لاجل اموالھم واھلھم (جصاص) (آیت) ” وقد .... الحق “۔ یہ تشری مزید ہے (آیت) ” عدوی “ کی۔ ؛ (آیت) ” یخرجون .... ربکم “۔ یہ تشریح مزید ہے (آیت) ” عدوکم “۔ کی۔ (آیت) ” ان کنتم خرجتم “۔ یعنی اپنے اپنے گھروں سے یہ مقاصد حصول رضائے الہی و جہاد فی سبیل اللہ لے کر نکلے ہو۔ (آیت) ” بالمودۃ “۔ ب زائدہ تاکید کے لئے ہے۔ الباء زائدۃ مؤکدۃ للتعدی (مدارک) 2۔ (اور بھٹکے ہوؤں کا جو انجام ہونا ہے وہ بھی خوب معلوم ہے) (آیت) ’ تسرون الیھم بالمودۃ “۔ اس اخفاء سے شبہ ان کے ساتھ دوستی اور خصوصیت کا ہوتا ہے اور اس لئے یہ اور بھی برا ہے۔ حاطب ابن ابی بلتعہؓ یمنی ثم مکی ایک بڑے صحابی تھے، بدری مرتبہ کے، خود تو ہجرت کرکے مدینہ آگئے تھے، خاندان سارا مکہ ہی میں تھا، فتح مکہ سے ذرا قبل اپنے خاندان والوں کو خط لکھا کہ عنقریب مکہ پر چڑھائی ہونے والی ہے۔ آنحضرت ﷺ کو وحی الہی سے خبر ہوگئی، آپ ﷺ کے حکم سے وہ عورت پکڑ آئی، جو چھپا کر خط لئے جارہی تھی، حضرت حاطب ؓ نے اپنے بیان میں کہا کہ ” میری نیت بری نہ تھی، میں نے تو محض یہ سمجھ کر لکھا تھا کہ اسلام کا اس سے کوئی ضرر نہیں۔ آپ ﷺ کو فتح تو بحمد اللہ ضرور ہی ہو کر رہے گی، ہاں میری اس اطلاع سے اہل مکہ ضرور میرے احسان مند ہوجائیں گے، اور میرے خاندان والوں کی رعایت کریں گے کہ مجھ پر پردیسی اور میرے خاندان کا اہل مکہ پر کوئی حق قرابت وغیرہ بھی نہیں۔ آپ ﷺ نے ان کے حسن نیت کی تصدیق کرکے فرمایا کہ تم سچے ہو، بلکہ جب حضرت عمر ؓ نے اپنے عام جوش دینی کے تحت میں اس دفعہ کانفاذ کرانا چاہا بھی جو دشمن سے مل جانے والوں اور انہیں خبر پہنچانے والوں کے لئے ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو بدری ہیں اور تمہیں معلوم نہیں کہ اہل بدر کے خلوص و ایمان کی جانچ خود اللہ تعالیٰ کرچکا ہے۔ حضرت حاطب ؓ پر صحابی اور پھر بدری صحابی ہونے باوجود جو اتنی سخت گرفت ہوئی، اس سے ظاہر ہے کہ شریعت اسلامی میں دشمن حربی سے خط و کتابت رکھنا یا تعلقات قائم رکھنا کس درجہ شدید جرم ہے ! (آیت) ” وانا ..... اعلنتم “۔ حق تعالیٰ کی صفت عالم الغیبی کا استحضار کرا کے اوپر اشارہ کردیا کہ یہ تو مانع مزید ہونا چاہئے تمہارے اور ان دشمنان دین کے درمیان خفیہ دوستی کا۔ (آیت) ” بالمودۃ۔ ب سببیہ بھی قرار دی گئی ہے۔ یعنی تم نے یہ جو خبر دی تو بسبب محبت کے۔ اے بسبب المودۃ (مدارک) الاخبار بسبب المودۃ (بیضاوی)
Ayah 60:2

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

اگر انہیں تم پر دسترس ہوجائے تو اظہار عداوت کرنے لگیں، اور تم پر برائی کے ساتھ دست درازی اور زبان درازی کرنے لگیں اور وہ تو یہ چاہتے ہی ہیں کہ تم کافر ہوجاؤ،3۔

3۔ غرض یہ کہ یہ کافر تو دنیوی اور دینی ہر اعتبار سے تمہارے دشمن اور بدخواہ ہیں۔ آیت میں مسلمانوں کے ساتھ کافروں کی مستقل دشمنی وعناد اور بدخواہی کا بیان آگیا۔
Ayah 60:3

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

تمہارے رشتہ دار اور تمہاری اولاد تمہارے کچھ کام نہ آئے گی قیامت کے دن (اللہ ہی) تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے،4۔

4۔ (پس ہر عمل کا فیصلہ بھی بالکل ٹھیک ہی ٹھیک کرے گا) (آیت) ” لن ..... القیمۃ “۔ کافروں اور بےدینوں سے تعلقات بڑھانے کا محرک اکثر یہی اہل و عیال کی فلاح ونفع کا خیال ہوتا ہے۔ ! یہاں اسی کی جڑکاٹی ہے۔ یعنی جن عزیزوں قریبوں کی خاطر آج تم اللہ کی نافرمانی کررہے ہو، وہ آخرت میں جو مستقل فیصلہ کا وقت ہوگا تمہیں ذرا بھی نہ بچاسکیں گے۔ (آیت) ’ مرشد تھانویرحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ دنیوی علاقوں، رابطوں کی رعایت معاملات دینی میں ناجائز ہے۔
Ayah 60:4

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

بیشک تمہارے لئے ایک عمدہ نمونہ ہے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے شریک حال لوگوں میں،5۔ جبکہ ان لوگوں نے اپنی قوم والوں سے کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، ان سب سے بیزار ہیں، ہم تمہارے منکر ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لئے عداوت اور بغض ظاہر ہوگیا جب تک کہ تم اللہ واحد پر ایمان نہ لے آؤ جبکہ ان لوگوں نے اپنی قوم والوں سے کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، ان سب سے بیزار ہیں، ہم تمہارے منکر ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان،6۔ البتہ ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ اپنے باپ سے کہا تھا کہ میں تمہارے لئے استغفار ضرور کروں گا، اور مجھے اللہ کے آگے کسی بات کا اختیار نہیں،7۔ اے ہمارے پروردگار ہم تجھ پر توکل کرتے ہیں، اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے،8۔

5۔ یعنی پیروی اس نمونہ حسنہ کی کرو جو ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ مومنین، کافروں اور اعدائے دین کے ساتھ تعلقات رکھنے کے باب میں قائم کرگئے ہیں۔ قرآن مجید اپنے حسب معمول حکم دینے کے ساتھ ساتھ مزید رغبت وشوق پیدا کرنے کے لئے، نیز عمل میں مزید سہولت پیدا کرنے کے لئے ماضی سے عملی نظیریں بھی پیش کرتا جاتا ہے۔ (آیت) ” والذین معہ “۔ حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کے ساتھ یہ معیت یا شرکت ایمان و اطاعت میں تھی۔ 6۔ (اور اس لئے تم سے قولا وفعلا ہر طرح قطع تعلق کرتے ہیں۔ (آیت) ” انا .... بکم “۔ یعنی ہم تمہارے عقائد سے بیزار ہیں، اور تمہارے معبودوں کی الوہیت کے منکر ہیں۔ یہ تبری بلحاظ عقائد ہوئی۔ (آیت) ’ وبدا .... ابدا “۔ یعنی ہمارا، تمہارا برتاؤ بھی دشمنوں کا سا رہے گا۔ یہ تبری بلحاظ، معاملت ومعاشرت ہوئی، عین جس وقت یہ اجزاء تفسیر زیر تحریر ہیں۔ ہندوستان میں ایک شور برپا ہے کہ پیغمبروں نے اپنے منکروں اور مکذبوں تک کو اپنا ہم قوم کہہ کر پکارا ہے۔ اس لئے ہندوستان میں بھی مسلموں اور مشرکوں کو ایک ” قوم “ میں کردینا چاہئے، اور مسلما نوں کو ان سے اس طرح گھل مل جانا چاہئے، جس طرح ایک قوم کے لوگ فرنگستان میں گھلے ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ ! یہ قرآن مجید کے ساتھ کیسا تلعب اور مفہوم ” قوم “ کی کیسی تحریف ہے ! رئیس الموحدین حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) اور ان کے رفقاء مومنین اپنے ” ہم قوم “ کافروں کے ساتھ جو برتاؤ قولا وفعلا رکھتے ہیں، وہ قرآن مجید سے خود ہی پوری طرح ظاہر ہورہا ہے۔ اور تنہا اسی آیت پر موقوف نہیں، قرآن مجید تو اس مضمون کی تاکید اور تصریح سے لبریز پڑا ہوا ہے۔ (آیت) ” حتی ..... وحدہ “۔ یہ قید لگا کر اسے صاف کردیا کہ ہماری تمہاری دشمنی کچھ نسلی تھوڑے ہی ہے، وہ تو صرف عقائد کی بناء پر ہے۔ تم آج شرک چھوڑ کر عقیدۂ توحید اختیار کرلو، تو یہ عداوت ابھی ختم ہوسکتی ہے۔ (آیت) ” العداوۃ والبغضآء “۔ یہ عداوت وبغض اور احکام تبری وقطع تعلق صرف دین سے متعلق ہیں۔ باقی صلہ رحم یا اعزہ و اقرباء کے ساتھ دنیوی حسن سلوک کا حکم الگ ہے، اور وہ بھی نصوص ہی سے ماخوذ ہے۔ (آیت) ” قد .... معہ “۔ آیت اس کا حکم دے رہی ہے کہ کافروں سے دشمنی رکھنے اور ترک موالات کرنے کے باب میں مسلمانوں کو ابراہیم (علیہ السلام) اور ابراہیمیوں کی پیروی کرنا چاہئے۔ امر الناس بالتاسی بھم فی اظہار معاداۃ الکفار وقطع الموالاۃ بیننا وبینھم (جصاص) 7۔ (کہ اس سے اپنی دعاو عرضداشت خواہ مخواہ قبول ہی کرالوں) (آیت) ” لابیہ “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد ازر پر جو مشرک اور بت تراش تھے۔ حاشیے پہلے گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” قول ..... لک “۔ حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کے اس قول کا مطلب یہ ہوا کہ میں حق تعالیٰ سے یہ دعا ضرور کروں گا کہ وہ تمہیں زندگی ہی میں راہ ہدایت دکھادے، تاکہ بعد موت نجات حاصل ہوجائے، یہ مطلب نہیں کہ تمہارے بحالت کفر مرنے پر بھی تمہاری بخشش چاہوں گا۔ اس وعدہ وگفتگو پر حاشیہ سورة البراءۃ کی آیت سے (آیت) ” وماکان استغفار ابرھیم لابیہ “۔ الخ کے تحت میں گزر چکا۔ (آیت) ” الا قول ابراہیم ابیہ “۔ یعنی مشرک باپ کے لئے دعائے مغفرت کرنے میں ابرہیم (علیہ السلام) کی پیروی نہ کرنا، یعنی فی ان لا یتاسوا بہ فی الدعاء للاب الکافر (جصاص) امر اللہ تعالیٰ التاسی بابراھیم فی کل امورہ الافی الاستغفار للاب الکافر (جصاص) اے اقتدوا بہ فی اقوالہ ولا تاسوا بہ فی الاستغفار لابیہ الکافر (مدارک) اے لیس لکم فی ذلک اسوۃ اے فی الاستغفار للمشرکین ھکذا قال ابن عباس ؓ و مجاھد وقتادۃ ومقاتل وابن حبان والضحاک وغیرواحد (ابن کثیر) مرشد تھانوی (رح) نے کیا خوب بات اس موقع پر فرمائی کہ جو بغض فی اللہ ہوتا ہے وہ شفقت و خیرخواہی کو قطع نہیں کرتا، بخلاف بغض نفسانی کے۔ 8۔ (چنانچہ ہماری یہ اپنے ہم قوموں سے اپنے عزیزوں قریبوں سے تبری وقطع تعلق تیرے ہی حکم کی تعمیل میں اور تکمیل دین ہی کے لئے ہے) (آیت) ” ربنا علیک توکلنا “۔ یہاں یہ اشارہ کردیا کہ مسلمان جب اپنی قوم کے کافروں کا بائیکاٹ کریں گے، تو اغلب ہے کہ خود بھی مادی ومالی نقصان اٹھائیں، ایسے موقع پر عمق قلب کے ساتھ تو کل واعتماد حق تعالیٰ ہی پر پیدا کرلینا چاہیے۔
Ayah 60:5

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہمیں کافروں کا تختہ مشق نہ بنانا، اور اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہ معاف کردے، بیشک تو ہی زبردست ہے، حکمت والا ہے،9۔

9۔ (تیرے لئے ہماری اس عرضداشت کو قبول کرلینا کیا مشکل ہے) (آیت) ” لا .... کفروا “۔ یعنی اس مقاطعہ وتبری کے بعد ایسا نہ ہونے پائے کہ یہ کافر ہم کو ہر طرح ستانے اور مصیبت میں ڈالنے پر قادر ہوجائیں۔ (آیت) ” واغفرلنا ربنا “۔ جتنی کو تاہیاں اور لغزشیں ہم سے تیرے ارشاد کی تعمیل میں ہوجائیں، تو ان سب کو معاف اور نظر انداز کرکے ہمیں اپنے دامن رحمت ہی سے وابستہ رکھیو۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ ایسے اسباب فتنہ سے جن سے اہل حق پر اہل باطل کا شبہ ہونے لگے، بچنا ہی عین مطلوب ہے، اور ان میں جو اسباب غیراختیاری ہیں، ان سے بچنے کی تدبیر یہی ہے کہ دعا کریں۔
Ayah 60:6

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

بیشک ان لوگوں میں تمہارے لئے یعنی ایسے شخص کے لئے عمدہ نمونہ ہے جو اللہ اور قیامت کے دن کا اعتقاد رکھتا ہے، اور جو کوئی روگردانی کرے گا، سو اللہ تو (بالکل) بےنیاز ہے اور سزاوار حمد ہے،10۔

10۔ (ہرحال میں اپنے جامع صفات کمالیہ ہونے کی بناء پر۔ (آیت) ” فیھم “۔ ضمیر ھم ابراہیم (علیہ السلام) اور اصحاب ابراہیم (والذین معہ) کی جانب ہے۔ (آیت) ” فیھم اسوۃ حسنۃ “۔ فقہاء نے کہا ہے کہ سنت مصطفوی ﷺ کی طرح سنت ابراہیمی (علیہ السلام) کا اتباع بھی مومنین کے حق میں سرتا سر خیر اور علامات ایمان میں سے ہے۔ (آیت) ” ومن یتول “۔ اور جو کوئی روگردانی اور بےالتفاقی کرے گا اس حکم تبری ومقاطعہ کی تعمیل یا کسی حکم الہی کی بھی تعمیل سے۔ (آیت) ” ھو الغنی “۔ ضرر اس ذات بےنیاز کا بالکل نہیں، ضرر تمامتر اسی نافرمان بندہ کا ہے۔
Ayah 60:7

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

عجب نہیں کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تم سے دشمنی ہے دوستی پیدا کردے، اللہ بڑا قدرت والا ہے اور اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے،11۔

11۔ (چنانچہ اب تک اسی حکم کی تعمیل میں جن سے کو تاہیاں ہوئی ہیں، وہ اگر توبہ و استغفار کرلیں تو اللہ کی مغفرت و رحمت دونوں سے مستفید ہوسکتے ہیں) (آیت) ” عسی ..... مودۃ “۔ یعنی انہیں کافروں اور مسلمانوں کے شدید دشمنوں میں سے بعض کو اسلام کی ہدایت دے دے، حضرت ابوسفیان بن حرب وغیرہ کا اسلام لانا اسی پیشگوئی کے ظہور عملی کی مثال ہے۔ مسلمانوں نے حکم الہی کی تعمیل میں مشرکین سے قطع تعلق کرلیا تو تھا لیکن قرابتوں اور رشتہ داریوں کی بنا پر کسی درجہ میں غم محسوس کرنا بالکل طبعی تھا۔ (آیت) ” واللہ قدیر “۔ تو ایسے قادر مطلق کی قدرت سے یہ بعید ہی کیا ہے۔ فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ جو کافر اہل حرب میں سے نہ ہوں بلکہ ذمی ہوں، ان کے لئے صدقات بالکل جائز ہیں۔ عموم فی جواز رفع الصدقات الی اھل الذمۃ اذلیس ھم من اھل قتالنا (جصاص)
Ayah 60:8

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، بیشک اللہ انصاف کا برتاؤ کرنے والوں ہی کو دوست رکھتا ہے،12۔

12۔ (اور انصاف کا اولین مقتضی یہ ہے کہ ہر شخص سے معاملہ اس کے درجہ وحیثیت کے لائق کیا جائے۔ (آیت) ” ان ..... الیھم “۔ یہاں بر وقسط (حسن سلوک وعدل) سے مراد ان کا عام ومطلق مفہوم نہیں کہ وہ تو بہر صورت ہر انسان بلکہ ہر حیوان کے لئے واجب ہے، بلکہ مراد اس شفقت ورعایت کے برتاؤ سے ہے۔ جو ذمی یا مصالح ہونے کی بناء پر کافر کے ساتھ بھی لازم آتا ہے گو یا بالواسطہ یہاں یہ ارشاد ہوا کہ شفقت ورعایت کا برتاؤ ذمی اور مصالح کے حق میں جائز ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بعض بزرگوں کی جو عادت کافروں سے نرمی، ملاطفت برتنے اور ان کے ہدیے اور تحفے قبول کرلینے کی ہے، اس کی سند یہاں سے نکل آتی ہے۔
Ayah 60:9

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

اللہ تو تمہیں صرف ان لوگوں سے دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جو تم سے دین کے بارے میں لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں مدد کی13 اور جو کوئی دوستی کرے گا ان سے تو یہی لوگ تو ظالم ہیں،14۔

13۔ ایسے محارب کافروں کے ساتھ معاملہ کے احکام ذمیوں اور غیر محاربین کے ساتھ برتاؤ کے احکام سے بالکل مختلف ہیں (آیت) ” قتلوکم فی الدین “۔ یہ قتال خواہ بالفعل واقع ہوچکا ہو یا بالعزم واقع ہونے کو ہو۔ (آیت) ” واخرجوکم ..... اخراجکم “۔ یا اخراج یا معاونت علی الاخراج خواہ بالفعل واقع ہوچکی ہو یا بالعزم واقع ہونے کو ہو۔ (آیت) ” ان تو لوھم “۔ ولایت یا دوستی سے یہاں بھی مراد وہی شفقت ورعایت والا برتاؤ ہے۔ 14۔ (اور حق تعالیٰ کے نافرمان) (آیت) ” الظلمون “۔ یعنی اپنے حق میں ظالم۔ (آیت) ” ومن یتولھم “۔ ولایت یا دوستی کے یہاں بھی معنی دوستی کا عملی برتاؤ رکھنے کے ہیں۔
Ayah 60:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

اے ایمان والو جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو ان کا امتحان کرلیا کرو اللہ ان کے ایمان سے خوب واقف ہے،15۔ پس اگر انہیں مسلمان سمجھ لو تو انہیں کافروں کی طرف مت واپس کرو وہ عورتیں ان (کافروں) کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لئے حلال ہیں،16۔ اور ان (کافروں) کو وہ ادا کردو جو کچھ انہوں نے خرچ کیا ہے،17۔ اور تم کو ان عورتوں سے نکاح کرنے میں کچھ گناہ نہیں تم ان کے مہر ان کے حوالہ کردو اور تم کافر عورتوں کے تعلقات کو مت باقی رکھو،18۔ اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہے وہ ان (کافروں سے) طلب کرلو، اور جو کچھ ان کافروں نے خرچ کیا ہے وہ تم سے مانگ لیں، یہ اللہ کا حکم ہے، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ بڑا علم والا ہے، بڑا حکمت والا ہے،19۔

15۔ (آیت) ” فامتحنوھن ...... بایمانھن “۔ یہاں مسلمانوں سے یہ کہا جارہا ہے کہ جب دار الحرب سے ہجرت کرکے بیویاں تمہارے پاس آئیں تو تم اسکی جانچ کرلیا کرو آیا وہ ظاہری اعتبار سے مومن ہیں بھی۔ اور یہ ظاہر کی جانچ پڑتال انتظامی ضرورتوں اور دنیوی مصلحتوں سے ہے، ورنہ عالم الغیب کو کسی جانچ پڑتال کی کیا حاجت اور پھر ایمان حقیقی کو تحقیق تو بندوں کے بس کی چیز ہے بھی نہیں۔ (آیت) ” اذا .... مھجرت “۔ یعنی جب دارالحرب سے یہ بیویاں تمہارے پاس دارالاسلام حکمی یا حقیقی میں آئیں۔ (آیت) ” ال مومنت .... مومنت “۔ سے مراد اس سیاق میں وہ بیویاں ہیں، جو اپنے کو مسلمانہ کہتی تھیں۔ قرآن مجید نے محض ان کے دعوی اسلام پر انہیں (آیت) ’ ’ مومنت “۔ کے لقب سے یاد فرمایا۔ سماھن مومن ات لنطقھن بکلمۃ الشھادۃ (مدارک) 16۔ (اس لئے کہ نہ مسلمہ کافر شوہر کے عقد میں باقی رہ سکتی ہے، اور نہ حربیہ مسلمان شوہر کے عقد میں۔ (آیت) ” فان علمتموھن مومنت “۔ یعنی اگر وہ عورتیں تمہاری جانچ پڑتال میں مسلمان ثابت ہوجائیں۔ علم یہاں محض ظن غالب کے معنی میں ہے جو ظاہری علامات سے پیدا ہوجاتا ہے۔ وھو الظن الغالب بظھور الامارات (مدارک) المراد بہ العلم الظاھرلاحقیقۃ الیقین لان ذلک لاسبیل لنا الیہ (جصاص) اے العلم الذی یمکنکم تحصیلہ وھو الظن الغالب بالحلف و ظھور الامارات (بیضاوی) فقہاء نے یہیں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ ” اختلاف دارین کی بناء پر زوجین میں تفریق کردی جائے گی ، “ یعنی اس صورت میں کہ زوجین میں سے ایک دارالاسلام میں رہ جائے، اور دوسرا دارالحرب ہی میں رہے۔ وفی ھذہ الایۃ ضروب من الدلالۃ علی وقوع الفرقۃ باختلاف الدارین بین الزوجین واختلاف الدارین ان یکون احد الزوجین من اھل دارالحرب والاخرمن اھل دار الاسلام (جصاص) 17۔ (ان بیویوں پر، مہر وغیرہ کے قسم سے) مسلمان عورت کو کافر شوہر نے جس قدر مہر دیا ہو مسلمان وہ مہر اس کافر شوہر کو واپس کردیں، یہ ادائی مہر خواہ اب نئے مسلمان شوہر کی طرف سے ہو، یا بیت المال سے۔ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ اب یہ حکم باقی نہیں، یہ عارضی طور پر صلح حدیبیہ کے سلسلہ میں تھا۔ 18۔ یعنی جو تمہاری بیویاں دارالحرب میں کفر کی حالت میں رہ گئیں، ان سے تمہارا نکاح زائل ہوگیا، ان کے تعلقات کا کوئی اثر باقی مت سمجھو۔ 19۔ (چنانچہ اس کے یہ احکام بھی اس کی صفات علم و حکمت ہی پر مبنی ہیں) (آیت) ” وسئلوا ماانفقتم “۔ یعنی اپنی ان بیویوں پر جواب تم سے چھوٹ رہی ہیں، ان پر تم نے مہر وغیرہ کے قسم سے جو کچھ خرچ کیا ہے، اس کا مطالبہ ان کافروں سے کرو۔ (آیت) ” واتوھم مانفقوا “۔ ابھی اسی آیت کے اندر اوپر آچکا ہے اب پھر اسی کی تاکید مزید (آیت) ” ولیسئلوا ماانفقوا “۔ سے ہورہی ہے۔ مفسر تھانوی (رح) نے اس سے نکتہ یہ نکالا ہے کہ دوسروں کا حق جو اپنے ذمے رہ جائے وہ زیادہ مؤکد ہے۔
Ayah 60:11

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی بیوی کافروں میں رہ جانے سے تمہارے ہاتھ نہ آئے، پھر (کافروں کو مہر دینے کی) تمہاری نوبت آئے، تو جن کی بیویاں ہاتھ سے نکل گئیں، جتنا (مہر) انہوں نے (ان بیویوں پر) خرچ کیا تھا، اس کے برابر تم ان کو دو ، اور اللہ سے ڈرتے رہو، جس پر تم ایمان رکھتے ہو،20۔

20۔ (اور اسی کے خوف کا استحضار کرکے ہرگز کسی خیانت، تساہل یا چالاکی کے مرتکب نہ ہو) (آیت) ” وان .... فعاقبتم “۔ یعنی نہ ہو بیوی ہی ملے، اور نہ اس کے بجائے اس کے مہر کی رقم ہی تمہیں ملے، یہ عاقبتم۔ عقاب سے نہیں عقب سے ہے، اور مراد یہ ہے کہ تمہاری کوئی بیوی کافروں کے پاس چھوٹ جائے، یا تمہارے ذمہ کسی کا مہر واجب الادا رہ جائے۔ من العقبۃ لامن العقاب وحاصل المعنی ان لحق احدمن ازواجکم بالکفار اوفاتکم شیء من مھورھن ولزمکم اداء المھر کمالزم الکفار (روح) (آیت) ” فاتو ا ..... انفقوا “۔ یعنی یہ رقم واجب الاداء بجائے ان کافروں کو دینے کے ان مسلمان شوہروں کو دے دو ، جو کافر بیویوں اور ان کے معاوضہ مہر وغیرہ کی رقم دونوں سے محروم ہوچکے ہیں۔ ” اگر کفار ایسی عورتوں کا مہر ان کے مسلمان شوہروں کو واپس نہ کریں تو جو مہرکفار کا مسلمانوں کے ذمہ واجب الادا ہے، وہ ان کفار کی جگہ ان مسلمان شوہروں کو دے دیا جائے، برابری کی صورت میں تو کچھ تکلف نہیں، اور کمی بیشی میں یہ حکم تھا کہ جو کفار کا بچے وہ کفار کو دے دیا جائے اور جو اپنا رہے اس کا مطالبہ ان سے کیا جائے، اور یہ حکم بھی مخصوص تھا اسی واقعہ کے ساتھ (تھانوی (رح))
Ayah 60:12

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے پیغمبر جب مسلمان عورتیں آپ کے پاس آئیں کہ آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں کہ اللہ کے ساتھ نہ کسی کو شریک کریں گی اور نہ چوری کریں گی، اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی، نہ کوئی بہتان کی اولاد لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گڑھ لیں مشروع باتوں میں آپ کی نافرمانی نہ کریں گی تو آپ ان کی بیعت کرلیا کیجئے،21۔ اور ان کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کرلیا کیجئے، بیشک اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے22

21۔ (بلالحاظ ان کے تاریک اور گندے ماضی کے) (آیت) ” ان ؛...... شیئا “۔ شرک کے مرض میں تو جاہلیت عرب کی ساری ہی عورتوں مبتلا تھیں، (آیت) ” ولا یسرقن “۔ چوری بھی جاہلیت کے قانون اور رواج میں اس درجہ معیوب وشرمناک نہ تھی۔ (آیت) ” ولا یزنین “۔ حرام کاری تو تہذیب عرب میں اسی طرح داخل فیشن تھی جیسی آج جاہلیت فرنگ کی تہذیب میں ہے۔ (آیت) ’ ولایقتلن اولادھن “۔ اس کے تحت میں دختر کشی واولاد کشی بلکہ اسقاط اور منع حمل کی چلی ہوئی ساری صورتیں آگئیں۔ (آیت) ” ولا .... ارجلھن “۔ عربی محاورہ میں اس کا مطلب ہے اپنی بدکاری کی اولاد کو اپنے شوہر کی اولاد بنا دینا، یا کسی غیر کا بچہ اٹھا لاکر اسے اپنی اور اپنے شوہر کی اولاد مشہور کردینا۔ (آیت) ” ولایعصینک فی معروف “۔ اس کے اندر تمام احکام شرعی آگئے۔ (آیت) ” یبایعنک علی ان “۔ الخ محققین نے کہا ہے کہ بیعت رسول کی ان تمام شرطوں کو اعتقاد کے ساتھ تسلیم کرنا شرط ایمان تھا، اور ان پر عمل کا التزام شرط کمال ایمان۔ 22۔ (وہ ان کے حق میں مغفرت و رحمت دونوں کو کام میں لائے گا) آیت ان غالیوں کے رد کے لئے بالکل کافی ہے۔ جو پیشہ ور بیسوا کے تائب ہونے اور بعد توبہ کسی کے نکاح میں آنے ہی کو ناجائز سمجھتے ہیں۔ (آیت) ” فبایعھن “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت، بیعت کے اغراض ومقاصد کے باب میں بالکل صریح ہے، اور اس سے اس رسمی بیعت کا بطال لازم آتا ہے، جس میں عمل کا اہتمام ہی نہ ہو۔ (آیت) ” استغفرلھن “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ مرید کا یہ ایک حق ہے کہ اس کے حق میں دعا کی جائے ،
Ayah 60:13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

اے ایمان والو ان لوگوں سے دوستی مت رکھو جن پر اللہ نے غضب نازل کیا ہے، وہ آخرت سے ایسے مایوس ہوگئے جیسے قبروں والے کافر مایوس ہیں،23۔

23۔ یعنی جس طرح ملحدین ومنکرین آخرت میتوں اور مردوں کی طرف سے ہر طرح کی آس توڑے رہتے ہیں۔ اسی طرح یہ مغضوب ومقہور قوم یوہد بھی آخرت سے اپنا رشتہ توڑے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” قوما غضب اللہ علیھم “۔ اشارہ یہود کی جانب ہے، انہیں کے لئے قرآن مجید میں دوسری جگہ صراحت کے ساتھ مغضوبیت کا ذکر ہے۔ عن الحسن وابن زید ومنذربن سعید انھم الیھود لانہ عزوجل قد عبر عنھم فی غیر ھذہ الایۃ بالمغضوب علیھم (روح) وھم الیھود (معالم) (آیت) ” یئسوا من الاخرۃ “۔ یہود ایک خالص دینی اور موحد قوم تھی، لیکن رفتہ رفتہ یاد آخرت کو بالکل بھلا چکی تھی، ان کی توریت کے اندر آج بھی جتنے صحیفے اور نوشتے موجود ہیں، سب میں ذکر فلاح دنیوی کا تو کثرت سے ملتا ہے، لیکن اجر آخرت کا تذکرہ تو شاید ڈھونڈنے کے بھی نہ ملے۔ (آیت) ” لا تتولوا “۔ الخ مفسر تھانوی رحمۃ اللہ علیہنے کہا ہے کہ جواز دوستی سے تو مطلق کفر ہی مانع ہے۔ البتہ جس کی گمراہی اشد ہوگی، اس سے دوستی کا عدم جواز بھی اشد ہوگا۔