60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsسراج البیان

Ayahs 60:1–3

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

مومنو ! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست (ف 1) نہ بناؤ تم ان کی طرف محبت سے پیغام بھیجتے ہو اور ان کا حال یہ ہے کہ جو دین حق تمہارے پاس آیا وہ ان کے منکر ہیں ۔ رسول کو اور تمہیں اتنی بات پر جلاوطن کررہے ہیں ۔ کہ تم اپنے رب پر ایمان لائے اگر تم میری اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کو اور میری مرضی کے تلاش میں (اپنے وطنوں سے) نکلے ہو تو انہیں دوست نہ بناؤ۔ تم انہیں دوستی کے چھپے پیغام بھیجتے ہو اور میں خوب جاننا ہوں جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو اور جو کوئی تم میں یہ کام کرے وہ راہ راست بےبہک گیا

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

اگر وہ تمہیں پائیں تو تمہارے دشمن ہوں اور تمہیں ستانے کے لئے تم پر اپنے ہاتھ اور زبانیں چلائیں اور چاہیں کہ کسی طرح تم کافر ہوجاؤ

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے کام آئیں گے اور نہ تمہاری اولاد ۔ وہ تم میں فیصلہ کریگا ۔ اور جو تم کرتے ہو اللہ دیکھتا ہے

سورة الممتحنہ 1: اس سورة کی شان نزول یہ ہے ۔ کہ جب حضور ﷺ نے یہ طے کیا ۔ کہ مکہ میں دس ہزار قدسیوں کے ساتھ داخل ہوں ۔ تو حاطب بن ابی بلقعہ جو ایک صحابی تھے انہوں نے ازراہ بشریت ایک مکتوب مکہ والوں کو لکھا ۔ اور مسلمانوں کے عزائم سے ان کو قبل ازوقت آگاہ کردینے کی نیت سے اس کو ایک عورت کے ہاتھ بھجوادیا ان کی غرض محض یہ تھی کہ اس طرح مکہ والے میرے ممنون ہوں اور لڑائی کے وقت میرے اہل و عیال سے جو مکہ میں تھے ۔ تعرض نہیں کرینگے ۔ یہ یہ ایک نوع کی کمزوری تھی ۔ حاطب سادگی کی وجہ سے اس کے خطرناک نتائج پر متنبیہ نہیں ہوسکے ۔ ان کا خیال تھا ۔ کہ حضور ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں ۔ اس لئے شکست کی تو کوئی وجہ نہیں ۔ البتہ میری اس حرکت سے اتنا ہوگا ۔ کہ میرے بچے محفوظ رہیں گے ۔ اور ان کو کوئی گزند نہیں پہنچے گا ۔ حضور ﷺ کو وحی کے ذریعے اس بات کا علم ہوگیا ۔ اور یہ سازش ناکام رہی ۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور بتایا گیا کے منکرین کے ساتھ اس قسم کے دوستانہ تعلقات کس درجہ مضر اور موزوں ہیں ۔ حل لغات :۔ الجبار ۔ یعنی جبر کرنے والا ضرورتوں اور حاجتوں کو پورا کرنے والا ، خرابی کا درست کردینے والا ۔ متبعین ۔ صاحب خلو و رفعت بڑی عظمت والا اولیاء ۔ جمع ۔ ولی ۔ دوست ۔ دشمنوں سے تعلقات نہ رکھو اس سورت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا ہے ۔ کہ تمہارے دوستانہ تعلقات ایسے لوگوں سے قطعاً استوار نہیں ہوسکتے جو میرے اور تمہارے یکساں دشمن ہیں ۔ جو تمہارے وجود کو اور تمہاری زندگی کو کسی عنوان بھی گوارا نہیں کرتے ۔ یہ محض تمہاری سادگی ہے ۔ کہ تم ان کی طرف محبت کا ہاتھ بڑاتے ہو ۔ اور خلوص اور داد کی دعوت دیتے ہو ۔ ان کی ادا یہ ہے کہ وہ تمہارے مذب کا مضحکہ اڑاتے ہیں اور تمہیں قطعان حق پر نہیں سمجھتے تم نے دیکھ لیا کہ انہوں نے تمہارے پیغمبر کو مکہ سے نکال دیا ۔ محض اس عمل کو پاداش میں کہ تم ان کے بتوں کے سامنے نہیں جھکتے ہو ۔ اور اللہ کو مانتے ہو ۔ جو تمہارا پروردگار ہے ۔ یہ کس قدر ناموزوں بات ہے ۔ کہ جن لوگوں کی عداوت اور دشمنی نے تمہیں ہجرت پر مجبور کیا ۔ جن کے خلاف تم جہاد کے لئے تیاری کررہے ہو ۔ انہیں سے ساز باز کیا جائے ۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو ۔ کہ ہم ان معاملات کو نہیں مانتے ۔ اور ہماری آنکھوں سے یہ واقعات چھپے رہیں گے ؟ ۔ واضح رہے کہ یہ محض غلط فہمی ہے ۔ ہم کو تمہاری ایک ایک حرکت معلوم ہے ۔ چاہے وہ پوشیدہ ہو یا علانیہ یہ اتنا بڑا جرم ہے ۔ کہ اس کو کھلم کھلا گمراہی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔ تم لوگ تو انہیں اپنے اسرار سے مطلع کرتے ہو ۔ محض اس لئے کہ تم کو تقرب حاصل ہو ۔ مگر وہ تمہارے اس درجہ دشمن اور مخالف ہیں ۔ کہ اگر تم ایمان کی نعمت سے یک قلم محروم ہوجاؤ۔ اور پھر کفر کی طرف پلٹ جاؤ۔ اہل و عیال کی محبت میں مکہ والوں کو مدد دینا مسلمانوں کے مفاد کی کس درجہ پامالی ہے ۔ جانتے ہو ۔ قیامت کے دن تمہاری اولاد اور رشتہ دار تمہیں کوئی نفع نہیں پہنچا سکیں گے ۔ اس وقت جس رشتہ کی حاجت ہوگی اور جو محبت کام آئے گی ۔ وہ رشتہ وہ ہوگا ۔ جو مسلمان کا مسلمان کے ساتھ ہے ۔ اور وہ محبت وہ ہوگی ۔ جو مسلمان کی مسلمان کے ساتھ ہے ۔ یہ مادی رشتے اور یہ خون کے لائق ۔ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نہیں بچا سکیں گے ۔ حل لغات :۔ سواء السبیل ۔ راہ راست ینفقوکم ۔ ثقف سے ہے ۔ بمعنی قابو پانا یفصل ۔ جدائی ڈال دے گا ۔ فیصلہ کرے گا ۔
Ayahs 60:4–6

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں تمہارے لئے ایک اچھا نمونہ ہے ۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور اللہ کے سوا جن کو تم پوجتے ہو ان سے الگ ہیں ہم تمہارے منکر ہوئے اور ہم میں اور تم میں ہمیشہ کو عداوت اور بغض ظاہر ہوا ۔ یہاں تک کہ تم اکیلے اللہ پر ایمان لاؤ۔ مگر ابراہیم کا قول اپنے باپ کے لئے (یہ تھا) کہ میں تیرے لئے مغفرت مانگوں گا ۔ اور میں اللہ سے تیرے لئے کسی شئے (ف 1) پر اختیار نہیں رکھتا ۔ اے ہمارے رب ہم نے تجھ پر توکل کیا ۔ اور ہم تیری طرف رجوع لائے اور تیری طرف پھر آنا ہے

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے ہمارے رب ہمیں کافروں کی آزمائش کا ذریعہ نہ بنا اور ہمیں بخش دے ۔ کچھ شک نہیں کہ تو ہی غالب حکمت والا ہے

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

تمہارے لئے یعنی اس کے لئے جو اللہ (کی ملاقات) اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہے ان لوگوں میں نیک نمونہ ہے اور جو کوئی منہ موڑے تو اللہ بےپرواہ قابل تعریف ہے

ف 1: فرمایا کہ حضرت ابراہیم اور ان کے فرمانبرداروں میں تمہارے لئے لائق اقتدار اسوہ ہے ۔ غور کرو ۔ کہ جب وہ مبعوث ہوئے ہیں ۔ ان کے گرد وپیش کی فضا کیسی تھی ؟ کس درجہ شرک کا دور دورہ تھا ۔ پوری قوم بت پرست تھی اور حکومت ان کی پشت پر ۔ مگر انہوں نے پوری جرات کے ساتھ کہہ دیا کہ میں تمہارے ان عقا ئد سے کاملا بیزار ہوں ۔ اور اعلان توحید کے بعد اب میں تمہارا کھلا دشمن ہوں ۔ مجھ سے کسی رعایت کی توقع نہ رکھنا ۔ چنانچہ حضرت ابراہیم کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے ۔ کہ انہوں نے کبھی باطل کے سامنے اور قوت کے مقابلہ میں اپنا سر نہیں جھکایا ۔ اور کبھی مخالفت اور عناد کی پرواہ نہیں کی الا قول ابراھیم سے غرض یہ ہے ۔ کہ تم اپنی کمزوری کے لئے اس مغفرت کی سفارش کو اپنے لئے سند نہ قرار دو ۔ کیونکہ یہ محض وعدہ کی تکمیل تھی ۔ اور اس جذبہ کا اظہار تھا ۔ کہ حضرت ابراہیم اپنی طرح اپنے باپ کو بھی مسلمان دیکھنا چاہتے تھے ۔ حل لغات :۔ براء ۔ بےزار اللہ کی محبت میں غلو 1: حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے عقیدتمندوں میں جو بات متبع اور اقتدار کے لائق تھی ۔ وہ یہ تھی ۔ کہ یہ لوگ صرف اللہ سے محبت رکھتے تھے ۔ اور اس محبت کے باب میں اتنا غلو تھا ۔ کہ وہ عقل وخرد کے ظاہری اقتفا کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے ۔ جب ضرورت محسوس کرتے تھے ۔ کہ اب محبوب حقیقی کو خوش کرنے کے لئے اپنے لخت جگر کے حلقوم پر چھری پھیر دینا ضروری ہے ۔ تو ان کو قطعاً تامل نہ ہوتا ۔ دل میں جذبات پوری اس درجہ ہیجان میں آئے ۔ کہ عشق الٰہی پر غالب آسکیں ۔ اور نہ ارادہ وعزم میں کوئی تزلزل پیدا ہوتا ۔ ہاتھ بڑھتے اور اپنے بیٹے اور عسائے پیری کے گلے پر خنجر چلا دیتے ۔ یہ وہ جذبہ اطاعت ہے ۔ جو خدا مسلمانوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ کہ جب یہ معلوم ہوجائے ۔ کہ منشائے الٰہی کیا ہے ۔ تو پھر سوچنا گناہ ہے ۔ اس وقت ضروری ہوتا ہے ۔ کہ منشاء کی تکمیل کے سلسلہ میں اگر عزیز ترین تعلقات کو بھی چھوڑنا پڑے ۔ تو چھوڑ دیئے جائیں ۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا ۔ کہ اگر تم میں یہ جذبہ نہیں پیدا ہوتا ہے ۔ تو یاد رکھو ۔ اللہ کو اس بات کی بالکل ضرورت نہیں ۔ وہ بےنیاز ہے ۔ اور لائق صدہزار حمدوستائیش ہے ۔ یہ ایثار وقربانی خود تمہاری تعمیر کے لئے ازبس لازمی ولابدی ہے اگر اس کو اختیار کرتے ہو ۔ تو تمہاری زندگی جاوید سراسر کامیاب ہے ۔ اور اگر نہیں اختیار کرتے ہو ۔ تو پھر اللہ کا تم کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔
Ayah 60:7

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

عجب نہیں کہ اللہ تم میں اور کافروں میں جو تمہارے دشمن ہیں دوستی (ف 2) کرادے ۔ اور اللہ قادر ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

ف 2: جب یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ تو مسلمانوں کی گردنیں اطاعت اور فرمانبرداری میں جھک گئیں ۔ اور انہوں نے اللہ کے سوا تمام لائق دنیا کو جو اس کی راہ میں حائل ہوسکتے تھے ۔ چھوڑ دیا ۔ اور اس سختی کے ساتھ اپنے غیر مسلم عزیزوں سے قطع تعلق کیا ۔ کہ اس میں کچھ قساوت کی آمیزش ہوگئی ۔ اور خطرہ پیدا ہوگیا ۔ کہ کہیں یہ نبض وعناد اس عزیزوں کو اسلام سے دور نہ کردے ۔ اس لئے سمجھادیا ۔ کہ قطع تعلق کے یہ معنی نہیں ہیں ۔ کہ تم ان کو ہمیشہ کے لئے کفر کی آغوش میں دے دو ۔ بلکہ تعلقات کی نوعیت سی ہو ۔ کہ وہ تمہارے جذبہ دینی کی تو قدر کریں ۔ مگر اس کے ساتھ وہ تم سے متنفرنہ ہوجائیں ۔ کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں ۔ جو عنقریب اسلام کو قبول کرنے والے ہیں ۔ اور تمارے موجودہ خیالات ان کے متعلق بدلنے والے ہیں ۔ اس لئے کھڑے تنفر میں انتی لچک برقرار رکھو ۔ کہ پھر ان کی گرم جوشی کے ساتھ اپنی برادری میں داخل کرسکو ۔ حل لغات :۔ اسوہ حسنۃ ۔ اچھا اور لائق عملی نمونہ مودۃ ۔ دوستی ۔
Ayahs 60:8–9

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

جو لوگ تم سے دین پر نہیں لڑے اور نہ انہوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ۔ ان سے (میل ملاپ رکھنے سے) خدا تمہیں منع نہیں کرتا (یعنی ان سے منع نہیں کرتا) کہ تم ان سے نیکی کرو اور ان سے منصفانہ (ف 1) برتاؤ کرو ۔ بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

اللہ تو تمہیں انکی دوستی سے منع کرتا ہے ۔ جو دین پر تم سے لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے پر دوسروں کی مدد کی اور جو ایسوں سے دوستی رکھے وہی ظالم ہیں

بےضرر غیر مسلموں سے تعلقات مودت 1: اس آیت میں بہت بڑی غلط فہمی کو دور کردیا ہے ۔ جو ان گزشتہ آیات کو سن کر اس شخص کے دل میں پیدا ہوسکتی ہے ۔ جو نظام اسلامی کی باریکیوں کو سمجھنے کی قدرت نہیں رکھتا ۔ وہ یہ کہہ سکتا تھا ۔ کہ اسلام مسلمانوں کو عام معاشری تعلقات تودہ سے روکتا ہے ۔ اور اس انسانی ہمدردی کو جو فطری طور پر انسانوں میں اپنے بنی نوع کے لئے موجود ہے ۔ کچل دینا چاہتا ہے ۔ اور یہ کہ اس مذہب میں دنیا کے مدنی مذہب ہونے کی صلاحیت نہیں ۔ کیونکہ یہ غیر مسلموں سے ہمدردانہ اور آئینی تعلقات کو برقرار رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ فرمایا ۔ یہ غلط ہے ۔ وہ لوگ جو تم سے دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں ۔ جن سے تمہارا عہد ہے ۔ جو نہ تم سے لڑتے ہیں ۔ اور نہ تم کو ان کے ساتھ انصاف اور احسان سے پیش آؤ دوستی ان لوگوں کے ساتھ ممنوع ہے ۔ جو جو دشمن ہیں ۔ اور کسی طرح بھی تمہارا زندہ رہنا انہیں گوارا نہیں ۔ حل لغات :۔ تذرھم ۔ عمدہ سلوک کرو ظاھروا ۔ مدد کی ۔ اعانت کی ۔
Ayah 60:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

مومنو ! جب تمہارے پاس ایماندار عورتیں (ف 1) ہجرت کرکے آئیں تو ان کا امتحان لو ۔ خدا ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے ۔ پھر اگر وہ تمہیں ایماندار معلوم ہوں ۔ تو انہیں کافروں کی طرف واپس نہ لوٹاؤ نہ وہ کافروں کو حلال ہیں اور نہ کافر انہیں حلال ہیں اور جو ان کافروں نے خرچ کیا ہے ان کو دیدو اور تم پر گناہ نہیں کہ ان عورتوں سے نکاح کرو ۔ جبکہ تم ان کو ان کے مہر حوالے کردو اور تم کافر عورتوں کے ناموس اپنے قبضہ میں نہ رکھو اور جو تم نے خرچ کیا ہے (ان سے) مانگ لو اور چاہیے کہ وہ کافر بھی اپنا خرچ جو کیا ہے مانگ لیں یہ اللہ کا حکم ہے وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

عورتوں کے متعلق چند ضروری احکام 1: ایک مغنیہ عورت سارہ کی وجہ سے چو کہ حاطب بن ابی طبقہ والی سازش بروئے کار آئی تھی ۔ اور خطرہ تھا ۔ کہ اسی طرح دوسری عورتیں داد الاسلام میں آکر کہیں جاسوسی کے فرائض انجام نہ دیں ۔ اس لئے یہ آیات نازل ہوئیں ۔ کہ جب بظاہر مومن عورتیں مدینہ ہجرت کرکے آئیں ۔ تو انہیں خوب اچھی طرح جانچ لینا چاہیے ۔ کہ ان کی آمد کا مقصد کیا ہے ۔ کیا وہ اپنے خاوند سے روٹھ کر آئی ہیں یا مدینہ کی زیارت کا شوق انکو کھینچ لایا ہے ۔ یا کوئی اور جذبہ ہے ۔ جن سے ان کو یہاں آنے پر مجبور کردیا گیا ہے ۔ جب تک یہ صاف طور پر حلفیہ نہ کہہ دیں ۔ کہ ہم محض اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں یہاں آئی ہیں ۔ اور ہمارا مقصد ہجرت سے محض دین کی حفاظت وحباتت ہے ۔ اس وقت تک ان کو یہاں قیام کی اجازت نہ دیجائے ۔ فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کی حقیقت سے خوب آگاہ ہے ۔ اس لئے یہ اس کو دھوکہ دینے کی کوشش نہ کریں ۔ اس کے بعد فرمایا ۔ کہ اگر ثابت ہوجائے کہ یہ عورتیں مسلمان ہیں ۔ تو پھر صلح حدیبیہ کے عہد کی وجہ سے ان کو واپس دارلکفر میں بھیج دو ۔ کہ یہ اس معاہدہ سے اصولاً مستثنیٰ ہیں ۔ وہ معاہدہ صرف مردوں کے لئے ہے ۔ جو اپنے عقیدہ کی پوری طرح حفاظت کرسکتے ہیں ۔ اور جن میں مصائب کے وقت ثابت قدم رہنے کی صلاحیت ہے ۔ یہ طبقہ جو زادہ عزم کے لحاظ سے بالکل کمزور ہے ۔ اس قابل نہیں ہے کہ بالکل کفر میں گھر جائے ۔ اور پھر اپنے ایمان کو بچا لیا جائے الا ماشاء اللہ اس لئے قانون یہ ہے ۔ کہ عورتوں کو دارالکفر میں نہ بھیجا جائے اور منکرین کو موقع نہ دیا جائے ۔ کہ وہ ان کو آزمائش میں مبتلا کردیں ۔ یہ عورتیں کافروں کے نکل میں نہیں رہ سکتیں اور نہ کافر اس کے مجاز ہیں ۔ کہ ان سے شادی کریں ۔ کفار سے معاہدہ کی صورت میں وہ عورتیں جو دارالکفر سے ہجرت کرکے دارالاسلام میں آجائیں اور مسلمان مردوں سے نکاح کرنا چاہیں ۔ ضروری ہے کہ ان کے مہر کفار کو ادا کردیئے جائیں ۔ تاکہ قانون عدہ کا احترام باقی رہے ۔ اور یہ بہرحال ضروری ہے ۔ کہ مسلمان مردوں کا مشرک عورتوں کے ساتھ کوئی جنسی رشتہ باقی نہ رہے ۔ کیونکہ نکاح کا تعلق صرف جذبات جنس کے ماتحت نہیں ہے ۔ بلکہ یہ ایک ایسا پاک معاہدہ ہے ۔ کہ ساری زندگی کا اس دارومدار ہے ۔ نکاح کے معنے یہ ہیں ۔ کہ میاں بیوی میں خیال وفکر سے لے کر عمل وجوارح تک پوری ہم آہنگی ہو ۔ اور اس صورت میں جب کہ ان میں ایک مشرک ہو ۔ یہ ہم آہنگی ختم ہوجاتی ہے ۔ اور اس کا اثر نہ صرف ازدواجی زندگی پر پڑتا ہے ۔ بلکہ اولاد جو پیدا ہوتی ہے ۔ ان کا عقیدہ اور ایمان مستحکم نہیں ہوتا ۔ کیونکہ یہ تو ممکن ہے ۔ کہ میاں بیوی اس منافقت کو کسی نہ کسی صورت میں نباہ لے جائیں ۔ مگر ایسے میاں بیوی مضبوط کیرکٹر کی اولاد پیدا نہیں کرسکتے ۔ یہ نہیں ہوسکتا ۔ کہ ان کی آغوش میں ملی ہوئی اولاد ایمان کی نمت سے بہرہ ور ہو ۔ اس لئے یہ رشتہ اسلامی نقطہ نگاہ سے ناجائز ہے ۔ ہاں جب تم ان کو چھوڑنے لگو ۔ تو حسب ومستور منکرین سے جن کے نکاح میں وہ عورتیں جانے لگیں ۔ تم اپنا خرچہ مانگ لو ۔ حل لغات :۔ فامتحینوھن ۔ ان کی جانچ کرلو ۔ تو سم ان کا امتحان کرلیا کرو اجورھن ۔ مہر بعصم الکوافر عصمۃ ۔ یعنی عقد عصمت کو برقرار نہ رکھو ۔
Ayah 60:11

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمہارے ہاتھ سے نکل کر کافروں میں جاملے اور تمہارا خرچ مہر وہ کافر نہ دیں تو جب تم کافروں کو گہا (ف 1) مارو (یعنی کافروں کے ہاتھ سے نکل کر ان کی کوئی عورت تم میں آملے) تو جن کی عورتیں جاتی ہیں ان کو اتنا مال دیدو جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا اور اللہ سے ڈرو جس پر ایمان رکھتے ہو

ف 1: یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ کسی مسلمان مرد کی بوی مرتد ہوکر دارلکفر میں چی جائے یا فرار ہوجائے ۔ اور تو وہ کافر جو اس کو اپنے عقد میں لے مسلمان کو اس کا خرچہ نہ دے ۔ ایسی حالت میں جو کافر عورت دارالاسلام میں آئیگی ۔ اور مسلمان سے نکاح کرلے گی ۔ اس کا خرچہ اس کافر کو نہیں دیاجائیگا ۔ جو اس کا دارالکفر میں خاوند تھا ۔ بلکہ اس مسلمان کو دیا جائیگا ۔ جو اپنا خرچہ کفار سے نہیں وصول کرسکا ۔
Ayahs 60:12–13

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے نبی ! جب تیرے پاس ایماندار عورتیں تجھ سے اس پر بیعت (ف 2) کرنے (یعنی اقرار کرنے) کو آئیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گی ۔ اور نہ چوری کرینگی اور نہ زنا کریگی ۔ اور نہ اپنی اولاد کو قتل کرینگی اور نہ طوفان لائیں گی کہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان باندھ لیں اور کسی نیک کام میں تیری نافرمانی نہ کرینگی پس تو ان سے بیعت (اقرار) قبول کر اور اللہ سے ان کے لئے مغفرت مانگ بیشک (اللہ بخشنے والا مہربان ہے)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

مومنو ! ان لوگوں سے دوستی نہ رکھو ۔ جن پر اللہ کا غصہ ہوا ہے ۔ یہ لوگ آخرت سے ناامید ہیں ۔ جیسے کہ (اب) کافر اہل قبور کی طرف سے ناامید ہیں

بیعت سے متعلقہ غلط فہمیاں 1: بہت کا استقاق بیع سے ہے ۔ جس کے معنے یہ ہیں ۔ کہ مرید شیخ کے ہاتھوں بک جاتا ہے ۔ اور اس کو پھر اختیار حاصل نہیں رہتا ۔ کہ وہ اس کے احکام کو سن کرتال اور جھجھک کا اظہار کرے ۔ اس کا فرض ہے کہ وہ ہمہ اطاعت وانقیادین ہوئے ۔ اور پندولیل وحجت سبل کے لئے ارشاد کے لئے آمادہ ہوجائے ۔ مگر یہاں چند غلط فہمیاں ہیں ۔ جس کا دور ہونا ضروری ہے ۔ یہ خیال کہ شیخ معصوم ہے ۔ اور بقول حافظ کے ع رنگین کن گرت پیر مغاں گوید غیر مشروط اطاعت کا مستحق ہے ۔ حالانکہ اسلامی نگاہ سے ایسی بیعت ناجائز ہے ۔ لاطعۃ المخلوق فی مصحیۃ الحق حدیث ہے ۔ جس کے معنی یہ ہیں ۔ کہ کوئی شخص اس قابل نہیں ہے ۔ کہ اس بلاشرط اطاعت کی جائے پیغمبر کے بعد ہر آدمی باوجود ولایت اور رہد کے ہر آن لغزش وسہو کا شکار ہوسکتا ہے ۔ اس لئے بیعت کے معنی یہ قرار پائے ۔ کہ وہ اطاعت جو شریعت کے مطابق ہو ۔ اور اس صورت میں پھر اس کی مخالفت محض ہوائے نفس کے تقاضے سے درست نہیں ہے ۔ مرید کا فرض ہے ۔ کہ جب اس کو یقین ہوجائے کہ شیخ کا حکم منشاء الٰہی کے عین مطابق ہے ۔ تو پھر اطاعت میں سرگرمی کے ساتھ مصروف ہوجائے ۔ اور اس کے انجام اور وجوہ واسباب پر غور نہ کرے ۔ دوسری غلط فہمی یہ ہے ۔ کہ بیعت کے لئے ایک پیشہ ور گروہ کو متعین کرلیا گیا ہے ۔ اور سمجھ لیا گیا ہے ۔ کہ علم وعمل سے یہ عاری طبقہ محض اس لئے عقیدت ونیاز مندی کا استحقاق رکھتا ہے ۔ کہ آباؤ اجداد سے ان کا پیشہ مرید کرنا ہے ۔ حالانکہ شیخ کے انتخاب کے لئے یہ قطعاً ضروری نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ کوئی پیشہ یا فن نہیں ہے ۔ بلکہ ہر وہ مرد مسلمان جو علم وعمل کے زیور سے آراستہ ہے ۔ اس قابل ہے کہ آپ اس سے محبت رکھیں ۔ اور اس کے سامنے اپنی روحانی کمزوریاں بیان کریں ۔ اور پھر اس سے مداوا چاہیں ۔ تیسرا مغالطہ یہ ہے کہ شیخ کو روحانی خاوند سمجھ لیا جاتا ہے ۔ اور ایک شیخ کا مرید دوسرے صلحاء کے ساتھ اپنے دل میں بغض وعناد رکھتا ہے ۔ اور یہ سمجھتا ہے ۔ کہ اب یہ بیعت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوسکتا ۔ اور ایک کے رابطہ عقیدت کو گلے میں ڈال لینے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ اب کسی دوسرے کی روحانیت سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا چاہے وہ رتبہ میں اس سے بڑا کیوں نہ ہو ۔ یہ اسلامی بیعت نہیں ہے ۔ اسلامی زاویہ نگاہ سے متعدد وشیوخ سے فیوض عمل کا استفادہ ہوسکتا ہے ۔ اور ایک مرید بیک وقت مختلف صلواء سے عقیدت رکھ سکتا ہے ۔ چوتھا مغالطہ یہ ہے کہ بیعت کی غرض وغایت یہ نہیں سمجھی جاتی ۔ کہ تزکیہ قلب ہو ۔ اور اعمال صالحہ سے محبت اور ذوق پیدا ہو ۔ بلکہ بیعت اس لئے کی باقی ہے ۔ تاکہ شیخ سے کشائش رزق کے کچھ وظیفے معلوم ہوجائیں ۔ یا دست غیب پر اختیار حاصل ہوجائے ۔ اور پاحب ومغض کے تعویذ حاصل کرنے میں سہولت رہے ۔ حالانکہ بیعت کے معنی یہ تھے ۔ کہاں ایک صالح آدمی ایک صالح تر آدمی کے سامنے عہد کرتا ہے ۔ کہ وہ اس کی نیک باتوں کی اقتداء کرے گا ۔ اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گا ۔ کہ کیونکر زندگی کو خوش گوار اور کامیاب بنایا جاسکتا ہے ۔ آج بیعت کا نام ہے ۔ جہالت کا جمود وتمسفل کا ۔ اندھی تقلید اور اقتداء کا ۔ اور غیر مشروع طریقوں کو رواج دینے کا ۔ دوران حالیکہ حضور ﷺ نے جو بیعت لی تھی ۔ وہ زندگی کی بیعت تھی ۔ جہاد اور ایثار نفس کی بیعت تھی ۔ اسی طرح ان آیتوں میں جس بعیت کا ذکر ہے ۔ وہ قطعاً ایک اخلاقی معاہدہ ہے ۔ مکارم و فضائل کا اکتساب ہے ۔ اور پاکبازی اور پاک خیالی کا اقرار ہے ۔ اس بیعت میں ان باتوں کا کہیں مذکور نہیں ۔ جن کو ہم اپنی جہالت کی وجہ سے لازمہ بیعت سمجھتے ہیں ۔ اور جن کا ترک ہم کو دائرہ اسلام سے خارج کردیتا ہے ۔ حل لغات :۔ فما قبتم ۔ عقبیٰ سے ہے ۔ یعنی انجام کار تم کو بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے ۔ حل لغات :۔ من اصحاب القبور ۔ میں من بیانیہ ہے ۔ جس طرح کفار قبروں میں اپنے اعمال کی وجہ سے آخرت کے ثواب واجر سے مایوس ہیں ۔ اسی طرح یہ لوگ جن پر اللہ کا غضب ہے ۔ آخرت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اور اس کی طرف سے مایوسی کا اظہار کرتے ہیں ۔ لم تغرفون ۔ قول سے یہاں مراد دعا ہے ۔ مطلق تلقین غیر یا وعظ ونصیحت نہیں جیسا کہ عوام سمجھتے ہیں ۔