60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 60:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

اے ایمان والو نہ پکڑو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست تم ان کو پیغام بھیجتے ہو دوستی سے1 اور وہ منکر ہوئے ہیں اس سے جو تمہارے پاس آیا سچا دین2 نکالتے ہیں رسول کو اور تم کو اس بات پر کہ تم مانتے ہو اللہ کو جو رب ہے تمہارا3 اگر تم نکلے ہو لڑنے کو میری راہ میں اور طلب کرنے کو میری رضامندی4 تم ان کو چھپا کر بھیجتے ہو دوستی کے پیغام اور مجھ کو خوب معلوم ہے جو چھپایا تم نے اور جو ظاہر کیا تم نے5 اور جو کوئی تم میں یہ کام کرے تو وہ بھول گیا سیدھی راہ6

13 آنحضرت ﷺ کی صلح مکہ والوں سے ہوئی تھی جس کا ذکر " انا فتحنا " میں آچکا۔ دو برس یہ صلح قائم رہی، پھر کافروں کی طرف سے ٹوٹی۔ تب حضرت ﷺ نے خاموشی کے ساتھ فوج جمع کر کے مکہ فتح کرنے کا ارادہ کیا۔ خبروں کی بندش کردی گئی۔ مبادا کفار مکہ آپ ﷺ کی تیاریوں سے آگاہ ہو کر لڑائی کا سامان شروع کردیں۔ اور اس طرح حرم شریف میں جنگ کرنا ناگزیر ہوجائے۔ ایک مسلمان حاطب بن ابی بلتعہ نے (جو مہاجرین بدریین میں سے تھے) مکہ والوں کو خط لکھ بھیجا کہ محمد ﷺ کا لشکر اندھیری رات اور سیل بےپناہ کی طرح تم پر ٹوٹنے والا ہے۔ حضرت محمد ﷺ کو وحی سے معلوم ہوگیا آپ ﷺ نے حضرت علی وغیرہ چند صحابہ کو حکم دیا کہ ایک عورت مکہ کے راستہ میں سفر کرتی ہوئی فلاں مقام پر ملے گی۔ اس کے پاس ایک خط ہے، وہ حاصل کر کے لاؤ۔ یہ لوگ تیزی سے روانہ ہوئے اور عورت کو ٹھیک اسی مقام پر پا لیا۔ اس نے بہت لیت و لعل اور ردوکد کے بعد خط ان کے حوالے کیا۔ پڑھنے سے معلوم ہوا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے کفار مکہ کے نام ہے۔ اور مسلمانوں کے حملہ کی اطلاع دی گئی ہے۔ آپ ﷺ نے حاطب کو بلا کر پوچھا کہ یہ کیا حرکت ہے۔ بولے یا رسول اللہ ! نہ میں نے کفر اختیار کیا ہے نہ اسلام سے پھرا ہوں۔ سچی بات یہ ہے کہ میرے اہل و عیال مکہ میں ہیں۔ وہاں ان کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں۔ میں نے کافروں پر ایک احسان کر کے یہ چاہا کہ وہ لوگ اس کے معاوضہ میں میرے اہل و عیال کی خبر لیتے رہیں اور ان سے اچھا سلوک کریں (میں نے سمجھا کہ اس سے میرا کچھ فائدہ ہوجائے گا اور اسلام کو کوئی ضرر نہیں پہنچ سکتا) فتح و نصرت کے جو وعدے اللہ نے آپ ﷺ سے کیے ہیں۔ وہ یقینا پورے ہو کر رہیں گے۔ کسی کے روکے رک نہیں سکتے ( چناچہ نفس خط میں بھی یہ مضمون تھا کہ " خدا کی قسم ! اگر رسول اللہ ﷺ تن تنہا بھی تم پر حملہ آور ہوں تو اللہ ان کی مدد کرے گا اور جو وعدے ان سے کیے ہیں پورے کر کے چھوڑے گا " بلاشبہ حاطب سے یہ بہت بڑی خطا ہوئی لیکن رحمۃ للعالمین نے فرمایا " لا تقولوا لہ الَّاخیرًا " بھلائی کے سوا اس کو کچھ مت کہو۔ اور فرمایا حاطب بدریین میں سے ہے تمہیں کیا معلوم ہے کہ اللہ نے بدریین کی خطائیں معاف فرما دیں۔ سورة ہذا کا بڑا حصہ اسی قصہ میں نازل ہوا۔ 1 یعنی کفار مکہ اللہ کے دشمن ہیں اور تمہارے بھی۔ ان سے دوستانہ برتاؤ کرنا اور دوستانہ پیغام ان کی طرف بھیجنا ایمان والوں کو زیبا نہیں۔ 2 اس لیے اللہ کے دشمن ہوئے۔ 3 یعنی پیغمبر کو اور تم کو کیسی کیسی ایذائیں دے کر ترک وطن پر مجبور کیا۔ محض اس قصور پر کہ تم ایک اللہ کو جو تمہارا سب کا رب ہے، کیوں مانتے ہو۔ اس سے بڑی دشمنی اور ظلم کیا ہوگا۔ تعجب ہے، کہ ایسوں کی طرف تم دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہو۔ 4 یعنی تمہارا گھر سے نکلنا اگر میری خوشنودی اور میری راہ میں جہاد کرنے کے لیے ہے اور خالص میری رضا کے واسطے تم نے سب کو دشمن بنایا ہے تو پھر انہی دشمنوں سے دوستی گانٹھنے کا کیا مطلب، کیا جنہیں ناراض کر کے اللہ کو راضی کیا تھا اب انہیں راضی کر کے اللہ کو ناراض کرنا چاہتے ہو ؟ العیاذ باللہ۔ 5 یعنی آدمی ایک کام تمام دنیا سے چھپا کر کرنا چاہے تو کیا اس کو اللہ سے بھی چھپالے گا ؟ دیکھو ! حاطب نے کس قدر کوشش کی کہ خط کی اطلاع کسی کو نہ ہو۔ مگر اللہ نے اپنے رسول کو مطلع فرما دیا اور راز قبل از وقت فاش ہوگیا۔ 6 یعنی مسلمان ہو کر کوئی ایسا کام کرے اور سمجھے کہ میں اس کے پوشیدہ رکھنے میں کامیاب ہوجاؤں گا سخت غلطی اور بہت بڑی بھول ہے۔
Ayah 60:2

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

اگر تم ان کے ہاتھ آجاؤ ہوجائیں تمہارے دشمن اور چلائیں تم پر اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برائی کے ساتھ اور چاہیں کہ کسی طرح تم بھی منکر ہوجاؤ7

1 یعنی ان کافروں سے بحالت موجودہ کسی بھلائی کی امید مت رکھو۔ خواہ تم کتنی ہی رواداری اور دوستی کا اظہار کرو گے۔ وہ کبھی مسلمان کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ باوجود انتہائی رواداری کے اگر تم پر ان کا قابو چڑھ جائے تو کسی قسم کی برائی اور دشمنی سے درگزر نہ کریں۔ زبان سے، ہاتھ سے ہر طرح ایذا پہنچائیں اور یہ چاہیں کہ جیسے خود صداقت سے منکر ہیں، کسی طرح تم کو بھی منکر بنا ڈالیں۔ کیا ایسے شریر و بد باطن اس لائق ہیں کہ ان کو دوستانہ پیغام بھیجا جائے۔
Ayah 60:3

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

ہرگز کام نہ آئیں گے تمہارے کنبے والے اور نہ تمہاری اولاد قیامت کے دن وہ فیصلہ کرے گا تم میں اور اللہ جو تم کرتے ہو دیکھتا ہے8

2 حاطب نے وہ خط اپنے اہل و عیال کی خاطر لکھا تھا۔ اس پر تنبیہ فرمائی کہ اولاد اور رشتہ دار قیامت کے دن کچھ کام نہ آئینگے، اللہ تعالیٰ سب کا رتی رتی عمل دیکھتا ہے۔ اسی کے موافق فیصلہ فرمائے گا اس کے فیصلہ کو کوئی بیٹا، پوتا، اور عزیز و اقارب ہٹا نہیں سکے گا۔ پھر یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ ایک مسلمان اہل و عیال کی خاطر اللہ کو ناراض کرلے۔ یاد رکھو ! ہر چیز سے مقدم اللہ کی رضامندی ہے۔ وہ راضی ہو تو اس کے فضل سے سب کام ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن وہ ناخوش ہو تو کوئی کچھ کام نہ آئے گا۔
Ayah 60:4

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

تم کو چال چلنی چاہیے اچھی ابراہیم کی اور جو اس کے ساتھ تھے جب انہوں نے کہا اپنی قوم کو ہم الگ ہیں تم سے اور ان سے کہ جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوا9 ہم منکر ہوئے تم سے10 اور کھل پڑی ہم میں اور تم میں دشمنی اور بیر ہمیشہ کو یہاں تک کہ تم یقین لاؤ اللہ اکیلے پر1 1 مگر ایک کہنا ابراہیم کا اپنے باپ کو کہ میں مانگوں کا معافی تیرے لیے اور مالک نہیں میں تیرے نفع کا اللہ کے ہاتھ سے کسی چیز کا1 اے رب ہمارے ہم نے تجھ پر بھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع ہوئے اور تیری طرف ہے سب کو پھر آنا2

9 یعنی جو لوگ مسلمان ہو کر ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہوتے گئے اپنے اپنے وقت پر سب نے قولاً یا فعلاً اسی علیحدگی اور بیزاری کا اعلان کیا۔ 10 یعنی تم اللہ سے منکر ہو۔ اور اس کے احکام کی پروا نہیں کرتے ہم تمہارے طریقہ سے منکر ہیں اور ذرہ برابر تمہاری پروا نہیں کرتے۔ 11 یعنی یہ دشمنی اور بیر اسی وقت ختم ہوسکتا ہے جب تم شرک چھوڑ کر اسی ایک آقا کے غلام بن جاؤ جس کے ہم ہیں۔ 1 یعنی صرف دعا ہی کرسکتا ہوں۔ کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ خدا جو کچھ پہنچانا چاہے اسے میں نہیں روک سکتا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کی پھر اپنی قوم کی طرف منہ نہیں کیا۔ تم بھی وہی کرو۔ ایک ابراہیم نے دعا چاہی تھی، باپ کے واسطے۔ جب تک معلوم نہ تھا۔ تم کو معلوم ہوچکا۔ لہذا تم کافر کی بخشش نہ مانگو۔ " (تنبیہ) باپ کے حق میں ابراہیم (علیہ السلام) کے استغفار کا قصہ سورة " برأۃ " میں گزر چکا۔ آیت (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ) 9 ۔ التوبہ :114) کے فوائد میں دیکھ لیا جائے۔ 2 یعنی سب کو چھوڑ کر تجھ پر بھروسہ کیا اور قوم سے ٹوٹ کر تیری طرف رجوع ہوئے اور خوب جانتے ہیں کہ سب کو پھر کر تیری ہی طرف آنا ہے۔
Ayah 60:5

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے رب ہمارے مت جانچ ہم پر کافروں کو3 اور ہم کو معاف کر اے رب ہمارے4 تو ہی ہے زبردست حکمت والاف 5

3 یعنی ہم کو کافروں کے واسطے محل آزمائش اور تختہ مشق نہ بنا۔ اور ایسے حال میں مت رکھ جس کو دیکھ کر کافر خوش ہوں، اسلام اور مسلمانوں پر آوازیں کسیں اور ہمارے مقابلہ میں اپنی حقانیت پر استدلال کرنے لگیں۔ 4 یعنی ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما۔ اور تقصیرات سے درگزر کر۔ 5 تیری زبردست قوت اور حکمت سے یہی توقع ہے کہ اپنے وفاداروں کو دشمنوں کے مقابلہ میں مغلوب و مقہور نہ ہونے دے گا۔
Ayah 60:6

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

البتہ تم کو بھلی چال چلنی چاہیے ان کی جو کوئی امید رکھتا ہو اللہ کی اور پچھلے دن کی اور جو کوئی منہ پھیرے تو اللہ وہی ہے بےپروا سب تعریفوں والاف 6

6 یعنی تم مسلمانوں کو یا بالفاظ دیگر ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ سے ملنے اور آخرت کے قائم ہونے کے امیدوار ہیں، ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کے رفقاء کی چال اختیار کرنی چاہیے۔ دنیا خواہ تم کو کتنا ہی متعصب اور سنگدل کہے، تم اس راستہ سے منہ نہ موڑو جو دنیا کے موحد اعظم نے اپنے طرز عمل سے قائم کردیا۔ مستقبل کی ابدی کامیابی اسی راستہ پر چلنے سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اگر اس کے خلاف چلو گے اور خدا کے دشمنوں سے دوستانہ گانٹھو گے تو خود نقصان اٹھاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی دوستی یا دشمنی کی کیا پروا ہے وہ تو بذات خود تمام کمالات اور ہر قسم کی خوبیوں کا مالک ہے۔ اس کو کچھ بھی ضرر نہیں پہنچ سکتا۔
Ayah 60:7

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

امید ہے کہ کر دے اللہ تم میں اور جو دشمن ہیں تمہارے ان میں دوستی اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے اللہ بخشنے والامہربان ہے7

7 یعنی اللہ کی قدرت و رحمت سے کچھ بعید نہیں کہ جو آج بدترین دشمن ہیں کل انہیں مسلمان کر دے اور اس طرح تمہارے اور ان کے درمیان دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہوجائیں۔ چناچہ فتح مکہ میں ایسا ہی ہوا، تقریباً سب مکہ والے مسلمان ہوگئے اور جو لوگ ایک دوسرے پر تلوار اٹھا رہے تھے اب ایک دوسرے پر جان قربان کرنے لگے۔ اس آیت میں مسلمانوں کی تسلی کردی کہ مکہ والوں کے مقابلہ میں یہ ترک موالات کا جہاد صرف چند روز کے لیے ہے۔ پھر اس کی ضرورت نہیں رہے گی۔ چاہیے کہ بحالت موجودہ تم مضبوطی سے ترک موالات پر قائم رہو۔ اور جس سے کوئی بےاعتدالی ہوگئی ہو اللہ سے اپنی خطا معاف کرائے۔ وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
Ayah 60:8

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

اللہ تم کو منع نہیں کرتا ان لوگوں سے جو لڑتے نہیں تم سے دین پر اور نکالا نہیں تم کو تمہارے گھروں سے کہ ان سے کرو بھلائی اور انصاف کا سلوک بیشک اللہ چاہتا ہے انصاف والوں کو8

8 مکہ میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو آپ مسلمان نہ ہوئے اور مسلمان ہونے والوں سے ضد اور پرخاش بھی نہیں رکھی، نہ دین کے معاملہ میں ان سے لڑے نہ ان کو ستانے اور نکالنے میں ظالموں کے مددگار بنے۔ اس قسم کے کافروں کے ساتھ بھلائی اور خوش خلقی سے پیش آنے کو اسلام نہیں روکتا۔ جب وہ تمہارے ساتھ نرمی اور رواداری سے پیش آتے ہیں۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ تم بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور دنیا کو دکھلا دو کہ اسلامی اخلاق کا معیار کس قدر بلند ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ نہیں کہ اگر کافروں کی ایک قوم مسلمانوں سے برسر پیکار ہے تو تمام کافروں کو بلا تمیز ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا شروع کردیں۔ ایسا کرنا حکمت و انصاف کے خلاف ہوگا۔ ضروری ہے کہ عورت، مرد، بچے، بوڑھے، جوان اور معاند و مسالم میں ان کے حالات کے اعتبار سے فرق کیا جائے۔ جس کی قدرے تفصیل سورة " مائدہ " اور " آل عمران " کے فوائد میں گزر چکی۔
Ayah 60:9

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

اللہ تو منع کرتا ہے تم کو ان سے جو لڑے تم سے دین پر اور نکالا تم کو تمہارے گھروں سے اور شریک ہوئے تمہارے نکالنے میں کہ ان سے کرو دوستی اور جو کوئی ان سے دوستی کرے، سو وہ لوگ وہی ہیں گناہ گار9

9 یعنی ایسے ظالموں سے دوستانہ برتاؤ کرنا بیشک سخت ظلم اور گناہ کا کام ہے۔ (ربط) یہاں تک کفار کے دو فریق (معاند اور مسالم) کے ساتھ معاملہ کرنے کا ذکر تھا۔ آگے بتلاتے ہیں کہ ان عورتوں کے ساتھ کیا معاملہ ہونا چاہیے جو " دارالحرب " سے " دارالاسلام " میں آئیں یا " دارالحرب " میں مقیم رہیں۔ قصہ یہ ہے کہ " صلح حدیبیہ " میں مکہ والوں نے یہ قرار دیا کہ ہمارا جو آدمی تمہارے پاس جائے اس کو واپس بھیجنا ہوگا۔ حضرت محمد ﷺ نے اس کو قبول فرما لیا تھا۔ چناچہ کئی مرد آئے۔ آپ ﷺ نے ان کو واپس کردیا۔ پھر کئی مسلمان عورتیں آئیں۔ ان کو واپس کرتے تو کافر مرد کے گھر مسلمان عورتیں حرام میں پڑتیں۔ اس پر یہ اگلی آیتیں اتریں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد عورتوں کی واپسی پر کفار نے اصرار نہیں کیا ورنہ صلح قائم نہ رہتی۔
Ayah 60:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب آئیں تمہارے پاس ایمان والی عورتیں وطن چھوڑ کر ان کو جانچ لو اللہ خوب جانتا ہے ان کے ایمان کو1 پھر اگر جانو کہ وہ ایمان پر ہیں تو مت پھیرو ان کو کافروں کی طرف نہ یہ عورتیں حلال ہیں ان کافروں کو اور نہ وہ کافر حلال ہیں ان عورتوں کو اور دے دو ان کافروں کو جو ان کا خرچ ہوا ہو اور گناہ نہیں تم کو نکاح کرلو ان عورتوں سے جب ان کو دو ان کے مہر2 اور نہ رکھو اپنے قبضہ میں ناموس کافر عورتوں کے اور تم مانگ لو جو تم نے خرچ کیا اور وہ کافر مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا، یہ اللہ کا فیصلہ ہے تم میں فیصلہ کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے3

1 یعنی دل کا حال تو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ لیکن ظاہری طور سے ان عورتوں کی جانچ کرلیا کرو۔ آیا واقعی وہ مسلمان ہیں اور محض اسلام کی خاطر وطن چھوڑ کر آئی ہیں۔ کوئی دنیاوی یا نفسانی غرض تو ہجرت کا سبب نہیں ہوا۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت عمر ؓ ان کا امتحان کرتے تھے۔ اور حضور ﷺ کی طرف سے ان سے بیعت لیتے تھے۔ اور کبھی حضور ﷺ خود بہ نفس نفیس بیعت لیا کرتے تھے جو آگے (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَاۗءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰٓي اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ باللّٰهِ شَـيْـــــًٔــا وَّلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِيْنَ وَلَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَانٍ يَّفْتَرِيْنَهٗ بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَاَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 60 ۔ الممتحنہ :12) میں مذکور ہے۔ 2 یہ حکم ہوا کہ زوجین میں اگر ایک مسلمان اور دوسرا مشرک ہو تو اختلاف دارین کے بعد تعلق نکاح قائم نہیں رہتا۔ پس اگر کسی کافر کی عورت مسلمان ہو کر " دارالاسلام " میں آجائے تو جو مسلمان اس سے نکاح کرے اس کے ذمہ ہے کہ اس کافر نے جتنا مہر عورت پر خرچ کیا تھا وہ اسے واپس کر دے۔ اور اب عورت کا جو مہر قرار پائے وہ جدا اپنے ذمہ رکھے تب نکاح میں لاسکتا ہے۔ 3 پہلے حکم کے مقابل دوسری طرف یہ حکم ہوا کہ جس مسلمان کی عورت کافر رہ گئی ہے وہ اس کو چھوڑ دے۔ پھر جو کافر اس سے نکاح کرے اس مسلمان کا خرچ کیا ہوا مہر واپس کرے۔ اس طرح دونوں فریق ایک دوسرے سے اپنا حق طلب کرلیں۔ جب یہ حکم اترا تو مسلمان تیار ہوئے دینے کو بھی اور لینے کو بھی۔ لیکن کافروں نے دینا قبول نہ کیا۔ تب اگلی آیت نازل ہوئی۔
Ayah 60:11

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر جاتی رہیں تمہارے ہاتھ سے کچھ عورتیں کافروں کیطرف پھر تم ہاتھ مارو تو دے دو ان کو جن کی عورتیں جاتی رہی ہیں جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا اور ڈرتے رہو اللہ سے جس پر تم کو یقین ہے4

4 یعنی جس مسلمان کی عورت گئی اور کافر اس کا خرچ کیا ہوا نہیں پھیرتے تو جس کافر کی عورت مسلمان کے ہاں آئے اس کا جو خرچ دینا تھا اس کافر کو نہ دیں۔ بلکہ اسی مسلمان کو دیں جس کا حق مارا گیا ہے ہاں اس مسلمان کا حق دے کر جو بچ رہے وہ واپس کردیں۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ اگر کوئی مسلمان کافر کا خرچ کیا ہوا واپس نہیں کرسکتا تو بیت المال سے دیا جائے۔ اللہ اکبر ! کس قدر عدل و انصاف کی تعلیم ہے۔ لیکن اس پر کار بند وہی ہوگا جس کے دل میں اللہ کا ڈر ہو اور اس پر ٹھیک ٹھیک ایمان رکھتا ہو (تنبیہ) " فَعَاقَبْتُمْ " کے دو ترجمے مترجم محقق نے کیے۔ " پھر تم ہاتھ مارو۔ " اور " پھر تمہاری باری آئے۔ " ہم نے دوسرے ترجمے کے لحاظ سے مطلب کی تقریر کی ہے۔ پہلے ترجمہ کے موافق بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد مال غنیمت کا حاصل ہونا ہے۔ یعنی مال غنیمت میں سے اس مسلمان کا خرچ کیا ہوا لوٹایا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 60:12

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے نبی جب آئیں تیرے پاس مسلمان عورتیں بیعت کرنے کو اس بات پر کہ شریک نہ ٹھہرائیں اللہ کا کسی کو اور چوری نہ کریں اور بدکاری نہ کریں اور اپنی اولاد کو نہ مار ڈالیں5 اور طوفان نہ لائیں باندھ کر اپنے ہاتھوں اور پاؤں میں6 اور تیری نافرمانی نہ کریں کسے بھلے کام میں تو ان کو بیعت کرلے1 اور معافی مانگ ان کے واسطے اللہ سے، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے2

5 جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا کہ رسمی ننگ و عار کی وجہ سے لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے اور بعض اوقات فقروفاقہ کے خوف سے لڑکوں کو بھی قتل کر ڈالتے تھے۔ 6 طوفان باندھنا ہاتھ پاؤں میں، یہ کہ کسی پر جھوٹا دعویٰ کریں یا جھوٹی گواہی دیں یا کسی معاملہ میں اپنی طرف سے بنا کر جھوٹی قسم کھائیں، اور ایک معنی یہ کہ بیٹا جنا ہو کسی اور سے اور منسوب کردیں خاوند کی طرف، یا کسی دوسری عورت کی اولاد لے کر مکروفریب سے اپنی طرف نسبت کرلیں۔ حدیث میں ہے کہ جو کوئی ایک کا بیٹا دوسرے کی طرف لگائے جنت اس پر حرام ہے۔ 1 پہلے فرمایا تھا کہ مسلمان عورتوں کی (جو ہجرت کر کے آئیں) جانچ کی جائے۔ یہاں بتلا دیا کہ ان کا جانچنا یہی ہے کہ جو احکام اس آیت میں ہیں وہ قبول کرلیں تو ان کا ایمان ثابت رکھو۔ یہ " آیت بیعت " کہلاتی ہے۔ حضرت کے پاس عورتیں بیعت کرتی تھیں تو یہی اقرار لیتے تھے لیکن بیعت کے وقت کبھی کسی عورت کے ہاتھ نے آپ کے ہاتھ کو مس نہیں کیا۔ 2 یعنی ان امور میں جو کو تاہیاں پہلے ہو چکیں یا امتثال احکام میں آئندہ کچھ تقصیر رہ جائے اس کے لیے آپ ﷺ ان کے حق میں دعائے مغفرت فرمائیں۔ اللہ آپ ﷺ کی برکت سے ان کی تقصیر معاف فرمائے گا۔
Ayah 60:13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

اے ایمان والو مت دوستی کرو ان لوگوں سے کہ غصہ ہوا ہے اللہ ان پر3 وہ آس توڑ چکے ہیں پچھلے گھر سے جیسے آس توڑی منکروں نے قبر والوں سے4

3 شروع سورت میں جو مضمون تھا، خاتمہ پر پھر یاد دلا دیا۔ یعنی مومن کی شان نہیں کہ جس پر خدا ناراض ہو اس سے دوستی اور رفاقت کا معاملہ کرے۔ جس پر خدا کا غصہ ہو، خدا کے دوستوں کا بھی غصہ ہونا چاہیے۔ 4 یعنی منکروں کو توقع نہیں کہ قبر سے کوئی اٹھے گا اور پھر دوسری زندگی میں ایک دوسرے سے ملیں گے۔ یہ کافر بھی ویسے ناامید ہیں۔ (تنبیہ) بعض مفسرین کے نزدیک " من اصحب القبور " کفار کا بیان ہے یعنی جس طرح کافر جو قبر میں پہنچ چکے وہاں کا حال دیکھ کر اللہ کی مہربانی اور خوشنودی سے بالکلیہ مایوس ہوچکے ہیں اسی طرح یہ کافر بھی آخرت کی طرف سے مایوس ہیں۔