Ayah 60:1بہت سے مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ ان آیات کریمہ کا سبب نزول حاطب بن ابی بلتعہ کا قصہ ہے جب رسول اللہ نے غزوہ فتح مکہ کی تو حاطب بن ابی بلتعہ نے مکہ کے مشرکین کو خط لکھا اور انہیں رسول اللہ کی روانگی کی اطلاع دے دی یہ اطلاع شک اور نفاق کی بنا پر نہ تھی بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ مشرکین پر ایک احسان کرنا چاہتے تھے انہوں نے یہ خط ایک عورت کے ذریعے سے روانہ کردیا اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم کو تمام معاملے سے آگاہ کردیا۔ رسول اللہ نے اس عورت کے مکہ پہنچنے سے پہلے پہلے اس کی طرف آدمیوں کو بھیجا اور اس سے وہ خط برآمد کرلیا آپ نے حاطب پر ناراضی ظاہر فرمائی تو حاطب نے ایسا عذر پیش کیا جسے نبی اکرم نے قبول فرمالیا۔ ان آیات کریمہ میں کفارہ مشرکین وغیرہ سے موالات اور مودت رکھنے کی سخت ممانعت فرمائی گی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ موالات ومودت ایمان اور ملت ابراہیم کے منافی ور عقل کے خلاف ہے جو ایسے دشمن سے پوری طرح سے بچنے کو واجب قرار دیتی ہے جو اپنی دشمنی میں جہد کوشش میں کوئی کسر باقین ہیں چھوڑتا اور اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا) اے ایمان والو۔ اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو جو ایمان لائے اس کے ساتھ موالات ومودت رکھو۔ جو ایمان کے ساتھ عداوت رکھے تم اس کے ساتھ عداوت رکھو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن اور اہل ایمان کا دشمن ہے لہذا (لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاۗءَ ) نہ بناؤ تم اللہ تعالیٰ کے دشمن کو اور اپنے دشمن کو دوست تم اپنی دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔ یعنی تم ان کی محبت ومودت اور اس کے اسباب کے حصول کی کوشش میں جلدی مچاتے ہو۔ جب مودت حاصل ہوجاتی ہے تو نصرت وموالات اس کے پیچھے آتی ہیں تب بندہ ایمان کے دائرے سے نکل کر اہل کفران کے زمرے میں شامل ہوجاتا ہے کافر کو دوست بنانے والا یہ شخص مروت سے بھی محروم ہے وہ اپنے سب سے بڑے دشمن سے کیوں کر موالات رکھتا ہے جو اس کے بارے میں صرف برائی کا ارادہ رکھتا ہے اور اپنے رب کی کیوں کر مخالفت کرتا ہے جو اس کے بارے میں صرف برائی کا ارادہ رکھتا ہے اور اپنے رب کی کیوں کر مخالفت کرتا ہے جو اس کے بارے میں صرف بھلائی چاہتا ہے اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور بھلائی کی ترغیب دیتا ہے۔
مومن کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی طرف یہ چیز بی دعوت دیتی ہے کہ انہوں نے اس حق کو ماننے سے انکار کردیا جو مومنوں کے پاس آیا تھا اس مخالفت اور دشمنی سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں انہوں نے تمہارے اصل دین کا انکار کیا ہے ان کا گمان ہے کہ تم گمراہ ہو، ہدایت پر نہیں ہو۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ انہوں نے حق کا انکار کیا جس میں کوئی شک وشبہ نہیں اور جو کوئی حق کو ٹھہراتا ہے تو یہ امر محال ہے کہ اس کے پاس کوئی دلیل یا حجت پائی جائے جو اس کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہو بلکہ حق کو مجرد علم ہی اس شخص کے قول کے بطلان اور فساد پر دلالت کرتا ہے جو حق کو ٹھکراتا ہے یہ ان کی انتہا کو پہنچتی ہوئی عداوت ہے کہ (يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ ) اے مومنو وہ رسول کو اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالتے ہیں اور تمہیں جلاوطن کرتے ہیں۔ ان کے ہاں اس بارے میں تمہارا اس کے سوا کوئی گناہ نہیں کہ (اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ ۭ ) تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے ہو جس کی عبودیت کو قائم کرنا تمام مخلوق پر فرض ہے کیونکہ اسی نے ان کی پرورش کی اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا جب انہوں نے اس کام سے منہ موڑ لیا جو سب سے بڑا فرض تھا۔ اور تم نے اس کو قائم کیا تو وہ تمہارے ساتھ دشمن پر اتر آئے اور اس بنا پر انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکال دیا۔ تب کون سا دین کون سی مروت اور کون سی عقل بندے کے پاس رہ جاتی ہے اگر پھر بھی وہ کفار کے ساتھ موالات رکھے جن کا ہر زمان ومکان میں یہی وصف رہا ہے ؟ ان کو خوف یا کسی طاقت ور مانع کے سوا کسی چیز نے ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ (اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِيْ سَبِيْلِيْ وَابْتِغَاۗءَ مَرْضَاتِيْ ڰ) یعنی اگر تمہارا گھروں سے نکلنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے کلمے کو بلند کرنے اور اس کی رضامندی کی طلب کے لیے جہاد فی سبیل اللہ ہے تو اس کے تقاضے کے مطابق اولیاء اللہ سے موالات اور اس کے دشمنوں سے عداوت رکھو یہ اس کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور اسب سے بڑا وسیلہ ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے والے اس کا تقرب حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اس کی رضا کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ( تُسِرُّوْنَ اِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ ڰ وَاَنَا اَعْلَمُ بِمَآ اَخْفَيْتُمْ وَمَآ اَعْلَنْتُمْ ۭ ) یعنی تم کفار کے ساتھ مودت کو کیسے چھپاتے ہو حالانکہ تمہیں علمے کہ تم جو کچھ چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے تمہارا کفار کے ساتھ مودت وموالات رکھنا اگرچہ اہل ایمان پر چھپا ہوا ہے مگر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ہے وہ عنقریب اپنے بندوں کو ان کے بارے میں اپنے علم کے مطابق نیکی اور بدی کی جزا وسزا دے گا۔ (وَمَنْ يَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ ) اور جو کوئی کفار سے موالات رکھے اس کے بعد کیا اللہ نے تمہیں اس سے منع کیا ہے۔ ( فَقَدْ ضَلَّ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ ) تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا کیونکہ وہ ایسے راستے پر چل پڑا جو شریعت، عقل اور مروت انسانی کے خلاف ہے۔
Ayah 60:2پھر اللہ تبارک وتعالی نے اہل ایمان کو کفار کی عداوت پر برانگیختہ کرنے کے لیے کفار کی شدت عداوت کا ذکر کیا ہے چناچہ فرمایا (اِنْ يَّثْقَفُوْكُمْ ) یعنی اگر وہ تمہیں پائیں اور تمہیں اذیت پہنچانے کا ان کو موقع ملے (كُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَاۗءً ) تو وہ تمہارے کھلے دشمن ہوجائیں گے۔ (وَّيَبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ وَاَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْۗءِ ) اور قتل ور ضرب لگانے وغیرہ کے لیے تمہاری طرف ہاتھ بڑھائیں گے اور ایسی بات کہیں گے جو تکلیف دہ ہو یعنی گالی وغیرہ۔ (وَوَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ ) اور وہ خواہش کریں گے کہ کاش تم کفر کرتے اور یہی وہ غرض وغایت ہے جو وہ تم سے چاہتے ہیں۔
Ayah 60:3اگر تم یہ دلیل دیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم قرابت داری اور اموال کی خاطر کفار سے موالات رکھتے ہیں تو (لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ ) اللہ کے مقابلے میں تمہارے رشتے ناتے اور تمہاری اولاد کچھ کام نہیں آئے گی ( وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ) اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمہیں کفار کے موالات سے بچنے کے لیے کہا ہے جن کی موالات تمہیں نقصان دے گی۔
Ayah 60:4اے مومنوں کے گروہ تمہارے لیے ( اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ) اچھا نمونہ اور ایسی راہ نمائی ہے جو تمہیں فائدہ دے گی ( فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ ۚ ) ابراہیم میں اور ان کے مومن رفقاء میں ہے۔ تمہیں حکم دیا گیا ہے کہ تم یکسو ہو کر ملت ابراہیم کا اتباع کرو۔ (اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ) یعنی جب حضرت ابراہیم اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں نے اپنی مشرک قوم اور ان کے معبودوں سے برات کا اعلان کیا جنہیں وہ مشرک اللہ کے سوا پوجتے تھے۔ پھر پوری صراحت سے ان کے ساتھ اپنی عداوت کی تصریح کی چناچہ انہوں نے کہا ( كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا) ہم تمہارا انکار کرتے ہیں اور ظاہر ہوگیا۔ یعنی پوری طرح ظاہر اور واضح ہوگیا کہ (بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاۗءُ ) ہمارے اور تمہارے درمیان دلوں کا بغض اور ابدان کی عداوت، دلوں میں سے مودت زائل ہوگئی اور اس بغض اور عداوت کے لیے کوئی وقت اور حد مقرر نہیں بلکہ یہ عداوت (ابدا) اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک کہ تم اپنے کفر پر قائم ہو۔ (حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗٓ) یعنی جب تم اکیلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ گے تو عداوت اور بغض زائل ہوجائے گا عداوت اور دوستی میں بدل جائے گی چناچہ اے مومنو توحید اور اس کے لوازم ومقتضیات کو قائم کرنے میں ابراہیم اور ان کے اصحاب میں تمہارے لیے نمونہ ہے ہر چیز میں اسی کو نمونہ بنا کر اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ (الا) سوائے ایک خصلت کے اور وہ ہے ( قَوْلَ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ ) حضرت ابراہیم کا اپنے مشرک کافر اور معاند حق باپ آزر کے بارے میں قول، جب آپ نے اپنے باپ کو ایمان اور توحید کی دعوت دی اور اس نے قبول کرنے سے انکار کردیا تو آپ نے اس سے کہا تھا ( لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ ) میں تیرے لیے مغفرت طلب کروں گا اور حال یہ ہے کہ (مَآ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ ) میں اللہ کے سامنے تمہارے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ مگر میں اپنے رب سے دعا کرتا رہوں گا کہ ہوسکتا ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کرکے محروم نہ رہوں۔ اس حالت میں ابراہیم کی اقتدا نہ کرو جس میں انہوں نے اپنے مشرک باپ کے لیے دعا کی تھی تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم مشرکین کے لیے دعا کرو اور پھر کہو کہ ہم تو ملت ابراہیمی کی پیروی کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں حضرت ابراہیم کا عذر ان الفاظ میں بیان فرما دیا ہے۔ (وماکان استغفار ابراہیم لابیہ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ لاواہ حلیم۔ التوبہ 114) اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا، صرف ایک وعدے کے سبب سے تھا جو وہ اپنے باپ سے کرچکے تھے پھر جب ان پر واضح ہوگیا کہ وہ تو اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے اس سے برات کا اظہار کیا بلاشبہ ابراہیم بہت نرم دل اور بردبار تھے۔
تمہارے لیے حضرت ابراہیم اور ان کے اصحاب میں نمونہ اس وقت کے طرز عمل میں ہے جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کو پکارا اس پر بھروسا کیا اس کی طرف رجوع کیا اور اپنے عجز اور تقصیر کا اعتراف کیا اور کہا (ربنا علیک توکلنا) ایسے امور کے حصول میں جو ہمیں فائدہ دیتے ہیں اور ایسے امور کو دور کرنے میں جو ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں اور اے ہمارے رب ہم تجھ پر ہی بھروسا کرتے ہیں۔ (والیک انبنا) یعنی ہم تیری اطاعت اور تیری رضا اور ان تمام امور کی طرف لوٹتے ہیں جو تیرا قرب عطا کرتے ہیں اور نیک اعمال کے ذریعے سے اس قرب کے حصول میں کوشاں ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے تیری طرف لوٹنا ہے ہم تیری خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیاری کررہے ہیں اور وہ اعمال سرانجام دے رہے ہیں جو تیرے قریب کرتے ہیں۔
Ayah 60:5(رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا) یعنی اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہوں کے سبب سے تو کفار کو ہم پر مسلط نہ کرنا ایسا نہ کرنا کہ وہ ہمیں فتنے میں مبتلا کردیں اور ہمیں ان امور ایمان سے روک دیں جن پر عمل کرنے پر ہم قادر ہیں وہ اپنے آپ کو بھی فتنے میں مبتلا کریں گے کیونکہ جب وہ دیکھیں گے کہ انہیں غلبہ حاصل ہے تو سمجھیں گے وہ حق پر ہیں اور ہم باطل پر ہیں اس طرح وہ کفر اور سرکشی میں اور زیادہ بڑھ جایں گے۔ (وَاغْفِرْ لَنَا) ہم نے جن گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب کیا ہے اور مامورات کی تعمیل میں ہم سے جو تقصیر سرزد ہوئی ہے وہ ہمیں معاف کردے۔ (رَبَّنَا ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ ) اے ہمارے پروردگار، بیشک تو ہر چیز پر غالب ہے۔ ( الْحَكِيْمُ ) جو تمام اشیا کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے لہذا اپنی عزت وغلبے اور اپنی حکمت کے وسیلے سے ہمارے دشمنوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے عیوب کی اصلاح کر۔
Ayah 60:6(لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَـنَةٌ) تحقیق تمہارے لیے انہی لوگوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔ اور ہر شخص کے لیے اس نمونے کی پیروی کرنا آسان نہیں یہ صرف اسی شخص کے لیے آسان ہے (لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ ۭ ) جو اللہ سے ملنے اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو۔ کیونکہ ایمان اور اجر وثواب کی امید بندے کے لیے ہر مشکل کام کو آسان اور ہر کثیر کو اس کے سامنے قلیل کردیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور انبیا ومرسلین کی اقتدا کی موجب بنتی ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس کا بےانتہا محتاج اور ضرورت مند سمجھتا ہے۔
(وَمَنْ يَّتَوَلَّ ) جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور انبیا ومرسلین کی اقتدا سے منہ موڑتا ہے وہ خود اپنے سوا کسی کو نقصان نہیں دیتا اور وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا (فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ ) بیشک اللہ ہی بےپروا ہے۔ جو ہر لحاظ سے غنائے مطلق کا مالک ہے اور کسی بھی پہلو سے وہ مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں۔ (الْحَمِيْدُ ) وہ اپنی ذات وصفات اور افعال میں قابل ستائش ہے اور ان تمام امور میں اس کی ستائش کی جاتی ہے پھر اللہ تبارک تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عداوت جس کے بارے میں اس نے اہل ایمان کا حکم دیا کہ وہ مشرکین کے ساتھ رکھیں اور اہل ایمان کو اس وصف سے موصوف کیا کہ جب تک مشرکین اپنے شرک اور کفر پر قائم ہیں وہ ان کی دشمنی پر قائم ہیں اور اگر مشرکین دائرہ ایمان میں منتقل ہوجائیں گے تو حکم بھی اپنی علت کے مطابق ہوگا اور مودت ایمانی لوٹ آئے گی۔
Ayah 60:7پس اے مومنوا تم ان کے ایمان کی طرف لوٹنے سے مایوس نہ ہوجاؤ (عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ عَادَيْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً ۭ ) عجب نہیں کہ اللہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم عداوت کرتے ہو، دوستی پیدا کردے۔ اور اس کا سبب ان کا ایمان کی طرف لوٹنا ہے (وَاللّٰهُ قَدِيْرٌ ۭ ) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے دلوں کو ہدایت سے بہرہ ور کرنا اور ان کو ایک حال سے دوسرے حال میں بدلنا اور اس کی قدرت کے تحت ہے۔ (وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) اس کے سامنے کوئی گناہ بڑا نہیں کہ وہ اسے بخش نہ سکے اور کوئی عیب بڑا نہیں کہ وہ اسے ڈھانپ نہ سکے۔ (قل یعبادی الذین اسرفوا۔۔۔ تا۔۔۔ الرحیم۔ الزمر 53) ۔ اے نبی۔ ان لوگوں سے کہہ دیجئے جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا بیشک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اس آیت کریمہ میں بعض کفار کے اسلام لانے کی طرف اشارہ اور اس کی بشارت ہے جو اس وقت کافر اور اہل ایمان کے دشمن تھے اور یہ بشارت پوری ہوئی، وللہ الحمد والمنۃ۔
Ayah 60:8جب یہ آیات کریمہ جو کفار کے ساتھ عداوت پر ابھارتی تھیں نازل ہوئیں تو اہل ایمان نے ان پر عمل کیا انہوں نے ان آیات (کے تقاضوں) کو پوری طرح قائم کیا اور بعض مشرک قریبی رشتہ داروں سے تعلق کو گناہ تصور کیا اور سمجھا کہ یہ بھی اس ممانعت میں داخل ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ صلہ رحمی اس موالات ومودت کے دائرے میں نہیں آتی جو حرام ٹھہرائی گئی ہے۔ (لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَيْهِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ ) یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے مشرک عزیز و اقارب وغیرہ سے حسن سلوک، صلہ رحمی اور ان کو معروف طریقے سے انصاف کے ساتھ بدلہ دینے سے نہیں روکتا مگر اس صورت میں کہ انہوں نے دین کے معاملے میں تمہارے ساتھ جنگ کی ہو نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہو۔ اس لیے تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہو کیونکہ ان حالات میں صلہ رحمی ممنوع ہے نہ ایسا کرنے میں کوئی تاوان ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر والدین کے بارے میں جبکہ ان کا بیٹا مسلمانو ہو، فرمایا (وان جاھداک علی ان۔۔۔۔ تا۔۔۔ معروفا۔ لقمان 15) ۔ اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر البتہ دنیا میں معروف طریقے سے ان کے ساتھ نیک سلوک کرتا رہ۔
Ayah 60:9(اِنَّمَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ ) اللہ تو تمہیں صرف ان لوگوں کی دوستی سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی۔ یعنی اللہ تعایل کے دین اور اس کے ماننے والوں سے عداوت رکھتے ہوئے تمہارے دین کی وجہ سے (وَاَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ وَظٰهَرُوْا عَلٰٓي اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ ۚ ) ور انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکال دیا اور انہوں نے دوسروں کی مدد کی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالنے میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں روک دیا اس بات سے کہ قول فعل میں تم نصرت اور مودت کے ساتھ ان سے دوستی رکھو رہا تمہارا (اپنے مشرک رشتے داروں کے ساتھ) نیک برتاؤ اور احسان جو مشرکین کے ساتھ موالات کے زمرے میں نہ آتا ہو تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے نہیں روکا بلکہ یہ حکم اقارب وغیرہ انسانوں اور دیگر مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کے عمومی حکم کے تحت آتا ہے۔
Ayah 60:10صلح حدیبیہ میں جب رسول اللہ نے مشرکین مکہ کے ساتھ اس شرط پر معاہدہ کیا کہ کفار میں سے جو کوئی مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آئے تو وہ مشرکین کو واپس کردیا جائے گا یہ عام اور مطلق لفظ تھا جس کے عموم میں مرد اور عورت سب شامل ہیں مردوں کو اللہ تعالیٰ نے ایفائے شرط اور معاہدہ صلح کو پورا کرنے کے لیے کفار کی طرف واپس لوٹانے سے اپنے رسول کو منع نہیں کیا جو سب سے بڑی مصلحت تھی۔
رہی عورتیں تو چن کہ ان کے واپس لوٹانے میں بہت سے مفاسد تھے اس لیے اللہ نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ جب مومن عورتیں ہجرت کرکے ان کے پاس آئیں اور ان کو ان عورتوں کے ایمان کی صداقت میں شک ہو، تو سخت قسم وغیرہ کے ذریعے سے ان کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرلیا کریں، تاکہ ان کی صداقت ظاہر ہوجائے کیونکہ اس بات کا احتمال ہوسکتا ہے کہ ان کے ایمان میں صداقت نہ ہو بلکہ شوہر یا شہر وغیرہ دنیاوی مقاصد کے لیے ہجرت کی ہو، اگر ان میں یہ وصف پایا جائے تو ایفائے شرط کے لیے کسی خرابی کے حصول کے بغیر ان کا واپس کیا جانا طے شدہ ہے اگر اہل ایمان نے ان کو جانچ لیا اور ان کو سچا پایا ہو یا جانچ پڑتال کے بغیر ہی اہل ایمان کو ان کے مومن ہونے کا علم ہو تو وہ ان عورتوں کو کفار کی طرف واپس نہ بھیجیں۔ (لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ ۭ ) یہ (عورتیں) ان (کافروں) کے لیے حلال ہیں نہ وہ (کافر) ان کے لیے۔ یہ بہت بڑی خرابی ہے جس کی شارع نے رعایت رکھی ہے شارع نے ایفائے شرط کی بھی رعایت رکھی کہ ان عورتوں کے عوض میں ان کے کفار شوہروں کو وہ مہر اور اس کے توابع وغیرہ واپس لوٹا دیے جائیں جو انہوں نے ان عورتوں پر خرچ کیے ہیں تب مسلمانوں کے لیے ان عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں خواہ دارالشرک میں ان کے مشرک شوہر موجود ہوں مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان عورتوں کو مہر اور نان ونفقہ ادا کریں۔
جس طرح مسلمان عورت کافر کے لیے حلال نہیں اسی طرحاہل کتاب کے سوا کافر عورت، جب تک وہ اپنے کفر پر قائم ہے مسلمان مرد کے لیے حلال نہیں۔ اس لیے فرمایا ( وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ ) اور تم کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو۔ جب اللہ تعالیٰ نے کافروں عورتوں کی ناموس کو قبضے میں رکھنے سے منع کیا ہے تب ان کے ساتھ نکاح کی ابتدا تو بدرجہ اولی ممنوع ہے۔ ( وَاسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقْتُمْ ) اے مومنوا۔ جب تمہاری مرتد بیویاں کفار کی طرف واپس لوٹیں تو ان سے اس مال کا مطالبہ کرو جو تم نے ان پر خرچ کیا ہے جب کفار اپنی ان عورتوں کو عطا کیا ہاو مہر وصول کرسکتے ہیں جو مسلمان ہوگئی ہوں تو اس کے مقابلے میں مسلمان بھی اس مہر کو وصول کرنے کے مستحق ہیں جو ان کی مرتد بیویوں کے ساتھ کفار کے پاس گیا ہے ی۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کا اپنے شوہر کی زوجیت سے نکلنا قیمت رکھتا ہے اگر کوئی فاسد کرنے والا عورت کے نکاح کو، رضاعت یا کسی اور سبب کیب نا پر فاسد کردے تو اس کے مہر کی ضمان ہے یعنی مہر کی ادائیگی ضروری ہے۔ ( ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ ۭ ) یعنی یہ فیصلہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے جو اس نے تمہارے سامنے بیان کرکے واضح ہے۔ ( وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ) اور اللہ تعالیٰ جاننے والا حکمت والا ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کون سے احکام تمہارے لیے درست ہیں لہذا وہ اپنی حکمت اور رحمت کے مطابق اپنے احکام مشروع کرتا ہے۔
Ayah 60:11(وَاِنْ فَاتَكُمْ شَيْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ ) اور اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمہارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے اس سبب کہ وہ مرتد ہو کر واپس چلی گئی ہو ( فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِيْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَآ اَنْفَقُوْا ۭ ) تو تم (مال غنیمت میں سے) ان کو جن کی بیویاں چلی گئی ہیں اتنا مال دے دو جتنا انہوں نے خرچ کیا۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ جب کفار مسلمانوں سے اس مہر کا بدل وصول کرتے تھے جو ان کی بیویوں کے پاس مسلمانوں کی طرف چلا جاتا تھا تو مسلمانوں میں سے کسی بیوی کفار کے پاس چلی جائے اور وہ اس سے محروم ہوجائے تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ غنیمت میں سے اسے اس مال کا بدل عطا کریں جو مہر کی صورت میں اس نے اپنی بیوی پر خرچ کیا تھا۔ (وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ ) اور تم اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ پر تمہارا ایمان تم سے تقاضا کرتا ہے کہ تم دائمی طور پر تقوی کا التزام کرو۔
Ayah 60:12اس آیت کریمہ میں مذکورہ شرائط عورتوں کی بیعت کے نام سے موسوم ہیں جو ان مشرت کہ واجبا کی ادئیگی پر بیعت کرتی تھیں جو تمام اوقات میں مردوں اور عورتوں پر واجب ہیں رہے مرد، تو ان کے احوال و مراتب کے مطابق جو واجبات ان پر لازم آتے اور متعین ہوتے ہیں، ان میں تفاوت ہے اللہ تعالیٰ نبی کو جو حکم دیتا تھا آپ اس کو بجالاتے تھے جب عورتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کی درخواست کرتیں اور ان مذکورہ شرائط کا التزام کرتیں تو آپ ان سے بیعت لے لیا کرتے تھے آپ ان کے دل جوئی کرتے اور ان امور میں اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بخشش طلب کرتے جن میں انسے کوتاہی واقع ہوتی اور انہی جملہ مومنین میں ان شرائط کے ساتھ شامل کرتے کہ ( لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَـيْـــــًٔــا) وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کو عبادت کا مستحق سمجھیں گی۔ (وَلَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ ) اور وہ اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی۔ جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں جاہل عورتوں سے اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا صادر ہوتا تھا۔ ( وَلَا يَزْنِيْنَ ) اور وہ زنا نہیں کریں گی۔ جیسا کہ غیر مردوں سے یاری دوستی رکھنے والی عورتوں میں یہ فعل کثرت سے موجود تھا (وَلَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَانٍ يَّفْتَرِيْنَهٗ بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَاَرْجُلِهِنَّ ) وار کوئی ایسا بہتان نہ لگائیں گی جو خود اپنے ہاتھوں اور پیروں کے سامنے گھڑ لیں۔ بہتان سے مراد غیر پر پر افترا پردازی ہے یعنی وہ کسی بھی حالت میں افتراپردازی نہیں کریں گی خواہ اس کا تعلق خود اپنے اور اپنے شوہر کے ساتھ ہو یا شوہر کے علاوہ دوسرے کے ساتھ ہو۔ (وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ ) یعنی کسی بھی نیک کام میں، جس کا آپ حکم دیں، وہ آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی کیونکہ آپ کا حکم معروف مطابق (نیک) ہی ہوگا۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ نوحہ کرنے، گریبان چاک کرنے، چہرہ نوچنے اور جاہلیت کی آواز نکالنے کی ممانعت میں آپ کی اطاعت کریں گی۔ (فبایعھن) جب وہ مذکورہ احکام کی تعمیل کا التزام کریں تو ان سے بیعت لیجئے ( وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ ۭ ) اور ان کی دل جمعی کے لیے، ان کی تقصیر کی اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کیجئے (اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) یعنی وہ نافرمانوں کو بہت کثرت سے بخشنے والا اور گناہ گار تائبین پر احسان کرنے والا ہے اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں اور اس کا احسان تمام مخلوقات کو شامل ہے۔
Ayah 60:13یعنی اے مومنوا اگر تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو اس کی رضا کی اتباع کرتے ہو اور اس کی ناراضی سے دور رہتے ہو تو (لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ ) ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ ناراض ہوا ہے، اور اللہ تعالیٰ محض ان کے کفر کی وجہ سے ان پر ناراض ہے اور یہ کفر کی تمام اصناف کو شامل ہے۔ (قَدْ يَىِٕسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ ) وہ آخرت سے اس طرح مایوس ہوچکے ہیں، یعنی انہیں آخرت کی بھلائی سے محروم کردیا گیا اس لیے آخرت میں ان کے لیے کوئی حصہ نہ ہوگا۔ اس لیے تم ان کو دوست بنانے سے بچو ورنہ تم بھیان کے شریک اور شر میں موافقت کرنے لگو گے اور اس طرح تم بھی آخرت کی بھلائی سے محروم ہوجاؤ گے جیسے وہ محرم ہوگئے۔ (كَمَا يَىِٕسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ ) جس طرح کافروں کو مردوں کے جی اٹھنے کی امید نہیں۔ یعنی جب وہ آخرت کے گھر کو جائیں گے وہاں حقیقت امر کا مشاہدہ کریں گے اور انہیں علم الیقین حاصل ہوگا کہ آخرت میں ان کے لیے کوئی حصہ نہیں۔ اس معنی کے احتمال بھی ہے کہ وہ آخرت سے مایوس ہوگئے ہیں یعنی انہوں نے آخڑت کا انکار اور اس کے ساتھ کفر کیا ہے تب ان سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے کاموں اور اس کے عذاب کے موجبات کا اقدام کریں اور ان کا آخرت سے مایوس ہونا ایسے ہی ہے جیسے قیامت کا انکار کرنے والے کفار دنیا میں اصحاب قبور کے اللہ کی طرف لوٹنے سے مایوس ہیں۔