60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الممتحنہ یہ سورت صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیانی عرصے میں نازل ہوئی ہے، ان دونوں واقعات کی تفصیل پیچھے سورة فتح کے تعارف میں گزرچکی ہے، اس سورت کے بنیادی موضوع دو ہیں، ایک صلح حدیبیہ کی شرائط میں جو بات طے ہوئی تھی کہ اگر مکہ مکرمہ سے کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ منورہ آئے گا تو مسلمان اسے واپس بھیجنے کے پابند ہوں گے، اس کا اطلاق مسلمان ہو کر آنے والی عورتوں پر نہیں ہوگا، اور اگر کوئی عورت مسلمان ہو کر آئے گی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا جائزہ لے کر دیکھیں گے کہ کیا واقعی مسلمان ہو کر آئی ہے تو پھر اسے واپس نہیں بھیجا جائے گا، اس صورت میں اگر وہ شادی شدہ ہو، اور اس کا شوہر مکہ مکرمہ میں رہ گیا ہو، اس کے نکاح اور مہر وغیرہ سے متعلق کیا احکام ہوں گے ؟ وہ بھی اس سورت میں بیان فرمائے گئے ہیں، اور جن مسلمانوں کے نکاح میں ابھی تک بت پرست عورتیں تھیں، ان کے بارے میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اب وہ ان کے نکاح میں نہیں رہ سکتیں، چونکہ اس سورت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان عورتوں کا امتحان یا جائزہ لینے کا حکم دیا گیا تھا، اس لئے اس سورت کا نام ممتحنہ ہے، یعنی امتحان لینے والی۔ سورت کا دوسرا موضوع جو بالکل شروع میں بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے غیر مسلموں سے کس قسم کے تعلقات رکھنا جائز ہے اور کس قسم کے ناجائز، چنانچہ سورت کو اس حکم سے شروع فرمایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو دشمنوں سے خصوصی دوستی نہیں رکھنی چاہیے، ان آیتوں کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ سورة فتح کے تعارف میں ہم یہ بیان کرچکے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے معاہدے کو مکہ مکرمہ کے کافروں نے دو سال کے اندر اندر ہی توڑدیا تھا، اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش کے لوگوں پر واضح فرمادیا تھا کہ اب وہ معاہدہ باقی نہیں رہا، اس کے بعد آپ نے مکہ مکرمہ کے کفار پر ایک فیصلہ کن حملہ کرنے کی تیاری شروع فرمادی تھی ؛ لیکن ساتھ ہی کوشش یہ تھی کہ قریش کے لوگوں کو آپ کی تیاری کا علم نہ ہو، اسی دوران سارہ نام کی ایک عورت جو گانا بجاکر پیسے کماتی تھی، مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آئی اور اس نے بتایا کہ وہ مسلمان ہو کر نہیں آئی ؛ بلکہ وہ شدید مفلسی میں مبتلا ہے ؛ کیونکہ جنگ بدر کے بعد قریش مکہ کی عیش و عشرت کی محفلیں ویران ہوچکی ہیں، اب کوئی اسے گانے بجانے کے لئے نہیں بلاتا، اس لئے مالی امداد حاصل کرنے کے لئے آئی ہے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنوعبدالمطلب کو اس کی مدد کرنے کی ترغیب دی، اور اس کو کچھ نقدی اور کچھ کپڑے دے کر رخصت کیا گیا۔ دوسری طرف مہاجرین صحابہ کرام میں حضرت حاطب بن ابی بلتعہ (رض) ایک ایسے بزرگ تھے جو اصل میں یمن کے باشندے تھے اور مکہ مکرمہ آکر بس گئے تھے، مکہ مکرمہ میں ان کا قبیلہ نہیں تھا، وہ خود تو ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے تھے، لیکن ان کے اہل و عیال مکہ مکرمہ ہی میں رہ گئے تھے، جن کے بارے میں انہیں یہ خطرہ تھا کہ کہیں قریش کے لوگ ان پر ظلم نہ کریں، دوسرے مہاجر صحابہ جن کے اہل و عیال مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے، انہیں تو کسی قدر اطمینان تھا کہ ان کا پورا قبیلہ وہاں موجود ہے جو کافروں کے ظلم سے انہیں تحفظ دے سکتا ہے ؛ لیکن حضرت حاطب کے اہل و عیال کو یہ تحفظ حاصل نہیں تھا، جب سارہ نامی عورت مکہ مکرمہ واپس جانے لگی تو ان کے دل میں یہ خیال آیا کے اگر میں قریش کے لوگوں کو خفیہ طور پر ایک خط میں یہ اطلاع دے دوں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر حملہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں تو اس سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تو کوئی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے مکہ مکرمہ کی فتح کا وعدہ فرما رکھا ہے ؛ لیکن میری طرف سے قریش پر ایک احسان ہوجائے گا، اور اس احسان کی وجہ سے وہ میرے اہل و عیال کے ساتھ نرمی کا معاملہ کریں گے، چنانچہ انہوں نے ایک خط لکھ کر سارہ کے حوالے کردیا کہ وہ قریش کے سرداروں کو پہنچادے، ادھر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دے دی کہ سارہ ایک خفیہ خط لے کرگئی ہے اور روضہ خاخ کے مقام تک پہنچ چکی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی، حضرت مرثد اور حضرت زبیر (رض) کو اس مہم پر روانہ فرمایا کہ وہ اس عورت کا پیچھا کرکے اس سے وہ خط بر آمد کریں، اور یہاں واپس لے آئیں، یہ حضرات گئے اور انہوں نے وہ خط برآمد کرلیا، حضرت حاطب سے پوچھا گیا تو انہوں نے معذرت کی، اور اپنی اس غلطی کی وجہ بیان کی جو اوپر ذکر کی گئی ہے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی نیک نیتی کی وجہ سے ان کی اس غلطی کو معاف فرمادیا، اسی واقعے پر اس سورت کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں۔

Ayahs 60:1–3

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم میرے راستے میں جہاد کرنے کی خاطر اور میری خوشنودی حاصل کرنے کے لیے (گھروں سے) نکلے ہو تو میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو ایسا دوست مت بناؤ کہ ان کو محبت کے پیغام بھیجنے لگو، حالانکہ تمہارے پاس جو حق آیا ہے، انہوں نے اس کو اتنا جھٹلایا ہے کہ وہ رسول کو بھی اور تمہیں بھی صرف اس وجہ سے (مکے سے) باہر نکالتے رہے ہیں کہ تم اپنے پروردگار اللہ پر ایمان لائے ہو۔ تم ان سے خفیہ طور پر دوستی کی بات کرتے ہو، حالانکہ جو کچھ تم خفیہ طور پر کرتے ہو، اور جو کچھ علانیہ کرتے ہو، میں اس سب کو پوری طرح جانتا ہے۔ اور تم میں سے کوئی بھی ایسا کرے، وہ راہ راست سے بھٹک گیا۔ (1)

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

اگر تم ان کے ہاتھ آجاؤ تو وہ تمہارے دشمن بن جائیں گے اور اپنے ہاتھ اور زبانیں پھیلا پھیلا کر تمہارے ساتھ برائی کریں گے، اور ان کی خواہش یہ ہے کہ تم کافر بن جاؤ۔

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں ہرگز تمہارے کام آئیں گی، اور نہ تمہاری اولاد۔ اللہ ہی تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا، اور تم جو کچھ کرتے ہو، اللہ اسے پوری طرح دیکھتا ہے۔

1: حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کے جس واقعے کے پس منظر میں یہ آیتیں نازل ہوئیں ہیں وہ اوپر سورت کے تعارف میں تفصیل سے عرض کردیا گیا ہے، غیر مسلموں کے ساتھ دوستی کی کیا حد ہونی چاہئیں ؟ اس کی تفصیل کے لئے دیکھئے سورة آل عمران (آیت : 28) کا حاشیہ۔
Ayahs 60:4–6

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : ہمارا تم سے اور اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کرتے ہو، ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض پیدا ہوگیا ہے جب تک تم صرف ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ۔ البتہ ابراہیم نے اپنے باپ سے یہ ضرور کہا تھا کہ : میں آپ کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا ضرور مانگوں گا، اگرچہ اللہ کے سامنے میں آپ کو کوئی فائدہ پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ (2) اے ہمارے پروردگار آپ ہی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے، اور آپ ہی کی طرف ہم رجوع ہوئے ہیں، اور آپ ہی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ہمیں کافروں کا تختہ مشق نہ بنائیے اور ہمارے پروردگار ! ہماری مغفرت فرما دیجیے۔ یقینا آپ، اور صرف آپ کی ذات وہ ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی حکمت بھی کامل۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

(مسلمانو) یقینا تمہارے لیے ان لوگوں کے طرز عمل میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور روز آخرت سے امید رکھتا ہو۔ اور جو شخص منہ موڑے تو (وہ یاد رکھے کہ) اللہ سب سے بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔

2: مطلب یہ ہے کہ اگرچہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم اور کنبے سے برأت کا اظہار کردیا تھا، لیکن شروع میں اپنے والد سے مغفرت کی دعا کا وعدہ ضرور کیا تھا، لیکن جیسا کے سورة توبہ (9۔ 114) میں گزرا ہے، جب انہیں یہ پتہ چل گیا کہ وہ ہمیشہ کے لئے اللہ کا دشمن ہے اور اس کی قسمت میں ایمان نہیں ہے تو انہوں نے اس دعا سے بھی علیحدگی اختیار فرمالی۔
Ayah 60:7

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

کچھ بعید نہیں ہے کہ اللہ تمہارے اور جن لوگوں سے تمہاری دشمنی ہے، ان کے درمیان دوستی پیدا کردے، اور اللہ بڑی قدرت والا ہے، اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔ (3)

3: یعنی امید ہے کہ مکہ مکرمہ میں جو لوگ اس وقت دشمنی پر آمادہ ہیں، ان میں سے کچھ ایمان بھی لے آئیں گے، اور ان کی دشمنی دوستی میں تبدیل ہوجائے گی۔ چنانچہ فتح مکہ کے بعد ان میں سے بہت سے لوگ ایمان لے آئے۔
Ayahs 60:8–9

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی، اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، ان کے ساتھ تم کوئی نیکی کا یا انصاف کا معاملہ کرو، یقینا اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (4)

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

اللہ تو تمہیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ جن لوگوں نے تمہارے ساتھ دین کے معاملے میں جنگ کی ہے، اور تمہیں اپنے گھروں سے نکالا ہے، اور تمہیں نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے، تم ان سے دوستی رکھو۔ اور جو لوگ ان سے دوستی رکھیں گے، وہ ظالم ہیں۔

4: یعنی جو غیر مسلم مسلمانوں سے نہ جنگ کرتے ہیں، اور نہ انہیں کوئی اور تکلیف دیتے ہیں، ان سے اچھا برتاؤ اور نیکی کا سلوک اللہ تعالیٰ کو ہرگز ناپسند نہیں ہے، بلکہ انصاف کا معاملہ کرنا تو ہر مسلم اور غیر مسلم کے ساتھ واجب ہے۔
Ayah 60:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کو جانچ لیا کرو۔ اللہ ہی ان کے ایمان کے بارے میں بہتر جانتا ہے۔ پھر جب تمہیں یہ معلوم ہوجائے کہ وہ مومن عورتیں ہیں تو تم انہیں کافروں کے پاس واپس نہ بھیجنا۔ وہ ان کافروں کے لیے حلال نہیں ہیں، اور وہ کافر ان کے لیے حلال نہیں ہیں۔ (5) اور ان کافروں نے جو کچھ (ان عورتوں پر مہر کی صورت میں) خرچ کیا ہو، وہ انہیں ادا کرو۔ (6) اور تم پر ان عورتوں سے نکاح کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے، جب تک کہ تم نے ان کے مہر ادا نہیں کردیے ہوں۔ اور تم کافر عورتوں کی عصمتیں اپنے قبضے میں باقی نہ رکھو، اور جو کچھ تم نے (ان کافر بیویوں پر مہر کی صورت میں) خرچ کیا تھا، وہ تم (ان کے نئے شوہروں سے) مانگ لو۔ (7) اور انہوں نے جو کچھ (اپنی مسلمان ہوجانے والی بیویوں پر) خرچ کیا تھا، وہ (ان کے نئے مسلمان شوہروں سے) مانگ لیں۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے، وہی تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے، اور اللہ بڑے علم والا، بڑی حکمت والا ہے۔

5: اس آیت نے یہ واضح حکم عطا فرما دیا کہ کوئی مسلمان عورت کسی بھی غیر مسلم کے نکاح میں نہیں رہ سکتی۔ چنانچہ اگر کسی غیر مسلم کی بیوی مسلمان ہوجائے تو اس کے شوہر کو بھی اسلام لانے کی پیشکش کی جائے گی، اگر وہ بھی عورت کی عدت کے دوران اسلام قبول کرلے تو ان کا نکاح باقی رہے گا، لیکن اگر وہ مسلمان نہ ہو، تو اس کی مسلمان بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی، اور عدت کے بعد کسی مسلمان سے نکاح کرسکے گی۔ 6: جو شادی شدہ عورتیں مسلمان ہو کر مدینہ منورہ آتیں، ان کے شوہروں سے ان کا نکاح ختم ہوجاتا تھا، لیکن چونکہ مکہ مکرمہ کے کافروں سے اس وقت صلح کا معاہدہ تھا، اس لیے ان کو یہ سہولت دی گئی تھی کہ انہوں نے اپنی بیویوں کو جو مہر دیا تھا، وہ ان کو اس طرح واپس کرنے کا حکم دیا گیا کہ جو مسلمان ان عورتوں سے نکاح کرے، وہ اس کا مہر اس کے پہلے کافر شوہر کو ادا کردے۔ 7: اس آیت کے نزول سے پہلے بہت سے صحابہ ایسے تھے کہ وہ خود تو مسلمان ہوگئے تھے، لیکن ان کی بیویاں مسلمان نہیں ہوئی تھیں، اور وہ ابھی تک ان کے نکاح میں چلی آرہی تھیں۔ اس آیت نے حکم دے دیا کہ اب کوئی بت پرست عورت کسی مسلمان کے نکاح میں باقی نہیں رہ سکتی اور جیسا کہ مشرکین کے بارے میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی مسلمان ہونے والی بیویوں کو جو مہر ادا کیا تھا، وہ انہیں واپس کیا جائے، اسی طرح مسلمانوں کی جن کافر بیویوں کا نکاح مسلمان ہونے والی بیویوں کو جو مہر ان کے مسلمان شوہروں نے دیا تھا، اسکے بارے میں بھی انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ ان عورتوں کے نئے شوہر وہ مہر پرانے مسلمان شوہروں کو واپس کریں، اس لیے مسلمان شوہروں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اپنی ان مطلقہ بیویوں کے نئے شوہروں سے مہر کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت کے بعد ایسے صحابہ نے اپنی مشرک بیویوں کو طلاق دے کر الگ کردیا، لیکن اس کے بعد ان سے جن مشرک مردوں نے نکاح کیا، انہوں نے مسلمانوں کو ان کا مہر واپس نہیں کیا۔ اس لیے اگلے فقرے میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جن مسلمانوں کی بیویاں کافر ہونے کی وجہ سے کافروں کے نکاح میں چلی گئیں، اور ان کے نئے شوہروں نے مسلمانوں کو ان کا دیا ہوا مہر نہیں لوٹایا، وہ اپنا حق وصول کرنے کے لیے یہ کرسکتے ہیں کہ اگر کوئی عورت مسلمان ہو کر آئی ہو، اور اس سے کسی مسلمان نے نکاح کیا ہو، تو اس پر جو یہ واجب کیا گیا تھا کہ وہ ان کے پرانے شوہروں کو ان کا دیا ہوا مہر لوٹائے، اب وہ اس کافر شوہر کو دینے کے بجائے اس مسلمان کو دیدے جس کی بیوی کافر ہونے کی بنا پر کسی کافر کے نکاح میں آگئی ہو، اور اس کے نئے شوہر نے اس مسلمان کو مذکورہ قاعدے کے مطابق مہر واپس نہ کیا ہو۔ اس طرح مسلمان کو اس کا حق مل جائے گا، اور کافر لوگ آپس میں ایک دوسرے سے تصفیہ کرلیں گے۔
Ayah 60:11

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی کافروں کے پاس جاکر تمہارے ہاتھ سے نکل جائے، پھر تمہاری نوبت آئے (8) تو جن لوگوں کی بیویاں جاتی رہی ہیں ان کو اتنی رقم ادا کردو (9) جتنی انہوں نے (اپنی ان بیویوں پر) خرچ کی تھی، اور اللہ سے ڈرتے رہو، جس پر تم ایمان لائے ہو۔

8: یعنی تمہیں اپنا دیا ہوا مہر ان عورتوں کے نئے شوہروں سے وصول کرنے کی نوبت آئے۔ 9: یہ خطاب ان مسلمانوں سے ہے جنہوں نے مسلمان ہونے والی شادی شدہ عورتوں سے نکاح کیا، اور ان کے ذمے واجب ہوگیا کہ وہ ان کے پرانے شوہروں کو ان کا دیا ہوا مہر لوٹائیں۔
Ayah 60:12

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے نبی ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لیے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں مانیں گی، اور چوری نہیں کریں گی، اور زنا نہیں کریں گی، اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، اور نہ کوئی ایسا بہتان باندھیں گی جو انہوں نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیا ہو، (10) اور نہ کسی بھلے کام میں تمہاری نافرمانی کریں گی، تو تم ان کو بیعت کرلیا کرو، اور ان کے حق میں اللہ سے مغفرت کی دعا کیا کرو، یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

10: عربی محاورے کے مطابق ”ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان“ بہتان باندھنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ کھلم کھلا اور جانتے بوجھتے کسی پر جھوٹا بہتان باندھا جائے، اور ”ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان“ بہتان باندھنے کا دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو اپنے شوہر کا بیٹا قرار دیں جو درحقیقت اس کا نہیں ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں عورتیں یا تو کسی اور کا بچہ اٹھا لاتیں اور کہتیں کہ یہ میرے شوہر کا بچہ ہے، یا جانتے بوجھتے زنا کرتیں، اور اس حرام کی اولاد کو اپنے شوہر کی طرف منسوب کرتی تھیں۔ یہاں اس گھناؤنے جرم سے باز رہنے کا معاہدہ کرانا مقصود ہے۔ واضح رہے کہ جب آنحضرت ﷺ کسی عورت کو بیعت کرتے تھے تو اس کا ہاتھ کبھی اپنے ہاتھ میں لے کر نہیں کرتے تھے، بلکہ بس زبانی بیعت فرما لیتے تھے۔
Ayah 60:13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے۔ وہ آخرت سے اسی طرح مایوس ہوچکے ہیں جیسے کافر لوگ قبروں میں مدفون لوگوں سے مایوس ہیں۔ (11)

11: یعنی جس طرح کافر لوگ اپنے مرے ہوئے عزیزوں دوستوں اور باپ دادوں سے مایوس ہیں کہ وہ ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکیں گے، اسی طرح یہ لوگ آخرت کی زندگی سے مایوس ہیں۔ بعض مفسرین نے اس آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ ”یہ لوگ آخرت سے ایسے ہی مایوس ہوچکے ہیں جیسے وہ کافر مایوس ہیں جو قبروں میں جا چکے“ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جو کافر قبروں میں جا چکے ہیں، انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ آخرت کی زندگی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے اسی طرح یہ لوگ بھی آخرت کی زندگی سے مایوس ہوچکے ہیں۔