59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الحشر یہ سورت حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ منورہ ہجرت فرمانے کے دوسرے سال نازل ہوئی تھی، مدینہ منورہ میں یہودیوں کی ایک بڑی تعداد آباد تھی، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے یہ معاہدہ کرلیا تھا کہ آپس میں امن وامان سے رہیں گے، اور مدینہ منورہ پر حملہ ہونے کی صورت میں مل کر اس کا دفاع کریں گے، یہودیوں نے اس معاہدے کو قبول تو کرلیا تھا ؛ لیکن ان کو حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دلی بغض تھا، اس لئے وہ خفیہ طور پر آپ کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے، چنانچہ انہوں نے در پردہ مکہ مکرمہ کے بت پرستوں سے تعلقات رکھے ہوئے تھے، اور ان کو مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے تھے، اور ان سے یہ وعدہ کرلیا تھا کہ اگر تم مسلمانوں پر حملہ کروگے تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے، یہودیوں کا ایک قبیلہ بنو نضیر کہلاتا تھا، ایک مرتبہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے معاہدے کی کچھ شرائط پر عمل کرانے کے لئے ان کے پاس تشریف لے گئے تو ان لوگوں نے یہ سازش کی کہ جب آپ بات چیت کرنے کے لئے بیٹھیں تو ایک شخص اوپر سے آپ پر ایک چٹان گرادے، جس سے (معاذاللہ) آپ شہید ہوجائیں، اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ کو ان کی اس سازش سے باخبر فرمادیا، اور آپ وہاں سے اٹھ کر چلے آئے، اس واقعے کے بعد آپ نے بنو نضیر کے پاس پیغام بھیجا کہ اب آپ لوگوں کے ساتھ ہمارا معاہدہ ختم ہوگیا ہے، اور ہم آپ کے لئے ایک مدت مقرر کرتے ہیں کہ اس مدت کے اندر اندر آپ مدینہ منورہ چھوڑ کر کہیں چلے جائیں، ورنہ مسلمان آپ پر حملہ کرنے کے لئے آزاد ہوں گے، کچھ منافقین نے بنو نضیر کو جاکر یقین دلایا کہ آپ لوگ ڈٹے رہیں، اگر مسلمانوں نے حملہ کیا تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے ؛ چنانچہ بنو نضیر مقررہ مدت میں مدینہ منورہ سے نہیں گئے، آنحضرت صلی اللہ علیحہ وسلم نے مدت گزرنے کے بعد ان کے قلعے کا محاصرہ کرلیا اور منافقین نے ان کی کوئی مدد نہیں کی، آخر کار ان لوگوں نے ہتھیا ڈال دئیے، اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مدینہ منورہ سے جلاوطن کرنے کا حکم دیا، البتہ یہ اجازت دی کہ ہتھیاروں کے سوا وہ اپنا سارا مال و دولت اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں، یہ سورت اس واقعے کے پس منظر میں نازل ہوئی، اور اس میں اس واقعے پر تبصرہ بھی فرمایا گیا ہے، اور اس سے متعلق بہت سی ہدایات بھی دی گئی ہیں، حشر کے لفظی معنی ہیں جمع کرنا، چونکہ اس سورت کی آیت نمبر : ٢ میں یہ لفظ آیا ہے جس کی تشریح آیت نمبر : ٢ کے حاشیہ میں آرہی ہے، اس لئے اس سورت کا نام سورة حشر ہے اور بعض صحابہ سے منقول ہے کہ وہ اسے سورة بنی نضیر بھی کہا کرتے تھے۔

Ayahs 59:1–2

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو بھی کوئی چیز ہے اس نے اللہ کی تسبیح کی ہے، اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافر لوگوں کو ان کے گھروں سے پہلے اجتماع کے موقع پر نکال دیا۔ (1) (مسلمانو) تمہیں یہ خیال بھی نہیں تھا کہ وہ نکلیں گے، اور وہ بھی یہ سمجھے ہوئے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے۔ پھر اللہ ان کے پاس ایسی جگہ سے آیا جہاں ان کا گمان بھی نہیں تھا، اور اللہ نے ان کے د لوں میں رعب ڈال دیا کہ وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے بھی اور مسلمانوں کے ہاتھ سے بھی اجاڑ رہے تھے۔ (2) لہذا اے آنکھوں والو ! عبرت حاصل کرو۔

1: پہلے اجتماع کا مطلب بعض مفسرین نے یہ بتلایا ہے کہ اس سے مسلمانوں کا لشکر مراد ہے، اور مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان سے جنگ کرنی نہیں پڑی، بلکہ پہلے اجتماع ہی پر وہ قابو میں آگئے، لیکن بیشتر مفسرین نے اس کی یہ تفسیر کی ہے کہ اس سے مراد جلاوطنی کے لئے بنو نضیر کا اجتماع ہے، اور مطلب یہ ہے کہ یہ ان یہودیوں کے لئے پہلا موقع تھا کہ وہ جلا وطنی کے لئے جمع ہوئے ہوں، اس سے پہلے کبھی ان کو ایسے اجتماع کا موقع پیش نہیں آیا تھا، اور اس لفظ میں ایک لطیف اشارہ یہ بھی ہے کہ یہ بنو نضیر کی پہلی جلا وطنی تھی، اس کے بعد ان کو ایک اور جلا وطنی سے بھی سابقہ پیش آئے گا ؛ چنانچہ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں ان کو دوبارہ خیبر سے جلا وطن فرمایا۔ 2: چونکہ آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کو اجازت دی تھی کہ جتنا مال وہ اپنے ساتھ لے جاسکیں، ساتھ لے جائیں، اس لیے ان لوگوں نے اپنے گھروں کے دروازے تک اکھاڑ لیے تھے۔
Ayah 59:3

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اور اگر اللہ نے ان کی قسمت میں جلا وطنی نہ لکھ دی ہوتی تو وہ دنیا ہی میں ان کو عذاب دے دیتا، (3) البتہ آخرت میں ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔

3: یعنی انہیں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کروا دیتا۔
Ayahs 59:4–5

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی ٹھانی، اور جو شخص اللہ سے دشمنی کرتا ہے، تو اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

تم نے کھجور کے جو درخت کاٹے، یا انہیں اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا، تو یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے تھا، (4) اور اس لیے تھا تاکہ اللہ نافرمانوں کو رسوا کرے۔

4: جب آنحضرت ﷺ نے بنو نضیر کے قلعے کا محاصرہ فرمایا تو آس پاس کے کچھ کھجور کے درخت کاٹنے پڑے تھے، اس پر کچھ لوگوں نے اعتراض کیا تھا کہ پھل دار درخت کاٹنا مناسب نہیں تھا، اس کے جواب میں اس آیت نے فرمایا کہ جو درخت کاٹے گئے ہیں، اللہ تعالیٰ کے حکم سے کاٹے گئے ہیں اور جنگی حکمت عملی کے طور پر اگر کسی برحق جہاد میں ایسا کرنا پڑے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
Ayah 59:6

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور اللہ نے اپنے رسول کو ان کا جو مال بھی فیئ کے طور پر دلوایا۔ اس کے لیے تم نے نہ اپنے گھوڑے دوڑائے، نہ اونٹ، لیکن اللہ اپنے پیغمبروں کو جس پر چاہتا ہے، تسلط عطا فرما دیتا ہے۔ (5) اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔

5: فئی اس مال کو کہتے ہیں جو کوئی دشمن ایسی حالت میں چھوڑ جائے کہ مسلمانوں کو اس سے باقاعدہ لڑائی کرنی نہ پڑی ہو، بنو نضیر کے یہودیوں کو حضور اقدس ﷺ نے اپنا مال و دولت ساتھ لے جانے کی اجازت دی تھی، اس لئے وہ جو کچھ ساتھ لے جاسکتے تھے لے گئے ؛ لیکن ان کی جو زمینیں تھیں ظاہر ہے کہ وہ ساتھ نہیں لے جاسکتے تھے، اس لئے وہ چھوڑ کر گئے یہ زمینیں مال فئی کے طور پر مسلمانوں کے قبضے میں آئیں، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اپنی یہ نعمت یاد دلا رہے ہیں کہ یہ مال فئی اللہ تعالیٰ نے اس طرح عطا فرمادیا کہ مسلمانوں کو باقاعدہ لڑائی کی محنت بھی اٹھانی نہیں پڑی، آیت میں گھوڑوں اور اونٹوں کو دوڑانے سے مراد لڑائی کی کاروائی ہے، اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس فئی کے مصارف بیان فرمائے ہیں کہ اسے کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔
Ayahs 59:7–8

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

اللہ اپنے رسول کو (دوسری) بستیوں سے جو مال بھی فیئ کے طور پر دلوا دے، تو وہ اللہ کا حق ہے اور اس کے رسول کا، اور قرابت داروں کا، اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا، تاکہ وہ مال صرف انہی کے درمیان گردش کرتا نہ رہ جائے جو تم میں دولت مند لوگ ہیں۔ اور رسول تمہیں جو کچھ دیں، وہ لے لو، اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ سخت سزا دینے و الا ہے۔

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

(نیز یہ مال فیئ) ان حاجت مند مہاجرین کا حق ہے جنہیں اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے بےدخل کیا گیا ہے۔ (6) وہ اللہ کی طرف سے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلب گار ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو راست باز ہیں۔

6: یعنی وہ صحابہ جنہیں کافروں نے مکہ مکرمہ سے نکلنے پر مجبور کیا، اور وہ اپنے گھروں اور جائیدادوں سے محروم ہوگئے۔
Ayah 59:9

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

(اور یہ مال فیئ) ان لوگوں کا حق ہے جو پہلے ہی سے اس جگہ (یعنی مدینہ میں) ایمان کے ساتھ مقیم ہیں۔ (7) جو کوئی ان کے پاس ہجرت کے آتا ہے یہ اس سے محبت کرتے ہیں، اور جو کچھ ان (مہاجرین) کو دیا جاتا ہے، یہ اپنے سینوں میں اس کی کوئی خواہش بھی محسوس نہیں کرتے، اور ان کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، چاہے ان پر تنگ دستی کی حالت گزر رہی ہو۔ (8) اور جو لوگ اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ ہوجائیں، وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

7: اس سے مراد وہ انصاری صحابہ ہیں جو مدینہ منورہ کے اصل باشندے تھے، اور انہوں نے مہاجرین کی مدد کی۔ 8: اگرچہ سارے ہی انصار کی یہی کیفیت تھی کہ وہ ایثار سے کام لیتے تھے، لیکن روایات میں ایک صحابی (حضرت ابو طلحہ ؓ کا خاص طور پر ذکر آیا ہے جن کے گھر میں کھانا بہت تھوڑا سا تھا، پھر بھی جب آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو ترغیب دی کہ وہ کچھ مہمانوں کو اپنے گھر لے جائیں، اور انہیں کھانا کھلائیں تو یہ کچھ مہمان اپنے ساتھ لے گئے، اور ان کی تواضع اس طرح کی کہ خود کچھ نہیں کھایا، اور چراغ بجھا کر مہمانوں کو بھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ کچھ نہیں کھا رہے۔ اس آیت میں ان کے ایثار کی بھی تعریف فرمائی گئی ہے۔
Ayah 59:10

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور (یہ مال فیئ) ان لوگوں کا بھی حق ہے جو ان (مہاجرین اور انصار) کے بعد آئے۔ (9) وہ یہ کہتے ہیں کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہماری بھی مغفرت فرمایئے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی بغض نہ رکھیے۔ اے ہمارے پروردگار ! آپ بہت شفیق، بہت مہربان ہیں۔

9: اس سے ایک تو وہ حضرات مراد ہیں جو مذکور صحابہ کے بعد پیدا ہوئے، یا مسلمان ہوئے، ان کو بھی اس مال فیئ سے حصہ دیا جائے گا، دوسرے اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مال فیئ کا جو حصہ بیت المال میں محفوظ رہے گا، وہ آنے والے مسلمانوں کی ضروریات میں استعمال ہوگا۔ حضرت فاروق اعظم ؓ نے اسی آیت کی بنا پر عراق کی زمینوں کو مجاہدین میں تقسیم کرنے کے بجائے ان پر خراج عائد کردیا تھا، تاکہ وہ بیت المال میں جا کر تمام آنے والوں کے کام آئے۔ اس مسئلے کی تفصیل کے لیے اہل علم معاف القرآن اور بندے کی کتاب ملکیت زمین کی شرعی حیثیت ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
Ayahs 59:11–12

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا جنہوں نے منافقت سے کام لیا ہے کہ وہ اپنے ان بھائیوں سے جو کافر اہل کتاب میں سے ہیں یہ کہتے ہیں کہ : اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکلیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی کسی اور کا کہنا نہیں مانیں گے، اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں۔

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

یہ پکی بات ہے کہ اگر ان (اہل کتاب) کو نکالا گیا تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔ (10) اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے، اور اگر بالفرض ان کی مدد کی بھی تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے، پھر ان کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔

10: یعنی جب یہ منافقین یہودیوں کو یقین دلا رہے تھے کہ ہم تمہاری مدد کریں گے اس وقت بھی ان کے دل میں ارادہ نہیں تھا، اور آئندہ بھی اگر کوئی ایسا موقع آئے تو یہ لوگ اتنی جرأت نہیں رکھتے کہ جنگ میں کسی کی مدد کریں۔
Ayahs 59:13–15

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

(مسلمانو) حقیقت یہ ہے کہ ان کے دلوں میں تمہاری دہشت اللہ سے زیادہ ہے۔ یہ اس لیے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں سمجھ نہیں ہے۔

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

یہ سب لوگ اکٹھے ہو کر بھی تم سے جنگ نہیں کریں گے، مگر ایسی بستیوں میں جو قلعوں میں محفوظ ہوں، یا پھر دیواروں کے پیچھے چھپ کر۔ ان کی آپس کی مخالفتیں بہت سخت ہیں۔ تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو، حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ یہ اس لیے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں عقل نہیں ہے۔

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

ان کی حالت ان لوگوں کی سی ہے جو ان سے کچھ ہی پہلے اپنے کرتوت کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ (11) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

11: اس سے مراد ایک اور قبیلے بنوقینقاع کے یہودی ہیں۔ انہوں نے بھی حضور اکرم ﷺ سے امن اور باہمی تعاون کا معاہدہ کیا تھا، لیکن پھر خود ہی آپ سے جنگ ٹھان لی جس کے نتیجے میں انہوں نے شکست بھی کھائی، اور ان کو بھی مدینہ منورہ سے جلا وطن کیا گیا۔
Ayah 59:16

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ وہ انسان سے کہتا ہے کہ : کافر ہوجا۔ پھر جب وہ کافر ہوجاتا ہے تو کہتا ہے کہ : میں تجھ سے بری ہوں، میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ (12)

12: شیطان کا یہ وطیرہ ہے کہ وہ شرع میں تو انسان کو کفر اور گناہوں پر اکساتا ہے، لیکن جب اس کے نتیجے میں اس کی بات ماننے والوں کو کسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو وہ ان سے بےتعلقی اختیار کرلیتا ہے اس کا ایک واقعہ غزوہ بدر کے سلسلے میں سورة انفال : 48 میں گذر چکا ہے۔ اور آخرت میں تو وہ کافروں کی ذمہ داری لینے سے صاف مکر ہی جائے گا۔ جس کی تفصیل سورة ابراہیم : 22 میں بیان ہوئی ہے۔ اسی طرح یہ منافق لوگ شروع میں تو یہودیوں کو مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہے، لیکن جب وقت آیا تو مدد کرنے سے صاف مکر گئے۔
Ayahs 59:17–19

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

چنانچہ ان دونوں کا انجام یہ ہے کہ وہ دونوں دوزخ میں ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہی ظلم کرنے والوں کی سزا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ اور اللہ سے ڈرو۔ یقین رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اور تم ان جیسے نہ ہوجانا جو اللہ کو بھول بیٹھے تھے، تو اللہ نے انہیں خود اپنے آپ سے غافل کردیا۔ (13) وہی لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔

13: یعنی وہ اس بات سے غافل اور بےپرواہ ہوگئے کہ خود ان کی جانوں کے لیے کونسی بات فائدے کی اور کونسی نقصان کی ہے، اور غفلت کے عالم میں وہی کام کرتے رہے جو انہیں تباہی کی طرف لے جانے والے تھے۔
Ayahs 59:20–24

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

جنت والے اور دوزخ والے برابر نہیں ہوسکتے۔ جنت والے ہی وہ ہیں جو کامیاب ہیں۔

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارا ہوتا تو تم اسے دیکھتے کہ وہ اللہ کے رعب سے جھکا جارہا ہے، اور پھٹا پڑتا ہے۔ اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر سے کام لیں۔

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

وہ اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ چھپی اور کھلی ہر بات کو جاننے والا ہے۔ وہی ہے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے۔

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہ اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، جو بادشاہ ہے، تقدس کا مالک ہے، سلامتی دینے والا ہے، امن بخشنے والا ہے، سب کا نگہبان ہے، بڑے اقتدار والا ہے، ہر خرابی کی اصلاح کرنے والا ہے، بڑائی کا مالک ہے۔ پاک ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہ اللہ وہی ہے جو پیدا کرنے والا ہے، وجود میں لانے والا ہے صورت بنانے والا ہے، (14) اسی کے سب سے اچھے نام ہیں۔ آسمانوں اور زمین میں جتنی چیزیں ہیں وہ اس کی تسبیح کرتی ہیں، اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

14: ان آیات میں اللہ تبارک وتعالی کے کئی اسمائے حسنی ذکر فرمائے گئے ہیں، یہاں ان کا ترجمہ دیا گیا ہے، لیکن اصل نام یہ ہیں : الرَّحْمٰنُ ، الرَّحِيْمُ ، الْمَلِکُ ، الْقُدُّوْسُ ، السَّلَامُ ، الْمُؤْمِنُ ، الْمُهَيْمِنُ ، الْعَزِيْزُ ، الْجَبَّارُ ، الْمُتَکَبِّرُ ، الْخَالِقُ ، الْبَارِئُ ، الْمُصَوِّرُ ، حضور اقدس ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے کل نناوے نام بیان فرمائے ہیں، جنہیں اسمائے حسنی کہا جاتا ہے، وللہ الحمد اولاً وآخراً۔