58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة المجادلۃ اس سورت میں بنیادی طور پر چار اہم موضوعات کا بیان ہے، پہلا موضوع ظہار ہے، اہل عرب میں یہ طریقہ تھا کہ کوئی شوہر اپنی بیوی سے کہہ دیتا تھا کہ انت علی کظہر امی، یعنی تم میرے لئے میری ماں کی پشت کی طرح ہو، جاہلیت کے زمانے میں اس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ ایسا کہنے سے بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہے، سورت کی ابتداء میں اسی کے احکام کا بیان ہے جس کی تفصیل انشاء اللہ ان آیتوں کے حواشی میں آنے والی ہے، دوسرا موضوع یہ ہے کہ بعض یہودی اور منافقین آپس میں اس طرح سرگوشیاں کیا کرتے تھے جس سے مسلمانوں کو یہ اندیشہ ہوتا تھا کہ وہ ان کے خلاف کوئی سازش کررہے ہیں، نیز بعض صحابہ کرام حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تنہائی میں کوئی مشورہ یا کوئی بات کرنا چاہتے تھے، اس سورت میں ان خفیہ باتوں کے احکام بیان فرمائے گئے ہیں، تیسرا موضوع ان آداب کا بیان ہے جو مسلمانوں کو اپنی اجتماعی مجلسوں میں ملحوظ رکھنے چاہئیں، چوتھا اور آخری موضوع ان منافقوں کا تذکرہ ہے جو ظاہر میں تو ایمان کا اور مسلمانوں سے دوستی کا دعوی کرتے رہتے ت ہے ؛ لیکن در حقیقت وہ ایمان نہیں لائے تھے، اور درپردہ وہ مسلمانوں کے دشمنوں کی مدد کرتے رہتے ت ہے۔ سورت کا نام مجادلہ (یعنی بحث کرنا) اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے جس میں ایک خاتون کے بحث کرنے کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، خاتون کا یہ واقعہ نیچے حاشیہ نمبر : ١ میں آرہا ہے۔

Ayah 58:1

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اللہ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث کر رہی ہے، اور اللہ سے فریاد کرتی جاتی ہے۔ (1) اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے۔ یقینا اللہ سب کچھ سننے دیکھنے والا ہے۔

1: اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ حضرت خولہ ایک خاتون تھیں جو حضرت اوس بن صامت ؓ کے نکاح میں تھیں جو بوڑ ہے ہوچکے تھے، اور ایک مرتبہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو یہ کہہ دیا کہ، تم میرے لئے میری ماں کی پشت کی طرح ہو (یعنی میں نے تم کو اپنے اوپر ماں کی پشت کی طرح حرام کرلیا ہے) جب کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ جملہ کہہ دے تو اسی کو ظہار کہتے ہیں، اسلام سے پہلے ظہار کے نتیجے میں میاں بیوی ہمیشہ کے لئے جدا ہوجایا کرتے تھے، اور پھر ان کے ملاپ کا کوئی راستہ نہیں رہتا تھا، اگرچہ حضرت اوس بن صامت یہ جملہ جذبات میں آکر کہہ تو گئے تھے، لیکن بعد میں شرمندہ ہوئے تو یہ خاتون پریشان ہو کر حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں آئیں، اور آپ سے پوچھا کہ اس صورت حال کا کیا حکم ہے، آپ نے فرمایا کہ اس سلسلے میں ابھی میرے پاس کوئی حکم نہیں آیا، اور یہ شبہ ظاہر فرمایا کہ شاید تم اپنے شوہر کے لئے حرام ہوچکی ہو، اس پر خاتون نے بار بار آنحضرت ﷺ سے یہ کہا کہ میرے شوہر نے مجھ سے طلاق کا کوئی لفط تو نہیں کہا، ان کے اسی بار بار کہنے کو آیت میں بحث کرنے سے تعبیر فرمایا گیا ہے، اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اللہ تعالیٰ سے فریاد شروع کردی کہ یا اللہ میں آپ سے فریاد کرتی ہوں کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو ضائع ہوجائیں گے، پھر آسمان کی طرف سر اٹھا کر بار بار کہتی ہی رہیں کہ یا اللہ میں آپ سے فریاد کرتی ہوں، ابھی وہ یہ فریاد کر ہی رہی تھیں کہ یہ آیات نازل ہوگئیں جن میں ظہار کا حکم اور اس سے رجوع کرنے کا طریقہ بتلایا گیا، خلاصہ از تفسیر ابن کثیر۔
Ayah 58:2

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں (ان کے اس عمل سے) وہ بیویاں ان کی مائیں نہیں ہوجاتیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی بات کہتے ہیں جو بہت بری ہے، اور جھوٹ ہے۔ (2) اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بہت بخشنے والا ہے۔

2: یعنی ایسا کہنا گناہ ہے، لیکن اگلے ہی جملے میں اشارہ فرما دیا گیا ہے کہ اگر کوئی اس گناہ سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیں گے۔
Ayahs 58:3–6

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں پھر انہوں نے جو کچھ کہا ہے، اس سے رجوع کرتے ہیں، تو ان کے ذمے ایک غلام آزاد کرنا ہے، قبل اس کے کہ وہ (میاں بیوی) ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ (3) یہ ہے وہ بات جس کی تمہیں نصیحت کی جارہی ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

پھر جس شخص کو غلام میسر نہ ہو، اس کے ذمے دو متواتر مہینوں کے روزے ہیں، قبل اس کے کہ وہ (میاں بیوی) ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ پھر جس کو اس کی بھی استطاعت نہ ہو اس کے ذمے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یہ اس لئے تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

یقین رکھو کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ایسے ہی ذلیل ہوں گے جیسے ان سے پہلے لوگ ذلیل ہوئے تھے اور ہم نے کھلی کھلی آیتیں نازل کردی ہیں اور کافروں کے لیے ایسا عذاب ہے جو خوار کر کے رکھ دے گا۔

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

اس دن جب اللہ ان سب کو دوبارہ زندہ کرے گا، پھر انہیں بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا تھا۔ اللہ نے اسے گن گن کر محفوظ رکھا ہے، اور یہ اسے بھول گئے ہیں۔ اور اللہ ہر چیز کا گواہ ہے۔

3: یہاں سے ظہار کا حکم بیان فرمایا جارہا ہے اور وہ یہ کہ ظہار کے بعد میاں بیوی کے لئے اپنے مخصوص تعلقات یعنی جماع بوس وکنار وغیرہ جائز نہیں رہتے، البتہ ظہار سے رجوع ہوسکتا ہے، جس کے بعد میاں بیوی والے تعلقات بحال ہوجاتے ہیں، لیکن اس کے لئے کفارہ ادا کرنا ضروری ہے، ان آیتوں میں کفارہ یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر کسی کے لئے ایک غلام کو آزاد کرنا ممکن ہو تو اس کے ذمے واجب ہے کہ وہ غلام آزاد کرنے کی صورت میں کفارہ ادا کرے ؛ لیکن اگر کسی کو غلام کی قدرت نہ ہو (جیسے کہ آج کل غلاموں کا وجود ہی نہیں رہا) تو اس کو دو مہینے متواتر روزے رکھنے ہوں گے، اور اگر کوئی شخص بڑھاپے یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے روزے بھی نہ رکھ سکے تو وہ ساٹھ مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلادے، تو اس سے بھی کفارہ ادا ہوجاتا ہے، کفارہ ادا کرنے کے بعد میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے حلال ہوجاتے ہیں۔
Ayah 58:7

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ اسے جانتا ہے ؟ کبھی تین آدمیوں میں کوئی سرگوشی ایسی نہیں ہوتی جس میں چوتھا وہ نہ ہو، اور نہ پانچ آدمیوں کی کوئی سرگوشی ایسی ہوتی ہے جس میں چھٹا وہ نہ ہو، اور چاہے سرگوشی کرنے والے اس سے کم ہوں یا زیادہ، وہ جہاں بھی ہوں، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ (4) پھر وہ قیامت کے دن انہیں بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا تھا۔ بیشک اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

4: حضور نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد وہاں کے یہودیوں سے امن وامان کے ساتھ رہنے کا معاہدہ فرمایا تھا، دوسری طرف یہودیوں کو مسلمانوں سے جو دلی بغض تھا، اس کی بنا پر وہ مختلف ایسی شرارتیں کرتے رہتے تھے جو مسلمانوں کے لئے تکلیف کا باعث ہوں ؛ چنانچہ ایک شرارت یہ تھی کہ بعض اوقات جب وہ مسلمانوں کو دیکھتے تو آپس میں اس طرح کانا پھوسی اور ایسے اشارے شروع کردیتے تھے جیسے وہ ان کے خلاف کوئی سازش کررہے ہوں، بعض منافقین بھی ایسا ہی کرتے تھے، اس طرز عمل سے مسلمانوں کو تکلیف ہوتی تھی، اس لئے انہیں اس طرح کی سرگوشیاں کرنے سے منع کردیا گیا تھا، اس کے باوجود وہ اس سے باز نہیں آئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
Ayahs 58:8–10

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں سرگوشی کرنے سے منع کردیا گیا تھا، پھر بھی وہ وہی کام کرتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا ؟ اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ ایسی سرگوشیاں کرتے ہیں جو گناہ، زیادتی اور رسول کی نافرمانی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اور (اے پیغمبر) جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں ایسے طریقے سے سلام کرتے ہیں جس سے اللہ نے تمہیں سلام نہیں کیا، (5) اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ : ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر اللہ ہمیں سزا کیوں نہیں دے دیتا ؟ (6) جہنم ہی ان (کی خبر لینے) کے لیے کافی ہے، وہ اسی میں جا پہنچیں گے، اور وہ پہنچنے کی بہت بری جگہ ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم آپس میں ایک دوسرے سے سرگوشی کرو تو ایسی سرگوشی نہ کرو جو گناہ، زیادتی اور رسول کی نافرمانی پر مشتمل ہو، ہاں ایسی سرگوشی کرو جو نیک کاموں اور تقوی پر مشتمل ہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، جس کے پاس تم سب کو جمع کر کے لے جایا جائے گا۔

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

ایسی سرگوشی تو شیطان کی طرف سے ہوتی ہے تاکہ وہ ایمان والوں کو غم میں مبتلا کرے اور وہ اللہ کے حکم کے بغیر انہیں ذرا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

5: یہودیوں کی ایک شرارت یہ تھی کہ جب وہ مسلمانوں سے ملتے تو السلام علیکم کہنے کے بجائے السام علیکم کہتے تھے، السلام علیکم کے معنی ہیں تم پر سلامتی ہو اور السام علیکم کے معنی ہیں کہ تم پر ہلاکت ہو، چونکہ دونوں لفظوں میں صرف ایک لام کا فرق ہے اس لئے بولتے وقت سننے والے خیال بھی نہیں کرتے تھے، لیکن وہ لوگ اس طرح اپنے بغض کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے تھے، اس آیت میں ان کی اسی شرارت کی طرف اشارہ ہے۔ 6: اپنی مذکورہ شرارتوں کے بعد وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ہماری یہ باتیں غلط ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر سزا کیوں نہیں دیتا اور چونکہ ہم پر کوئی سزا مسلط نہیں ہورہی ہے، اس لئے ثابت ہوا کہ ہم برحق ہیں۔
Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں دوسروں کے لیے گنجائش پید کرو، تو گنجائش پیدا کردیا کرو، (7) اللہ تمہارے لیے وسعت پیدا کرے گا، اور جب کہا جائے کہ اٹھ جاؤ، تو اٹھ جاؤ، تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے اللہ ان کو درجوں میں بلند کرے گا، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

7: اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ مسجد نبوی کے ساتھ اس چبوترے پر تشریف فرما تھے جسے صفہ کہا جاتا ہے۔ آپ کے ارد گرد بہت سے صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں کچھ ایسے بزرگ صحابہ آئے جو غزوہ بدر میں شریک تھے، اور ان کا درجہ اونچا سمجھا جاتا تھا۔ ان کو مجلس میں بیٹھنے کی جگہ نہ ملی تو وہ کھڑے رہے۔ آنحضرت ﷺ نے شرکائے مجلس سے فرمایا کہ وہ ذرا سمٹ سمٹ کر آنے والوں کے لیے جگہ پیدا کریں، اس کے باوجود ان کے لیے جگہ کافی نہ ہوئی تو آپ نے بعض شرکائے مجلس سے فرمایا کہ وہ اٹھ جائیں، اور آنے والوں کے لیے جگہ خالی کردیں۔ اس پر کچھ منافقین نے برا منایا کہ لوگوں کو مجلس سے اٹھایا جا رہا ہے۔ عام طور سے آنحضرت ﷺ کا یہ معمول نہیں تھا، لیکن شاید کچھ منافقین نے آنے والوں کو جگہ دینے میں تردد کیا ہو، اس لیے آپ نے انہیں اٹھا دیا ہو۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں ایک تو مجلس کا عام حکم بیان فرمایا گیا کہ آنے والوں کے لیے گنجائش پیدا کرنی چاہیے، اور دوسرے یہ حکم بھی واضح کردیا گیا کہ اگر مجلس کا سربراہ کسی وقت محسوس کرے کہ آنے والوں کے لیے جگہ خالی کرنی چاہیے تو وہ مجلس میں پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگوں کو یہ حکم دے سکتا ہے کہ وہ اٹھ کر نئے آنے والوں کو بیٹھنے کی جگہ دیں۔ البتہ کوئی نیا آنے والا خود کسی کو اٹھنے پر مجبور نہیں کرسکتا، جیسا کہ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ کی یہی تعلیم مذکور ہے۔
Ayah 58:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم رسول سے تنہائی میں کوئی بات کرنا چاہو تو اپنی اس تنہائی کی بات سے پہلے کچھ صدقہ کردیا کرو۔ (8) یہ طریقہ تمہارے حق میں بہتر اور زیادہ ستھرا طریقہ ہے۔ ہاں اگر تمہارے پاس (صدقہ کرنے کے لیے) کچھ نہ ہو تو اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

8: جو لوگ حضور اقدس ﷺ سے تنہائی میں بات کرنے کا وقت مانگتے تھے، بعض اوقات وہ غیر ضرور طور پر آپ کا زیادہ وقت لے لیتے تھے، چونکہ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی شخص آپ سے بات کرتا تو خود سے اس کی بات نہیں کاٹتے تھے، اس لیے بعض لوگ اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتے تھے جن میں کچھ منافقین بھی شامل تھے۔ چنانچہ اس آیت نے یہ حکم دیا تھا کہ جو کوئی شخص آپ سے تنہائی میں بات کرنا چاہے، وہ پہلے کچھ غریبوں کو صدقہ خیرات کر کے آئے۔ البتہ ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا گیا تھا کہ اگر کسی کے پاس صدقہ کرنے کی استطاعت نہ ہو تو وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔ صدقے کی کوئی مقدار متعین نہیں فرمائی گئی تھی۔ چنانچہ حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے کچھ تنہائی کا وقت لیا تو ایک دینار صدقہ کیا تھا۔ اس کی ایک مصلحت یہ تھی کہ وہی لوگ تنہائی میں آپ کا وقت لیں جنہیں واقعی ضرورت ہو۔ اگلی آیت میں اس حکم کو منسوخ کردیا گیا جیسا کہ اگلے حاشیہ میں آرہا ہے۔
Ayah 58:13

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ اپنی تنہائی کی بات سے پہلے صدقات دیا کرو ؟ اب جبکہ تم ایسا نہیں کرسکے، اور اللہ نے تمہیں معاف کردیا تو تم نماز قائم کرتے ہو، اور زکوٰۃ دیتے رہو، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے رہو۔ (9) اور جو کام بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

9: صدقہ کرنے کا جو حکم پچھلی آیت میں دیا گیا تھا، اس آیت نے اس کو منسوخ کردیا، کیونکہ جس مقصد سے وہ حکم دیا گیا تھا، وہ پورا ہوچکا تھا، لوگ آنحضرت ﷺ کا وقت لینے سے احتیاط کرنے لگے تھے، اور منافقین کو بھی اندازہ ہوگیا تھا کہ اگر وہ اب بھی پہلے جیسا طرز عمل جاری رکھیں تو ان کا راز کھل جائے گا۔ چنانچہ اس آیت نے فرمایا کہ اب صدقہ کرنا ضروری نہیں ہے، البتہ اپنے دوسرے دینی فرائض مثلاً نماز اور زکوٰۃ وغیرہ ادا کرتے رہو۔
Ayahs 58:14–15

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا جنہوں نے ایسے لوگوں کو دوست بنایا ہوا ہے جن پر اللہ کا غضب ہے ؟ (10) یہ نہ تو تمہارے ہیں اور نہ ان کے، اور یہ جانتے بوجھتے جھوٹی باتوں پر قسمیں کھا جاتے ہیں۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت برے ہیں وہ کام جو یہ کرتے رہے ہیں۔

10: اس سے مراد منافقین ہیں جنہوں نے یہودیوں سے ایسی دوستی گانٹھی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں وہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔
Ayahs 58:16–21

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا لیا ہے۔ (11) پھر وہ دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے رہے ہیں۔ اس لیے ان کے لیے ایسا عذاب ہے جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ کام نہیں آئیں گے۔ یہ دوزخ والے ہیں۔ یہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن اللہ ان سب کو دوبارہ زندہ کرے گا تو اس کے سامنے بھی یہ اسی طرح قسمیں کھائیں گے جیسے تمہارے سامنے کھاتے ہیں، اور یہ سمجھیں گے کہ انہیں کوئی سہارا مل گیا ہے۔ یاد رکھو یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں۔

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

ان پر شیطان نے پوری طرح قبضہ جما کر انہیں اللہ کی یاد سے غافل کردیا ہے۔ یہ شیطان کا گروہ ہے۔ یاد رکھو شیطان کا گروہ ہی نامراد ہونے والا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ذلیل ترین لوگوں میں شامل ہیں۔

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اللہ نے یہ بات لکھ دی ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب آئیں گے۔ یقین رکھو کہ اللہ بڑا قوت والا، بڑے اقتدار والا ہے۔

11: یعنی جس طرح ڈھال سے تلوار کے وار کو روکا جاتا ہے یہ لوگ سازشیں کرنے کے باوجود قسمیں کھاکر اپنے مسلمان ہونے کا یقین دلاتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی طرف سے کسی جوابی کاروائی سے بچ سکیں۔
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، ان کو تم ایسا نہیں پاؤ گے کہ وہ ان سے دوستی رکھتے ہوں، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے، چاہے وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے خاندان والے۔ (12) یہ وہ لوگ ہیں جن کے د لوں میں اللہ نے ایمان نقش کردیا ہے، اور اپنی روح سے ان کی مدد کی ہے، اور انہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ہیں۔ یہ اللہ کا گروہ ہے۔ یاد رکھو کہ اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا ہے۔

12:: سورة آل عمران : 28 کے حاشیہ میں تفصیل سے بتایا جا چکا ہے کہ غیر مسلموں سے کس قسم کی دوستی جائز اور کس قسم کی ناجائز ہے۔