57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الحدید اس سورت کی آیت نمبر : ١٠ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی تھی، اس موقع پر چونکہ مسلمانوں کے خلاف کافروں کی دشمنی کی کاروائیاں بڑی حد تک دھیمی پڑگئی تھیں اور جزیرہ عرب پر مسلمانوں کا تسلط بڑھ رہا تھا، اس لئے اس سورت میں مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان صفات سے آراستہ کرنے پر زیادہ توجہ دیں جو ان کے دین کو مطلوب ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے اپنی کوتاہیوں پر مغفرت مانگیں نیز ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنا مال خرچ کریں اور آخرت کی بہبود کو دنیا کے مال و دولت پر ترجیح دیں جس کے نتیجے میں انہیں آخرت میں ایک ایسا نور عطا ہوگا جو انہیں جنت تک لے جائے گا، جبکہ منافق لوگ اس نور سے محروم کردئیے جائیں گے، سورت کے آخر میں عیسائیوں کو یاد دلایا گیا ہے کہ جو رہبانیت (ترک دنیا) انہوں نے اختیار کی تھی، وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مطابقت نہیں رکھتی تھی، اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ دنیا کو بالکل چھوڑ کر بیٹھ جاؤ؛ بلکہ یہ تاکید فرمائی تھی کہ اسی دنیا میں رہ کر اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرو اور تمام حقوق اسی کی ہدایت کے مطابق ادا کرو، نیز عیسائیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں تو اس کے لئے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا ضروری ہے، اس سورت کی آیت نمبر : ٢٥ میں لوہے کا ذکر آیا ہے، لوہے کو عربی میں حدید کہتے ہیں، اس لئے سورت کا نام سورة الحدید ہے۔

Ayahs 57:1–2

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو چیز بھی ہے، وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ (1) اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔

1: دیکھئے سورة بنی اسرائیل : 44
Ayah 57:3

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہی اول بھی ہے اور آخر بھی، ظاہر بھی اور چھپا ہوا بھی، (2) اور وہ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔

2: اللہ تعالیٰ اول اس معنی میں ہے کہ اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، اور وہ ہمیشہ سے موجود ہے، وہ آخراس معنی میں ہے کہ جب اس کائنات کی ہر چیز فنا ہوجائے گی تو وہ اس وقت بھی موجود رہے گا، وہ ظاہر اس لحاظ سے ہے کہ اس کے وجود اس کی قدرت اور اس کی حکمت کی نشانیاں اس کائنات میں ہر جگہ پھیلی ہوئی ہیں، جو اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ وہ موجود ہے، اور چھپا ہوا اس معنی میں ہے کہ یہاں دنیا میں وہ آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔
Ayahs 57:4–5

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر عرش پر استوا فرمایا، (3) وہ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور ہر اس چیز کو جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور تم جہاں کہیں ہو، وہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور جو کام بھی تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھتا ہے۔

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، اور تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔

3: تشریح کے لیے دیکھئے سورة اعراف : 54، سورة یونس : 3 اور سورة رعد : 2 یہی حقیقت قرآن کریم نے سورة طه : 5 سورة فرقان : 59، سورة تنزیل السجدہ : 4 اور سورة حم السجدة : 11 میں بھی بیان فرمائی ہے۔
Ayah 57:6

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

وہ رات کو دن میں داخل کردتیا ہے، اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے، (4) اور وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو خوب جانتا ہے۔

4: سورة آل عمران : 27 میں اس کی تشریح گذر چکی ہے۔ مزید دیکھئے سورة حج : 61، سورة لقمان : 29 اور سورة فاطر : 13
Ayah 57:7

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو، اور جس (مال) میں اللہ نے تمہیں قائم مقام بنایا ہے، (5) اس میں سے (اللہ کے راستے میں) خرچ کرو۔ چنانچہ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے (اللہ کے راستے میں) خرچ کیا ہے، ان کے لیے بڑا اجر ہے۔

5: مال و دولت میں انسان کو قائم مقام بنانے سے دو عظیم حقیقتوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ ایک یہ کہ مال و دولت، خواہ کسی قسم کا ہو، اصل میں وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، کیونکہ اسی نے اس کو پیدا فرمایا ہے البتہ اس نے انسان کو اس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے عطا فرمایا ہے، اس لیے انسان اس کی ملکیت میں اللہ تعالیٰ کا قائم مقام ہے، اور جب وہ قائم مقام ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے اللہ تعالیٰ ہی کی مرضی اور اس کے حکم کے مطابق خرچ کرے۔ اور دوسری حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان جو دولت کماتا ہے، وہ اس سے پہلے کسی اور کے قبضے میں تھی، اور اب خریداری، تحفے یا میراث وغیرہ کے ذریعے سے اس کے پاس آگئی ہے، اس لحاظ سے وہ اپنے سے پچھلے مالک کا قائم مقام یا جانشین ہے۔ اس سے یہ اشارہ فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح یہ دولت تم سے پہلے مالک کے پاس ہمیشہ نہیں رہی، بلکہ تمہارے پاس منتقل ہوگئی، اسی طرح یہ تمہارے پاس بھی ہمیشہ نہیں رہے گی، بلکہ کسی اور کے پاس چلی جائے گی، اور جب اسے ہمیشہ تمہارے پاس نہیں رہنا، کسی نہ کسی کے پاس جانا ہے تو تمہاری خوش نصیبی یہ ہے کہ اس کو ان لوگوں کی طرف منتقل کرو جنہیں دینے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔
Ayahs 57:8–9

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور تمہارے لیے کونسی وجہ ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہ رکھو، حالانکہ رسول تمہیں دعوت دے رہے ہیں کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان رکھو، اور وہ تم سے عہد لے چکے ہیں، اگر تم واقعی مومن ہو۔ (6)

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

اللہ وہی تو ہے جو اپنے بندے پر کھلی کھلی آیتیں نازل فرماتا ہے، تاکہ تمہیں اندھیریوں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ اور یقین جانو اللہ تم پر بہت شفیق، بہت مہربان ہے۔

6: بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ خطاب کافروں کو ہے، اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ خطاب ان مسلمانوں کو ہے جن کے ایمان میں کسی قدر کمزوری محسوس کی گئی تھی، جس کی بناء پر وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے سے ہچکچا رہے تھے۔ سیاق وسباق کے لحاظ سے شاید یہ دوسری تفسیر زیادہ راجح ہے۔
Ayah 57:10

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تمہارے لیے کونسی وجہ ہے کہ تم اللہ کے راستے میں خرچ نہ کرو، حالانکہ آسمانوں اور زمین کی ساری میراث اللہ ہی کے لیے ہے۔ تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا، اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی۔ (7) یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے، اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

7: فتح مکہ (سن 8 ھ) سے پہلے مسلمانوں کی تعداد اور ان کے وسائل کم تھے اور دشمنیاں زیادہ، اس لئے اس زمانہ میں جن حضرات نے جہاد کیا اور اپنا مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیا ان کی قربانیاں زیادہ تھیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ثواب میں بھی ان کا زیادہ بڑادرجہ رکھا ہے اور فتح مکہ کے بعد مسلمانوں کی تعداد اور وسائل میں بھی اضافہ ہوگیا تھا، اور دشمنیاں بھی کم ہوگئی تھیں، اس لئے جن حضرات نے فتح مکہ کے بعد جہاد اور صدقات وغیرہ میں حصہ لیا ان کو اتنی قربانی دینی نہیں پڑی، اس لئے ان کا درجہ وہاں تک نہیں پہنچا ؛ لیکن اگلے ہی فقرے میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمادی ہے کہ بھلائی یعنی جنت کی نعمتیں دونوں ہی کو ملیں گی۔
Ayah 57:11

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کون ہے جو اللہ کو قرض دے ؟ اچھا قرض (8) جس کے نتیجے میں اللہ اسے دینے والے کے لیے کئی گنا بڑھا دے ؟ اور ایسے شخص کو بڑا باعزت اجر ملے گا۔

8: اللہ تعالیٰ کو نہ مال کی حاجت ہے، نہ کسی سے قرض لینے کی، وہ ہر حاجت سے بےنیاز ہے، لیکن انسان جو کچھ صدقہ خیرات کرتا ہے، یا جہاد اور دینی کاموں میں خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اسے قرض کے لفظ سے اس لیے تعبیر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا صلہ ایسے شخص کو دنیا اور آخرت میں اس اہتمام سے عطا فرماتا ہے جیسے کوئی قرض دار اپنا قرض واپس کرتا ہے۔ اور اچھے قرض سے مراد یہ ہے کہ وہ پورے خلوص کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیا گیا ہو، دکھاوا مقصود نہ ہو۔ سورة بقرہ : 245 اور سورة مائدہ : 12 میں بھی اچھے قرض کی یہ تعبیر گذر چکی ہے۔
Ayah 57:12

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

اس دن جب تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا (9) (اور ان سے کہا جائے گا کہ) آج تمہیں خوشخبری ہے ان باغات کی جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں تم ہمیشہ ہمیشہ رہو گے۔ یہی ہے جو بڑی زبردست کامیابی ہے۔

9: اس سے مراد غالباً وہ وقت ہے جب تمام لوگ پل صراط سے گذر رہے ہوں گے، وہاں ہر انسان کا ایمان اس کے سامنے نور بن کر اسے راستہ دکھائے گا۔
Ayah 57:13

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

اس دن جب منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے کہ : ذرا ہمارا انتظار کرلو کہ تمہارے نور سے ہم بھی کچھ روشنی حاصل کرلیں۔ (10) ان سے کہا جائے گا کہ : تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ، پھر نور تلاش کرو۔ (11) پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا جس کے اندر کی طرف رحمت ہوگی، اور باہر کی طرف عذاب ہوگا۔

10: منافق لوگ چونکہ دنیا میں اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے، اس لیے شروع میں وہ آخرت میں بھی مسلمانوں کے ساتھ لگ جائیں گے، لیکن جب حقیقی مسلمان تیزی سے آگے نکل جائیں گے تو ان کے ساتھ وہ نور بھی آگے بڑھ جائے گا، اور منافق لوگ اندھیرے میں پیچھے رہ جائیں گے، اس وقت وہ اپنے ظاہری طور پر مسلمان ہونے کا حوالہ دے کر آگے جانے والے مسلمانوں کو آواز دیں گے کہ ذرا ہمارا انتظار کرلو، تاکہ تمہارے نور سے ہم بھی فائدہ اٹھاسکیں۔ 11: یعنی یہ فیصلہ پیچھے ہورہا ہے کہ کسی کو نور ملے، کس کو نہ ملے، اس لیے پیچھے جا کر نور حاصل کرنے کی درخواست کرو۔
Ayahs 57:14–16

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

وہ مومنوں کو پکاریں گے کہ : کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے ؟ مومن کہیں گے کہ : ہاں تھے تو سہی، لیکن تم نے خود اپنے آپ کو فتنے میں ڈال لیا، اور انتظار میں رہے، (12) شک میں پڑے رہے، اور جھوٹی آرزوؤں نے تمہیں دھوکے میں ڈالے رکھا، (13) یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا اور وہ بڑا دھوکے باز (یعنی شیطان) تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکا ہی دیتا رہا۔

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

چنانچہ آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے (کھلے بندوں) کفر اختیار کیا تھا۔ تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے، وہی تمہاری رکھوالی ہے اور یہ بہت برا انجام ہے۔

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، کیا ان کے لیے اب بھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لیے اور جو حق اترا ہے اس کے لیے پسیج جائیں ؟ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ بنیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر ایک لمبی مدت گزر گئی، اور ان کے دل سخت ہوگئے، اور (آج) ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں ؟

12: یعنی اس انتظار میں رہے کہ کب مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئے، اور ہم کھلے بندوں اپنے کفر کا اظہار کریں۔ 13: منافقین اس انتظار اور آرزو میں تھے کہ مسلمانوں کو ان دشمنوں کے ہاتھوں شکست ہوجائے، اور (معاذ اللہ) اسلام کا بالکل خاتمہ ہی ہوجائے۔
Ayahs 57:17–18

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

خوب سمجھ لو کہ اللہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ (14) ہم نے تمہارے لیے نشانیاں کھول کھول کر واضح کردی ہیں، تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

یقینا وہ جو صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں ہیں، اور انہوں نے اللہ کو قرض دیا ہے اچھا قرض، ان کے لیے اس (صدقے) کو کئی گنا بڑھا دیا جائے گا، اور ان کے لیے باعزت اجر ہے۔

14: یعنی جن مسلمانوں سے اب تک کچھ غلطیاں ہوئی ہیں، اور وہ اپنے ایمان کے تمام تقاضے پورے نہیں کرسکے، انہیں مایوس نہیں ہونا چاہیے، جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ پڑی ہوئی زمین کو زندگی بخشتا ہے، اسی طرح وہ توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما کر انہیں بھی نئی زندگی بخش دیتا ہے۔
Ayah 57:19

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں، وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ (15) ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا، وہ دوزخی لوگ ہیں۔

15: صدیق کے معنی ہیں وہ شخص جو اپنے قول وفعل کا سچا ہو اور یہ انبیائے کرام کے بعد پرہیزگاری کا سب سے اونچا درجہ ہے، جیسا کہ سورة نساء (4: 70) میں گزرا ہے، اور شہید کے لفظی معنی تو گواہ کے ہیں، اور قیامت میں امت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوۃ والسلام) کے پرہیزگار افراد پچھلے انبیاء کرام (علیہم السلام) کے حق میں گواہی دیں گے جیسا کہ سورة بقرۃ (143) میں گزرا ہے، نیز شہیدان حضرات کو بھی کہا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے اپنی جان کی قربانی پیش کریں، یہاں یہ بات منافقوں کے مقابلے میں فرمائی جارہی ہے کہ صرف زبان سے ایمان کا دعوی کرکے کوئی شخص صدیق اور شہید کا درجہ حاصل نہیں کرسکتا ؛ بلکہ وہی لوگ یہ درجہ حاصل کرسکتے ہیں جو دل سے سچا اور پکا ایمان لائے ہوں، یہاں تک کہ اس ایمان کے آثار ان کی عملی زندگی میں پوری طرح ظاہر ہوں۔
Ayahs 57:20–21

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

خوب سمجھ لو کہ اس دنیا والی زندگی کی حقیقت بس یہ ہے کہ وہ نام ہے کھیل کود کا، ظاہری سجاوٹ کا، تمہارے ایک دوسرے پر فخر جتانے کا، اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرنے کا۔ (16) اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش جس سے اگنے والی چیزیں کسانوں کو بہت اچھی لگتی ہیں، پھر وہ اپنا زور دکھاتی ہیں، پھر تم اس کو دیکھتے ہو کہ زرد پڑگئی ہے، پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے۔ اور آخرت میں (ایک تو) سخت عذاب ہے، اور (دوسرے) اللہ کی طرف سے بخشش ہے، اور خوشنودی، او دنیا والی زندگی دھکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی جیسی ہے، یہ ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں، یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

16: یہاں اللہ تعالیٰ نے ان دلچسپیوں کا ذکر فرمایا ہے، جن سے انسان اپنی زندگی کے مختلف مرحلوں میں دل لگاتا ہے، بچپن میں ساری دلچسپی کھیل کود سے ہوتی ہے، اور جوانی کے دور میں زیب وزینت اور سجاوٹ کا شوق پیدا ہوتا ہے، اور اس زیب وزینت اور دنیا کے ساز و سامان میں ایک دوسرے کے سامنے اپنی برتری جتانے اور اس پر فخر کرنے کا ذوق ہوتا ہے، پھر بڑھاپے میں مال اور اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کو ہی انسان دلچسپی کا مرکز بنالیتا ہے، اور ہر مرحلے میں انسان جس چیز کو اپنی دلچسپی کی معراج سمجھتا ہے اگلے مرحلے میں وہ بےحقیقت معلوم ہونے لگتی ہے ؛ بلکہ بعض اوقات انسان اس پر ہنستا ہے کہ میں نے کس چیز کو اپنی زندگی کا حاصل سمجھا ہوا تھا، آخرت میں پہنچ کر انسان کو پتہ چلے گا کہ یہ ساری دلچسپیاں بےحقیقت تھیں اور اصل حاصل کرنے کی چیز تو یہ آخرت کی خوش حالی تھی۔
Ayah 57:22

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں نازل ہوتی یا تمہاری جانوں کو لاحق ہوتی ہو، مگر وہ ایک کتاب میں اس وقت سے درج ہے جب ہم نے ان جانوں کو پیدا بھی نہیں کیا تھا، (17) یقین جانو یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔

17: کتاب سے مراد یہاں لوح محفوظ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قیامت تک ہونے والے تمام واقعات پہلے سے لکھے ہوئے ہیں۔
Ayah 57:23

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

یہ اس لیے تاکہ جو چیز تم سے جاتی رہے، اس پر تم غم میں نہ پڑو، اور جو چیز اللہ تمہیں عطا فرمادے، اس پر تم اتراؤ نہیں، (18) اور اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اتراہٹ میں مبتلا ہو، شیخی بگھارنے والا ہو۔

18: جس شخص کا اس بات پر ایمان ہو کہ دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ اسی تقدیر کے مطابق ہورہا ہے، جو لوح محفوظ میں پہلے سے لکھی ہوئی ہے، اسے کسی ناگوار واقعے پر اتنا صدمہ نہیں ہوتا جو اسے دائمی پریشانی اور حسرت میں مبتلا رکھے ؛ بلکہ یہ چیز اس کی تسلی کا باعث ہوتی ہے کہ جو کچھ تقدیر میں لکھا تھا وہی ہوا، اور یہ کہ اس دنیا کی تکلیفیں آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں، اس طرح اگر کوئی خوشی کا واقعہ پیش آتا ہے تو انسان اس پر اتراکر تکبر میں مبتلا نہیں ہوتا، اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور تقدیر کے مطابق ہے، اور اس پر انسان کو اترانے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
Ayah 57:24

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

وہ ایسے لوگ ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں، اور دوسرے لوگوں کو بھی کنجوسی کی تلقین کرتے ہیں۔ (19) اور جو شخص منہ موڑ لے تو یاد رکھو کہ اللہ ہی ہے جو سب سے بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔

19: چونکہ اس سورت میں لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنا مال خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، اس لئے یہاں فرمایا جارہا ہے کہ جو لوگ تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے، وہ اپنے مال کو تنہا اپنی کوشش کا پھل سمجھ کر شیخی بگھارتے ہیں اور نیک کاموں کے لئے کچھ خرچ کرنے میں کنجوسی سے کام لیتے ہیں۔
Ayahs 57:25–26

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی ہوئی نشانیاں دے کر بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب بھی اتاری، اور ترازو بھی، (20) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں، اور ہم نے لوہا اتارا جس میں جنگی طاقت بھی ہے اور لوگوں کے لیے دوسرے فائدے بھی، (21) اور یہ اس لیے تاکہ اللہ جان لے کہ کون ہے جو اس کو دیکھے بغیر اس (کے دین) کی اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتا ہے۔ یقین رکھو کہ اللہ بڑی قوت کا، بڑے اقتدار کا مالک ہے۔ (22)

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو اور ابراہیم کو پیغمبر بنا کر بھیجا، اور ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری کیا۔ پھر ان میں سے کچھ تو ہدایت پر آگئے، اور ان میں سے بہت سے لوگ نافرمان رہے۔

20: ترازو اصل میں اس آلے کو کہتے ہیں جس سے کوئی چیز تولی جائے، اس کو اتارنے کے مفہوم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ترازو پیدا کی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے مطابق انصاف سے کام لینے کا حکم دیا ہے۔ اور درحقیقت انبیائے کرام اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ ترازو کا ذکر کرنے سے اشارہ یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ اپنی زندگی کے ہر مرحلے پر توازن اور اعتدال سے کام لے، اور یہی توازن اور اعتدال انبیائے کرام اور آسمانی کتابوں کی تعلیمات میں پایا جاتا ہے۔ 21: لوہا ان دھاتوں میں سے ہے جس کی ہر صنعت میں ضرورت پڑتی ہے، اس لیے اس کی تخلیق بذات خود اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، لیکن انبیائے کرام، آسمانی کتابوں اور ترازو کے بعد اس کو ذکر فرما کر اشارہ یہ دیا گیا ہے کہ انسانوں کی اصلاح کا اصل ذریعہ انبیائے کرام اور ان کی لائی ہوئی کتابوں کی تعلیمات ہیں، ان پر ٹھیک ٹھیک عمل ہوجائے تو دنیا میں انصاف قائم ہوسکتا ہے، لیکن شر کی بہت سی طاقتیں ایسی ہیں جو ان تعلیمات سے سدھرنے کے بجائے بگڑی ہی رہتی ہیں، اور انصاف قائم کرنے کے بجائے فساد پھیلاتی ہیں، ان کی سرکوبی کے لیے اللہ تعالیٰ نے لوہا اتارا ہے جس سے جنگی طاقت کا سامان تیار ہوتا ہے، اور آخر میں جہاد کے لیے اسے استعمال کرنا پڑتا ہے۔ 22: یعنی اللہ تعالیٰ کی طاقت اور اس کا اقتدار اتنا بڑا ہے کہ اسے شر کی طاقتوں کو کچلنے کے لیے کسی انسان کی مدد کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اس نے انسانوں کو جہاد کا مکلف اس لیے فرمایا ہے تاکہ ان کی آزمائش ہو، اور یہ بات نکھر کر سامنے آجائے کہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت میں جان کی بازی لگاتا ہے، اور کون ہے جو سرکشی اختیار کرتا ہے۔
Ayah 57:27

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے پیچھے انہی کے نقش قدم پر اپنے اور پیغمبر بھیجے، اور ان کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا کی، اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں ہم نے شفقت اور رحم دلی پیدا کردی۔ (23) اور جہاں تک رہبانیت کا تعلق ہے وہ انہوں نے خود ایجاد کرلی تھی، ہم نے اس کو ان کے ذمے واجب نہیں کیا تھا۔ (24) لیکن انہوں نے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنی چاہی، پھر اس کی ویسی رعایت نہ کرسکے جیسے اس کا حق تھا۔ (25) غرض ان میں سے جو ایمان لائے تھے، ان کو ہم نے ان کا اجر دیا، اور ان میں سے بہت لوگ نافرمان ہی رہے۔

23: یوں تو شفقت اور رحم دلی سارے ہی انبیائے کرام کی تعلیمات میں شامل رہی ہے لیکن حضرت عیسیٰ ؑ کی تعلیمات میں اس پر بہت زیادہ زور دیا گیا تھا، اور بظاہر ان کی شریعت میں جہاد اور قتال کے احکام بھی نہیں تھے، اس لیے ان کے متبعین میں شفقت و رحمت ہی کا پہلو بہت نمایاں تھا۔ 24: رہبانیت کا مطلب ہے دنیا کی لذتوں سے الگ رہنا، حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے کافی عرصے بعد عیسائیوں نے ایک خانقاہی نظام ایسا بنایا تھا کہ جو لوگ اس میں داخل ہوجاتے، وہ دنیا سے الگ تھلگ رہتے تھے، نہ شادی کرتے تھے، نہ دنیا کی کسی لذت میں حصہ لیتے تھے، ان کے اس خانقاہی نظام کو رہبانیت کہا جاتا ہے، اس کی ابتداء اس طرح ہوئی تھی کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے سچے پیروکاروں پر مختلف بادشاہوں نے بڑے ظلم ڈھائے تو انہوں نے اپنے دین کو بچانے کے لئے شہروں سے دور رہنا شروع کردیا، جہاں دنیا کی عام سہولیات میسر نہیں تھیں، اور رفتہ رفتہ اسی مشکل طرز زندگی کو بذات خود عبادت سمجھ لیا، اور بعد کے لوگوں نے وسائل دستیاب ہونے کے باوجود ان کو چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس مشکل طرز زندگی کا ہم نے انہیں حکم نہیں دیا تھا۔ 25: مطلب یہ ہے کہ شروع میں انہوں نے رہبانیت کا طریقہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہی اپنایا تھا ؛ لیکن بعد میں وہ اس کی پوری رعایت نہیں رکھ سکے، رعایت نہ رکھنے کے دوپہلو ہیں ایک یہ کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے ان پر لازم نہیں کیا تھا انہوں نے اسے لازم سمجھ لیا ؛ حالانکہ دین میں اپنی طرف سے کسی ایسی بات کو لازم سمجھنا جائز نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ نے لازم نہ فرمائی ہو، اور دوسرے یہ کہ جو باتیں انہوں نے اپنے ذمے لازم کی تھیں، ان کی عملی طور پر پابندی نہ کرسکے، چونکہ یہ پابندیاں انسانی فطرت کے خلاف تھیں اس لئے رفتہ رفتہ بشری تقاضوں نے زور دکھایا، اور مختلف حیلوں بہانوں سے یا خفیہ طور پر ان لذتوں کا حصول شروع ہوگیا، پابندی تو نکاح پر بھی تھی ؛ لیکن اس پابندی کے نتیجے میں بدکاری کی وبائیں پھوٹ پڑیں اور جس مقصد سے رہبانیت شروع کی گئی تھی وہ سراسر ناکام ہو کر رہ گیا۔
Ayah 57:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ تاکہ وہ تمہیں اپنی رحمت کے دو حصے عطا فرمائے، (26) اور تمہارے لیے وہ نور پیدا کرے جس کے ذریعے تم چل سکو، (27) اور تمہاری بخشش فرمادے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

26: یہ ان اہل کتاب کا ذکر ہے جو حضور سرور عالم ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، ان کے بارے میں سورة قصص (28: 54) میں بھی گزرا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ دوہرا ثواب عطا فرمائیں گے ؛ کیونکہ انہوں نے حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر بھی ایمان رکھا، اور حضور اقدس ﷺ پر بھی ایمان لائے۔ 27: اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ نور جہاں تم جاؤگے تمہارے ساتھ رہے گا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ پل صراط پر وہ تمہارے لئے روشنی پیدا کرے گا جس میں تم چل سکوگے۔
Ayah 57:29

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر انہیں کوئی اختیار نہیں ہے، (28) اور یہ کہ فضل تمام تر اللہ کے ہاتھ میں ہے جو وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔

28: اس فقرے میں اہل کتاب کا تذکرہ فرماتے ہوئے دو اہم حقیقتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ایک یہ کہ جو یہودی یا عیسائی آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لائے تھے، ان میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو صرف اس حسد کے مارے ایمان سے محروم رہے کہ نبی آخرالزماں ﷺ بنو اسرائیل کے بجائے بنو اسماعیل میں کیوں بھیج دئیے گئے، ان سے کہا جارہا ہے کہ نبوت اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، یہ تمہارے اختیار کا معاملہ نہیں ہے کہ جس کو تم چاہو اسی کو دیا جائے، دوسری حقیقت یہ ہے کہ عیسائیوں میں ایک زمانے میں یہ طریقہ عام ہوگیا تھا کہ عیسائی پادری پیسے لے کر لوگوں کے لئے مغفرت نامے جاری کردیتے تھے، وہ مغفرت نامہ مرنے والے کے ساتھ ہی دفن کیا جاتا، اور یہ سمجھا جاتا کہ مغفرت کے اس پروانے سے مردے کی بخشش ہوجائے گی، آیت کریمہ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل کسی بندے کے اختیار میں نہیں ہوتا، یہ تمام تر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ وہ کس کو اپنی مغفرت اور رحمت سے نوازے، واللہ سبحانہ وتعالی اعلم (تم سورة الحدید فللہ الحمد ومنہ)۔