56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الواقعہ یہ سورت مکی زندگی کے ابتدائی دور کی سورتوں میں سے ہے، اور اس میں معجزانہ فصاحت و بلاغت کے ساتھ پہلے تو قیامت کے حالات بیان فرمائے گئے ہیں، اور بتایا گیا ہے کہ آخرت میں تمام انسان اپنے انجام کے لحاظ سے تین مختلف گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے، ایک گروہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کا ہوگا جو ایمان اور عمل صالح کے لحاظ سے اعلی ترین مرتبے کے حامل ہیں، دوسرا گروہ ان عام مسلمانوں کا ہوگا جنہیں ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، اور تیسرا گروہ ان کافروں کا ہوگا جن کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، پھر ان تینوں گروہوں کو جن حالات سے سابقہ پیش آئے گا اسکی ایک جھلک بڑے مؤثر انداز میں دکھائی گئی ہے، اس کے بعد انسان کو خود اس کے اپنے وجود اور ان نعمتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اسی کا شکر بجالاکر اسکی وحدانیت کا اعتراف کرے، اور توحید پر ایمان لائے، پھر آخری رکوع میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان فرماتے ہوئے انسان کو اس کی موت کا وقت یاد دلایا گیا ہے کہ اس وقت وہ کتنا ہی بڑا آدمی سمجھا جاتا ہو، نہ تو خود اپنی موت سے چھٹکارا پاسکتا ہے نہ اپنے کسی محبوب کو موت سے بچاسکتا ہے، لہذا جو پروردگار موت اور زندگی کا مالک ہے وہی مرنے کے بعد بھی انسان کے انجام کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتا ہے، اور انسان کا کام یہ ہے کہ اس کی عظمت کے آگے سر بسجود ہو۔ سورت کی پہلی ہی آیت میں واقعہ کا لفظ آیا ہے جس سے مراد قیامت کا واقعہ ہے اور اسی کے نام پر اس سورت کو سورة واقعہ کہا جاتا ہے۔

Ayahs 56:1–7

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا۔ (1)

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

تو اس کے پیش آنے کو کوئی جھٹلانے والا نہیں ہوگا۔

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

وہ ایک تہہ وبالا کرنے والی چیز ہوگی۔

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جب زمین ایک بھونچال سے جھنجوڑ دی جائے گی۔

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو پیس کر چورا کردیا جائے گا۔

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

یہاں تک کہ وہ بکھرا ہوا غبار بن کر رہ جائیں گے۔

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اور (لوگو) تم تین قسموں میں بٹ جاؤ گے۔

1: اس آیت میں قیامت کو واقعہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ کافر لوگ اس کا انکار کررہے ہیں، لیکن جب وہ واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اسے جھٹلا نہیں سکے گا۔
Ayah 56:8

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

چنانچہ جو دائیں ہاتھ والے ہیں، کیا کہنا ان دائیں ہاتھ والوں کا۔ (2)

2: دائیں ہاتھ والوں سے مراد وہ خوش نصیب مومن ہیں جن کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، جو اس بات کی علامت ہوگی کہ یہ صاحب ایمان ہیں اور ان کو جنت نصیب ہونے والی ہے۔
Ayah 56:9

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور جو بائیں ہاتھ والے ہیں، کیا بتائیں وہ بائیں ہاتھ والے کیا ہیں ؟ (3)

3: یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جو ان کے کفر کی علامت ہوگی۔
Ayahs 56:10–13

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

اور جو سبقت لے جانے والے ہیں، وہ تو ہیں ہی سبقت لے جانے والے (4)

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

وہی ہیں جو اللہ کے خاص مقرب بندے ہیں۔

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

وہ نعمتوں کے باغات میں ہوں گے۔

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

شروع کے لوگوں میں سے بہت سے۔

4: اس سے مراد انبیاء کرام اور وہ اعلی درجے کے پاکباز حضرات ہیں جنہوں نے تقوی کا سب سے اونچا مقام پایا ہوگا۔
Ayahs 56:14–27

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور بعد کے لوگوں میں سے تھوڑے۔ (5)

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

سونے کے تاروں سے بنی ہوئی اونچی نشستوں پر۔

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

ایک دوسرے کے سامنے ان پر تکیہ لگائے ہوئے۔

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

سدا رہنے والے لڑکے ان کے سامنے گردش میں ہوں گے۔

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

ایسی شراب کے پیالے، جگ اور جام لے کر۔

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

جس سے نہ ان کے سر میں درد ہوگا، اور نہ ان کے ہوش اڑیں گے۔

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور وہ پھل لے کر جو وہ پسند کریں۔

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور پرندوں کا وہ گوشت لے کر جس کو ان کا دل چاہے۔

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور وہ بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں۔

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

ایسی جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی۔

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

یہ سب بدلہ ہوگا ان کاموں کا جو وہ کیا کرتے تھے۔

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

وہ اس جنت میں نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے۔ اور نہ کوئی گناہ کی بات۔

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

ہاں جو بات ہوگی، سلامتی ہی سلامتی کی ہوگی۔

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور وہ جو دائیں ہاتھ والے ہوں گے، کیا کہنا ان دائیں ہاتھ والوں کا۔

5: یعنی اس اعلی درجے کے لوگوں میں اکثریت قدیم زمانے کے انبیاء کرام وغیرہ کی ہوگی اور بعد کے زمانوں میں بھی اگرچہ اس درجے کے لوگ ہوں گے مگر کم۔
Ayahs 56:28–33

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

(وہ عیش کریں گے) کانٹوں سے پاک بیریوں میں۔ (6)

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

اور اوپر تلے لدے ہوئے کیلے کے درختوں میں۔

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

اور دور تک پھیلے ہوئے سائے میں۔

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

اور بہتے ہوئے پانی میں۔

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

اور ڈھیر سارے پھلوں میں۔

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

جو نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ ان پر کوئی روک ٹوک ہوگی۔

6: جنت کے پھلوں کے نام تو ہمارے سمجھانے کے لئے وہی ہیں جنہیں ہم دنیا میں جانتے ہیں، لیکن ان کی کیفیت ان کی لذت اور ان کا حجم ہر چیز یہاں سے کہیں زیادہ خوشنما اور لذیذ ہوگی، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ ایک دیہاتی نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ بیری کا درخت تو عام طور سے تکلیف دہ ہی ہوتا ہے قرآن کریم نے اس کا تذکرہ کیسے فرمایا ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ کانٹوں سے پاک ہوگا ؟ درحقیقت اللہ تعالیٰ ہر کانٹے کی جگہ ایک پھل پیدا فرمائیں گے اور اس ایک پھل میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے اور کوئی ذائقہ دوسرے سے ملتا جلتا نہیں ہوگا۔ (روح المعانی بحوالہ حاکم و بیھقی، و صححہ الحاکم)
Ayah 56:34

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اور اونچے رکھے ہوئے فرشوں میں۔ (7)

7: جنت کی اونچی نشستوں کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ آیا ہے، انہی نشستوں پر یہ فرش بچھے ہوں گے، اس لیے انہیں اونچے رکھے ہوئے فرشوں سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
Ayah 56:35

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

یقین جانو، ہم نے ان عورتوں کو نئی اٹھان دی ہے۔ (8)

8: قرآن کریم نے ان خواتین کا ذکر بڑے لطیف انداز میں فرمایا ہے کہ بس ضمیر سے ان کی طرف اشارہ فرمادیا ہے، صراحت کے ساتھ نام نہیں لیا، اس میں بڑی بلاغت بھی ہے اور ان خواتین کی پردہ داری بھی، بعض مفسرین نے اس سے مراد حوریں لی ہیں جو جنتیوں کے لئے خاص طور پر پیدا کی گئی ہیں یا پیدا کی جائیں گی، اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد نیک لوگوں کی وہ نیک بیویاں ہیں جو دنیا میں ان کی شریک حیات تھیں، آخرت میں ان کو نئی اٹھان دینے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں وہ کیسی ہی رہی ہوں جنت میں انہیں اپنے شوہروں کے لئے بہت خوبصورت بنادیا جائے گا، جیسا کہ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اس کی تصریح فرمائی ہے، اسی طرح جو خواتین دنیا میں بن بیاہی رہ گئی تھیں انہیں بھی نئی اٹھان دے کر کسی نہ کسی جنتی سے ان کا نکاح کردیا جائے گا، حدیث کی متعدد روایتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت دونوں قسم کی عورتوں کو شامل ہے، حوروں کو بھی اور دنیا کی نیک خواتین کو بھی (تفصیل کے لیے دیکھئے روح المعانی)
Ayah 56:36

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

چنانچہ انہیں کنواریاں بنایا ہے۔ (9)

9: بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا کنوار پن کبھی ختم نہیں ہوگا۔
Ayahs 56:37–39

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

(شوہروں کے لیے) محبت سے بھری ہوئی، عمر میں برابر (10)

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

سب کچھ دائیں ہاتھ والوں کے لیے۔

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

(جن میں سے) بہت سے شروع کے لوگوں میں سے ہوں گے۔

10: اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم عمر ہوں گی، کیونکہ اپنی ہم عمر کے ساتھ ہی رفاقت کا صحیح لطف حاصل ہوتا ہے، اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ وہ سب آپس میں ہم عمر ہوں گی، بعض احادیث میں ہے کہ جنتیوں کی عمر 33 سال کردی جائے گی جو شباب کا زمانہ ہوتا ہے (ترمذی عن معاذ)۔