55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الرّحمٰن یہ سورت وہ واحد سورت ہے جس میں بیک وقت انسانوں اور جنات دونوں کو صراحت کے ساتھ مخاطب فرمایا گیا ہے، دونوں کو اللہ تعالیٰ کی وہ بیشمار نعمتیں یاد دلائی گئی ہیں جو اس کائنات میں پھیلی پڑی ہیں، اور بار بار یہ فقرہ دہرایا گیا ہے کہ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤگے ؟ اپنے اسلوب اور فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بھی یہ ایک منفرد سورت ہے، جس کی تأ ثیر کو کسی اور زبان میں ترجمہ کرکے منتقل نہیں کیا جاسکتا، اس بارے میں روایات مختلف ہیں کہ یہ سورت مکی ہے یا مدنی، عام طور سے قرآن کریم کے نسخوں میں اس کو مدنی قرار دیا گیا ہے، لیکن علامہ قرطبی نے کئی روایتوں کی بناء پر یہ رجحان ظاہر کیا ہے کہ یہ مکی سورت ہے، واللہ اعلم۔

Ayahs 55:1–5

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

وہ رحمن ہی ہے (1)

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

جس نے قرآن کی تعلیم دی۔

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

اسی نے انسان کو پیدا کیا۔

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

اسی نے اس کو واضح کرنا سکھایا۔

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند حساب میں جکڑے ہوئے ہیں۔

1: مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کے نام رحمن کو نہیں مانتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے رحمن کیا ہوتا ہے ؟ جیسا کہ سورة فرقان (25۔ 60) میں گزرا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رحمن کے نام سے ان لوگوں کو چڑ تھی، وہ اس لئے کہ اگر ہر طرح کی رحمت اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص مان لی جائے تو پھر ان من گھڑت خداؤں کے حصے میں کچھ نہیں آتا جن سے یہ لوگ اپنی مرادیں مانگا کرتے تھے، اور اس طرح اللہ تعالیٰ کو رحمن مان لینے سے خود بخود ان کے شرک کی نفی ہوجاتی ہے، اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ رحمن اسی اللہ تعالیٰ کا نام جس کی رحمتوں سے یہ ساری کائنات بھری ہوئی ہے، اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں رزق، اولاد یا کوئی اور نعمت دے سکے، اس لئے عبادت کا حق دار صرف وہی ہے کوئی اور نہیں۔
Ayahs 55:6–16

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور بیلیں اور درخت سب اس کے آگے سجدہ کرتے ہیں۔ (2)

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اور آسمان کو اسی نے بلند کیا ہے اور اسی نے ترازو قائم کی ہے۔

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

کہ تم تولنے میں ظلم نہ کرو۔

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو، اور تول میں کمی نہ کرو۔

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور زمین کو اسی نے ساری مخلوقات کے لیے بنایا ہے۔

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

اسی میں میوے اور کھجور کے گابھوں والے درخت بھی ہیں۔

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اور بھوسے والا غلہ اور خوشبودار پھول بھی۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

(اے انسانوں اور جنات) اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور جنات کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

2: سجدہ حقیقی بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآن کریم نے کئی جگہ یہ فرمایا ہے کہ تمام مخلوقات میں کچھ نہ کچھ احساس موجود ہے۔ (دیکھئے سورة بنی اسرائیل : 44) اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہیں۔
Ayahs 55:17–19

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا پروردگار وہی ہے۔ (3)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

اسی نے دو سمندروں کو اس طرح چلایا کہ وہ دونوں آپس میں مل جاتے ہیں۔

3: مشرق در اصل افق کے اس حصے کا نام ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے اور مغرب اس حصے کا جہاں سورج غروب ہوتا ہے، چونکہ سردی اور گرمی کے موسموں میں مشرق اور مغرب کے یہ حصے بدل جاتے ہیں، اس لیے ان کو دو مشرقوں اور دو مغربوں سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 55:20–28

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

(پھر بھی) ان کے درمیان ایک آڑ ہوتی ہے کہ وہ دونوں اپنی حد سے بڑھتے نہیں۔ (4)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

ان دونوں سمندروں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اور اسی کے قبضے میں وہ جہاز ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے کیے گئے ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

اس زمین میں جو کوئی ہے، فنا ہونے والا ہے۔

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور (صرف) تمہارے پروردگار کی جلال والی، فضل و کرم والی ذات باقی رہے گی۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

4: اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ نظارہ دو دریاؤں یا دوسمندروں کے سنگم پر ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ دونوں دریاؤں یا سمندروں کے پانی ساتھ ساتھ چل رہے ہوتے ہیں، پھر بھی دونوں کے درمیان ایک لکیر جیسی ہوتی ہے جس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ دونوں الگ الگ دریا یا سمندر ہیں۔
Ayahs 55:29–30

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اسی سے (اپنی حاجتیں) مانگتے ہیں، وہ ہر روز کسی شان میں ہے۔ (5)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

5: یعنی ہر روز اور ہر آن وہ اپنی کائنات کی تدبیر اور اپنی مخلوقات کی حاجت روائی میں اپنی کسی نہ کسی شان یا صفت کا مظاہرہ فرماتا رہتا ہے۔
Ayahs 55:31–32

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

اے دو بھاری مخلوقو ! (6) ہم عنقریب تمہارے (حساب کے) لیے فارغ ہونے والے ہیں۔ (7)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

6: اصل عربی لفظ ثقلان ہے جس کے معنی ہیں دو بھاری چیزیں، اور اس سے مراد جنات اور انسان ہیں، کیونکہ یہی دو مخلوقات ہیں جنہیں اس کائنات میں عقل و شعور کے علاوہ مکلف بننے کی صلاحیت بخشی گئی ہے۔ 7: یہاں فارغ ہونا مجازی معنی میں استعمال ہوا ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی تو اللہ تعالیٰ کائنات کے دوسرے امور انجام دے رہے ہیں اور ابھی حساب لینے کی طرف متوجہ نہیں ہوئے، لیکن وہ وقت عنقریب آنے والا ہے جب اللہ تعالیٰ حساب کی طرف متوجہ ہوں گے۔ واضح رہے کہ آگے آیت نمبر 44 تک دوزخیوں کے عذاب کا تذکرہ ہے، اور اس کے ساتھ بھی یہ فقرہ ہر جگہ فرمایا گیا ہے کہ تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤگے ؟ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس ہولناک انجام کی جو پہلے سے خبر دے رہا ہے وہ بذات خود ایک نعمت ہے اس کو مت جھٹلاؤ، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو جھٹلانے کا یہ انجام ہونے والا ہے، کیا اس انجام سے باخبر ہونے کے بعد بھی تم نعمتوں کو جھٹلانے کا رویہ جاری رکھوگے۔
Ayahs 55:33–38

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے انسانوں اور جنات کے گروہ ! اگر تم میں یہ بل بوتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی حدود سے پار نکل سکو، تو پار نکل جاؤ، تم زبردست طاقت کے بغیر پار نہیں ہوسکو گے۔ (8)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم پر آگ کا شعلہ اور تانبے کے رنگ کا دھواں چھوڑا جائے گا، پھر تم اپنا بچاؤ نہیں کرسکو گے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ Open ayah 55:37 in the Quran reader

غرض (وہ وقت آئے گا) جب آسمان پھٹ پڑے گا اور لال چمڑے کی طرح سرخ گلاب بن جائے گا۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:38 in the Quran reader

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

8: مطلب یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ طاقت نہیں ہے جس کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کی باز پرس اور عذاب سے بھاگ کر کہیں اور چلے جاؤ۔