54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة القمر یہ سورت مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل ہوئی جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاند کو دو ٹکڑے کرنے کا معجزہ دکھلایا، اسی لئے اس کا نام سورة قمر ہے، حضرت عائشہ (رض) سے صحیح بخاری میں روایت ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی، اس وقت میں بچی تھی، اور کھیلا کرتی تھی، سورت کا موضوع دوسری مکی سورتوں کی طرح کفار عرب کو توحید رسالت اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دینا ہے، اور اسی ضمن میں عاد وثمود، حضرت نوح اور حضرت لوط (علیہم السلام) کی قوموں اور فرعون کے دردناک انجام کا مختصر لیکن بہت بلیغ انداز میں تذکرہ فرمایا گیا ہے، اور بار بار یہ جملہ دہرایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نصیحت حاصل کرنے کے لئے قرآن کریم کو بہت آسان بنادیا ہے تو کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے۔

Ayah 54:1

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

قیامت قریب آلگی ہے اور چاند پھٹ گیا ہے۔ (1)

1: قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت چاند کے دوٹکڑے ہونے کا معجزہ بھی ہے جو آنحضرت ﷺ کے ہاتھوں ظاہر ہوا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک چاندنی رات میں مکہ مکرمہ کے کافروں نے حضور اقدس ﷺ سے کوئی معجزہ دکھانے کا مطالبہ کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ کھلا معجزہ دکھایا کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوئے، جن میں سے ایک ٹکڑا پہاڑ کی مشرقی جانب چلا گیا اور دوسرا مغربی جانب، اور پہاڑ ان کے درمیان آگیا، آنحضرت ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ لو دیکھ لو ! جب سارے لوگوں نے جو وہاں موجود تھے یہ حیرت انگیز نظارہ کرلیا تو یہ دونوں ٹکڑے دوبارہ آپس میں مل گئے، جو کافر لوگ اس وقت موجود تھے وہ اس مشاہدے کا تو انکار نہیں کرسکتے تھے، لیکن انہوں نے یہ کہا کہ یہ کوئی جادو ہے، بعد میں مکہ مکرمہ کے باہر سے آنے والے قافلوں نے بھی اس کی تصدیق کی کہ انہوں نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھا تھا، ہندوستان کی تاریخ فرشتہ میں بھی مذکور ہے کہ گوالیار کے راجہ نے یہ واقعہ دیکھا تھا۔
Ayah 54:2

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ موڑ لیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک چلتا ہوا جادو ہے۔ (2)

2: اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اسی قسم کے جادو مدت سے چلے آ رہے ہیں، اور یہ بھی کہ یہ ایسا جادو ہے جس کا اثر جلدی ہی ختم ہوجائے گا۔
Ayahs 54:3–5

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

انہوں نے حق کو جھٹلایا، اور اپنی خواہشات کے پیچھے چل نکلے۔ اور ہر کام کو آخر کسی ٹھکانے پر ٹک کر رہنا ہے۔ (3)

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو (پچھلی قوموں کے) واقعات کی اتنی خبریں پہنچ چکی ہیں جن میں تنبیہ کا بڑا سامان تھا۔

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

دل میں اتر جانے والی دانائی کی باتیں تھیں، پھر بھی یہ تنبیہات (ان پر) کچھ کارگر نہیں ہو رہیں۔

3: اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر کام کا ایک انجام ہوتا ہے لہذا جو کچھ حضور اقدس ﷺ فرما رہے ہیں، اور جو کچھ یہ کافر کر رہے ہیں، اس کا انجام عنقریب معلوم ہوجائے گا۔
Ayahs 54:6–11

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

لہذا (اے پیغمبر) تم بھی ان کی پرواہ مت کرو۔ (4) جس دن پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

اس دن یہ اپنی آنکھیں جھکائے قبروں سے اس طرح نکل کھڑے ہوں گے جیسے ہر طرف پھیلی ہوئی ٹڈیاں۔

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

دوڑے جارہے ہوں گے اسی پکارے والے کی طرف۔ یہی کافر (جو قیامت کا انکار کرتے تھے) کہیں گے کہ یہ تو بہت ہی کٹھن دن ہے۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم نے بھی جھٹلانے کا رویہ اختیار کیا تھا۔ انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا، اور کہا کہ : یہ دیوانے ہیں، اور انہیں دھمکیاں دی گئیں۔

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

اس پر انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ : میں بےبس ہوچکا ہوں، اب آپ ہی بدلہ لیجیے۔

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

چنانچہ ہم نے ٹوٹ کر برسنے والے پانی سے آسمان کے دروازے کھول دیے۔

4: یعنی آپ چونکہ اپنا تبلیغ کا فریضہ ادا کر رہے ہیں، اسلیے ان کے طرز عمل پر زیادہ صدمہ نہ کیجئے
Ayahs 54:12–18

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کردیا۔ اور اس طرح (دونوں قسم کا) سارا پانی اس کام کے لیے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا۔ (5)

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور نوح کو ہم نے ایک تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کردیا۔

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

جو ہماری نگرانی میں رواں دواں تھی، تاکہ اس (پیغمبر) کا بدلہ لیا جائے جس کی ناقدری کی گئی تھی۔

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس کو (عبرت کی) ایک نشانی بنادیا۔ تو کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

اب سوچو کہ میرا عذاب اور میری تنبیہات کیسی تھیں ؟

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے۔ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

عاد کی قوم نے بھی تنبیہ کرنے والوں کو جھٹلانے کا رویہ اختیار کیا، پھر دیکھ لو کہ میرا عذاب اور میری تنبیہات کیسی تھیں ؟

5: یعنی ایک تو آسمان سے موسلا دھار پانی برسا، اور دوسرے زمین سے پانی ابلنا شروع ہوا، دونوں طرح کے یہ پانی مل گئے اور ان سے وہ طوفان آگیا جس میں اس قوم کی تباہی مقدس تھی۔ اس کی پوری تفصیل سورة ہود : 40 اور سورة مومنین : 27 میں گذر چکی ہے۔
Ayahs 54:19–27

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

ہم نے ایک مسلسل نحوست کے دن میں ان پر تیز آندھی والی ہوا چھوڑ دی تھی۔ (6)

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

جو لوگوں کو اس طرح اکھاڑ پھینک دیتی تھی جیسے وہ کھجور کے اکھڑے ہوئے درخت کے تنے ہوں۔

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

اب سوچو کہ میرا عذاب اور میری تنبیہات کیسی تھیں ؟

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے۔ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

ثمود کی قوم نے بھی تنبیہ کرنے والوں کو جھٹلانے کا رویہ اختیار کیا۔

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

چنانچہ کہنے لگے کہ : کیا ہم اپنے ہی میں سے ایک تنہا آدمی کے پیچھے چل پڑیں ؟ ایسا کریں گے تو یقینا ہم بڑی گمراہی اور دیوانگی میں جاپڑیں گے۔

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

بھلا کیا ہم سارے لوگوں کے درمیان یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر نصیحت نازل کی گئی ؟ نہیں، بلکہ دراصل یہ پرلے درجے کا جھوٹا شیخی باز ہے۔

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

(ہم نے پیغمبر صالح ؑ سے کہا کہ) کل ہی انہیں پتہ چل جائے گا کہ پرلے درجے کا جھوٹا شیخی باز کون تھا ؟

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

ہم ان کے پاس ان کی آزمائش کے طور پر اونٹنی بھیج رہے ہیں، اس لیے تم انہیں دیکھتے رہو، اور صبر سے کام لو۔

6: تفصیل کے لیے دیکھئے سورة اعراف : 65
Ayah 54:28

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور ان کو بتادو کہ (کنویں کا) پانی ان کے درمیان تقسیم کردیا گیا ہے۔ ہر پانی کا حق دار اپنی باری میں حاضر ہوگا۔ (7)

7: یہ اونٹنی انہی کے مطالبے پر پیدا کی گئی تھی اور ان سے کہا گیا تھا کہ بستی کے کنویں سے ایک دن وہ پانی پیے گی، اور ایک دن بستی والے، تفصیل کے لیے دیکھئے سورة اعراف : 73 اور اس کے حواشی۔
Ayahs 54:29–36

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

پھر انہوں نے اپنے آدمی کو بلایا، چنانچہ اس نے ہاتھ بڑھایا، اور (اونٹنی کو) قتل کر ڈالا۔ (8)

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

اب سوچو کہ میرا عذاب اور میری تنبیہات کیسی تھیں ؟

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

ہم نے ان پر بس ایک ہی چنگھاڑ بھیجی، جس سے وہ ایسے ہو کر رہ گئے جیسے کانٹوں کی روندی ہوئی باڑھ ہوتی ہے۔

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے۔ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

لوط کی قوم نے (بھی) تنبیہ کرنے والوں کو جھٹلایا۔

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا، سوائے لوط کے گھر والوں کے جنہیں ہم نے سحری کے وقت بچا لیا تھا۔

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

یہ ہماری طرف سے ایک نعمت تھی۔ جو لوگ شکر گزار ہوتے ہیں، ان کو ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور لوط نے لوگوں کو ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا، لیکن وہ ساری تنبیہات میں میکھ نکالتے رہے۔

8: اس آدمی کا نام روایتوں میں قدار آیا ہے۔ اس نے اونٹنی کو قتل کیا۔
Ayahs 54:37–38

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور انہوں نے لوط کو ان کے مہمانوں کے بارے میں پھسلانے کی کوشش کی۔ (9) جس پر ہم نے ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا کہ : چکھو میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ۔

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور صبح سویرے ان پر ایسا عذاب حملہ آور ہوا جو کم کر رہ گیا۔

9: سورة ہود : 78 میں اس کی تفصیل گذر چکی ہے کہ حضرت لوط ؑ کے پاس فرشتے خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے۔ ان کی قوم ہم جنسی کی بیماری میں مبتلا تھی، اس لیے انہوں نے حضرت لوط ؑ سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا، اور اس طرح وہ مہمانوں تک نہ پہنچ سکے (تفسیر الدر المنثور عن قتادة)