54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsآسان قرآن

Ayahs 54:39–42

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

کہ : چکھو میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ۔ (10)

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:40 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے۔ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟

وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ Open ayah 54:41 in the Quran reader

اور فرعون کے خاندان کے پاس بھی تنبیہات آئیں۔

كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ Open ayah 54:42 in the Quran reader

انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا تھا، اس لیے ہم نے ان کو ایسی پکڑ میں لیا جیسی ایک زبردست قدرت والے کی پکڑ ہوتی ہے۔

10: سورة ہود میں گذر چکا ہے کہ ان کی بستیاں الٹ ڈالی گئیں تھیں۔
Ayah 54:43

اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِۚ Open ayah 54:43 in the Quran reader

کیا تمہارے یہ کافر لوگ ان سے اچھے ہیں، یا تمہارے لیے (خدا کی) کتابوں میں کوئی بےگناہی کا پروانہ لکھا ہوا ہے ؟ (11)

11: پچھلی امتوں کے واقعات بیان فرمانے کے بعد مکہ مکرمہ کے کافروں سے کہا جا رہا ہے کہ جن قوموں کو ہلاک کیا گیا ہے، تم میں ان کے مقابلے میں کونسی اچھائی ہے جس کی بناء پر تمہیں عذاب سے محفوظ رکھا جائے ؟ اور کیا تمہارے بارے میں کسی آسمانی کتاب میں کوئی معافی یا بےگناہی کا وعدہ کرلیا گیا ہے ؟
Ayah 54:44

اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ Open ayah 54:44 in the Quran reader

یا ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایسی جمیعت ہیں جو اپنا بچاؤ آپ کرلے گی ؟ (12)

12: جب مکہ مکرمہ کے کافروں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا جاتا تھا تو وہ یہ کہتے تھے کہ ہمارا جتھہ بڑا مضبوط ہے، ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
Ayahs 54:45–46

سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ Open ayah 54:45 in the Quran reader

(حقیقت تو یہ ہے کہ) اس جمیعت کو عنقریب شکست ہوجائے گی، اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ (13)

بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ Open ayah 54:46 in the Quran reader

یہی نہیں، بلکہ ان کے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت اور زیادہ مصیبت اور کہیں زیادہ کڑوی ہوگی۔

13: یہ پیشین گوئی اس وقت کی جا رہی تھی جب مسلمان ان کافروں کے مقابلے میں بہت کمزور تھے اور خود اپنا بچاؤ بھی نہیں کر پاتے تھے۔ لیکن دنیا نے دیکھا کہ یہ خدائی پیشین گوئی جنگ بدر میں حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ مکہ مکرمہ میں کافروں کے جو بڑے بڑے سردار تھے، سب بدر میں مارے گئے، ستر افراد گرفتار ہوئے اور باقی بھاگ گئے۔
Ayahs 54:47–48

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ Open ayah 54:47 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ یہ مجرم لوگ بڑی گمراہی اور بےعقلی میں پڑے ہوئے ہیں۔ (14)

یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ١ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ Open ayah 54:48 in the Quran reader

جس دن ان کو منہ کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا (اس دن انہیں ہوش آئے گا، اور ان سے کہا جائے گا کہ) چکھو دوزخ کے چھونے کا مزہ۔

14: یہ قوم ثمود کی اس بات کا جواب ہے جو اوپر آیت نمبر 24 میں ذکر کی گئی تھی۔ چونکہ مکہ مکرمہ کے کافر بھی اسی جیسی بات کہا کرتے تھے، اس لیے ان کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے۔
Ayahs 54:49–55

اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ Open ayah 54:49 in the Quran reader

ہم نے ہر چیز کو ناپ تول کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ (15)

وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ Open ayah 54:50 in the Quran reader

اور ہمارا حکم بس ایک ہی مرتبہ آنکھ جھپکنے کی طرح (پورا) ہوجاتا ہے۔

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْیَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:51 in the Quran reader

اور تمہارے ہم مشرب لوگوں کو ہم پہلے ہی ہلاک کرچکے ہیں۔ اب بتاؤ ہے کوئی جو نصیحت حاصل کرے ؟

وَ كُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْهُ فِی الزُّبُرِ Open ayah 54:52 in the Quran reader

اور جو جو کام انہوں نے کیے ہیں، وہ سب اعمال ناموں میں درج ہیں۔

وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ Open ayah 54:53 in the Quran reader

اور ہر چھوٹی اور بڑی بات لکھی ہوئی ہے۔

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ Open ayah 54:54 in the Quran reader

(البتہ) جن لوگوں نے تقوی کی روش اپنا رکھی ہے وہ باغات اور نہروں میں ہوں گے۔

فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۠ Open ayah 54:55 in the Quran reader

ایک سچی عزت والی نشست میں۔ اس بادشاہ کے پاس جس کے قبضے میں سارا اقتدار ہے۔

15: یعنی جو اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ناپ تول اور ہر کام کا ایک وقت مقرر رکھا ہے، اس لیے وہ قیامت اسی وقت آئے گی جو اللہ تعالیٰ نے مقدر فرما رکھا ہے۔