53. Surah An-Najm
النجمThe Star · 62 ayahsآسان قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة نجم یہ سورت مکی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے، بلکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پہلی وہ سورت ہے جو آپ نے علی الاعلان ایسے مجمع میں پڑھ کر سنائی جس میں مسلمانوں کے ساتھ مشرکین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی، نیز یہ پہلی سورت ہے جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی، اور جس وقت آپ نے سجدے کی آیت اس مجمع کے سامنے تلاوت فرمائی تو یہ حیرت انگیز واقعہ پیش آیا کہ آپ نے اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے سجدہ کیا ہی تھا، اس وقت جو مشرکین موجود تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا، غالباً اس سورت کے پر شکوہ اور مؤثر مضامین نے انہیں بھی مسلمانوں کے ساتھ سجدہ کرنے پر مجبور کردیا تھا، اس سورت کا اصل موضوع حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کو ثابت کرنا ہے اور یہ کہ جو وحی آپ پر نازل ہوتی ہے وہ کسی شک وشبہ کے بغیر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہے اور حضرت جبرئیل (علیہ السلام) لے کر آتے ہیں، اور اس ضمن میں یہ حقیقت بھی بیان فرمائی گئی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں دو مرتبہ اپنی اصل صورت میں دیکھا ہے، ان میں سے ایک اس وقت دیکھا جب آپ معراج پر تشریف لے گئے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے اثبات کے ساتھ اس میں مشرکین مکہ کے غلط عقائد اور ان کے بعض بےہودہ دعووں کی تردید بھی ہے اور پچھلی امتوں پر نازل ہونے والے عذاب کے حوالے سے انہیں حق کو تسلیم کرنے کی موثر دعوت بھی دی گئی ہے، نجم عربی میں ستارے کو کہتے ہیں، اور چونکہ اس سورت کی پہلی ہی آیت میں ستارے کی قسم کھائی گئی ہے، اس لئے اس سورت کا نام سورة نجم ہے۔
وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader
قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے۔ (1)
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader
(اے مکہ کے باشندو) یہ تمہارے ساتھ رہنے والے صاحب نہ راستہ بھولے ہیں، نہ بھٹکے ہیں، (2)
وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader
اور یہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے۔
اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader
یہ تو خالص وحی ہے جو ان کے پاس بھیجی جاتی ہے۔
عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader
انہیں ایک ایسے مضبوط طاقت والے (فرشتے) نے تعلیم دی ہے۔
ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader
جو قوت کا حامل ہے، (3) چنانچہ وہ سامنے آگیا۔
وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader
جبکہ وہ بلند افق پر تھا۔ (4)
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader
پھر وہ قریب آیا، اور جھک پڑا۔
فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader
یہاں تک کہ وہ دو کمانوں کے فاصلے کے برابر آگیا، (5) بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک
فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader
اس طرح اللہ کو اپنے بندے پر جو وحی نازل فرمانی تھی، وہ نازل فرمائی۔
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader
جو کچھ انہوں نے دیکھا، دل نے اس میں کوئی غلطی نہیں کی۔ (6)
اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader
کیا پھر بھی تم ان سے اس چیز کے بارے میں جھگڑتے ہو جسے وہ دیکھتے ہیں ؟
وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader
اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس (فرشتے) کو ایک اور مرتبہ دیکھا ہے۔
عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader
اس بیر کے درخت کے پاس جس کا نام سدرۃ المنتہی ہے۔
عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader
اسی کے پاس جنت الماوی ہے۔ (7)
اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader
اس وقت اس بیر کے درخت پر وہ چیزیں چھائی ہوئی تھیں جو بھی اس پر چھائی ہوئی تھیں۔ (8)
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader
(پیغمبر کی) آنکھ نہ تو چکرائی اور نہ حد سے آگے بڑھی۔ (9)
لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader
سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بہت کچھ دیکھا۔
اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader
بھلا کیا تم نے لات اور عزی (کی حقیقت) پر بھی غور کیا ہے ؟
وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader
اور اس ایک اور تیسرے پر جس کا نام منات ہے ؟ (10)
اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader
کیا تمہارے لیے تو بیٹے ہوں، اور اللہ کے لیے بیٹیاں ؟ (11)
تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader
پھر تو یہ بڑی بھونڈی تقسیم ہوئی۔
اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader
ان کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یہ کچھ نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے حق میں کوئی ثبوت نازل نہیں کیا، درحقیقت یہ (کافر) لوگ محض وہم و گمان اور نفسانی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں، حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔
اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader
کیا انسان کو ہر اس چیز کا حق پہنچتا ہے جس کی وہ تمنا کرے ؟ (12)
فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader
(نہیں) کیونکہ آخرت اور دنیا تو تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔
وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader
اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں جن کی سفارش کسی کے کچھ بھی کام نہیں آسکتی، البتہ اس کے بعد ہی کام آسکتی ہے کہ اللہ جس کے لیے چاہے اجازت دیدے، اور اس پر راضی ہوجائے۔ (13)
اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، وہ فرشتوں کو زنانے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔ (14)
وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader
حالانکہ انہیں اس بات کا ذرا بھی علم نہیں ہے، وہ محض وہم و گمان کے پیچھے چل رہے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ وہم و گمان حق کے معاملے میں بالکل کار آمد نہیں۔
فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader
لہذا (اے پیغمبر) تم ایسے آدمی کی فکر نہ کرو جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑ لیا ہے، اور دنیوی زندگی کے سوا وہ کچھ اور چاہتا ہی نہیں۔
ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader
ایسے لوگوں کے علم کی پہنچ بس یہیں تک ہے۔ (15) تمہارا پروردگار ہی خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک چکا ہے، اور وہی خوب جانتا ہے کون راہ پا گیا ہے۔
وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader
اور آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ بھی اور زمین میں جو کچھ ہے وہ بھی اللہ ہی کا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جنہوں نے برے کام کیے ہیں، وہ ان کو ان کے عمل کا بھی بدلہ دے گا، اور جنہوں نے نیک کام کیے ہیں، ان کو بہترین بدلہ عطا کرے گا۔
اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader
ان لوگوں کو جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے ہیں، البتہ کبھی کبھار پھسل جانے کی بات اور ہے۔ (16) یقین رکھو تمہارا پروردگار بہت وسیع مغفرت والا ہے، وہ تمہیں خوب جانتا ہے جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا، اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے، لہذا تم اپنے آپ کو پاکیزہ نہ ٹھہراؤ، وہ خوب جانتا ہے کہ کون متقی ہے۔ (17)
اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader
(اے پیغمبر) بھلا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جو (حق سے) منہ موڑ گیا۔
وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader
اور جس نے تھوڑا سا دیا، پھر رک گیا ؟ (18)
اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader
کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے جو وہ دیکھ رہا ہو ؟
اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader
کیا اسے ان باتوں کی خبر نہیں ملی جو موسیٰ کے صحیفوں میں درج ہے۔
وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader
اور ابراہیم کے صحیفوں میں بھی، جو مکمل وفادار رہے ؟ (19)
اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader
یعنی یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا، (20)