53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة نجم یہ سورت مکی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے، بلکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پہلی وہ سورت ہے جو آپ نے علی الاعلان ایسے مجمع میں پڑھ کر سنائی جس میں مسلمانوں کے ساتھ مشرکین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی، نیز یہ پہلی سورت ہے جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی، اور جس وقت آپ نے سجدے کی آیت اس مجمع کے سامنے تلاوت فرمائی تو یہ حیرت انگیز واقعہ پیش آیا کہ آپ نے اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے سجدہ کیا ہی تھا، اس وقت جو مشرکین موجود تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا، غالباً اس سورت کے پر شکوہ اور مؤثر مضامین نے انہیں بھی مسلمانوں کے ساتھ سجدہ کرنے پر مجبور کردیا تھا، اس سورت کا اصل موضوع حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کو ثابت کرنا ہے اور یہ کہ جو وحی آپ پر نازل ہوتی ہے وہ کسی شک وشبہ کے بغیر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہے اور حضرت جبرئیل (علیہ السلام) لے کر آتے ہیں، اور اس ضمن میں یہ حقیقت بھی بیان فرمائی گئی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں دو مرتبہ اپنی اصل صورت میں دیکھا ہے، ان میں سے ایک اس وقت دیکھا جب آپ معراج پر تشریف لے گئے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے اثبات کے ساتھ اس میں مشرکین مکہ کے غلط عقائد اور ان کے بعض بےہودہ دعووں کی تردید بھی ہے اور پچھلی امتوں پر نازل ہونے والے عذاب کے حوالے سے انہیں حق کو تسلیم کرنے کی موثر دعوت بھی دی گئی ہے، نجم عربی میں ستارے کو کہتے ہیں، اور چونکہ اس سورت کی پہلی ہی آیت میں ستارے کی قسم کھائی گئی ہے، اس لئے اس سورت کا نام سورة نجم ہے۔

Ayah 53:1

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے۔ (1)

1: ستارے کے گرنے سے مراد اس کا غائب ہونا ہے، جیسا کہ سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، اس سورت کا اصل موضوع حضور نبی کریم ﷺ کی رسالت کو ثابت کرنا ہے، اس لئے سورت کے شروع میں آپ پر نازل ہونے والی وحی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک قابل اعتماد فرشتہ آپ کے پاس لے کر آتا ہے، شروع میں ستارے کی قسم کھانے سے اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جس طرح ستارہ روشنی کی ایک علامت ہے اور عرب کے لوگ اس سے صحیح راستے کا پتہ لگاتے تھے، اسی طرح حضور اقدس ﷺ لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت کا پیکر ہیں، اس کے علاوہ ستارے کے سفر کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو راستہ مقرر فرمایا ہے وہ اس سے بال برابر بھی ادھر ادھر نہیں ہوتا، اور نہ اس سے بھٹکتا ہے، اسی طرح آنحضرت ﷺ کے بارے میں اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ وہ نہ راستہ بھولے ہیں، نہ بھٹکے ہیں، پھر جب ستارہ غائب ہونے والا ہوتا ہے تو اس کے ذریعے راستہ زیادہ آسانی سے معلوم ہوجاتا ہے، اس کے علاوہ مسافروں کو اس کا زبان حال سے یہ پیغام ہوتا ہے کہ میں رخصت ہونے والا ہوں مجھ سے راستہ معلوم کرنے میں جلدی کرو، اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ دنیا میں زیادہ عرصہ مقیم نہیں رہیں گے، اس لئے آپ سے ہدایت حاصل کرنے والوں کو جلدی کرنی چاہیے۔
Ayahs 53:2–5

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

(اے مکہ کے باشندو) یہ تمہارے ساتھ رہنے والے صاحب نہ راستہ بھولے ہیں، نہ بھٹکے ہیں، (2)

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

اور یہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے۔

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

یہ تو خالص وحی ہے جو ان کے پاس بھیجی جاتی ہے۔

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

انہیں ایک ایسے مضبوط طاقت والے (فرشتے) نے تعلیم دی ہے۔

2: تمہارے ساتھ رہنے والے صاحب سے مراد حضور نبی کریم ﷺ ہیں، اور آپ کے لئے یہ لفظ استعمال کرکے اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی طرف متوجہ فرمایا ہے کہ آپ نے کہیں باہر سے آکر نبوت کا دعوی نہیں کردیا، بلکہ وہ شروع سے تمہارے ساتھ رہتے ہیں، اور ان کی پوری زندگی کھلی ہوئی کتاب کی طرح تمہارے سامنے ہے کہ انہوں نے زندگی بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا، اور نہ کبھی کسی کو دھوکہ دیا ہے، اس کے برعکس آپ صادق اور امین کے لقب سے مشہور ہیں، اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ عام زندگی میں تو جھوٹ سے اتنا پرہیزکریں اور اللہ تعالیٰ پر اتنا بڑا بہتان لگادیں۔
Ayah 53:6

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

جو قوت کا حامل ہے، (3) چنانچہ وہ سامنے آگیا۔

3: اس سے مراد حضرت جبرئیل ؑ ہیں جو آنحضرت ﷺ کے پاس وحی لے کر تشریف لاتے تھے، ان کی اطاعت کا خاص طور سے ذکر فرما کر اس بات کی تردید کی گئی ہے جو کافروں کے دل میں آسکتی تھی کہ اگر کوئی فرشتہ ہی وحی لاتا ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ درمیان میں کوئی شیطانی تصرف نہیں ہوا ؟ آیت نے بتادیا کہ وحی لانے والا فرشتہ اتنا طاقتور ہے کہ کوئی دوسرا اسے اپنے مشن سے نہیں ہٹاسکتا۔
Ayahs 53:7–8

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

جبکہ وہ بلند افق پر تھا۔ (4)

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر وہ قریب آیا، اور جھک پڑا۔

4: کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ آنحضرت ﷺ کے پاس جو فرشتہ وحی لاتا ہے وہ انسان ہی کی شکل میں آتا ہے، اس لئے آپ کو یہ کیسے پتہ چلا کہ وہ فرشتہ ہی ہے، ان آیتوں میں اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس فرشتے کو کم از کم دو مرتبہ اپنی اصل صورت میں بھی دیکھا ہے، ان میں سے ایک واقعے کا اس آیت میں تذکرہ فرمایا گیا ہے، اور وہ واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرئیل ؑ سے یہ فرمائش کی تھی کہ وہ اپنی اصلی صورت میں آپ کے سامنے آئیں، چنانچہ وہ اپنی اصلی صورت میں افق پر ظاہر ہوئے، اور آپ نے انہیں دیکھا۔
Ayahs 53:9–10

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

یہاں تک کہ وہ دو کمانوں کے فاصلے کے برابر آگیا، (5) بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

اس طرح اللہ کو اپنے بندے پر جو وحی نازل فرمانی تھی، وہ نازل فرمائی۔

5: یہ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے۔ جب دو آدمی آپس میں دوستی کا عہد کرتے تھے تو اپنی کمانیں ایک دوسرے سے ملا لیتے تھے۔ اس وجہ سے جب زیادہ قرب بیان کرنا ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ دو کمانوں کے فاصلے کے برابر قریب آگئے۔
Ayahs 53:11–14

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

جو کچھ انہوں نے دیکھا، دل نے اس میں کوئی غلطی نہیں کی۔ (6)

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

کیا پھر بھی تم ان سے اس چیز کے بارے میں جھگڑتے ہو جسے وہ دیکھتے ہیں ؟

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس (فرشتے) کو ایک اور مرتبہ دیکھا ہے۔

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

اس بیر کے درخت کے پاس جس کا نام سدرۃ المنتہی ہے۔

6: یعنی ایسا نہیں ہوا کہ آنکھ نے جو کچھ دیکھا ہو، دل نے اس کے سمجھنے میں غلطی کردی ہو۔
Ayah 53:15

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

اسی کے پاس جنت الماوی ہے۔ (7)

7: یہ حضرت جبرئیل ؑ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنے کا دوسرا واقعہ ہے جو معراج کے سفر میں پیش آیا، اس موقع پر بھی آنحضرت ﷺ نے انہیں ان کی اصلی صورت میں دیکھا، سدرۃ المنتہی عالم بالا میں ایک بیر کا بہت بڑا درخت ہے اور اسی کے پاس جنت واقع ہے جسے جنت المأوی اس لئے کہا گیا ہے کہ مأوی کے معنی ہیں ٹھکانا اور وہ مومنوں کا ٹھکانا ہے۔
Ayah 53:16

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

اس وقت اس بیر کے درخت پر وہ چیزیں چھائی ہوئی تھیں جو بھی اس پر چھائی ہوئی تھیں۔ (8)

8: یہ آیت بھی ایک عربی محاورے کے مطابق ہے جس کا ٹھیک ٹھیک ترجمہ اس کے صحیح تأ ثر کے ساتھ بہت مشکل ہے، مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں اس بیر کے درخت پر چھائی ہوئی تھیں وہ بیان سے باہر ہیں، احادیث میں حضور نبی کریم ﷺ نے اس واقعہ کی جو تشریح فرمائی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت لاتعداد فرشتے سونے کے پروانے کی شکل میں اس درخت پر آنحضرت ﷺ کی زیارت کے لئے جمع ہوگئے تھے۔
Ayahs 53:17–19

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

(پیغمبر کی) آنکھ نہ تو چکرائی اور نہ حد سے آگے بڑھی۔ (9)

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بہت کچھ دیکھا۔

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

بھلا کیا تم نے لات اور عزی (کی حقیقت) پر بھی غور کیا ہے ؟

9: یعنی نہ تو نگاہ نے دیکھنے میں کوئی دھوکا کھایا، اور نہ وہ اس حد سے آگے بڑھی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر فرمادی تھی کہ اس سے آگے نہ دیکھے۔
Ayah 53:20

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور اس ایک اور تیسرے پر جس کا نام منات ہے ؟ (10)

10: لات، عزی اور منات تینوں بتوں کے نام جو عرب کے مختلف قبائل نے مختلف جگہوں پر بنا رکھے تھے، اور ان کو خدا مان کر ان کی عبادت کی جاتی تھی، قرآن کریم فرماتا ہے کہ ان کی حقیقت بےجان پتھروں کے سوا کیا ہے، پھر ان کو خدا ماننا کتنی بڑی جہالت کی بات ہے۔
Ayahs 53:21–23

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

کیا تمہارے لیے تو بیٹے ہوں، اور اللہ کے لیے بیٹیاں ؟ (11)

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

پھر تو یہ بڑی بھونڈی تقسیم ہوئی۔

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

ان کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یہ کچھ نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے حق میں کوئی ثبوت نازل نہیں کیا، درحقیقت یہ (کافر) لوگ محض وہم و گمان اور نفسانی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں، حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔

11: مشرکین مکہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے، یہ ان کے اس عقیدے کی طرف اشارہ ہے کہ تم خود تو بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹیاں منسوب کر رکھی ہیں۔
Ayahs 53:24–25

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کیا انسان کو ہر اس چیز کا حق پہنچتا ہے جس کی وہ تمنا کرے ؟ (12)

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

(نہیں) کیونکہ آخرت اور دنیا تو تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔

12: یہ مشرک لوگ اپنے من گھڑت خداؤں کے بارے میں یہ کہا کرتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ سے ہماری سفارش کریں گے۔ (دیکھئے سورة یونس : 18) یہاں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ تمہاری تمنا ضرور ہوگی لیکن انسان کو ہر وہ چیز نہیں ملا کرتی جس کی وہ تمنا کرے۔
Ayah 53:26

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں جن کی سفارش کسی کے کچھ بھی کام نہیں آسکتی، البتہ اس کے بعد ہی کام آسکتی ہے کہ اللہ جس کے لیے چاہے اجازت دیدے، اور اس پر راضی ہوجائے۔ (13)

13: یعنی جب فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت اور مرضی کے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتے تو یہ من گھڑت خدا کیسے کسی کی سفارش کرسکتے ہیں۔
Ayahs 53:27–29

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، وہ فرشتوں کو زنانے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔ (14)

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

حالانکہ انہیں اس بات کا ذرا بھی علم نہیں ہے، وہ محض وہم و گمان کے پیچھے چل رہے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ وہم و گمان حق کے معاملے میں بالکل کار آمد نہیں۔

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

لہذا (اے پیغمبر) تم ایسے آدمی کی فکر نہ کرو جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑ لیا ہے، اور دنیوی زندگی کے سوا وہ کچھ اور چاہتا ہی نہیں۔

14: یعنی انہیں خدا کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔
Ayahs 53:30–31

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

ایسے لوگوں کے علم کی پہنچ بس یہیں تک ہے۔ (15) تمہارا پروردگار ہی خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک چکا ہے، اور وہی خوب جانتا ہے کون راہ پا گیا ہے۔

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ بھی اور زمین میں جو کچھ ہے وہ بھی اللہ ہی کا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جنہوں نے برے کام کیے ہیں، وہ ان کو ان کے عمل کا بھی بدلہ دے گا، اور جنہوں نے نیک کام کیے ہیں، ان کو بہترین بدلہ عطا کرے گا۔

15: یہ ان لوگوں پر تبصرہ ہے جو بس اسی دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھتے ہیں، اور آخرت کا انہیں کوئی خیال ہی نہیں ہے کہ ان بیچاروں کی رسائی بس یہیں تک ہے، اس سے زیادہ نہیں۔
Ayahs 53:32–33

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

ان لوگوں کو جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے ہیں، البتہ کبھی کبھار پھسل جانے کی بات اور ہے۔ (16) یقین رکھو تمہارا پروردگار بہت وسیع مغفرت والا ہے، وہ تمہیں خوب جانتا ہے جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا، اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے، لہذا تم اپنے آپ کو پاکیزہ نہ ٹھہراؤ، وہ خوب جانتا ہے کہ کون متقی ہے۔ (17)

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

(اے پیغمبر) بھلا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جو (حق سے) منہ موڑ گیا۔

16: قرآن کریم میں اصل لفظ لمم استعمال ہوا ہے، اس کے لفظی معنی ہیں تھوڑاسا، چنانچہ عام طور سے مفسرین نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے گناہ جو کبھی سرزد ہوجائیں، اور لمم کے معنی قریب ہونے کے بھی ہوتے ہیں، اس لحاظ سے بعض مفسرین نے اس لفظ کی تشریح یہ کی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی گناہ کے قریب چلا جائے مگر اس کا ارتکاب نہ کرے۔ 17: اس آیت میں اپنے آپ کو مقدس اور متقی سمجھنے اور اپنی تعریفیں کرتے رہنے سے منع کیا گیا ہے۔
Ayahs 53:34–36

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور جس نے تھوڑا سا دیا، پھر رک گیا ؟ (18)

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے جو وہ دیکھ رہا ہو ؟

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا اسے ان باتوں کی خبر نہیں ملی جو موسیٰ کے صحیفوں میں درج ہے۔

18: ان آیتوں کا پس منظر حافظ ابن جریر وغیرہ نے یہ بیان کیا ہے کہ ایک کافر شخص قرآن کریم کی کچھ آیتیں سن کر اسلام لانے کی طرف مائل ہوگیا تھا۔ اس کے ایک دوست نے کہا کہ تم اپنے باپ دادا کے دین کو کیوں چھوڑ رہے ہو ؟ اس نے جواب دیا میں آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ دوست نے کہا کہ اگر تم مجھے کچھ پیسے دو تو میں یہ ذمہ داری لیتا ہوں کہ اگر آخرت میں تمہیں عذاب ہونے لگا تو وہ میں اپنے سر لے کر تمہیں بچا لوں گا۔ چنانچہ اس شخص نے کچھ پیسے دے دئیے۔ کچھ عرصے کے بعد اس نے مزید پیسے مانگے تو اور دے دئیے، لیکن پھر دینا بند کردیا۔ اور بعض روایتوں میں ہے کہ ایک دستاویز لکھ کر دے دی۔ یہ آیات ان دونوں کی حماقت بتارہی ہیں کہ اول تو جو شخص یہ کہہ رہا تھا کہ میں تمہیں آخرت کے عذاب سے بچا لوں گا، کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ اس پر قادر ہوگا ؟ دوسرے اللہ تعالیٰ یہ عام قاعدہ بیان فرما رہے ہیں کہ کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا۔ یہ بات آج پہلی بار نہیں کہی جا رہی، بلکہ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ (علیہما السلام) پر جو صحیفے نازل ہوئے تھے، ان میں بھی لکھ دی گئی تھی۔
Ayah 53:37

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور ابراہیم کے صحیفوں میں بھی، جو مکمل وفادار رہے ؟ (19)

19: حضرت ابراہیم ؑ کی مکمل وفا داری کے تذکرے کے لیے دیکھئے سورة بقرہ : 123
Ayah 53:38

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

یعنی یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا، (20)

20: چنانچہ آج بھی بائبل کی کتاب حزقیل میں یہ اصول وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ (دیکھئے حزقی ایل :20)۔