52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

Ayahs 52:1–7

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

قسم ہے کوہ طور کی۔

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اور اس کتاب کی جو ایک کھلے ہوئے

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

صحیفے میں لکھی ہوئی ہے۔

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور قسم ہے بیت معمور کی۔

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور بلند کی ہوئی چھت کی۔

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور بھرے ہوئے سمندر کی

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

کہ تمہارے پروردگار کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے۔ (1)

1: پچھلی سورت کے شروع میں قرآن کریم کی قسموں پر جو حاشیہ ہم نے دیا ہے، اسے یہاں بھی ملاحظہ فرمالیا جائے، یہاں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کھائی ہے، پہلے کوہ طور کی جس کی طرف اشارہ ہے کہ آخرت میں نافرمانوں کو عذاب ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ کوہ طور پر جو کتاب حضرت موسیٰ ؑ کو دی گئی تھی، وہ بھی اس بات کی گواہ ہے، دوسری قسم ایک کتاب کی کھائی گئی ہے جو ایک صحیفے میں لکھی ہوئی ہے اس سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک تورات ہے، اس صورت میں اس قسم کا بھی آخرت کے عذاب سے وہی تعلق ہے جو کوہ طور کا عرض کیا گیا، البتہ بعض مفسرین نے اس سے مراد نامہ اعمال لیا ہے، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ انسانوں کا جو نامہ اعمال ہر آن لکھا جارہا ہے، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ کسی وقت حساب و کتاب ہوگا اور نافرمانوں کو ان کے اعمال کی سزا ملے گی، تیسری قسم بیت معمور کی کھائی گئی ہے، یہ عالم بالا میں ایک ایسا ہی گھر ہے جیسا دنیا میں بیت اللہ ہے، عالم بالا کا یہ گھر فرشتوں کی عبادت گاہ ہے اس کی قسم کھاکر اشارہ فرمایا گیا ہے کہ فرشتے اگرچہ انسانوں کی طرح مکلف نہیں، لیکن وہ پھر بھی عبادت میں لگے ہوئے ہیں، انسان تو مکلف اسی لئے بنایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، اور اگر نہیں کرے گا تو سزا کے لائق ہوگا، چوتھی قسم اونچی چھت یعنی آسمان کی اور پانچویں قسم بھرے ہوئے سمندر کی کھائی گئی ہے، اس میں یہ اشارہ ہے کہ اگر جزاء وسزا نہ ہو تو اس کائنات کا جس کے اوپر آسمان اور نیچے سمندر اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں، پیدا کرنے کا کوئی مقصد نہیں رہتا، نیز یہ کہ جو ذات اتنی عظیم چیزیں پیدا کرنے پر قادر ہے وہ یقیناً انسانوں کو دوسری زندگی دینے پر بھی قادر ہے۔
Ayahs 52:8–18

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

کوئی ہیں ہے جو اسے روک سکے۔

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

جس دن آسمان تھر تھرا کر لرز اٹھے گا۔

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پہاڑ ہولناک طریقے سے چل پڑیں گے۔

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

تو اس دن بڑی خرابی ہوگی ان کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

جو بےہودہ باتوں میں ڈوبے ہوئے کھیل رہے ہیں

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

اس دن جب انہیں دھکے دے دے کر جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا۔

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

(کہ) یہ ہے وہ آگ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

بھلا کیا یہ جادو ہے یا تمہیں (اب بھی) کچھ نظر نہیں آرہا ؟

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

داخل ہوجاؤ اس میں، پھر تم صبر کرو، یا نہ کرو، تمہارے لیے برابر ہے۔ تمہیں انہی کاموں کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

متقی لوگ بیشک باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے۔

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

ان کے پروردگار نے انہیں جس طرح نوازا اور ان کے پروردگار ہی نے انہیں دوزخ کے عذاب سے جس طرح بچایا، اس کا لطف اٹھا رہے ہوں گے۔ (2)

2: یہ ترجمہ اس تفسیر پر مبنی ہے جو علامہ آلوسی نے ان الفاظ میں نقل فرمائی۔ ”وَ وَقٰھُمْ رَبُّھُمْ عَذَابَ الْجَحِیْم عطف علی آتا ھم ان جعلت ما مصدریة، ای فاکھین بایتائھم ربھم و وقایتھم عذاب الجحیم۔
Ayahs 52:19–21

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا کہ) خوب مزے سے کھاؤ پیو، ان اعمال کے صلے میں جو تم کیا کرتے تھے۔

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

وہ ایک قطار میں لگی ہوئی اونچی نشستوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے، اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا بیاہ کردیں گے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہے تو ان کی اولاد کو ہم انہی کے ساتھ شامل کردیں گے، اور ان کے عمل میں سے کسی چیز کی کمی نہیں کریں گے۔ (3) ہر انسان کی جان اپنی کمائی کے بدلے رہن رکھی ہوئی ہے۔ (4)

3: یعنی نیک لوگوں کی اولاد اگر مومن ہو تو اگرچہ وہ اپنے اعمال کے لحاظ سے جنت میں اس اونچے درجے کی مستحق نہ ہو جو اس کے والد کو ملا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ والد کو خوش کرنے کے لئے اولاد کو بھی وہی درجہ دے دیں گے اور والد کے درجے میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ 4: رہن اس سامان کو کہتے ہیں جو کسی ادھار دینے والے نے اپنے ادھار کی ادائیگی کی ضمانت کے طور پر مقروض سے لے کر اپنے پاس رکھ لیا ہو، اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو جو صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں، وہ انسان کے پاس ادھار ہیں، یہ ادھار اسی صورت میں اترسکتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان صلاحیتوں کو استعمال کرے جس کا مظاہرہ دنیا میں ایمان لانے اور نیک عمل کرنے سے ہوتا ہے، اس ادھار کے لئے ہر انسان کی جان اس طرح رہن رکھی ہوئی ہے، اگر وہ ایمان اور نیک عمل کے ذریعے اپنا ادھار اتاردے گا تو آخرت میں اس کی جان کو آزادی حاصل ہوگی، اور وہ جنت میں اطمینان سے خوش حالی کے ساتھ رہے گا، اور اگر اس نے یہ قرض نہ اتارا تو پھر اس کو دوزخ میں قید رہنا ہوگا، اس فقرے کو یہاں لانے کا مطلب یہ ہے کہ جن ایمان والوں کے متعلق اس آیت میں کہا گیا ہے کہ انہیں ثواب ملے گا اور ان کی مومن اولاد بھی ان کے ساتھ ہوگی، انہوں نے اللہ تعالیٰ کا حکم پورا کرکے اپنا ادھار اتاردیا، اور اپنی جان کو آزاد کرالیا ہے ؛ لیکن اگر کسی کی اولاد مومن ہی نہ ہو تو اسے اپنے ماں باپ کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دے گا، کیونکہ اس نے وہ مطالبہ پورا نہیں کیا جس کے لئے اس کی جان رہن رکھی ہوئی تھی، اس لئے اسے دوزخ میں جاکر قید رہنا ہوگا، نیز اس فقرے کا یہاں ایک اور مطلب بھی ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ باپ کی نیکی کی وجہ سے اس کی مومن اولاد کا درجہ بڑھادیا جائے گا ؛ لیکن اولاد کی بدعملی کی کوئی سزا باپ کو نہیں ملے گی، کیونکہ ہر شخص کی جان خود اپنی کمائی کے لئے رہن ہے دوسرے کی کمائی کے لئے نہیں۔
Ayahs 52:22–23

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

اور ہم انہیں ایک کے بعد ایک پھل اور گوشت، جو بھی ان کا دل چاہے گا، دیے چلے جائیں گے۔

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

وہاں وہ ایسے جام شراب پر (دوستانہ) چھینا جھپٹی کر رہے ہوں گے جس میں نہ کوئی بےہودگی ہوگی، اور نہ کوئی گناہ ہوگا۔ (5)

5: چھینا جھپٹی سے مراد وہ چھینا جھپٹی ہے جو بےتکلف دوستوں میں کسی لذیذ چیز سے لطف لینے کے لئے ہوا کرتی ہے، اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی ؛ بلکہ مجلس کا لطف بڑھ جاتا ہے ؛ چنانچہ فرمایا گیا ہے اس جام شراب میں اس طرح کی بےہودگی یا گناہ کی کوئی بات نہیں ہوگی جو دنیا کے شرابیوں میں پائی جاتی ہے، اس شراب میں وہ نشہ ہی نہیں ہوگا جو انسان کو بےہودگیوں پر آمادہ کردے۔
Ayahs 52:24–30

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور ان کے اردگرد نوجوان پھر رہے ہوں گے جو انہی (کی خدمت) کے لیے مخصوص ہوں گے، ایسے (خوبصورت) جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی۔

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے۔

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

کہیں گے کہ : ہم پہلے جب اپنے گھر والوں (یعنی دنیا) میں تھے تو ڈرے سہمے رہتے تھے۔

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

آخر اللہ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا، اور ہمیں جھلسانے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

ہم اس سے پہلے اس سے دعائیں مانگا کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی ہے جو بڑا محسن، بہت مہربان ہے۔

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

لہذا (اے پیغمبر) تم نصیحت کرتے رہو، کیونکہ تم اپنے پروردگار کے فضل سے نہ کاہن ہو، نہ مجنون۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

بھلا کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ : یہ صاحب شاعر ہیں جن کے بارے میں ہم زمانے کی گردش کا انتظار کر رہے ہیں ؟ (6)

6: عربی لغت کے اعتبار سے اس جملے کا یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے کہ : یہ صاحب شاعر ہیں جن کے بارے میں ہم موت کے حادثے کا انتظار کر رہے ہیں۔ علامہ سیوطی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ قریش کے کچھ لیڈروں نے حضور اقدس ﷺ کے بارے میں یہ کہا تھا کہ یہ تو ایک شاعر ہیں۔ اور جس طرح دوسرے شاعر ہلاک ہوگئے، اور ان کی شاعری بھی انہی کے ساتھ دفن ہوگئی، اسی طرح یہ بھی انتقال کر جائیں گے تو پھر ان کی باتیں انہی کے ساتھ ختم ہوجائیں گی۔ اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔
Ayahs 52:31–32

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

کہہ دو کہ : کرلو انتظار، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کررہا ہوں۔

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

کیا ان کی عقلیں ان کو یہی کچھ کرنے کو کہتی ہیں، یا وہ ہیں ہی سرکش لوگ ؟ (7)

7: یعنی یہ لوگ تو بڑے عقل کے دعوے دار ہیں، کیا ان عقلوں کا یہی حال ہے کہ انہیں بالکل سامنے کی باتیں بھی سمجھ میں نہیں آتیں، اور وہ اس قسم کی بےہودہ باتیں کرتے رہتے ہیں ؟ یا پھر حق بات ان کی عقل میں تو آجاتی ہے لیکن اپنی سرکشی کی وجہ سے اسے مانتے نہیں ہیں ؟
Ayahs 52:33–34

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

ہاں کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ : ان صاحب نے یہ (قرآن) خود گھڑ لیا ہے ؟ نہیں، بلکہ یہ (ضد میں) ایمان نہیں لارہے۔

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

اگر یہ واقعے سچے ہیں تو اس جیسا کوئی کلام (گھڑ کر) لے آئیں۔ (8)

8: یہ چیلنج قرآن کریم نے کئی مقامات پر دیا ہے کہ اگر تم قرآن کریم کو گھڑا ہوا کلام کہتے ہو، تو تم لوگوں میں بڑے بڑے ادیب، شاعر اور فصیح وبلیغ لوگ موجود ہیں، وہ سب مل کر قرآن کریم جیسا کلام بنا کرلے آئیں۔ (دیکھئے سورة بقرہ : 23، سورة یونس : 38، سورة ہود : 13 اور سورة بنی اسرائیل : 88) لیکن اس کھلے چیلنج کو قبول کرنے کے لیے ان میں سے کوئی آگے نہیں بڑھا۔
Ayahs 52:35–37

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

کیا یہ لوگ بغیر کسی کے آپ سے آپ پیدا ہوگئے، یا یہ خود (اپنے) خالق ہیں ؟

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

یا کیا آسمان اور زمین انہوں نے پیدا کیے ہیں ؟ نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے۔

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

کیا تمہارے پروردگار کے خزانے ان کے پاس ہیں، یا وہ داروغہ بنے ہوئے ہیں ؟ (9)

9: مکہ مکرمہ کے کافر لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو پیغمبر بھیجنا ہی تھا تو مکہ مکرمہ یا طائف کے کسی بڑے سردار کو پیغمبر کیوں نہیں بنایا گیا ؟ (دیکھئے سورة زخرف 43۔ 31) اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے، جن میں کسی کو پیغمبر بنانے کا اختیار بھی شامل ہے، ان کی خواہشات کے تابع ہیں کہ وہ جسے چاہیں اسے پیغمبر بنادیا جائے ؟۔
Ayah 52:38

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

یا ان کے لئے کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ (عالم بالا کی باتیں) سن لیتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ان میں سے جو سنتا ہو وہ کوئی واضح ثبوت تو لائے۔ (10)

10: مشرکین مکہ بہت سے ایسے عقیدے رکھتے تھے جن کا تعلق عالم بالا سے تھا، مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد کے لیے چھوٹے چھوٹے بہت سے خداؤں کو اختیار دے رکھا ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا، نیز یہ کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، جیسا کہ اگلی آیت میں ان کے اسی عقیدے کا حوالہ دیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ عالم بالا کی یہ باتیں آخر کہاں سے تمہیں معلوم ہوئی ہیں ؟ کیا تمہارے پاس کوئی ایسی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر تم وہاں کی یہ معلومات حاصل کرتے ہو ؟