51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة ذاریات یہاں سے سورة حدید (سورت نمبر : ٤٧) تک تمام سورتیں مکی ہیں، اور ان سب کا بنیادی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد کی تعلیم اور خاص طور پر آخرت کی زندگی، جنت اور دوزخ کے حالات اور پچھلی قوموں کے عبرت ناک انجام کا نہایت فصیح وبلیغ اور انتہائی مؤثر تذکرہ ہے، اس تاثیر کو کسی بھی ترجمے کے ذریعے کسی اور زبان میں منتقل کرنا ممکن نہیں ہے۔

Ayah 51:1

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

قسم ہے ان (ہواؤں) کی جو گرد اڑا کر بکھیر دیتی ہیں۔

Ayah 51:2

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر ان کی جو (بادلوں کا) بوجھ اٹھاتی ہیں۔

Ayah 51:3

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر ان کی جو آسانی سے رواں دواں ہوجاتی ہیں۔

Ayahs 51:4–6

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر ان کی جو چیزیں تقسیم کرتی ہیں۔ (1)

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

کہ جو وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ یقینی طور پر سچا ہے۔

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور اعمال کا بدلہ یقینا مل کر رہے گا۔

1: یہاں دو باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی کسی بات کا یقین دلانے کے لئے قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے، وہ اس بات سے بےنیاز ہے کہ اپنی کسی بات پر قسم کھائے، البتہ قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو قسمیں کھائی گئی ہیں وہ کلام میں فصاحت و بلاغت کا زور پیدا کرنے کے لئے آئی ہیں، اور بسا اوقات ان میں یہ پہلو مد نظر ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی جارہی ہے اگر اس پر غور کیا جائے تو وہ اس بات کی دلیل اور گواہ ہوتی ہے جو قسم کے بعد مذکور ہے، چنانچہ یہاں قسم کے بعد جو بات بیان فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور جزاء وسزا کا فیصلہ ضرور ہوگا۔ اور قسم ان ہواؤں کی کھائی گئی ہے جو گرد اڑاتی ہیں، اور بادلوں کا بوجھ اٹھا کر انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں، اور جب وہ برستے ہیں تو ان کا پانی مردہ زمین میں رزق کا سامان پیدا کر کے انہیں مخلوقات میں تقسیم کرتا ہے، اور ان مخلوقات کے لیے نئی زندگی کا باعث بنتا ہے۔ ان کی قسم کھا کر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ ان ہواؤں اور ان کے نتیجے میں برسنے والے پانی کو نئی زندگی کا ذریعہ بناتا ہے، وہ یقیناً اس بات پر قادر ہے کہ مردہ انسانوں کو دوسری زندگی عطا فرما دے۔ یہ تشریح اس بات پر مبنی ہے کہ جن چار چیزوں کی یہاں قسم کھائی گئی ہے، ان سب سے مراد ہوائیں ہیں، اور ان کی چار مختلف صفات ذکر فرمائی گئی ہیں۔ ان آیتوں کی ایک اور تفسیر یہ منقول ہے کہ پہلی صفت یعنی گرد اڑانا تو ہواؤں سے متعلق ہے، اور دوسری صفت سے مراد خود بادل ہیں جو پانی کا بوجھ اٹھاتے ہیں، اور تیسری صفت سے مراد کشتیاں ہیں جو پانی میں رواں دواں رہتی ہیں، اور چوتھی صفت سے مراد فرشتے ہیں جو مخلوقات میں رزق وغیرہ تقسیم کرنے کا انتظام کرتے ہیں۔ یہ تفسیر ایک روایت میں خود حضور سرور دو عالم ﷺ سے منقول ہے، لیکن اس روایت کے بارے میں علامہ ہیثمی ؒ نے یہ فرمایا ہے کہ یہ ایک ضعیف راوی ابوبکر ابن ابی سبرہ سے مروی ہے جو متروک ہے۔ (مجمع الزوائد ج : 7 ص 244، 245 کتاب التفسیر حدیث نمبر 11365) تاہم چونکہ اس تفسیر کو آنحضرت ﷺ سے ایک نسبت ہے، اس لیے بہت سے مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے، اور ہم نے جو ترجمہ کیا ہے، اگر اس میں سے قوسین والے الفاظ کو نظر انداز کردیا جائے تو اس ترجمے میں اس تفسیر کی بھی گنجائش ہے۔ اس تفسیر کے مطابق ان قسموں سے آخرت کا تعلق بظاہر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ضروریات پوری کرنے کے یہ انتظامات بےمقصد نہیں فرمائے۔ اس سارے نظام کا یہ مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو جو لوگ ٹھیک ٹھیک استعمال کریں، انہیں ان کی نیکی کا انعام دیا جائے، اور جو لوگ غلط استعمال کریں، انہیں سزا دی جائے، لہذا کائنات کی یہ ساری چیزیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ کوئی ایسا دن آئے جس میں انعام اور سزا کا یہ فیصلہ ہو۔
Ayah 51:7

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

قسم ہے راستوں والے آسمان کی۔ (2)

2: یہاں راستوں سے مراد بظاہر وہ راستے ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے، لیکن فرشتوں کی آمد و رفت ان راستوں سے ہوتی ہے، اور بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ آسمان کا لفظ بعض اوقات ہر اوپر والی چیز کے لیے بھی بولا جاتا ہے، اور یہاں اوپر کی وہ فضا مراد ہے جس میں ستاروں کے متعین راستے بنے ہوئے ہیں۔
Ayah 51:8

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

کہ تم متضاد باتوں میں پڑے ہوئے ہو۔ (3)

3: یعنی ایک طرف اللہ تعالیٰ کو اس کائنات کا خالق مانتے ہو، اور دوسری طرف اس کی یہ قدرت تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہو کہ وہ مرنے کے بعد انسانوں کو دوبارہ زندگی دے سکتا ہے۔
Ayahs 51:9–11

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

اس (آخرت کی حقیقت) سے وہی منہ موڑتا ہے جو حق سے بالکل ہی مڑا ہوا ہے۔ (4)

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

خدا کی مار ہو ان پر جو (عقیدے کے معاملے میں) اٹکل پیچوں باتیں بنایا کرتے ہیں۔

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

جو غفلت میں ایسے ڈوبے ہیں کہ سب کچھ بھلائے بیٹھے ہیں۔

4: جو شخص حق کی طلب رکھتا ہو، اس کے لیے آخرت کو ماننا ہرگز مشکل نہیں ہے، لیکن اس حقیقت سے وہی انکار کرتا ہے جو حق کی طلب رکھنے کے بجائے اس سے برگشتہ ہو۔
Ayahs 51:12–13

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

پوچھتے ہیں کہ : جزاء و سزا کا دن کب ہوگا ؟ (5)

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

اس دن ہوگا جب انہیں آگ پر تپایا جائے گا۔

5: یہ سوال حقیقت جاننے کے لیے نہیں، بلکہ اس کا مذاق اڑانے کے لیے کرتے ہیں۔
Ayahs 51:14–17

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

کہ چکھو مزہ اپنی شرارت کا۔ یہی ہے وہ چیز جس کے بارے میں تم یہ مطالبہ کرتے تھے کہ وہ جلدی آجائے۔ (6)

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

متقی لوگ بیشک باغوں اور چشموں میں اس طرح رہیں گے۔

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

کہ ان کا پروردگار انہیں جو کچھ دے گا، اسے وصول کر رہے ہوں گے۔ وہ لوگ اس سے پہلے ہی نیک عمل کرنے والے تھے۔

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

وہ رات کے و قت کم سوتے تھے۔

6: کافر لوگوں کو جب آخرت کے عذاب سے ڈرایا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ وہ عذاب ابھی کیوں نہیں آجاتا۔
Ayah 51:18

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے۔ (7)

7: یعنی رات کا بڑا حصہ عبادت میں گذارنے کے بعد بھی وہ اپنے اس عمل پر مغرور نہیں ہوتے، بلکہ سحری کے وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے استغفار کرتے ہیں کہ نہ جانے ہماری عبادت میں کون کون سی کو تاہیاں رہ گئی ہوں جن کی وجہ سے وہ عبادت اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرنے کے لائق نہ ہو، اس لیے آخر میں استغفار کرتے ہیں۔
Ayahs 51:19–21

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا (باقاعدہ) حق ہوتا تھا۔ (8)

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور ان کے لیے جو یقین کرنے والے ہوں، زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی۔ کیا پھر بھی تمہیں دکھائی نہیں دیتا ؟

8: سائل سے مراد تو وہ حاجت مند ہے جو زبان سے اپنی ضرورت کا اظہار کردے، اور محروم سے مراد وہ ہے جو حاجت مند ہونے کے باوجود کسی سے کچھ مانگتا نہیں، اس آیت میں حق کا لفظ استعمال کرکے بتادیا گیا ہے کہ انسان ان لوگوں پر زکوٰۃ وغیرہ کی شکل میں جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ ان کا حق ہے جو انہیں پہنچانا ہی چاہیے تھا، کیونکہ مال و دولت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اور اس کا یہ حکم ہے کہ اس میں حاجت مند لوگوں کا بھی حصہ ہے۔
Ayah 51:22

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور آسمان ہی میں تمہارا رزق بھی ہے اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔ (9)

9: آسمان سے یہاں مراد عالم بالا ہے، اور مطلب یہ ہے کہ تمہارے رزق کے فیصلے بھی آسمان میں ہوتے ہیں، اور تم سے جنت اور دوزخ وغیرہ کا جو وعدہ کیا جارہا ہے، اس کا فیصلہ بھی آسمان ہی میں ہونا ہے۔
Ayah 51:23

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

لہذا آسمان اور زمین کے پروردگار کی قسم ! یہ بات یقینا ایسی ہی سچی ہے جیسے یہ بات کہ تم بولتے ہو۔ (10)

10: یعنی جس طرح یہ بات یقینی ہے کہ تم بول رہے ہو، اسی طرح آخرت کی جو بات کہی جا رہی ہے، وہ بھی اتنی ہی یقینی ہے، کیونکہ اس کائنات کے خالق نے بتلائی ہے۔
Ayahs 51:24–27

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کیا ابراہیم کے معزز مہمانوں کا واقعہ تمہیں پہنچا ہے ؟ (11)

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب وہ ابراہیم کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کہا۔ ابراہیم نے بھی سلام کہا۔ (اور دل میں سوچا کہ) یہ کچھ انجان لوگ ہیں۔

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

پھر چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور ایک موٹا سا بچھڑا لے آئے۔

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

اور اسے ان مہمانوں کے سامنے رکھا۔ کہنے لگے : کیا آپ لوگ کھاتے نہیں ؟

11: یہ مہمان درحقیقت فرشتے تھے جو ایک طرف تو حضرت ابراہیم ؑ کو حضرت اسحاق ؑ کی پیدائش کی خوشخبری دینے آئے تھے، اور دوسری طرف حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ ان کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة ہود : 69 تا 83 اور سورة حجر : 51 تا 77 میں گذر چکا ہے۔
Ayahs 51:28–35

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

اس سے ابراہیم نے ان کی طرف سے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا۔ (12) انہوں نے کہا : ڈرییے نہیں، اور انہیں ایک لڑکے کی خوشخبری دی جو بڑا عالم ہوگا۔

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

اس پر ان کی بیوی زور سے بولتی ہوئی آئیں، اور انہوں نے اپنا چہرہ پیٹ لیا اور کہنے لگیں (کیا) ایک بانجھ بڑھیا (بچہ جنے گی ؟)

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

مہمانوں نے کہا : تمہارے پروردگار نے ایسا ہی فرمایا ہے۔ یقین جانو وہی ہے جو بڑی حکمت کا، بڑے علم کا مالک ہے۔

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا : اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتو ! تم کس مہم پر ہو ؟

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا : ہمیں کچھ مجرم لوگوں کے پاس بھیجا گیا ہے۔

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

تاکہ ہم ان پر پکی مٹی کے پتھر برسائیں۔

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

جن پر حد سے گزرے ہوئے لوگوں کے لیے تمہارے پروردگار کے پاس سے خاص نشان بھی لگا ہوگا۔

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

پھر ہوا یہ کہ اس بستی میں جو کوئی مومن تھا اس کو ہم نے وہاں سے نکال لیا۔

12: فرشتے چونکہ کچھ کھاتے نہیں ہیں، اس لیے انہوں نے کھانے سے پرہیز کیا۔ حضرت ابراہیم ؑ اس علاقے کی عادت کے مطابق یہ سمجھے کہ یہ کوئی دشمن ہیں۔ پھر جب انہوں نے اپنے بیٹے کی خوشخبری دی تو وہ سمجھ گئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ اس لیے آیت نمبر 30 میں انہوں نے اسی حیثیت سے ان سے خطاب فرمایا۔
Ayahs 51:36–40

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

اور اس میں ایک گھر کے سوا ہم نے کسی اور گھر کو مومن نہیں پایا۔ (13)

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور ہم نے اس بستی میں ان لوگوں کے لیے (عبرت کی) ایک نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہوں۔

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور موسیٰ (کے واقعے) میں بھی (ہم نے ایسی ہی نشانی چھوڑی تھی) جب ہم نے انہیں ایک کھلی ہوئی دلیل کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا تھا۔

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

تو فرعون نے اپنی قوت بازو کے بل پر منہ موڑا، اور کہا کہ : یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا، اور وہ تھا ہی ملامت کے لائق۔

13: اس سے مرد خود حضرت لوط ؑ کا گھرانہ ہے۔