50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة ق اس سورت کا اصل موضوع آخرت کا اثبات ہے، اسلام کے عقائد میں عقیدہ آخرت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، یہی وہ عقیدہ ہے جو انسان کے قول وفعل میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے، اور اگر یہ عقیدہ دل میں پیوست ہوجائے تو وہ ہر وقت انسان کو اس بات کی یاد دلاتا رہتا ہے کہ اسے اپنے ہر کام کا اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینا ہے، اور پھر یہ عقیدہ انسان کو گناہوں، جرائم اور ناانصافیوں سے دور رکھنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لئے قرآن کریم نے آخرت کی زندگی کو یاد دلانے پر بہت زور دیا ہے، اور اسی کا نتیجہ تھا کہ صحابہ کرام ہر وقت آخرت کی زندگی کو بہتر بنانے کی فکر میں لگے رہتے تھے، اب جو مکی سورتیں آرہی ہیں، ان میں زیادہ تر اسی عقیدے کے دلائل اور قیامت کے حالات اور جنت اور دوزخ کی منظر کشی پر زور دیا گیا ہے، سورة ق کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بکثرت فجر اور جمعہ کی نمازوں میں اس سورت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے، سورت کے آغاز حروف مقطعات میں حرف ق سے کیا گیا ہے، جس کے معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں، اسی حرف کے نام پر سورت کا نام رکھا گیا ہے۔

Ayahs 50:1–4

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

ق، قرآن مجید کی قسم ! (ان کافروں نے پیغمبر کو کسی دلیل کی وجہ سے نہیں جھٹلایا)

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

بلکہ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ کوئی (آخرت سے) ڈرانے والا خود انہی میں سے (کیسے) آگیا، چنانچہ ان کافروں نے یہ کہا ہے کہ : یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

بھلا کیا ہم مر کھپ جائیں اور مٹی ہوجائیں گے، (اس وقت ہمیں پھر زندہ کیا جائے گا ؟) یہ واپسی تو ہماری سمجھ سے دور ہے۔

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

واقعہ تو یہ ہے کہ زمین ان کے جن حصوں کو (کھا کر) گھٹا دیتی ہے ہمیں ان کا پورا علم ہے (1) اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو سب کچھ محفوظ رکھتی ہے۔ (2)

1: یہ اس بات کا جواب ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو، پھر ہمارے جسم کے وہ حصے دوبارہ کیسے جمع ہوں گے جن کو مٹی کھا چکی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ تمہارے جسم کے جن جن حصوں کو مٹی کھاتی ہے، ان سب کا ہمیں پورا پورا علم ہے، اس لیے ان کو دوبارہ بحال کردینا ہمارے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ 2: اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔
Ayah 50:5

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

دراصل انہوں نے سچ کو اسی وقت جھٹلا دیا تھا جب وہ ان کے پاس آیا تھا، چنانچہ وہ متضاد باتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ (3)

3: یعنی کبھی کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے، کبھی کہتے ہیں کہ یہ کاہنوں کی باتیں ہیں، کبھی قرآن کریم کو شاعری قرار دیتے ہیں، اور کبھی آنحضرت ﷺ پر (معاذ اللہ) دیوانہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔
Ayahs 50:6–11

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

بھلا کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کیسے بنایا ہے ؟ اور ہم نے اسے خوبصورتی بخشی ہے، اور اس میں کسی قسم کے رخنے نہیں ہیں۔

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین ہے کہ ہم نے اسے پھیلا دیا ہے اور اس میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے ہیں، اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگائی ہیں۔

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

تاکہ وہ اللہ سے لو لگانے والے ہر بندے کے لیے بصیرت اور نصیحت کا سامان ہو۔

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان سے برکتوں والا پانی اتارا، پھر اس کے ذریعے باغات اور وہ اناج کے دانے اگائے جن کی کٹائی ہوتی ہے۔

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور کھجور کے اونچے اونچے درخت جن میں تہہ بر تہہ خوشے ہوتے ہیں۔

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

تاکہ ہم بندوں کو رزق عطا کریں اور (اس طرح) ہم نے اس پانی سے ایک مردہ پڑے ہوئے شہر کو زندگی دے دی، بس اسی طرح (انسانوں کا قبروں سے) نکلنا بھی ہوگا۔ (4)

4: جس طرح ایک مردہ پڑی ہوئی زمین کو اللہ تعالیٰ بارش کے ذریعے زندگی عطا کردیتے ہیں کہ اس میں ڈالے ہوئے بیج سے طرح طرح کی سبزیاں، پھل اور اناج وجود میں آجاتا ہے، اسی طرح جو لوگ قبروں میں مٹی ہوچکے ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ نئی زندگی دینے پر قادر ہیں۔
Ayahs 50:12–15

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم اور اصحاب الرس اور ثمود کے لوگوں نے بھی (اس بات کو) جھٹلایا تھا۔

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

نیز قوم عاد اور قوم فرعون اور لوط کے بھائیوں نے بھی۔

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور اصحاب الایکہ اور تبع قوم نے بھی۔ ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا، اس لیے میں نے جس عذاب سے ڈرایا تھا، وہ سچ ہو کر رہا۔

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

بھلا کیا ہم پہلی بات پیدا کرنے سے تھک گئے تھے ؟ (5) نہیں ! لیکن یہ لوگ از سر نو پیدا کرنے کے بارے میں دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔

5: کسی بھی چیز کو پہلی بار پیدا کرنا اسے عدم سے وجود میں لانا ہمیشہ زیادہ مشکل ہوتا ہے، بہ نسبت اس کے کہ اسے دوبارہ ویسا ہی بنادیا جائے، جب اللہ تعالیٰ کو پہلی بار پیدا کرنے میں کوئی دشواری یا تھکن لاحق نہیں ہوئی تو دوبارہ پیدا کرنے میں کیوں کوئی مشکل ہوگی۔
Ayahs 50:16–17

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے، اور اس کے دل میں جو خیالات آتے ہیں، ان (تک) سے ہم خوب واقف ہیں، اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

اس وقت بھی جب (اعمال کو) لکھنے والے دو فرشتے لکھ رہے ہوتے ہیں۔ (6) ایک دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب بیٹھا ہوتا ہے۔

6: یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کے تمام اچھے برے کاموں کو ریکارڈ کرنے کے لئے دو فرشتے مقرر فرمارکھے ہیں جوہر وقت اسکے دائیں اور بائیں موجود ہوتے ہیں، لیکن یہ انتظام صرف اس لئے کیا گیا ہے تاکہ انسان کے اعمال نامے کو قیامت کے دن خود اس کے سامنے حجت کے طور پر پیش کیا جاسکے، ورنہ اللہ تعالیٰ کو انسان کے اعمال جاننے کے لئے کسی اور کی مدد کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ وہ ہر انسان کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات تک سے خوب واقف ہے، اور انسان کی شہہ رگ سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔ الترجمۃ مبنیۃ علی ان ”اذ“ ظرف لہ ”اقرب“ کما فی روح المعانی
Ayahs 50:18–21

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگران مقرر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لیے) تیار۔

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور موت کی سختی سچ مچ آنے ہی والی ہے۔ (اے انسان) یہ وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا تھا۔

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور صورت پھونکا جانے والا ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جس سے ڈرایا جاتا تھا۔

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہوگا، اور ایک گواہی دینے والا (7)

7: یعنی جب قبروں سے نکل کر انسان میدان حشر کی طرف جائیں گے تو دو فرشتے ہر ایک کے ساتھ ہوں گے، ان میں سے ایک تو انہیں میدان حشر کی طرف ہانک کرلے جائے گا، اور ایک فرشتہ اس لئے ہوگا کہ وہ حساب و کتاب کے وقت اس کے اعمال کی گواہی دے، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ وہی دو فرشتے ہوں گے جو دنیا میں اس کا اعمال نامہ لکھا کرتے تھے۔
Ayahs 50:22–23

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ تو اس واقعے کی طرف سے غفلت میں پڑا ہوا تھا، اب ہم نے تجھ سے وہ پردہ ہٹا دیا ہے جو تجھ پر پڑا ہوا تھا۔ چنانچہ آج تیری نگاہ خوب تیز ہوگئی ہے۔

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور اس کا ساتھی کہے گا کہ : یہ ہے وہ (اعمال نامہ) جو میرے پاس تیار ہے۔ (8)

8: یہاں (ہم نشین) ساتھی سے مراد وہی فرشتہ ہے جو ہر وقت انسان کے ساتھ رہ کر اس کے اعمال لکھا کرتا تھا اور قبر سے اس کے ساتھ گواہ بن کر آیا تھا۔
Ayah 50:24

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

(حکم دیا جائے گا کہ) تم دونوں (9) ہر اس شخص کو جہنم میں ڈال دو جو کٹر کافر اور حق کا پکا دشمن تھا۔

9: یعنی ان دونوں فرشتوں سے کہا جائے گا جو اس کے ساتھ آئے تھے۔
Ayahs 50:25–27

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

جو دوسروں کو بھلائی سے روکنے کا عادی، بےحد زیادتی کرنے والا اور (حق بات میں) شک ڈالنے والا تھا۔

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود بنا رکھا تھا۔ لہذا اب تم دونوں اسے سخت عذاب میں ڈال دو۔

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کا ساتھی (10) کہے گا کہ : اے ہمارے پروردگار ! میں نے اسے گمراہ نہیں کیا تھا، بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا۔

10: یہاں (ہم نشین) ساتھی سے مراد شیطان ہے، کیونکہ وہ بھی ہر وقت انسان کو بہکانے کے لئے اسکے ساتھ رہتا تھا، کافر لوگ چاہیں گے کہ اپنے حصے کی سزا یہ کہہ کر اپنے سرداروں پر اور خاص طور سے شیطان پر ڈالیں کہ اس نے ہمیں گمراہ کیا تھا، اس کے جواب میں شیطان یہ کہے گا کہ میں نے گمراہ نہیں کیا، کیونکہ مجھے کوئی ایسا اختیار نہیں تھا کہ اسے زبردستی گمراہی کے راستے پر ڈالوں، زیادہ سے زیادہ میں نے انہیں ترغیب دی تھی، گمراہی میں تو یہ خود اپنے اختیار سے پڑا تھا، شیطان کے اس جواب کی تفصیل سورة ابرہیم (14۔ 22) میں ملاحظہ فرمائیے۔
Ayahs 50:28–29

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کہے گا کہ : تم میرے سامنے جھگڑے نہ کرو، اور میں تو پہلے ہی تمہارے پاس عذاب کی دھمکی بھیج چکا تھا۔

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

میرے سامنے وہ بات بدلی نہیں جاسکتی (11) اور میں بندوں پر کوئی ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔

11: یعنی جو بات اس دھمکی میں کہی گئی تھی کہ کفر اختیار کرنے والا اور کفر کی ترغیب دینے والا دونوں جہنم کے مستحق ہیں۔
Ayah 50:30

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

وہ وقت (یاد رکھو) جب ہم جہنم سے کہیں گے کہ : کیا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی کہ : کیا کچھ اور بھی ہے ؟ (12)

12: یعنی جہنم یہ کہے گی کہ میں اور لوگوں کو بھی لینے کے لیے تیار ہوں۔
Ayahs 50:31–32

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور پرہیزگاروں کے لیے جنت اتنی قریب کردی جائے گی کہ کچھ بھی دور نہیں رہے گی۔

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

(اور کہا جائے گا کہ) یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے یہ وعدہ کیا جاتا تھا کہ وہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ سے خوب لو لگائے ہوئے ہو، (اور) اپنی نگرانی رکھنے والا ہو۔ (13)

13: اس بات کی نگرانی کہ میرا کوئی کام اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف نہ ہو۔
Ayahs 50:33–35

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو خدائے رحمن سے اسے دیکھے بغیر ڈرتا ہو، اور اللہ کی طرف رجوع ہونے والا دل لے کر آئے۔

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

تم سب اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ وہ دن ابدی زندگی کا دن ہوگا۔

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

ان (جنتیوں) کو وہ سب کو کچھ ملے گا جو وہاں وہ چاہیں گے، اور ہمارے پاس کچھ اور زیادہ بھی ہے۔ (14)

14: جنت کی نعمتوں کی کچھ اجمالی جھلک تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف آیتوں میں بیان فرمائی ہے، لیکن جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ نے جنت میں وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں، کسی کان نے سنی نہیں، اور کسی شخص کے دل میں اس کا خیال بھی پیدا نہیں ہوا، یہاں بڑے بلیغ انداز میں اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہمارے پاس کچھ اور زیادہ بھی ہے، انہی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی ہے، مزید دیکھیے سورة یونس (10۔ 26)
Ayah 50:36

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور ان (مکہ کے کافروں) سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کی طاقت پر گرفت ان سے زیادہ سخت تھی، چنانچہ انہوں نے سارے شہر چھان مارے تھے۔ (15) کیا ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ تھی ؟

15: یعنی ان کی خوش حالی کا عالم یہ تھا کہ وہ تجارت اور سیاحت کے لیے شہر شہر گھومتے تھے۔ اور اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے عذاب سے بچنے کے لیے مختلف بستیوں میں بہت ہاتھ پاؤں مارے، لیکن عذاب الٰہی سے بچ نہیں سکے۔
Ayahs 50:37–40

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

یقینا اس میں اس شخص کے لیے بڑی نصیحت کا سامان ہے جس کے پاس دل ہو، یا جو حاضر دماغ بن کر کان دھرے۔

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور ہم نے سارے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا، اور ہمیں ذرا سی تھکاوٹ بھی چھو کر نہیں گزری۔

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

لہذا (اے پیغمبر) جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں تم اس پر صبر کرو، اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہو، سورج نکلنے سے پہلے بھی، اور سورج ڈوبنے سے پہلے بھی۔

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور رات کے حصوں میں بھی اس کی تسبیح کرو۔ (16) اور سجدوں کے بعد بھی۔ (17)

16: تسبیح سے یہاں مراد نماز ہے۔ چنانچہ طلوع آفتاب سے پہلے کے الفاظ میں نماز فجر، غروب سے پہلے کے الفاظ میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں، اور رات کے حصوں میں تسبیح کرنے کے الفاظ میں مغرب، عشاء اور تہجد کی نمازیں۔ 17: سجدوں سے مراد فرض نمازیں ہیں، اور ان کے بعد تسبیح کرنے سے مراد نفلی نمازیں ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے اس کی یہی تفسیر منقول ہے (روح المعانی)