49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الحجرات اس سورت کے بنیادی موضوع دو ہیں، ایک یہ کہ مسلمانوں کو حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تعظیم کا کیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے، اور دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق قائم رکھنے کے لئے کن اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے، اس سلسلے میں پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہوں میں اختلاف پیدا ہوجائے تو دوسرے مسلمانوں پر کیا فریضہ عائد ہوتا ہے، اور اس کے بعد وہ اسباب بیان فرمائے گئے ہیں جو عام طور سے رہن سہن کے دوران آپس کے لڑائی جھگڑے پیدا کرتے ہیں، مثلاً ایک دوسرے کا مذاق اڑانا، غیبت کرنا، دوسروں کے معاملات میں ناحق مداخلت کرنا، بدگمانی کرنا وغیرہ، نیز یہ حقیقت پوری وضاحت اور تاکید کے ساتھ بیان فرمائی گئی ہے کہ خاندان قبیلے زبان اور قومیت کی بنیاد پر ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنی بڑائی جتانے کا اسلام میں کوئی جواز نہیں ہے، تمام انسان برابر ہیں، اور اگر کسی کو دوسرے پر کوئی فوقیت ہوسکتی ہے تو وہ صرف اپنے کردار اور تقوی کی بنیاد پر ہوسکتی ہے، سورت کے آخر میں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ مسلمان ہونے کے لئے صرف زبان سے اسلام کا اقرار کرلینا کافی نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام احکام کو دل سے ماننا بھی ضروری ہے، اس کے بغیر اسلام کا دعوی معتبر نہیں ہے۔ حجرات عربی میں حجرۃ کی جمع ہے جو کمرے کو کہتے ہیں، اس سورت کی چوتھی آیت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رہائشی حجروں کے پیچھے سے آپ کو آواز دینے سے منع فرمایا گیا ہے اس وجہ سے اس سورت کا نام سورة حجرات رکھا گیا ہے۔

Ayahs 49:1–3

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کے آگے نہ بڑھا کرو۔ (1) اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقینا سب کچھ سنتا، سب کچھ جانتا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند مت کیا کرو، اور نہ ان سے بات کرتے ہوئے اس طرح زور سے بولا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں، اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

یقین جانو جو لوگ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے خوب جانچ کر تقوی کے لیے منتخب کرلیا ہے، ان کو مغفرت بھی حاصل ہے اور زبردست اجر بھی۔

1: سورت کی یہ ابتدائی پانچ آیتیں ایک خاص موقع پر نازل ہوئی تھیں، حضور اقدس ﷺ کے پاس عرب کے قبائل کے بہت سے وفد آتے رہتے تھے، اور آنحضرت ﷺ ان میں سے کسی کو آئندہ کے لئے قبیلے کا امیر مقرر فرما دیتے تھے، ایک مرتبہ قبیلہ تمیم کا ایک وفد آپ کی خدمت میں آیا، ابھی آپ نے ان میں سے کسی کو امیر نہیں بنایا تھا، اور نہ اس سلسلے میں کوئی بات کی تھی، لیکن آپ کی موجودگی میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ نے یہ مشورہ شروع کردیا کہ ان میں سے کس کو امیر بنایا جائے، حضرت ابوبکر نے ایک نام لیا اور حضرت عمر نے دوسرا، پھر ان دونوں بزرگوں نے اپنی اپنی رائے کی تائید اس طرح شروع کردی کہ کچھ بحث کا سا انداز پیدا ہوگیا، اور اس میں دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں، اس پر پہلی تین آیتیں نازل ہوئیں، پہلی آیت میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جن معاملات کا فیصلہ آنحضرت ﷺ کو کرنا ہو اور آپ نے ان کے بارے میں کوئی مشورہ بھی طلب نہ فرمایا ہو ان معاملات میں آپ سے پہلے ہی کوئی رائے قائم کرلینا اور اس پر اصرار یا بحث کرنا آپ کے ادب کے خلاف ہے، اگرچہ یہ پہلی آیت اس خاص واقعے میں نازل ہوئی تھی لیکن الفاظ عام استعمال فرمائے گئے ہیں تاکہ یہ اصولی ہدایت دی جائے کہ کسی بھی معاملے میں آنحضرت ﷺ سے آگے بڑھنا مسلمانوں کے لئے درست نہیں ہے، اس میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اگر آنحضرت ﷺ کے ساتھ چلنا ہو تو آپ سے آگے نہ بڑھنا چاہیے، نیز آپ نے زندگی کے مختلف شعبوں میں جو حدود مقرر فرمائے ہیں ان سے آگے نکلنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، اس کے بعد دوسری اور تیسری آیتوں میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ آپ کی مجلس میں بیٹھ کر اپنی آواز آپ کی آواز سے بلند نہیں کرنی چاہیے، اور آپ سے کوئی بات کہنی ہو تو وہ بھی بلند آواز سے نہیں کہنی چاہیے ؛ بلکہ آپ کی مجلس میں آواز پست رکھنے کا اہتمام ضروری ہے۔
Ayahs 49:4–5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

(اے پیغمبر) جو لوگ تمہیں حجروں کے پیچھے سے آواز دیتے ہیں ان میں سے اکثر کو عقل نہیں ہے۔ (2)

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ اس وقت تک صبر کرتے جب تک تم خود باہر نکل کر ان کے پاس آجاتے، تو ان کے لیے بہتر ہوا اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

2: تمیم کے جس وفد کا ابھی ذکر کیا گیا، وہ دوپہر کے وقت مدینہ منورہ پہنچا تھا جبکہ حضور نبی کریم ﷺ آرام فرما رہے تھے۔ یہ لوگ آداب سے واقف نہیں تھے، اس لیے ان میں سے کچھ لوگوں نے آپ کے گھر کے باہر ہی سے آپ کو پکارنا شروع کردیا۔ اس پر اس آیت میں تنبیہ فرمائی گئی ہے۔
Ayah 49:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، (3) کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو، اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔

3: اس آیت کے شان نزول میں حافظ ابن جریر اور دوسرے مفسرین نے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت ولید بن عقبہ کو حضور اقدس ﷺ نے قبیلہ بنومصطلق کے پاس زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ جب یہ ان کی بستی کے قریب پہنچے تو وہ لوگ آنحضرت ﷺ کے بھیجے ہوئے ایلچی کے استقبال کے لیے بڑی تعداد میں بستی کے باہر جمع ہوگئے۔ ولید بن عقبہ یہ سمجھے کہ یہ لوگ لڑائی کے لیے باہر نکل آئے ہیں۔ بعض روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ ان کے اور بنو مصطلق کے درمیان جاہلیت کے زمانے میں کچھ دشمنی بھی تھی۔ اس لیے حضرت ولید کو یہ خطرہ ہوا کہ وہ لوگ اس پرانی دشمنی کی بناء پر ان سے لڑنے کے لیے نکل آئے ہیں۔ چنانچہ وہ بستی میں داخل ہونے کے بجائے وہیں سے واپس لوٹ گئے، اور جا کر آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ بنو مصطلق کے لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا ہے، اور وہ لڑائی کے لیے نکلے ہوئے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کو مقرر فرمایا کہ واقعے کی تحقیق کے بعد اگر واقعی ان لوگوں کی سرکشی ثابت ہو تو ان سے جہاد کریں۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ لوگ تو استقبال کے لیے جمع ہوئے تھے، اور انہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار نہیں کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ان روایات کی بناء پر بعض حضرات نے یہ فرمایا ہے کہ آیت میں جو فاسق کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس سے مراد ولید بن عقبہ ہیں، پھر اس پر جو اشکال ہوتا ہے کہ ایک صحابی کو فاسق قرار دینا بظاہر عدالت صحابہ کے منافی ہے، اس کا یہ جواب دیا ہے کہ بعض صحابہ سے گناہ سرزد ہوئے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں توبہ کی توفیق عطا فرما دی، اس لیے بحیثیت مجموعی ان کی عدالت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس واقعے کے بیان میں جو روایتیں آئی ہیں، اول تو وہ سند کے اعتبار سے مضبوط نہیں ہیں، اور ان میں تعارض و اختلاف بھی پایا جاتا ہے، دوسرے اس واقعے کی بنا پر حضرت ولید کو فاسق قرار دینے کی کوئی معقول وجہ بھی سمجھ میں نہیں آتی، کیونکہ اس واقعے میں انہوں نے جان بوجھ کر کوئی جھوٹ نہیں بولا، بلکہ جو کچھ کیا، غلط فہمی کی وجہ سے کیا جس کی وجہ سے کسی کو فاسق نہیں کہا جاسکتا۔ اس لیے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت ولید بستی کے قریب پہنچے، اور قبیلے کے لوگ بڑی تعداد میں وہاں جمع ہورہے تھے تو کسی شریر آدمی نے ان سے یہ کہا ہوگا کہ یہ لوگ آپ سے لڑنے کے لیے نکلے ہیں۔ اس شریر آدمی کو آیت میں فاسق قرار دیا گیا ہے، اور حضرت ولید کو یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ تنہا اس شریر آدمی کی خبر پر بھروسہ کر کے کوئی اقدام کرنے کے بجائے پہلے اس خبر کی تحقیق کرنی چاہیے تھی۔ اس خیال کی تائید ایک روایت سے بھی ہوتی ہے جو حافظ ابن جریر نے نقل کی ہے، اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ فحدثه الشیطان انھم یریدون قتله (تفسیر ابن جریر ج : 22 ص 286) یعنی شیطان نے انہیں یہ بتایا کہ وہ لوگ انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہر یہی ہے کہ شیطان نے کسی انسان کی شکل میں آ کر انہیں یہ جھوٹی خبر دی ہوگی۔ اس لیے آیت کے لفظ فاسق کو خواہ مخواہ ایک صحابی پر چسپاں کرنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ انہوں نے جو کچھ کیا غلط فہمی میں کیا۔ اس کے بجائے اسے اس مخبر پر چسپاں کرنا چاہیے جس نے حضرت ولید کو یہ غلط خبر دی تھی۔ بہرحال ! واقعہ کچھ بھی ہو، قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ اس کی آیتیں چاہے کسی خاص موقع پر نازل ہوئی ہوں، اکثر ان کے الفاظ عام ہوتے ہیں، تاکہ ان سے ایک اصولی حکم معلوم ہوسکے۔ چنانچہ یہ ایک عام حکم ہے کہ کسی فاسق کی خبر پر بغیر تحقیق کے اعتماد نہیں کرنا چاہیے، خاص طور پر جب اس خبر کے نتیجے میں کسی کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہو۔
Ayahs 49:7–10

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں۔ بہت سی باتیں ہیں جن میں وہ اگر تمہاری بات مان لیں تو خود تم مشکل میں پڑجاؤ۔ لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے، اور اسے تمہارے دلوں میں پرکشش بنادیا ہے، اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے۔ (4) ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آچکے ہیں۔

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

جو اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کا نتیجہ ہے، اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے کے ساتھ زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کر رہا ہو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ چنانچہ اگر وہ لوٹ آئے، تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرادو، اور (ہر معاملے میں) انصاف سے کام لیا کرو، بیشک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

حقیقت تو یہ ہے کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، اس لیے اپنے دو بھائیوں کے درمیان تعلقات اچھے بناؤ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے۔

4: سورت کے شروع میں جو حکم دیا گیا تھا، اور جس کی تشریح اوپر حاشیہ نمبر 1 میں گذری ہے، اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ صحابہ کرام کبھی کوئی رائے ہی پیش نہ کریں، بلکہ رائے قائم کر کے اس پر اصرار سے منع فرمایا گیا تھا، اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ مناسب موقع پر کوئی رائے دینے میں تو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیه وسلم کے لیے ضروری نہیں ہے کہ تمہاری ہر رائے پر عمل ضرور کریں، بلکہ آپ مصلحت کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے، اور اگر وہ تمہاری رائے کے خلاف ہو، تب بھی تمہیں اس پر راضی رہنا چاہیے، کیونکہ تمہاری ہر بات پر عمل کرنے سے خود تمہیں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، جیسا کہ حضرت ولید بن عقبہ کے واقعے میں ہوا کہ وہ تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ بنو مصطلق لڑائی پر آمادہ ہیں، اس لیے ان کی رائے تو یہی ہوگی کہ ان سے جہاد کیا جائے، لیکن اگر آنحضرت ﷺ ان کی رائے پر عمل کرتے تو خود مسلمانوں کو نقصان پہنچتا۔ چنانچہ آگے اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے، اس لیے وہ اطاعت کے اسی اصول پر عمل کرتے ہیں۔
Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نہ تو مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ (جن کا مذاق اڑا رہے ہیں) خود ان سے بہتر ہوں، اور نہ دوسری عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ (جن کا مذاق اڑا رہی ہیں) خود ان سے بہتر ہوں۔ اور تم ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیا کرو، اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا بہت بری بات ہے۔ (5) اور جو لوگ ان باتوں سے باز نہ آئیں تو وہ ظالم لوگ ہیں۔

5: معاشرے میں جن باتوں سے لڑائی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں، ان آیتوں میں ان باتوں کو نہایت جامعیت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ کسی دوسرے کا کوئی ایسا برا نام رکھ دیا جائے جو اسے ناگوار ہو۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ایسا کرنا گناہ ہے، اور اس سے خود تم گنہگار ہو گے، اور خود تم پر گنہگار ہونے کا نام لگے گا، اور کسی مسلمان پر یہ نام لگنا کہ وہ گنہگار ہے، ایمان لانے کے بعد بہت بری بات ہے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ تم کسی دوسرے پر برا نام لگا رہے تھے، اور اس عمل سے خود تم پر برا نام لگ گیا۔
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچو، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، (6) اور کسی کی ٹوہ میں نہ لگو (7) اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ (8) کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردے بھائی کا گوشت کھائے ؟ اس سے تو خود تم نفرت کرتے ہو، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، بہت مہربان ہے۔

6: یعنی کسی کے خلاف تحقیق کے بغیر بدگمانی دل میں جما لینا گناہ ہے۔ 7: کسی دوسرے کے عیب تلاش کرنے کے لیے اس کی ٹوہ اور جستجو میں لگنا بھی اس آیت کی رو سے گناہ ہے۔ البتہ کوئی حاکم مجرموں کا پتہ لگانے کے لیے تفتیش کرے تو وہ اس میں داخل نہیں ہے۔ 8: غیبت کی تعریف ایک حدیث میں خود حضور اقدس ﷺ نے یہ فرمائی ہے کہ : تم اپنے بھائی کا تذکرہ اس طرح کرو جو اسے ناگوار ہو۔ ایک صحابی نے پوچھا کہ اگر اس میں واقعی وہ عیب ہو تو (کیا اس کا بیان کرنا بھی غیبت ہے) آپ نے فرمایا : کہ اگر اس میں واقعی وہ عیب ہو تب تو وہ غیبت ہے اور اگر وہ نہ ہو تو بہتان ہے، یعنی وہ دوہرا گناہ ہے۔
Ayah 49:13

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

اے لوگو ! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے، اور تمہیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کرسکو، (9) درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز سے باخبر ہے۔

9: اس آیت کریمہ نے مساوات کا یہ عظیم اصول بیان فرمایا ہے کہ کسی کی عزت اور شرافت کا معیار اس کی قوم اس کا قبیلہ یا وطن نہیں ہے، بلکہ تقوی ہے۔ سب لوگ ایک مرد و عورت یعنی حضرت آدم و حواء (علیہما السلام) سے پیدا ہوئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے مختلف قبیلے خاندان یا قومیں اس لیے نہیں بنائیں کہ وہ ایک دوسرے پر اپنی بڑائی جتائیں، بلکہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ بیشمار انسانوں میں باہمی پہچان کے لیے کچھ تقسیم قائم ہوجائے۔
Ayahs 49:14–18

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:14 in the Quran reader

یہ دیہاتی کہتے ہیں کہ : ہم ایمان لے آئے ہیں۔ ان سے کہو کہ : تم ایمان تو نہیں لائے، البتہ یہ کہو کہ ہم نے ہتھیار ڈال دیے ہیں، (10) اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اور اگر تم واقعی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تمہارے اعمال (کے ثواب) میں ذرا بھی کمی نہیں کرے گا۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ Open ayah 49:15 in the Quran reader

ایمان لانے والے تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو دل سے مانا ہے، پھر کسی شک میں نہیں پڑے، اور جنہوں نے اپنے مال و دولت اور اپنی جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے۔ وہی لوگ ہیں جو سچے ہیں۔

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 49:16 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ان دیہاتیوں سے) کہو کہ : کیا تم اللہ کو اپنے دین کی اطلاع دے رہے ہو ؟ حالانکہ اللہ ان تمام چیزوں کو خوب جانتا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، اور اللہ ہر چیز کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 49:17 in the Quran reader

یہ لوگ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ یہ اسلام لے آئے ہیں۔ ان سے کہو کہ : مجھ پر اپنے اسلام لانے کا احسان نہ جتلاؤ۔ بلکہ اگر تم واقعی (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی۔

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 49:18 in the Quran reader

واقعہ یہ ہے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ بات کو خوب جانتا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔

10: دیہات کے کچھ لوگ دل سے ایمان لائے بغیر ظاہری طور پر کلمہ پڑھ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کررہے تھے، جس کا مقصد مسلمانوں جیسے حقوق حاصل کرنا تھا، مدینہ منورہ میں آکر انہوں نے راستوں پر گندگی بھی پھیلائی تھی، ان آیات میں ان کی حقیقت واضح فرمائی گئی ہے، اور یہ واضح کردیا گیا ہے کہ سچا مسلمان ہونے کے لئے صرف کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں ہے، بلکہ دل سے اسلامی عقائد کو ماننا اور اپنے آپ کو اسلامی احکام کا پابند سمجھنا ضروری ہے۔