48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الفتح یہ سورت صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی تھی، جس کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ ہجرت کے چھٹے سال حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارادہ فرمایا کہ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ ادا فرمائیں، آپ نے یہ خواب بھی دیکھا تھا کہ آپ مسجد حرام میں اپنے صحابہ کے ساتھ داخل ہورہے ہیں، چنانچہ آپ چودہ سو صحابہ کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہوئے، جب مکہ مکرمہ کے قریب پہنچے تو آپ کو پتہ چلا کہ قریش کے مشرکین نے ایک بڑا لشکر تیار کیا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکے، اس خبر کے ملنے پر آپ نے اپنی پیش قدمی روک دی، اور مکہ مکرمہ سے کچھ دور حدیبیہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا، (یہ جگہ آج کل شمیسی کہلاتی ہے) وہاں سے آپ نے حضرت عثمان (رض) کو اپنا ایلچی بناکر مکہ مکرمہ بھیجا کہ وہ وہاں کے سرداروں کو بتائیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی جنگ کے ارادے سے نہیں آئے ہیں، وہ صرف عمرہ کرنا چاہتے ہیں اور عمرہ کرکے پر امن طور پر واپس چلے جائیں گے، حضرت عثمان (رض) مکہ مکرمہ گئے تو ان کے جانے کے کچھ ہی بعد یہ افواہ پھیل گئی کہ مکہ مکرمہ کے کافروں نے انہیں قتل کردیا ہے، اس موقع پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کو جمع کرکے ان سے یہ بیعت لی، (یعنی ہاتھ میں ہاتھ لے کر یہ عہد لیا) کہ اگر کفار مکہ مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تو وہ ان کے مقابلے میں اپنی جانوں کی قربانی پیش کریں گے، اس کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبیلہ خزاعہ کے ایک سردار کے ذریعے قریش کے سرداروں کو یہ پیشکش کی کہ اگر وہ ایک مدت تک جنگ بندی کا معاہدہ کرنا چاہیں تو آپ اس کے لئے تیار ہیں، جواب میں مکہ مکرمہ سے کئی ایلچی آئے، اور آخر کار ایک معاہدہ لکھا گیا، جس میں محمد بن اسحاق کی روایت کے مطابق یہ طے ہوا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قریش آئندہ دس سال تک ایک دوسرے کے خلاف کوئی جنگ نہیں کریں گے، (سیرت ابن ہشام ٢: ٣١٧ وفتح الباری ٨۔ ٢٨٣) اسی معاہدے کو صلح حدیبیہ کا معاہدہ کہا جاتا ہے، صحابہ کرام اس موقع پر کافروں کے طرز عمل سے بہت غم وغصے کی حالت میں تھے، اور کافروں نے صلح کی یہ شرط رکھی تھی کہ اس وقت مسلمان واپس مدینہ منورہ چلے جائیں اور اگلے سال آکر عمرہ کریں، تمام صحابہ احرام باندھ کر آئے تھے، اور کافروں کی ضد کی وجہ سے احرام کھولنا ان کو بہت بھاری معلوم ہورہا تھا، اس کے علاوہ کافروں نے ایک شرط یہ بھی رکھی تھی کہ اگر مکہ مکرمہ کا کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ منورہ جائے گا تو مسلمانوں کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ اسے واپس مکہ مکرمہ بھیجیں، اور اگر کوئی شخص مدینہ منورہ چھوڑ کر مکہ مکرمہ آئے گا تو قریش کے ذمے یہ نہیں ہوگا کہ وہ اسے واپس مدینہ منورہ بھیجیں، یہ شرط بھی مسلمانوں کے لئے بہت تکلیف دہ تھی، اور اس کی وجہ سے وہ یہ چاہتے تھے کہ ان شرائط کو قبول کرنے کے بجائے ان کافروں سے ابھی ایک فیصلہ کن معرکہ ہوجائے، لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اسی صلح کے نتیجے میں آخر کار قریش کا اقتدار ختم ہو، اس لئے اللہ تعالیٰ کے حکم سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ شرائط منظور کرلیں، صحابہ کرام اس وقت جہاد کے جوش سے سرشار تھے اور موت پر بیعت کرچکے تھے ؛ لیکن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے آگے انہوں نے سر جھکادیا اور صلح پر راضی ہو کر واپس مدینہ منورہ چلے گئے، اور اگلے سال عمرہ کیا، اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد ایک واقعہ تو یہ ہوا کہ ایک صاحب جن کا نام ابوبصیر (رض) تھا، مسلمان ہو کر مدینہ منورہ آئے، اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاہدے کے مطابق انہیں واپس بھیج دیا، انہوں نے مکہ مکرمہ جانے کے بجائے ایک درمیانی جگہ پڑاؤ ڈال کر قریش کے خلاف چھاپہ مار جنگ شروع کردی، کیونکہ وہ صلح حدیبیہ کے معاہدے کے پابند نہیں تھے، اس چھاپہ مار جنگ سے قریش اتنے پریشان ہوئے کہ خود انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ درخواست کی کہ اب ہم وہ شرط واپس لیتے ہیں جس کی رو سے مکہ مکرمہ کے مسلمانوں کو واپس بھیجنا ضروری قرار دیا گیا تھا، قریش نے کہا کہ اب جو کوئی مسلمان ہو کر آئے تو آپ اسے مدینہ منورہ ہی میں رکھیں، اور ابو بصیر اور ان کے ساتھیوں کو بھی اپنے پاس بلالیں، چنانچہ آپ نے انہیں مدینہ منورہ بلالیا، دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ قریش کے کافروں نے دو سال کے اندر اندر حدیبیہ کے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں پیغام بھیجا کہ یا تو وہ اس کی تلافی کریں یا معاہدہ ختم کریں، قریش نے اس وقت غرور میں آکر کوئی بات نہ مانی، جس کی وجہ سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو پیغام بھیج دیا کہ اب ہمارا آپ کا معاہدہ ختم ہوگیا ہے، اس کے بعد آپ نے ہجرت کے آٹھویں سال دس ہزار صحابہ کرام کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف پیش قدمی فرمائی، اس وقت قریش کا غرور ٹوٹ چکا تھا، اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی خاص خونریزی کے بغیر مکہ مکرمہ میں فاتح بن کر داخل ہوئے، اور قریش کے لوگوں نے شہر آپ کے حوالے کردیا۔ سورة فتح میں صلح حدیبیہ کے مختلف واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے اور صحابہ کرام کی تعریف کی گئی ہے کہ انہوں نے اس واقعے کے ہر مرحلے پر بڑی بہادری سرفروشی اور اطاعت کے جذبے کا مظاہرہ کیا، دوسری طرف منافقین کی بد اعمالیوں اور ان کے برے انجام کا بھی ذکر فرمایا گیا ہے۔

Ayah 48:1

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! یقین جانو ہم نے تمہیں کھلی ہوئی فتح عطا کردی ہے۔ (1)

1: صحیح روایات کے مطابق یہ آیت صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی تھی جس کا واقعہ سورت کے تعارف میں گذر چکا ہے۔ اگرچہ بظاہر صلح کی شرائط ایسی نظر نہیں آرہی تھیں۔ جنہیں ”کھلی ہوئی فتح“ کہا جائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ جن حالات میں یہ صلح ہوئی ہے، ان میں یہ ایک بڑی اور کھلی ہوئی فتح کا پیش خیمہ ہے، اور آخر کار اسی کے نتیجے میں مکہ مکرمہ فتح ہوگا۔
Ayahs 48:2–3

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

تاکہ اللہ تمہاری اگلی پچھلی تمام کوتاہیوں کو معاف کردے، (2) اور تاکہ اپنی نعمت تم پر مکمل کردے، اور تمہیں سیدھے راستے پر لے چلے، (3)

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

اور (تاکہ) اللہ تمہاری ایسی مدد کرے جو سب پر غالب آجائے۔

2: جیسا کہ پیچھے سورة محمد کی آیت نمبر 19 کی تشریح میں عرض کیا گیا، آنحضرت ﷺ گناہوں سے معصوم تھے، اور آپ سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوسکتا تھا، لیکن کوئی معمولی قسم کی بھول چوک ہوجاتی تو آپ اس کو بھی اپنا قصور سمجھتے تھے، یہاں اسی قسم کے قصور مراد ہیں۔ 3: یعنی اب تک دین کی تبلیغ اور اس پر مکمل طور سے عمل کرنے میں کافروں کی طرف سے بڑی بڑی رکاوٹیں ڈالی جا رہی تھیں۔ اب اس فتح کے بعد سیدھا راستہ صاف ہوجائے گا۔
Ayahs 48:4–5

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں سکینت اتار دی، (4) تاکہ ان کے ایمان میں مزید ایمان کا اضافہ ہو۔ اور آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر اللہ ہی کے ہیں، اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

تاکہ وہ مومن مردوں اور عورتوں کو ایسے باغات میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جہاں وہ ہمیشہ بسے رہیں گے، اور ان کی برائیوں کو ان سے دور کردے، اور اللہ کے نزدیک یہ بڑی زبردست کامیابی ہے۔

4: جیسا کہ سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، صحابہ کرام ؓ کفار کے خلاف بہت غم و غصے اور جوش کی حالت میں تھے، اور انہیں صلح کی شرائط ماننا بھی بہت بھاری معلوم ہورہا تھا، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کو اس وقت یہی منظور تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں سکینت اور اطمینان پیدا کردیا جس کے نتیجے میں انہوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کے حکم کے آگے سر جھکا دیا۔
Ayahs 48:6–9

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

اور تاکہ ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے جو اللہ کے ساتھ بدگمانیاں رکھتے ہیں، برائی کا پھیرا انہی پر پڑا ہوا ہے، (5) اور اللہ ان سے ناراض ہے اس نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے، اور ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر اللہ ہی کے ہیں، اور اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہم نے تمہیں گواہی دینے والا، خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

تاکہ (اے لوگو) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اس کی مدد کرو، اور اس کی تعظیم کرو، اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں۔

5: یعنی وہ اپنے خیال میں مسلمانوں کے خلاف برے برے منصوبے بناتے ہیں، لیکن برائی کے پھیر میں وہ خود پڑے ہوئے ہیں، کیونکہ ایک طرف ان کے منصوبے ناکام ہوں گے، اور دوسری طرف انہیں اللہ تعالیٰ کے قہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Ayah 48:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

اے پیغمبر !) جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں درحقیقت وہ اللہ سے بیعت کررہے ہیں (6)۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے، اس کے بعد جو کوئی عہد توڑے گا، اس کے عہد کو توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا، اور جو کوئی اس عہد کو پورا کرے گا، جو اس نے اللہ سے کیا ہے تو اللہ اس کو زبردست ثواب عطا کرے گا۔

6: یہ اسی بیعت رضوان کی طرف اشارہ ہے جو حضرت عثمان ؓ کی شہادت کی خبر مشہور ہونے موقع پر آنحضرت ﷺ نے لی تھی جس کا واقعہ سورت کے تعارف میں گذر چکا ہے۔
Ayah 48:11

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

وہ دیہاتی جو (حدیبیہ کے سفر میں) پیچھے رہ گئے تھے، (7) اب وہ تم سے ضرور یہ کہیں گے کہ : ہمارے مال و دولت اور ہمارے اہل و عیال نے ہمیں مشغول کرلیا تھا، اس لیے ہمارے لیے مغفرت کی دعا کردیجیے۔ وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں۔ (ان سے) کہو کہ : اچھا تو اگر اللہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا فائدہ پہنچانا چاہے تو کون ہے جو اللہ کے سامنے تمہارے معاملے میں کچھ بھی کرنے کی طاقت رکھتا ہو ؟ (8) بلکہ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

7: حدیبیہ کے سفر میں جب آنحضرت ﷺ عمرے کے ارادے سے روانہ ہوئے تو تمام مخلص صحابہ کرام تو خود ہی بڑے شوق کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہوگئے تھے، لیکن چونکہ یہ اندیشہ شروع ہی سے تھا کہ شاید قریش کے کافر لوگ راستہ روکیں، اور لڑائی کی نوبت آجائے، اس لئے آپ نے ایک بڑی جمعیت کے ساتھ سفر کرنے کی غرض سے مدینہ منورہ کے آس پاس کے دیہات میں بھی یہ اعلان فرمادیا تھا کہ وہاں کے لوگ بھی ساتھ چلیں، ان میں سے جو حضرات مخلص مسلمان تھے، وہ تو آپ کے ساتھ آگئے، لیکن ان میں سے جو لوگ منافق تھے، انہوں نے یہ سوچا کہ جنگ کی صورت میں ہمیں لڑائی میں حصہ لینا پڑے گا، اس لئے مختلف بہانے کرکے رک گئے، اس آیت میں پیچھے رہنے والوں سے وہی منافق مراد ہیں، اور فرمایا جارہا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ واپس پہنچیں گے تو یہ لوگ یہ بہانہ کریں گے کہ ہم اپنے گھر بار کی مصروفیت کی وجہ سے آپ کے ساتھ نہیں جاسکے تھے۔ 8: یعنی تم یہ سوچ کر اپنے گھروں میں رک گئے تھے کہ گھر میں رہنا فائدہ مند ہے، اور حضور اقدس ﷺ کے ساتھ جانے میں نقصان ہے، حالانکہ فائدہ اور نقصان تو تمام تر اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے، وہ نفع یا نقصان پہنچانے کا ارادہ فرمالے تو کسی کی مجال نہیں ہے کہ اسے روک سکے۔
Ayahs 48:12–14

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

حقیقت تو یہ ہے کہ تم نے یہ سمجھا تھا کہ رسول ﷺ اور دوسرے مسلمان کبھی اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر نہیں آئیں گے، (9) اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوتی تھی، اور تم نے برے برے گمان کیے تھے، اور تم ایسے لوگ بن گئے تھے جنہیں برباد ہونا تھا۔

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو (وہ یاد رکھے کہ) ہم نے کافروں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت تمام تر اللہ ہی کی ہے، وہ جس کو چاہے بخش دے، اور جس کو چاہے عذاب دے، اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

9: ان منافقین کا خیال یہ تھا کہ مسلمان چاہے عمرے کے ارادے سے جارہے ہوں ؛ لیکن جنگ ضرور ہوگی، اور قریش کی طاقت اتنی بڑی ہے کہ مسلمان وہاں سے زندہ واپس نہیں آسکیں گے۔
Ayah 48:15

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

(مسلمانو) جب تم غنیمت کے مال لینے کے لیے چلو گے تو یہ (حدیبیہ کے سفر سے) پیچھے رہنے والے تم سے کہیں گے کہ : ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو۔ (10) وہ چاہیں گے کہ اللہ کی بات کو بدل دیں۔ (11) تم کہہ دینا کہ : تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے۔ اللہ نے پہلے سے یوں ہی فرما رکھا ہے۔ (12) اس پر وہ کہیں گے کہ : دراصل آپ لوگ ہم سے حسد رکھتے ہیں۔ (13) نہیں ! بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ خود ہی ایسے ہیں کہ بہت کم بات سمجھتے ہیں۔

10: صحابہ کرام نے حدیبیہ کے سفر میں جس جاں نثاری اور اطاعت کے جذبے سے کام لیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے صلے میں یہ وعدہ فرمایا تھا کہ مکہ مکرمہ کی فتح سے پہلے انہیں ایک اور فتح حاصل ہوگی، جس میں بہت سا مال غنیمت بھی حصے میں آئے گا، اس سے مراد خیبر کی فتح تھی، چنانچہ سن 7 ہجری میں جب آپ خیبر کے لئے روانہ ہورہے تھے تو صحابہ کرام کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق خیبر ضرور فتح ہوگا اور وہاں سے مال غنیمت بھی حاصل ہوگا، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ جب یہ موقع آئے گا تو جو منافق حدیبیہ کے سفر میں حیلے بہانے کرکے پیچھے رہ گئے تھے، وہ خیبر کے سفر میں تمہارے ساتھ چلنا چاہیں گے کیونکہ انہیں یقین ہوگا کہ اس سفر میں فتح ہوگی اور مال غنیمت بھی ملے گا، لیکن آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ ان کی یہ خواہش پوری نہ کریں اور انہیں ساتھ لے جانے سے انکار کردیں۔ 11: اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو پہلے ہی یہ حکم دیا تھا کہ خیبر کے سفر میں صرف ان حضرات کو شرکت کی اجازت دیں جو حدیبیہ کے سفر میں آپ کے ساتھ تھے، اسی حکم کی طرف اس آیت میں اللہ کی بات فرما کر اشارہ کیا گیا ہے۔ 12: یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم اس سے پہلے قرآن کریم میں کہیں مذکور نہیں ہے کہ خیبر کی جنگ میں صرف وہ لوگ شریک ہوں جو حدیبیہ میں شامل تھے، بلکہ یہ حکم اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آنحضرت ﷺ کو دیا تھا، اور آپ نے لوگوں تک پہنچایا، اس سے صاف واضح ہے کہ آنحضرت ﷺ پر قرآن کریم کے علاوہ بھی وحی کے ذریعے احکام آیا کرتے تھے، اور وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کے احکام ہوتے تھے، لہذا منکرین حدیث جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کے علاوہ کسی اور وحی کا کوئی ثبوت نہیں ہے یہ آیت اس کی واضح تردید کررہی ہے۔ 13: یعنی ہمیں مال غنیمت میں حصہ دار بنانا نہیں چاہتے۔
Ayahs 48:16–17

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

ان پیچھے رہنے والے دیہاتیوں سے کہہ دینا کہ : عنقریب تمہیں ایسے لوگوں کے پاس (لڑنے کے لیے) بلایا جائے گا جو بڑے سخت جنگجو ہوں گے، کہ یا تو ان سے لڑتے رہو، یا وہ اطاعت قبول کرلیں۔ (14) اس وقت اگر تم (جہاد کے اس حکم کی) اطاعت کرو گے تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا، اور اگر تم منہ موڑو گے جیسا کہ تم نے پہلے منہ موڑا تھا تو اللہ تمہیں دردناک عذاب دے گا۔

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

اندھے آدمی پر (جہاد نہ کرنے کا) کوئی گناہ نہیں ہے، نہ لنگڑے آدمی پر کوئی گناہ ہے، اور نہ بیمار آدمی پر گناہ ہے۔ اور جو شخص بھی اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانے، اللہ اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور جو کوئی منہ موڑے گا، اسے دردناک عذاب دے گا۔

14: دیہات کے ان لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ آپ لوگوں کا خیبر کی جنگ میں شامل ہونا تو اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہے، البتہ اس کے بعد ایک وقت آئے گا جب آپ لوگوں کو سخت جنگجو قوموں سے لڑنے کی دعوت دی جائے گی، اس وقت اگر آپ نے سچا مومن بن کر اسقامت سے کام لیا تو آپ کا یہ گناہ دھل جائے گا، اور اللہ تعالیٰ آپ کو ثواب عطا فرمائیں گے، اس میں وہ تمام جنگیں داخل ہیں جن میں کسی بڑی طاقت سے مسلمانوں کا مقابلہ ہوا، اور دیہات کے ان لوگوں کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی، صحابہ کرام سے منقول ہے کہ دیہات کے لوگوں کو یہ دعوت آنخصرت ﷺ کے بعد حضرت صدیق اکبر ؓ اور حضرت فاروق اعظم ؓ کے عہد خلافت میں اس وقت دی گئی جب مسلمانوں کا مقابلہ مسیلمہ کذاب اور قیصر وکسرٰی کی طاقتوں سے ہوا، اس موقع پر دیہات کے ان لوگوں میں کچھ حضرات تائب بھی ہوگئے تھے۔
Ayahs 48:18–19

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

یقینا اللہ ان مومنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا وہ بھی اللہ کو معلوم تھا۔ (15) اس لیے اس نے ان پر سکینت اتار دی، اور ان کو انعام میں ایک قریبی فتح عطا فرما دی۔ (16)

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور غنیمت میں ملنے والے بہت سے مال بھی جو ان کے ہاتھ آئیں گے، اور اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

15: یہ اسی بیعت رضوان کا ذکر ہے جو آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام سے حدیبیہ کے مقام پر ببول کے ایک درخت کے نیچے لی تھی، اور جس کا ذکر سورت کے تعارف میں آچکا ہے، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان حضرات نے یہ بیعت دل سے پورے عزم کے ساتھ کی تھی، وہ منافقوں کی طرح جھوٹا عہد کرنے والے نہیں تھے۔ 16: اس سے مراد خیبر کی فتح ہے، اس سے پہلے مسلمان دو طرفہ خطرے سے دوچار تھے، جنوب میں قریش مکہ کی طرف سے ہر وقت حملوں کا خطرہ رہتا تھا جس کا سد باب حدیبیہ کی صلح کے ذریعے ہوا، اور شمال میں خیبر کے یہودی تھے جو ہر وقت مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہتے تھے، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ مسلمانوں نے حدیبیہ کے موقع پر جس جاں نثاری اور پھر اطاعت کے جذبے کا مظاہرہ کیا، اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں خیبر کی فتح عطا فرمادی جس سے ایک طرف شمالی خطرے کا سد باب ہوگا اور دوسری طرف بہت سا مال غنیمت مسلمانوں کے قبضے میں آئے گا، اور اس کے نتیجے میں معاشی خوش حالی حاصل ہوگی۔
Ayah 48:20

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

اللہ نے تم سے بہت سے مال غنیمت کا وعدہ کر رکھا ہے جو تم حاصل کرو گے، (17) اب فوری طور پر اس نے تمہیں یہ فتح دے دی ہے، اور لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا، (18) تاکہ یہ مومنوں کے لیے ایک نشانی بن جائے، اور تمہیں اللہ سیدھے راستے پر ڈال دے۔

17: اس سے مراد وہ فتوحات ہیں جو خیبر کے علاوہ حاصل ہونے والی تھیں۔ 18: یعنی خیبر کے یہودی اور ان کے حلیف اس فتح میں جو رکاوٹ ڈال سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اسے روک دیا۔
Ayah 48:21

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور ایک فتح اور بھی ہے جو ابھی تمہارے قابو میں نہیں آئی، لیکن اللہ نے اس کو اپنے احاطے میں لے رکھا ہے (19) اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت طرح قادر ہے۔

19: اس سے مراد مکہ مکرمہ اور اس کے بعد حنین وغیرہ کی فتوحات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ اگرچہ ابھی مسلمان مکہ مکرمہ کو فتح کرنے کی حالت میں نہیں ہیں، لیکن وہ وقت آنے والا ہے جب قریش مکہ خود حدیبیہ کے معاہدے کی خلاف ورزی کر کے اسے توڑ دیں گے، اور اس کے بعد مسلمانوں کے لیے فتح مکہ کا راستہ کھل جائے گا، اور اس کے بعد حنین وغیرہ کی فتوحات حاصل ہوں گی۔
Ayah 48:22

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور یہ کافر لوگ تم سے لڑتے تو یقینا پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے، پھر انہیں کوئی یار و مددگار بھی نہ ملتا۔ (20)

20: یعنی حدیبیہ کے مقام پر کافروں سے جو صلح کرائی گئی، اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ مسلمان کمزور تھے، اور جنگ کی صورت میں انہیں شکست اٹھانی پڑتی، بلکہ اگر مقابلہ ہوجاتا تو یہ کافر ہی شکست کھاتے، اور پیٹھ پھیر کر بھاگتے، لیکن اس وقت کئی مصلحتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جنگ کو روکا تھا، ان میں سے ایک مصلحت کا بیان آگے آیت نمبر 25 میں آرہا ہے۔
Ayah 48:23

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

جیسا کہ اللہ کا یہی دستور ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے اور تم اللہ کے دستور میں ہرگز تبدیلی نہیں پاؤ گے۔ (21)

21: اللہ تعالیٰ کا دستور شروع سے یہ چلا آتا ہے کہ جو لوگ حق پر ہوتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی مدد کی شرائط پوری کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو باطل والوں پر غلبہ عطا فرماتا ہے، اور جہاں کہیں باطل والوں کو غلبہ حاصل ہو، وہاں سمجھ لینا چاہیے کہ حق والوں کے طرز عمل میں کوئی خرابی تھی، جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم رہے۔
Ayah 48:24

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

اور وہی اللہ ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان تک پہنچنے سے روک دیا، جبکہ وہ تمہیں ان پر قابو دے چکا تھا، (22) اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔

22: جب حضرت عثمان ؓ مکہ مکرمہ جاکر قریش کے لوگوں کو صلح کا پیغام دے رہے تھے، اس وقت مکہ مکرمہ کے کافروں نے پچاس آدمی آنحضرت ﷺ کے پاس اس غرض سے بھیجے تھے کہ وہ خفیہ طور سے آنحضرت ﷺ پر حملہ کرکے (معاذاللہ) آپ کو شہید کردیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں مسلمانوں کے ہاتھ گرفتار کرادیا، دوسری طرف جب قریش نے ان آدمیوں کی گرفتاری کی خبر سنی تو انہوں نے حضرت عثمان اور ان کے ساتھیوں کو روک لیا، اس وقت اگر مسلمان ان پچاس آدمیوں کو قتل کردیتے تو جواب میں قریش کے لوگ حضرت عثمان اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرتے، اور مکمل جنگ چھڑ جاتی، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ ان قیدیوں کو قتل نہ کریں، اور مسلمانوں کے ہاتھوں کو ان کے قتل سے روک دیا، حالانکہ وہ ان کے قابو میں آچکے تھے، اور دوسری طرف قریش کے ہاتھوں کو مسلمانوں سے لڑنے سے اس طرح روک دیا کہ ان کے دل میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ صلح پر راضی ہوگئے، حالانکہ حضرت عثمان ؓ سے وہ صاف انکار کرچکے تھے۔
Ayah 48:25

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

یہی لوگ تو ہیں جنہوں نے کفر اختیار کیا، اور تمہیں مسجد حرام سے روکا، اور قربانی کے جانوروں کو جو ٹھہرے ہوئے کھڑے تھے، اپنی جگہ پہنچنے سے روک دیا، (23) اور اگر کچھ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں (مکہ میں) نہ ہوتیں جن کے بارے میں تمہیں خبر بھی نہ ہوتی کہ تم انہیں پیس ڈالو گے، اور اس کی وجہ سے بیخبر ی میں تم کو نقصان پہنچ جاتا (24) (تو ہم ان کافروں سے تمہاری صلح کے بجائے جنگ کروا دیتے، لیکن ہم نے جنگ کو اس لیے روکا) تاکہ اللہ جس کو چاہے، اپنی رحمت میں داخل کردے۔ (25) (البتہ) اگر وہ مسلمان وہاں سے ہٹ جاتے تو ہم ان (اہل مکہ) میں سے جو کافر تھے، انہیں دردناک سزا دیتے۔ (26)

23: آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام چونکہ عمرے کے ارادے سے تشریف لائے تھے، اس لئے حرم میں قربانی کے لئے جانور بھی ساتھ لائے تھے جنہیں حرم میں پہنچ کر قربان ہونا تھا، وہ ان کافروں کے رکاوٹ ڈالنے کی وجہ سے حدیبیہ ہی میں کھڑے رہ گئے، اور جس جگہ لے جا کر انہیں قربان کرنے کا ارادہ تھا وہاں نہیں پہنچ پائے۔ 24: یہ ان مصلحتوں میں سے ایک مصلحت کا بیان ہے جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس وقت جنگ کو مناسب نہیں سمجھا۔ اور وہ مصلحت یہ تھی کہ مکہ مکرمہ میں بہت سے مسلمان موجود تھے، اور اب حضرت عثمان اور ان کے ساتھی بھی وہاں پہنچ گئے تھے۔ جنگ ہوتی تو پورے زور و شور سے ہوتی، اور اس گھمسان کی جنگ میں مکہ مکرمہ کے مسلمانوں کو خود مسلمانوں ہی کے ہاتھوں بیخبر ی میں نقصان پہنچ سکتا تھا جس پر بعد میں خود مسلمانوں کو ندامت اور نقصان کا احساس ہوتا۔ 25: یعنی اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کے مسلمانوں پر یہ رحمت فرمائی کہ انہیں قتل ہونے سے بچالیا، اور مدینہ منورہ کے مسلمانوں پر یہ رحمت فرمائی کہ انہیں اپنے دینی بھائیوں کے قتل سے بچا لیا۔ 26: یعنی اگر مکہ مکرمہ میں جو مسلمان کافروں کے ہاتھوں ظلم سہہ رہے تھے، وہ وہاں سے کہیں اور چلے گئے ہوتے تو ہم ان کافروں سے مسلمانوں کی جنگ کروا دیتے جس کے نتیجے میں وہ دردناک شکست سے دوچار ہوتے۔
Ayah 48:26

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

(چنانچہ) جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں اس حمیت کو جگہ دی جو جاہلیت کی حمیت تھی تو اللہ نے اپنی طرف سے اپنے پیغمبر اور مسلمانوں پر سکینت نازل فرمائی۔ (27) اور ان کو تقوی کی بات پر جمائے رکھا، (28) اور وہ اسی کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

27: قریش اگرچہ آخر کار صلح پر راضی ہوگئے تھے، لیکن جب صلح نامہ لکھنے کا وقت آیا تو انہوں نے محض اپنے تکبر اور اپنی جاہلانہ حمیت کی وجہ سے کچھ ایسی باتوں پر اصرار کیا جو صحابہ کرام کو بہت ناگوار ہوئیں۔ مثلاً صلح نامے کے شروع میں آنحضرت ﷺ نے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لکھوایا تو انہوں نے اس پر اعتراض کیا اور اس کے بجائے باسمک اللہم لکھوانے پر زور دیا۔ نیز آنحضرت ﷺ کے نام نامی کے ساتھ رسول اللہ لکھا گیا تھا، انہوں نے اسے مٹانے پر اصرار کیا۔ ان باتوں کی وجہ سے صحابہ کرام کو بہت غصہ تھا، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کو صلح منظور تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے دلوں میں تحمل پیدا فرما دیا، اسی تحمل کو یہاں سکینت سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ 28: تقویٰ کی بات یہی تھی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کی اطاعت کی جائے، چاہے وہ بات نفس کو کتنی ناگوار معلوم ہو رہی ہو۔ صحابہ کرام نے اسی پر عمل فرمایا۔
Ayahs 48:27–28

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا ہے جو واقعے کے بالکل مطابق ہے۔ تم لوگ انشاء اللہ ضرور مسجد حرام میں اس طرح امن وامان کے ساتھ داخل ہوگے کہ تم (میں سے کچھ) نے اپنے سروں کو بےخوف و خطر منڈوایا ہوگا اور (کچھ نے) بال تراشے ہوں گے۔ (29) اللہ وہ باتیں جانتا ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہیں۔ چنانچہ اس نے وہ خواب پورا ہونے سے پہلے ایک قریبی فتح طے کردی ہے۔ (30)

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader

وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے ہر دوسرے دین پر غالب کردے۔ اور (اس کی) گواہی دینے کے لیے اللہ کافی ہے۔

29: جیسا کہ اس سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، حضور اقدس ﷺ نے حدیبیہ کے سفر سے پہلے خواب دیکھا تھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کرام مسجد حرام میں عمرے کی غرض سے داخل ہوئے ہیں، اسی خواب میں احرام کھولنا پڑا اور عمرہ ادا نہ کیا جاسکا، تو بعض حضرات کو یہ خیال ہوا کہ آنحضرت ﷺ کا خواب تو وحی ہوتا ہے، اور عمرہ کئے بغیر واپس جانا اس خواب کے مطابق نہیں ہے، اس آیت میں اس خیال کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ وہ خواب یقیناً سچا تھا لیکن اس میں مسجد حرام میں داخلے کا کوئی وقت متعین نہیں کیا گیا تھا، اب بھی وہ خواب سچا ہے، اور اگرچہ اس سفر میں عمرہ نہیں ہوسکا لیکن انشاء اللہ وہ خواب عنقریب پورا ہوگا، چنانچہ اگلے سال وہ پورا ہوا، اور آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام نے اطمینان کے ساتھ عمرہ ادا فرمایا۔ 30: اس سے مراد خیبر کی فتح ہے جس کا ذکر آیت نمبر 18 اور اس کے حاشیہ میں گزرچکا ہے۔
Ayah 48:29

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:29 in the Quran reader

محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ (31) اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ یہ ہیں ان کے وہ اوصاف جو تورات میں مذکور ہیں۔ (32) اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوگئی، پھر اپنے تنے پر اس طرح سیدھی کھڑی ہوگئی کہ کاشتکار اس سے خوش ہوتے ہیں۔ (33) تاکہ اللہ ان (کی اس ترقی) سے کافروں کا دل جلائے۔ یہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ نے ان سے مغفرت اور زبردست ثواب کا وعدہ کرلیا ہے۔

31: جیسا کہ پیچھے حاشیہ نمبر 27 میں گذرا ہے، کافروں نے صلح نامہ لکھواتے وقت آنحضرت ﷺ کا نام مبارک محمد رسول اللہ لکھوانے سے انکار کیا تھا، اور صرف محمد بن عبداللہ لکھوایا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آپ کو محمد رسول اللہ فرما کر اشارہ دیا ہے کہ کافر لوگ اس حقیقت سے چاہے کتنا انکار کریں، اللہ تعالیٰ نے اس کو قیامت تک قرآن کریم میں ثبت فرمادیا ہے۔ 32: اگرچہ تورات میں بہت سی تبدیلیاں ہوچکی ہیں، لیکن بائبل کے جن صحیفوں کو آج کل یہودی اور عیسائی مذہب میں تورات کہا جاتا ہے، ان میں سے ایک یعنی استثناء :2، 3 میں ایک عبارت ہے جس کے بارے میں یہ احتمال ہے کہ شاید قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہو۔ وہ عبارت یہ ہے : خداوند سینا سے آیا، اور شعیر سے ان پر آشکار ہوا، اور کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا، اور وہ دس ہزار قدسیوں میں سے آیا۔ اس کے داہنے ہاتھ پر ان کے لیے آتشیں شریعت تھی۔ وہ بیشک قوموں سے محبت رکھتا ہے، اس کے سب مقدس لوگ تیرے ہاتھ میں ہیں، اور وہ تیرے قدموں میں بیٹھے ایک ایک تیری باتوں سے مستفیض ہوگا۔ (استثناء :2، 3) واضح رہے کہ یہ حضرت موسیٰ ؑ کا آخری خطبہ ہے، جس میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی وحی کوہ سینا پر اتری، جس سے مراد تورات ہے، پھر کوہ شعیر پر اترے گی، جس سے مراد انجیل ہے، کیونکہ کوہ شعیر وہ پہاڑ ہے، جسے آج جبل الخلیل کہتے ہیں، اور حضرت عیسیٰ ؑ کی تبلیغ کا مرکز تھا۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ تیسری وحی کوہ فاران پر اترے گی، جس سے مراد قرآن کریم ہے، کیونکہ فاران اس پہاڑ کا نام ہے جس پر غار حرا واقع ہے۔ اور اس میں حضور اقدس ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔ فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ کے صحابہ کی تعداد دس ہزار تھی، لہذا ”دس ہزار قدسیوں میں سے آیا“ سے ان صحابہ کی طرف اشارہ ہے۔ (واضح رہے کہ قدیم نسخوں میں دس ہزار کا لفظ ہے، اب بعض نسخوں میں اسے لاکھوں سے تبدیل کردیا گیا ہے)۔ نیز قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ صحابہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں۔ استثناء کی مذکورہ عبارت میں ہے کہ : اس کے داہنے ہاتھ پر ان کے لیے آتشیں شریعت تھی۔ قرآن کریم میں ہے کہ : وہ آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ اور وہ استثناء کی مذکورہ عبارت میں ہے کہ : وہ بیشک قوموں سے محبت رکھتا ہے۔ اس لیے بات دور از قیاس نہیں ہے کہ قرآن کریم نے اس عبارت کا حوالہ دیا ہو، اور وہ تبدیل ہوتے ہوتے موجودہ استثناء کی عبارت کی شکل میں رہ گئی ہو۔ 33: انجیل مرقس میں بالکل یہی تشبیہ ان الفاظ میں مذکور ہے۔ خدا کی بادشاہی ایسی ہے جیسے کوئی آدمی زمین میں بیج ڈالے اور رات کو سوئے اور دن کو جاگے، اور وہ بیج اس طرح اگے اور بڑھے کہ وہ نہ جانے زمین آپ سے آپ پھل لاتی ہے پہلے پتی، پھر بالیں، پھر بالوں میں تیار دانے۔ پھر جب اناج پک چکا تو وہ فی الفور درانتی لگاتا ہے کیونکہ کاٹنے کا وقت آپہنچا۔ (مرقس : 26 تا 29) یہی تشبیہ انجیل لوقا : 18، 19 اور انجیل متی : 31 میں بھی موجود ہے۔