47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة محمد یہ سورت مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں، اور بیشتر مفسرین کی رائے میں جنگ بدر کے بعد نازل ہوئی، یہ وہ وقت تھا جب عرب کے کفار مدینہ منورہ کی ابھرتی ہوئی اسلامی حکومت کو کسی نہ کسی طرح زیر کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے، اور اس پر حملے کرنے کی تیاریاں کررہے تھے، اس لئے اس سورت میں بنیادی طور پر جہاد و قتال کے احکام بیان فرمائے گئے ہیں، اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کا کلمہ بلند رکھنے کے لئے جہاد کرتے ہیں، ان کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے، مدینہ منورہ میں ایک بڑی تعداد ان منافقوں کی تھی جو زبان سے تو اسلام لے آئے تھے، لیکن دل سے وہ کافر تھے، ایسے لوگوں کے سامنے جب جہاد اور لڑائی کی بات کی جاتی تو اپنی بزدلی اور دل کے کھوٹ کی وجہ سے لڑائی سے بچنے کے بہانے تلاش کرتے تھے، اس سورت میں ان کی مذمت کرکے ان کا برا انجام بتایا گیا ہے، جنگ کے دوران جو قیدی گرفتار ہوں ان کے احکام بھی اس سورت میں بیان ہوئے ہیں، چونکہ اس سورت کی دوسری ہی آیت میں حضور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مبارک نام لیا گیا ہے، اس لئے اس کا نام سورة محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے، چونکہ اس میں جہاد و قتال کے احکام بیان فرمائے گئے ہیں اس لئے اس کو سورة قتال بھی کہا جاتا ہے۔

Ayahs 47:1–3

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر اختیار کرلیا ہے اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا ہے، اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے ہیں۔ (1)

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اور ہر اس بات کو دل سے مانا ہے جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے۔ اور وہی حق ہے جو ان کے پروردگار کی طرف سے آیا ہے۔ اللہ نے ان کی برائیوں کو معاف کردیا ہے اور ان کی حالت سنوار دی ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے وہ باطل کے پیچھے چلے ہیں، اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اس حق کے پیچھے چلے ہیں جو ان کے پروردگار کی طرف سے آیا ہے، اسی طرح اللہ لوگوں کو بتارہا ہے کہ ان کے حالات کیا کیا ہیں۔

1: کافر لوگ جو کوئی اچھے کام دنیا میں کرتے ہیں، جیسے غریبوں کی امداد وغیرہ، اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں، لیکن آخرت میں ثواب حاصل کرنے کے لئے ایمان شرط ہے، اس لئے آخرت کے لحاظ سے وہ اعمال اکارت چلے جاتے ہیں۔
Ayahs 47:4–5

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے تمہارا مقابلہ ہو جنہوں نے کفر اختیار کر رکھا ہے، تو گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کی طاقت کچل چکے ہو، تو مضبوطی سے گرفتار کرلو، پھر چاہے احسان کر کے چھوڑ دو ، یا فدیہ لے کر (2) یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار پھینک کر ختم ہوجائے۔ (3) تمہیں تو یہی حکم ہے اور اگر اللہ چاہتا تو خود ان سے انتقام لے لیتا، لیکن (تمہیں یہ حکم اس لیے دیا ہے) تاکہ تمہارا ایک دوسرے کے ذریعے امتحان لے۔ (4) اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے، اللہ ان کے اعمال کو ہرگز اکارت نہیں کرے گا۔ (5)

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

وہ انہیں منزل تک پہنچا دے گا، اور ان کی حالت سنوار دے گا۔

2: جنگ بدر میں ستر آدمی گرفتار ہوئے تھے، ان کو آنحضرت ﷺ نے صحابہ کی اکثریت کے مشورے سے فدیہ لے کر چھوڑدیا تھا، ان پر سورة انفال (8۔ 22، 23) میں اللہ تعالیٰ نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب تک کافروں کی طاقت اچھی طرح کچلی نہیں جاتی، اس وقت تک قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا صحیح فیصلہ نہیں تھا، کیونکہ ان حالات میں دشمنوں کو چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ان کی طاقت کو اور مضبوط کیا جائے، سورة انفال کی ان آیتوں سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا تھا کہ شاید آئندہ بھی جنگی قیدیوں کو چھوڑنا جائز نہ ہو، اس آیت نے یہ وضاحت فرمادی کہ اس وقت قیدیوں کو چھوڑ نے پر اللہ تعالیٰ نے ناراضگی کا جو اظہار فرمایا تھا وہ اس لئے کہ دشمن کی طاقت کو اچھی طرح کچلے بغیر انہیں رہا کردیا گیا، لیکن جب ان کی طاقت کچلی جاچکی ہو تو اس وقت انہیں چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور مسلمان حاکم کے لئے دونوں صورتیں جائز ہیں چاہے کوئی فدیہ یعنی معاوضہ لئے بغیر احسان کے طور پر انہیں چھوڑدیا جائے یا کوئی فدیہ لے کر چھوڑا جائے، چنانچہ اس آیت کی روشنی میں اسلامی حکومت کو چارقسم کے اختیار حاصل ہیں، ایک یہ کہ قیدیوں کو بلا معاوضہ احسان کے طور پر چھوڑدے، دوسرے یہ کہ ان سے کوئی فدیہ یا معاوضہ لے کر چھوڑے جس میں جنگی قیدیوں کا تبادلہ بھی داخل ہے، تیسرے یہ کہ اگر ان کو زندہ چھوڑنے میں یہ اندیشہ ہو کہ وہ مسلمانوں کے لئے خطرہ بنیں گے تو انہیں قتل کرنے کی بھی گنجائش ہے جیسا کے سورة انفال (8۔ 22، 23) میں بیان فرمایا گیا ہے، اور چوتھے یہ کہ اگر ان میں یہ صلاحیت محسوس ہو کہ وہ زندہ رہ کر مسلمانوں کے لئے خطرہ بننے کے بجائے اچھی خدمات انجام دے سکیں گے تو انہیں غلام بناکر رکھا جائے، اور ان اسلامی احکام کے مطابق رکھا جائے جو غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کرتے ہیں، اور انہیں بھائیوں کا سادرجہ دیتے ہیں، ان چار صورتوں میں سے کوئی صورت لازمی نہیں ہے، بلکہ اسلامی حکومت حالات کے مطابق کسی بھی صورت کو اختیار کرسکتی ہے، لیکن یہ اس وقت ہے جب دشمنوں سے جنگی قیدیوں کے بارے میں کوئی معاہدہ نہ ہو، اگر کوئی ایسا معاہدہ ہو تو مسلمانوں پر اس کی پابندی لازم ہے، آج کل بین الاقوامی طور پر اکثر ملکوں نے جنگی قیدیوں کے بارے میں یہ معاہدہ کیا ہوا ہے کہ وہ قیدیوں کو نہ قتل کریں گے اور نہ غلام بنائیں گے، جو ممالک اس معاہدے میں شریک ہیں اور جب تک شریک ہیں ان کے لئے اس کی پابندی شرعاً لازم ہے۔ 3: اس کا مطلب یہ ہے کہ غیرمسلموں کو قتل کرنا یا گرفتار کرنا صرف حالت جنگ میں جائز ہے، جب حالت جنگ ختم ہوگئی ہو، اور امن کا کوئی معاہدہ ہوگیا ہو تو قتل یا گرفتار کرنا جائز نہیں ہے۔ 4: یعنی اللہ تعالیٰ خود براہ راست ان پر کوئی عذاب نازل کرکے ان سے انتقام لے سکتا تھا، لیکن اس نے تم پر جہاد کا فریضہ اس لئے عائد فرمایا ہے کہ تمہارا امتحان مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر تم میں سے کون ثابت قدمی سے اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہے، اور ان کافروں کا بھی امتحان مقصود ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نصرت دیکھ کر ایمان کی طرف مائل ہوتے ہیں یا نہیں۔ 5: جو لوگ جہاد میں شہید ہوجائیں ان کے بارے میں یہ خیال ہوسکتا تھا کہ وہ فتح کی منزل تک پہنچے بغیر دنیا سے چلے گئے، اس لئے شاید ان کے اجر وثواب میں کوئی کمی ہو، آیت نے واضح فرمایا کہ انہوں نے جو قربانی دی اللہ تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرے گا، اور ان کو اصلی منزل یعنی جنت تک پہنچادے گا
Ayahs 47:6–12

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور انہیں جنت میں داخل کرے گا جس کی انہیں خوب پہچان کرادی ہوگی۔ (6)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے قدم جما دے گا۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے لیے تباہی ہے، اور اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے ہیں۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا جو اللہ نے نازل کی تھی، چنانچہ اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیے۔

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

بھلا کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے گزرے ہیں ؟ اللہ نے ان پر تباہی ڈالی، اور کافروں کے لیے اسی جیسے انجام مقدر ہیں۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ اللہ ان لوگوں کا رکھوالا ہے جو ایمان لائیں اور کافروں کا کوئی رکھوالا نہیں ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

یقین رکھو کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ ان کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ (یہاں تو) مزے اڑا رہے ہیں، اور اسی طرح کھا رہے ہیں جیسے چوپائے کھاتے ہیں، اور جہنم ان کا آخری ٹھکانا ہے۔

6: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں اپنے پیغمبروں کے ذریعے مسلمانوں کو جنت کا تعارف کرادیا ہے، یہ جنت اسی تعارف کے مطابق ہوگی، اور دوسرا مطلب یہ بھی ممکن ہے اور زیادہ تر مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ ہر جنتی کو جنت میں اپنی جگہ تلاش کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی پہچان کرانے کا ایسا آسان انتظام کر رکھا ہے کہ ہر جنتی اپنی مقررہ جگہ پر کسی دشواری اور تفتیش کے بغیر بےتکلف پہنچ جائے گا۔
Ayahs 47:13–15

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور کتنی بستیاں ہیں جو طاقت میں تمہاری اس بستی سے زیادہ مضبوط تھیں جس نے (اے پیغمبر) تمہیں نکالا ہے۔ (7) ان سب کو ہم نے ہلاک کردیا، اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوا۔

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

اب بتاؤ کہ جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے ایک روشن راستے پر ہوں، کیا وہ ان جیسے ہوسکتے ہیں جن کی بدکاری ہی ان کے لیے خوشنما بنادی گئی ہو، اور وہ اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے چلتے ہوں ؟

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

متقی لوگوں سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، اس کا حال یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو خراب ہونے والا نہیں، ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ نہیں بدلے گا، ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے سراپا لذت ہوگی، اور ایسے شہد کی نہریں ہیں جو نتھرا ہوا ہوگا، اور ان جنتیوں کے لیے وہاں ہر قسم کے پھل ہوں گے، اور ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ! کیا یہ لوگ ان جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، اور انہیں گرم پانی پلایا جائے گا، چنانچہ وہ ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردے گا ؟

7: مکہ مکرمہ کے کافروں نے آنحضرت ﷺ کو اپنا گھر بار چھوڑ کر مکہ مکرمہ سے نکلنے پر جو مجبور کیا تھا، اس کی طرف اشارہ ہے، اور فرمایا جا رہا ہے کہ ان کی اس کاروائی سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ لوگ طاقتور ہونے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ پر غالب آگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے زیادہ طاقت اور قوموں کو ہلاک کرچکا ہے، ان کی تو ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ہے، اس لیے آخر کار غلبہ آنحضرت ﷺ ہی کو حاصل ہوگا۔
Ayahs 47:16–18

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو تمہاری باتیں کانوں سے تو سنتے ہیں، لیکن جب تمہارے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو جنہیں علم عطا ہوا ہے ان سے پوچھتے ہیں کہ : ابھی ابھی آپ ﷺ نے کیا کہا تھا ؟ (8) یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے، اور جو اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے لگ گئے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہدایت کا راستہ اختیار کیا ہے اللہ نے انہیں ہدایت میں اور ترقی دی ہے، اور انہیں ان کے حصے کا تقوی عطا فرمایا ہے۔

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

اب کیا یہ (کافر) لوگ قیامت ہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ یکایک ان پر آن پڑے ؟ (اگر ایسا ہے) تو اس کی علامتیں تو آچکی ہیں۔ پھر جب وہ آہی جائے گی تو اس وقت ان کے لیے نصیحت ماننے کا موقع کہاں سے آئے گا ؟

8: یہ منافقین کا ذکر ہے، وہ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں بیٹھ کر ظاہر تو یہ کرتے تھے کہ وہ آپ کی باتیں سن رہے ہیں، لیکن باہر نکل کر دوسروں سے پوچھتے کہ آپ نے کیا بات فرمائی تھیں، جس کا مطلب یہ تھا کہ ہم نے مجلس میں بیٹھ کر توجہ سے آپ کی بات نہیں سنی۔ اور شاید آپس میں ایک دوسرے کو یہ جتانا بھی مقصود ہو کہ ہم آنحضرت ﷺ کی باتوں کو (معاذ اللہ) قابل توجہ نہیں سمجھتے۔
Ayah 47:19

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

لہذا (اے پیغمبر) یقین جانو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، اور اپنے قصور پر بھی بخشش کی دعا مانگتے رہو، (9) اور مسلمان مردوں اور عورتوں کی بخشش کی بھی، اور اللہ تم سب کی نقل و حرکت اور تمہاری قیام گاہ کو خوب جانتا ہے۔

9: حضور اکرم ﷺ گناہوں سے معصوم تھے، آپ سے گناہ کا کوئی کام ہو ہی نہیں سکتا تھا، لیکن آپ کی کسی کسی رائے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وہ آپ کے مقام بلند کے مناسب نہیں تھی (مثلاً جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں آپ کا فیصلہ جس کا ذکر سورة انفال : 22، 23 میں گذرا ہے، نیز بشری تقاضے سے کبھی کبھی آپ سے نماز کی رکعتوں وغیرہ میں بھول بھی ہوئی۔ اسی قسم کی باتوں کو یہاں قصور سے تعبیر فرمایا گیا ہے، اور در حقیقت اس میں آپ کی امت کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب آنحضرت ﷺ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی جو گناہ نہیں ہیں، استغفار فرماتے ہیں تو امت کے لوگوں کو اپنے ہر چھوٹے بڑے گناہ پر اور زیادہ اہتمام کے ساتھ استغفار کرنا چاہیے۔
Ayahs 47:20–21

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ : کیا اچھا ہو کہ کوئی (نئی) سورت نازل ہوجائے ؟ (10) پھر جب کوئی جچی تلی سورت نازل ہوجائے، اور اس میں لڑائی کا ذکر ہو تو جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے، تم انہیں دیکھو گے کہ وہ تمہاری طرف اس طرح نظریں اٹھائے ہوئے ہیں جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہو۔ بڑی خرابی ہے ایسے لوگوں کی۔

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

یہ فرمانبرداری کا اظہار اور اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں، لیکن جب (جہاد کا) حکم پکا ہوجائے اس وقت اگر یہ اللہ کے ساتھ سچے نکلیں تو ان کے حق میں اچھا ہو۔

10: صحابہ کرام ؓ کو قرآن کریم سے عشق تھا، اس لیے انہیں ہمیشہ یہ اشتیاق رہتا تھا کہ کوئی نئی سورت نازل ہو، خاص طور پر جو حضرات جہاد کے مشتاق تھے، انہیں یہ انتظار تھا کہ کسی نئی سورت کے ذریعے انہیں جہاد کی اجازت ملے۔ منافق لوگ بھی ان کی دیکھا دیکھی کبھی اس خواہش کا اظہار کردیتے ہوں گے، لیکن جب جہاد کی آیتیں آئیں تو ان کے سارے اشتیاق کی قلعی کھل گئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ زبانی شوق ظاہر کرنے کا کیا فائدہ ؟ جب وقت آئے، اس وقت اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو سچا کردکھائیں تو ان کے حق میں بہتر ہو۔
Ayahs 47:22–31

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

پھر اگر تم نے (جہاد سے) منہ موڑا تو تم سے کیا توقع رکھی جائے ؟ یہی کہ تم زمین میں فساد مچاؤ، اور اپنے خونی رشتے کاٹ ڈالو۔ (11)

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی رحمت سے دور کردیا ہے، چنانچہ انہیں بہرا بنادیا ہے اور ان کی آنکھیں اندھی کردی ہیں۔

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

بھلا کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے، یا دلوں پر وہ تالے پڑے ہوئے ہیں جو دلوں پر پڑا کرتے ہیں ؟

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ حق بات سے پیٹھ پھیر کر مڑ گئے ہیں، باوجودیکہ ہدایت ان کے سامنے خوب واضح ہوچکی تھی، انہیں شیطان نے پٹی پڑھائی ہے اور انہیں دور دراز کی امیدیں دلائی ہیں۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ سب اس لیے ہوا کہ جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی باتوں کو ناپسند کرتے ہیں، ان (منافقوں) نے ان سے یہ کہا ہے کہ : بعض معاملات میں ہم تمہاری بات مانیں گے۔ اور اللہ ان کی خفیہ باتوں کو خوب جانتا ہے۔

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

پھر اس وقت ان کا کیا حال بنے گا جب فرشتے ان کی روح اس طرح قبض کریں گے کہ ان کے چہروں پر اور پیٹھوں پر مارتے جاتے ہوں گے ؟

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ سب اس لیے کہ یہ اس طریقے پر چلے جس نے اللہ کو ناراض کیا، اور اس کی رضا مندی حاصل کرنے کو خود انہوں نے ناپسند کیا، اس لیے اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے۔

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) روگ ہے، کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے چھپے ہوئے کینوں کو اللہ کبھی ظاہر نہیں کرے گا ؟

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور (مسلمانو) اگر ہم چاہیں تو تمہیں یہ لوگ اس طرح دکھا دیں کہ تم ان کی علامت سے انہیں پہچان جاؤ، اور (اب بھی) تم انہیں بات کرنے کے ڈھپ سے ضرور پہچان ہی جاؤ گے، اور اللہ تم سب کے اعمال کو خوب جانتا ہے۔

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور ہم ضرور تمہیں آزمائش میں ڈالیں گے، تاکہ ہم یہ دیکھ لیں کہ تم میں سے کون ہیں جو مجاہد اور ثابت قدم رہنے والے ہیں، اور تاکہ تمہارے حالات کی جانچ پڑتال کرلیں۔

11: جہاد کا ایک مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے دنیا میں انصاف قائم ہو، اور غیر اسلامی حکومتوں کے ذریعے جو ظلم اور فساد پھیلا ہوا ہے، اس کا خاتمہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اگر تم جہاد سے منہ موڑ لو گے تو دنیا میں فساد پھیلے گا اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کے نتیجے میں ظلم اور ناانصافی کا دور دورہ ہوگا جس کی ایک شکل یہ ہے کہ رشتہ داریوں کے حقوق پامال ہوں۔
Ayahs 47:32–34

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

یقین رکھو کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا ہے، اور پیغمبر سے دشمنی ٹھانی ہے باوجودیکہ ان کے سامنے ہدایت واضح ہو کر آگئی تھی، وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، اور عنقریب اللہ ان کا سارا کیا دھرا غارت کردے گا۔ (12)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا ہے، پھر کفر ہی کی حالت میں مرگئے ہیں، اللہ کبھی ان کو نہیں بخشے گا۔

12: اس کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ جو سازشیں اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو مل یا میٹ کردے گا، اور وہ مطلب بھی ہوسکتا ہے جو سورت کی پہلی آیت میں فرمایا گیا تھا کہ ان کے جو کوئی اچھے کام ہیں، آخرت میں ان پر کوئی ثواب نہیں ملے گا۔
Ayahs 47:35–36

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

لہذا (اے مسلمانو) تم کمزور پڑ کر صلح کی دعوت نہ دو۔ (13) تم ہی سربلند رہو گے، اللہ تمہارے ساتھ ہے، اور وہ تمہارے اعمال کو ہرگز برباد نہیں کرے گا۔ (14)

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

یہ دنیوی زندگی تو بس کھیل تماشا ہے، اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقوی اختیار کرو تو اللہ تمہارے اجر تمہیں دے گا، اور تمہارے مال تم سے نہیں مانگے گا۔

13: مطلب یہ ہے کہ بزدلی کی وجہ سے دشمن کو صلح کی دعوت نہ دو ، ورنہ قرآن کریم نے خود سورة انفال : 61 میں فرمایا ہے کہ اور اگر وہ لوگ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کی طرف جھک جاؤ۔ یعنی جب یہ صلح کسی بزدلی کی وجہ سے نہ ہو بلکہ مصلحت کا تقاضا ہو تو صلح جائز ہے۔ 14: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے تم جو کوشش بھی جہاد وغیرہ کے ذریعے کروگے، اسے اللہ تعالیٰ رائیگاں نہیں جانے دے گا، اور تمہیں سربلندی حاصل ہوگی، اور یہ بھی کہ تم جو کوئی نیک کام کرو گے جس میں جہاد بھی داخل ہے، چاہے دنیا میں فتح کی صورت میں اس کا نتیجہ نہ نکلے، لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا پورا پورا ثواب عطا فرمائے گا، اور اس ثواب میں صرف اس وجہ سے کوئی کمی نہیں ہوگی کہ تمہاری جد و جہد بظاہر کامیاب نہیں ہوئی۔
Ayah 47:37

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اگر وہ تم سے تمہارے مال طلب کرے، اور تم سے سب کچھ سمیٹ لے تو تم بخل سے کام لو گے، اور وہ تمہارے دل کی ناراضیوں کو ظاہر کردے گا۔ (15)

15: اطاعت کا اصل تقاضا تو یہ تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں یہ حکم دیں کہ اپنا سارا مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کردو تو تم اس پر بھی خوشی سے راضی رہو، لیکن اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم اس حکم کو برداشت نہیں کرسکو گے۔ اور اس سے تمہارے دلوں میں ناپسندیدگی پیدا ہوگی، اس لیے اللہ تعالیٰ ایسا حکم نہیں دیتے۔ البتہ تمہارے مال کا کچھ حصہ وہ خود تمہارے فائدے کے لیے جہاد میں خرچ کرنے کو کہہ رہا ہے، اپنے فائدے کے لیے نہیں۔ چنانچہ اس سے تمہیں بخل نہیں کرنا چاہیے۔
Ayah 47:38

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

دیکھو ! تم ایسے ہو کہ تمہیں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے تو تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو بخل سے کام لیتے ہیں، اور جو شخص بھی بخل کرتا ہے وہ خود اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے۔ (16) اور اللہ بےنیاز ہے، اور تم ہو جو محتاج ہو۔ اور اگر تم منہ موڑو گے تو وہ تمہاری جگہ دوسری قوم پیدا کردے گا، پھر وہ تم جیسے نہیں ہوں گے۔

16: اس لیے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق خرچ کرنے سے بخل کرو گے تو اس کا نقصان تم ہی کو پہنچے گا، اول تو اس لیے کہ اس کے نتیجے میں جہاد نہ ہوسکے گا، اور دشمن غالب آجائے گا، یا مثلاً زکوٰۃ نہ دینے کی صورت میں فقر و فاقہ عام رہے گا، اور دوسرے اس لیے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا وبال بھگتنا پڑے گا۔