46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الاحقاف اس سورت کی آیت نمبر ٢٩ اور ٣٠ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس وقت نازل ہوئی تھی جب جنات کی ایک جماعت نے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن کریم سنا تھا، معتبر روایات کے مطابق یہ واقعہ ہجرت سے پہلے اس وقت پیش آیا تھا جب حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف سے واپس تشریف لارہے تھے اور نخلہ کے مقام پر فجر کی نماز میں قرآن کریم کی تلاوت فرما رہے تھے، دوسری مکی سورتوں کی طرح اس سورت میں بھی اسلام کے بنیادی عقائد یعنی توحید، رسالت اور آخرت کو دلائل کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے، اسی زمانہ میں اس قسم کے واقعات پیش آرہے تھے کہ ایک ہی گھر انے میں والدین مسلمان ہوگئے اور اولاد مسلمان نہیں ہوئی، اور اس نے اپنے والدین کو ملامت شروع کردی کہ وہ کیوں اسلام لائے، اس کے برعکس بعض گھرانوں میں اولاد مسلمان ہوگئی اور والدین مسلمان نہیں ہوئے، اور انہوں نے اولاد پر تشدد شروع کردیا، اس سورت کی آیات ١٦ و ١٧ میں اسی قسم کی صورت حال کا تذکرہ کیا گیا ہے، اور اسی پس منظر میں اولاد پر ماں باپ کے حقوق بیان فرمائے گئے ہیں، اس کے علاوہ ماضی میں جن قوموں نے کفر اور نافرمانی کی روش اختیار کی ان کے برے انجام کا حوالہ دیا گیا ہے، اور قوم عاد کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے، جس جگہ یہ قوم آباد تھی وہاں بہت سے ریت کے ٹیلے تھے جنہیں عربی زبان میں احقاف کہا جاتا ہے، اسی مناسبت سے اس سورت کا نام احقاف ہے۔

Ayahs 46:1–4

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتاری جارہی ہے جو بڑا صاحب اقتدار، بڑا صاحب حکمت ہے۔

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کسی برحق مقصد کے بغیر اور کسی متعین میعاد کے بغیر پیدا نہیں کردیا۔ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ اس چیز سے منہ موڑے ہوئے ہیں جس سے انہیں خبردار کیا گیا ہے۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

تم ان سے کہو کہ : کیا تم نے ان چیزوں پر کبھی غور کیا ہے جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ؟ مجھے دکھاؤ تو سہی کہ انہوں نے زمین کی کونسی چیز پیدا کی ہے ؟ یا آسمانوں (کی تخلیق) میں ان کا کوئی حصہ ہے ؟ میرے پاس کوئی ایسی کتاب لاؤ جو اس قرآن سے پہلے کی ہو، یا پھر کوئی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو۔ (1) اگر تم واقعی سچے ہو۔

1: ان آیتوں میں یہ فرمایا گیا ہے کہ مشرکین کے پاس اپنے شرک والے عقیدوں کو ثابت کرنے کے لئے نہ کوئی عقلی دلیل ہے جو یہ ثابت کرسکے کہ جن معبودوں کو یہ پوجتے ہیں، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خدائی میں کوئی حصہ لیا ہے، اور نہ کوئی نقلی دلیل ہے، نقلی دلیل دو قسم کی ہوسکتی ہے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے کوئی ایسی کتاب نازل ہوئی ہو جس میں ان معبودوں کو اللہ تعالیٰ کی خدائی میں شریک قرار دیا گیا ہو، مشرکین سے کہا جارہا ہے کہ اگر ایسی کوئی کتاب ہے تو لاکر دکھاؤ، نقلی دلیل کی دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کسی پیغمبر نے کوئی بات کہی ہو، اور اس بات پر کوئی علمی سند موجود ہو کہ واقعی انہوں نے ایسا کہا ہے، کوئی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو سے مراد یہی ہے خلاصہ یہ کہ مشرکین کے پاس اپنے عقیدے کے ثبوت میں نہ کوئی آسمانی کتاب ہے اور نہ کسی پیغمبر کا کوئی قول جو مستند طریقہ پر ثابت ہو۔
Ayahs 46:5–6

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اس شخص سے بڑا گمراہ کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان (من گھڑت دیوتاؤں) کو پکارے جو قیامت کے دن تک اس کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے، اور جن کو ان کی پکار کی خبر تک نہیں ہے۔

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو محشر میں جمع کیا جائے گا تو وہ ان کے دشمن بن جائیں گے اور ان کی عبادت ہی سے منکر ہوں گے۔ (2)

2: یعنی جن جن کی مشرکین عبادت کرتے تھے، آخرت میں وہ سب ان مشرکین سے براءۃ ظاہر کرکے یہ کہہ دیں گے کہ یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے، یہ بات سورة قصص (63: 28) میں بھی گزری ہے، اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ مشرکین کئی قسم کے ہوتے ہیں، بعض مشرکین نے کچھ دنیا سے گزرے ہوئے انسانوں کو معبود بنا رکھا ہے، ان انسانوں کو بسا اوقات یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کی عبادت کی جارہی ہے، اس لئے وہ انکار کردیں گے، اور جن کو پتہ ہے وہ یہ کہیں گے کہ درحقیقت یہ ہماری نہیں، بلکہ اپنی نفسانی خواہشات کی عبادت کرتے تھے، دوسرے بعض مشرکین وہ ہیں جو فرشتوں کو معبود بنائے ہوئے تھے، ان کے بارے میں سورة سبا (41، 40: 34) میں گزرا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان سے پوچھیں گے کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے تو وہ کہیں گے کہ یہ تو جنات اور شیاطین کی عبادت کیا کرتے تھے، کیونکہ انہوں نے ہی انہیں بہکایا تھا، مشرکین کی تیسری قسم وہ ہے جو پتھر کے بتوں کو پوجتی ہے، بعض روایات میں یہ مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو دکھانے کے لئے ان بتوں کو بھی زبان دے دیں گے اور چونکہ وہ دنیا میں بےجان پتھر تھے اس لئے انہیں واقعی یہ پتہ نہیں ہوگا کہ مشرکین ان کی عبادت کرتے تھے، اس لئے وہ بھی یہی کہیں گے کہ یہ لوگ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے، اور اگر یہ روایت ثابت نہ ہو تو پھر یہ بت زبان حال سے یہ کہیں گے کہ ہم تو بےجان پتھر ہیں ہمیں کیا پتہ کہ ہماری عبادت کی جاتی تھی۔
Ayahs 46:7–8

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں اپنی پوری وضاحت کے ساتھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، تو یہ کافر لوگ حق بات کے ان تک پہنچ جانے کے بعد بھی اس کے بارے میں یوں کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ اسے پیغمبر نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ؟ کہہ دو کہ : اگر میں نے اسے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے تو تم مجھے اللہ کی پکڑ سے ذرا بھی نہیں بچا سکو گے۔ (3) جو باتیں تم بناتے ہو وہ انہیں خوب جانتا ہے۔ میرے اور تمہارے درمیان گواہ بننے کے لیے وہ کافی ہے اور وہی ہے جو بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

3: اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی من گھڑت کلام منسوب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا ہی میں رسوا فرما دیتے ہیں، اس لئے آنحضرت ﷺ کو یہ کہنے کے لئے فرمایا جارہا ہے کہ اگر میں نے یہ کلام (معاذاللہ) خود گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں میری پکڑ کرلے گا اور مجھے کوئی بچا نہیں سکے گا۔
Ayah 46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

کہو کہ : میں پیغمبروں میں کوئی انوکھا پیغمبر نہیں ہوں، مجھے معلوم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ معلوم ہے کہ تمہارے ساتھ کیا ہوگا ؟ (4) میں کسی اور چیز کی نہیں، صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھے بھیجی جاتی ہے۔ اور میں تو صرف ایک واضح انداز سے خبردار کرنے والا ہوں۔

4: اس جملے کو اگلے جملے کے ساتھ ملاکر پڑھنا چاہیے، اور مطلب یہ ہے کہ نہ میں کوئی انوکھا پیغمبر ہوں کہ مجھ سے پہلے دوسرے پیغمبر نہ آئے ہوں، اور نہ میں کوئی ایسا غیر معمولی دعوی کررہا ہوں کہ میں عالم الغیب ہوں، کیونکہ مجھے جو کچھ علم ملا ہے، وہ وحی کے ذریعے ملا ہے، یہاں تک کہ وحی کے بغیر مجھے ذاتی طور پر یہ بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ دنیا اور آخرت میں میرے ساتھ یا تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے۔
Ayah 46:10

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

کہو کہ : ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہو، اور تم نے اس کا انکار کردیا، اور بنو اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اس جیسی بات کے حق میں گواہی بھی دے دی، اور اس پر ایمان بھی لے آیا (5) اور تم اپنے گھمنڈ میں مبتلا رہے (تو یہ کتنے ظلم کی بات ہے ؟) یقین جانو کہ اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا جو ظالم ہوں۔

5: اس جملے کو اگلے جملے کے ساتھ ملاکر پڑھنا چاہیے، اور مطلب یہ ہے کہ نہ میں کوئی انوکھا پیغمبر ہوں کہ مجھ سے پہلے دوسرے پیغمبر نہ آئے ہوں، اور نہ میں کوئی ایسا غیر معمولی دعوی کررہا ہوں کہ میں عالم الغیب ہوں، کیونکہ مجھے جو کچھ علم ملا ہے، وہ وحی کے ذریعے ملا ہے، یہاں تک کہ وحی کے بغیر مجھے ذاتی طور پر یہ بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ دنیا اور آخرت میں میرے ساتھ یا تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے۔ یہ پیشین گوئی کی جارہی ہے کہ بنو اسرائیل میں سے کچھ یہودی اور عیسائی لوگ قرآن کریم پر ایمان لانے والے ہیں، جیسا کہ بعد میں یہودیوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور عیسائیوں میں سے حضرت عدی بن حاتم اور نجاشی ؓ ایمان لائے، اور انہوں نے گواہی دی کہ اس جیسی کتاب حضرت موسیٰ ؑ پر نازل ہوئی تھی، اور قرآن کریم بنیادی عقائد میں اسی کتاب جیسا ہے، مکہ مکرمہ کے بت پرستوں سے کہا جارہا ہے کہ جو لوگ پہلے سے آسمانی کتاب رکھتے تھے وہ تو ایمان لانے میں تم سے آگے نکل جائیں اور تم اپنے گھمنڈ میں بیٹھے رہو تو یہ کتنے ظلم کی بات ہوگی۔
Ayah 46:11

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ ایمان لانے والوں کے بارے میں یوں کہتے ہیں کہ : اگر یہ (ایمان لانا) کوئی اچھی بات ہوتی تو یہ لوگ اس بارے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے۔ (6) اور جب ان کافروں نے اس سے خود ہدایت حاصل نہیں کی تو وہ تو یہی کہیں گے کہ یہ وہی پرانے زمانے کا جھوٹ ہے۔

6: یہ تھا ان کافروں کا گھمنڈ کہ ہر قسم کی خوبیاں ہم میں پائی جاتی ہیں، اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، وہ ہم سے کم حیثیت ہیں، اس لئے اگر اسلام کوئی اچھی بات ہوتی تو یہ لوگ ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔
Ayah 46:12

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے، اور یہ (قرآن) وہ کتاب ہے جو عربی زبان میں ہوتے ہوئے اس کو سچا بتارہی ہے (7) تاکہ ان ظالموں کو خبردار کرے، اور نیک کام کرنے والوں کے لیے خوشخبری بن جائے۔

7: عربی زبان میں ہونے کا خاص طور پر ذکر کرنے میں یہ اشارہ ہے کہ پچھلی کوئی آسمانی کتاب عربی زبان میں نہیں آئی، اور حضور اکرم ﷺ عربی کے سوا کسی اور زبان سے واقف نہیں ہیں، اس کے باوجود وہ عربی زبان میں ان پچھلی کتابوں کی باتیں بتا رہے ہیں جن کا علم حاصل ہونے کا آپ کے پاس وحی کے سوا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ پر وحی نازل ہوتی ہے۔
Ayah 46:13

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

یقینا جن لوگوں نے یہ کہہ دیا ہے کہ : ہمارا پروردگار اللہ ہے، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے (8) تو ان پر نہ کوئی خوف طاری ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

8: ثابت قدم رہنے میں یہ بات بھی داخل ہے کہ مرتے دم تک اس ایمان پر قائم رہے، اور یہ بھی کہ اس کے تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کی۔
Ayahs 46:14–15

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

وہ جنت والے لوگ ہیں جو ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ ان اعمال کا بدلہ ہوگا جو وہ کیا کرتے تھے۔

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے والدین سے اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے۔ (9) اس کی ماں نے بڑی مشقت سے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا، اور بڑی مشقت سے اس کو جنا، اور اس کو اٹھائے رکھنے اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہوتی ہے (10) یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری توانائی کو پہنچ گیا، اور چالیس سال کی عمر تک پہنچا تو وہ کہتا ہے کہ یار رب ! مجھے توفیق دیجیے کہ میں آپ کی اس نعمت کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھے اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی، اور ایسے نیک عمل کروں جن سے آپ راضی ہوجائیں، اور میرے لیے میری اولاد کو بھی صلاحیت دے دیجیے، میں آپ کے حضور توبہ کرتا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں شامل ہوں۔ (11)

9: ایمان پر ثابت قدم رہنے کا جو ذکر پچھلی آیت میں آیا ہے، اس کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان اپنے والدین سے اچھا سلوک کرے، نیز جیسا کہ اوپر سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، بعض مرتبہ کچھ لوگ مسلمان ہوجاتے تھے، اور ان کے والدین ایمان نہیں لاتے تھے، ایسے میں ان کے سامنے یہ سوال آتا تھا کہ ان کافر والدین کے ساتھ کیا سلوک کریں۔ اس آیت نے یہ تعلیم دی کہ والدین کا انسان پر بہت بڑا احسان ہے، اس لیے جہاں تک ان کے ساتھ عام برتاؤ کا تعلق ہے، اس میں اچھا سلوک ہی کرنا چاہیے، لیکن نہ عقیدے میں ان کا ساتھ دیا جائے، اور نہ کسی گناہ کے کام میں ان کی بات مانی جائے، جیسا کہ سورة عنکبوت : 8 میں یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ گذر چکی ہے۔ 10: حمل کی وہ کم سے کم مدت جس میں زندہ بچے کی پیدائش ممکن ہے، چھ مہینے ہے، اور دودھ پلانے کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے۔ اس طرح تیس مہینے یعنی ڈھائی سال کی مدت بنتی ہے۔ 11: بعض روایات میں مذکور ہے کہ یہ حضرت ابوبکر ؓ کی طرف اشارہ ہے، انہوں نے ہی یہ دعا فرمائی تھی۔
Ayahs 46:16–20

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول کریں گے، اور ان کی خطاؤں سے درگزر کریں گے (جس کے نتیجے میں) وہ جنت والوں میں شامل ہوں گے، اس سچے وعدے کی بدولت جو ان سے کیا جاتا تھا۔

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور ایک وہ شخص ہے جس نے اپنے والدین سے کہا ہے کہ : تف ہے تم پر۔ کیا تم مجھ سے یہ وعدہ کرتے ہو کہ مجھے زندہ کر کے قبر سے نکالا جائے گا، حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں۔ اور والدین اللہ سے فریاد کرتے ہیں۔ (اور بیٹے سے کہتے ہیں کہ) افسوس ہے تجھ پر۔ ایمان لے آ۔ یقین جان کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ تو وہ کہتا ہے کہ : ان باتوں کی اس کے سوا کوئی حقیقت نہیں ہے کہ یہ محض افسانے ہیں جو پچھلے لوگوں سے نقل ہوتے چلے آرہے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں جنات اور انسانوں کے ان گروہوں سمیت جو ان سے پہلے گزرے ہیں، (عذاب کی) بات طے ہوچکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب بڑا نقصان اٹھانے والے ہیں۔

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور ہر ایک (گروہ) کے اپنے اعمال کی وجہ سے مختلف درجے ہیں، اور اس لیے ہیں تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے۔ اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور اس دن کو یاد کرو جب ان کافروں کو آگ کے سامنے پیش کیا جائے گا (اور کہا جائے گا کہ) تم نے اپنے حصے کی اچھی چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں ختم کر ڈالیں (12) اور ان سے خوب مزہ لے لیا، لہذا آج تمہیں بدلے میں ذلت کی سزا ملے گی، کیونکہ تم زمین میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے، اور کیونکہ تم نافرمانی کے عادی تھے۔

12: یعنی اگر تم نے دنیا میں کچھ اچھے کام کیے بھی تھے تو ہم نے دنیا ہی میں ان کا بدلہ عیش و عشرت کی شکل میں تمہیں دے دیا، اور تم نے اس کے مزے اڑا کر اپنا حصہ دنیا ہی میں لے لیا۔
Ayah 46:21

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور قوم عاد کے بھائی (حضرت ہود ؑ) کا تذکرہ کرو، جب انہوں نے اپنی قوم کو خم دار ٹیلوں کی سرزمین میں (13) خبردار کیا تھا۔ اور ایسے خبردار کرنے والے ان سے پہلے گزر چکے ہیں، اور ان کے بعد بھی، کہ : اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، مجھے تم پر ایک زبردست دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

13: قرآن کریم میں اصل لفظ احقاف ہے۔ یہ حقف کی جمع ہے جو لمبے مگر خم دار ریت کے ٹیلے کو کہتے ہیں جس جگہ قوم عاد آباد تھی، وہاں اسی قسم کے ٹیلے کثرت سے پائے جاتے تھے۔ اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس سرزمین کا نام ہی احقاف تھا اور یہ یمن کے علاقے میں واقع تھی، آج یہاں کوئی آبادی نہیں ہے۔ قوم عاد کی طرف حضرت ہود ؑ کو بھیجا گیا تھا، اور ان کا تعارف پیچھے سورة اعراف : 65 کے حاشیے میں گذر چکا ہے۔
Ayahs 46:22–27

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

انہوں نے کہا : کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمارے خداؤں سے ہمیں برگشتہ کرو ؟ اچھا اگر تم سچے ہو تو لے آؤ ہم پر وہ (عذاب) جس کی دھمکی دے رہے ہو۔

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا : ٹھیک ٹھیک علم تو اللہ کے پاس ہے (کہ وہ عذاب کب آئے گا ؟) مجھے جو پیغام دے کر بھیجا گیا ہے میں تو تمہیں وہی پیغام پہنچا رہا ہوں، البتہ میں یہ ضرور دیکھ رہا ہوں کہ تم ایسے لوگ ہو جو نادانی کی باتیں کر رہے ہو۔

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

پھر ہوا یہ کہ جب انہوں نے اس (عذاب) کو ایک بادل کی شکل میں آتا دیکھا جو ان کی وادیوں کا رخ کر رہا تھا تو انہوں نے کہا کہ : یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔ نہیں ! بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کی تم نے جلدی مچائی تھی۔ ایک آندھی جس میں دردناک عذاب ہے۔

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

جو اپنے پروردگار کے حکم سے ہر چیز کو تہس نہس کر ڈالے گی، غرض ان کی حالت یہ ہوگئی کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ ایسے مجرم لوگوں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور (اے عرب کے لوگو) ہم نے ان لوگوں کو ان باتوں کی طاقت دی تھی جن کی طاقت تمہیں نہیں دی، اور ہم نے ان کو کان، آنکھیں اور دل سب کچھ دے رکھے تھے، لیکن نہ ان کے کان اور ان کی آنکھیں ان کے کچھ کام آئیں اور نہ ان کے دل، کیونکہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے، اور جس چیز کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اسی نے انہیں آگھیرا۔

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور ہم نے اور بستیوں کو بھی ہلاک کیا ہے جو تمہارے اردگرد واقع تھیں، (14) جبکہ ہم طرح طرح کی نشانیاں (ان کے) سامنے لاچکے تھے، تاکہ وہ باز آجائیں۔

14: اس سے مراد قوم ثمود اور حضرت لوط ؑ کی قوم کی بستیاں ہیں جو شام جاتے ہوئے اہل عرب کے راستے میں پڑتی تھیں۔
Ayahs 46:28–29

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

پھر انہوں نے اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جن چیزوں کو اللہ کے سوا معبود بنا رکھا تھا، انہوں نے ان کی کیوں مدد نہ کرلی ؟ اس کے بجائے وہ سب ان کے لیے بےنشان ہوگئے۔ یہ تو ان کا سراسر جھوٹ تھا، اور بہتان تھا جو انہوں نے تراش رکھا تھا۔

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) یاد کرو جب ہم نے جنات میں سے ایک گروہ کو تمہاری طرف متوجہ کیا کہ وہ قرآن سنیں۔ (15) چنانچہ جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے (ایک دوسرے سے) کہا کہ : خاموش ہوجاؤ، پھر جب وہ پڑھا جاچکا تو وہ اپنی قوم کے پاس انہیں خبردار کرتے ہوئے واپس پہنچے۔

15: حضور سرور عالم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے علاوہ جنات کے لئے بھی پیغمبر بنایا تھا، چنانچہ یہ واقعہ جس کا اس آیت میں تذکرہ ہے، اس وقت پیش آیا جب آنحضرت ﷺ طائف والوں کو تبلیغ فرمانے اور ان سے دکھ اٹھانے کے بعد مکہ مکرمہ واپس تشریف لے جارہے تھے، راستے میں ایک مقام کا نام نخلہ ہے وہاں آپ نے قیام فرمایا اور فجر کی نماز میں قرآن کریم کی تلاوت شروع کی، اس وقت جنات کی ایک جماعت وہاں سے گزررہی تھی، اس نے یہ کلام سنا تو وہ اسے سننے کے لئے رک گئے، اور توجہ سے سننے کے لئے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کی تلقین کی، قرآن کریم کا پُر اثر کلام، اور فجر کے وقت سرور عالم ﷺ کی زبانی، اس نے ان جنات پر ایسا اثر کیا کہ وہ اپنی قوم کے پاس بھی اسلام کے داعی بن کر پہنچے اور پھر ان کے کئی وفود آنحضرت ﷺ کے پاس مختلف اوقات میں آئے، آپ نے ان کی تبلیغ اور تعلیم کا فریضہ انجام دیا، جن راتوں میں جنات سے آپ کی ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے ہر ایک کو لیلۃ الجن کہا جاتا ہے، اور ان میں سے بعض راتوں میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بھی آپ کے ساتھ تھے، جنات کے اسلام قبول کرنے کی مزید تفصیل انشاء اللہ سورة جن میں آئے گی۔
Ayahs 46:30–35

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

انہوں نے کہا : اے ہماری قوم کے لوگو ! یقین جانو ہم نے ایک ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ ؑ کے بعد نازل کی گئی ہے، اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، حق بات اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کے داعی کی بات مان لو، اور اس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا، اور تمہیں ایک دردناک عذاب سے پناہ دے دے گا۔

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے تو وہ ساری زمین میں کہیں بھی جاکر اللہ کو عاجز نہیں کرسکتا، اور اللہ کے سوا اس کو کسی قسم کے رکھوالے بھی نہیں ملیں گے۔ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا ان کو یہ سجھائی نہیں دیا کہ وہ اللہ جس نے سارے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کو پیدا کرنے سے اس کو ذرا بھی تھکن نہیں ہوئی، وہ یقینا اس بات پر پوری طرح قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کردے ؟ اور کیوں نہ ہو ؟ وہ بیشک ہر چیز کی پوری قدرت رکھنے والا ہے۔

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

اور جس دن کافروں کو آگ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اس دن (ان سے پوچھا جائے گا) کہ کیا یہ (دوزخ) سچ نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے کہ : ہمارے رب کی قسم ! یہ واقعی سچ ہے۔ اللہ ارشاد فرمائے گا کہ : پھر چکھو مزہ عذاب کا، اس کفر کے بدلے میں جو تم نے اختیار کر رکھا تھا۔

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

غرض (اے پیغمبر) تم اسی طرح صبر کیے جاؤ جیسے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا ہے، اور ان کے معاملے میں جلدی نہ کرو۔ جس دن یہ لوگ وہ چیز دیکھ لیں گے جس سے انہیں ڈرایا جارہا ہے اس دن (انہیں) یوں محسوس ہوگا جیسے وہ (دنیا میں) دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ (16) یہ ہے وہ پیغام جو پہنچا دیا گیا ہے۔ اب برباد تو وہی لوگ ہوں گے جو نافرمان ہیں۔

16: یعنی آخرت میں پہنچ کر جب وہ عذاب سامنے آئے گا جس سے انہیں مسلسل آگاہ کیا جاتا رہا تھا، تو اس کی شدت دیکھ کر انہیں دنیا کی ساری زندگی اتنی مختصر محسوس ہوگی جیسے وہ صرف ایک دن کا کوئی حصہ ہو۔