45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الجاثیہ اس سورت میں بنیادی طور پر تین باتوں پر زور دیا گیا ہے، ایک یہ کہ اس کائنات میں ہر طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی اتنی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں کہ ایک انسان اگر معقولیت کے ساتھ ان پر غور کرے تو اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس کائنات کے خالق کو اپنی خدائی کے انتظام میں کسی شریک کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لہذا اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرا کر اس کی عبادت کرنا سراسر بےبنیاد بات ہے، دوسرے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا گیا ہے کہ آپ کو شریعت کے کچھ ایسے احکام دئے گئے ہیں جو پچھلی امتوں کو دئے ہوئے احکام سے کسی قدر مختلف ہیں، چونکہ یہ سارے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، اس لئے اس پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے، تیسرے اس سورت میں قیامت کے ہولناک مناظر کا نقشہ کھینچا گیا ہے، اسی سلسلے میں آیت نمبر : ٢٨ میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن لوگ اتنے خوف زدہ ہوں گے کہ ڈر کے مارے گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں گے، جاثیہ عربی زبان میں ان لوگوں کو کہتے ہیں جو گھٹنے کے بل بیٹھتے ہوں، اسی لفظ کو سورت کا نام بنادیا گیا ہے۔

Ayah 45:1
Ayah 45:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتاری جارہی ہے جو بڑا صاحب اقتدار، بڑا صاحب حکمت ہے۔

Ayah 45:3

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں ماننے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔

Ayah 45:4

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور خود تمہاری پیدائش میں، اور ان جانوروں میں جو اس نے (زمین میں) پھیلا رکھے ہیں، ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو یقین کریں۔

Ayah 45:5

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

نیز رات اور دن کے آنے جانے میں اور اللہ نے آسمان سے رزق کا جو ذریعہ اتارا، پھر اس سے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد نئی زندگی دی، اس میں اور ہواؤں کی گردش میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں۔

Ayah 45:6

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ اب اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے ؟

Ayah 45:7

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

برا ہو اس جھوٹے گنہگار کا۔

Ayah 45:8

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

جو اللہ کی آیتیں سنتا ہے جبکہ وہ اسے پڑھ کر سنائی جارہی ہوتی ہیں، پھر بھی وہ تکبر کے عالم میں اس طرح (کفر پر) اڑا رہتا ہے جیسے اس نے وہ آیتیں سنی ہی نہیں۔ لہذا ایسے شخص کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔

Ayah 45:9

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب ہماری آیتوں میں سے کوئی آیت ایسے شخص کے علم میں آتی ہے تو وہ اس کا مذاق بناتا ہے، ایسے لوگوں کو وہ عذاب ہوگا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔

Ayah 45:10

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے آگے جہنم ہے اور جو کچھ انہوں نے کمایا ہے نہ وہ ان کے کچھ کام آئے گا اور نہ وہ کام آئیں گے جن کو انہوں نے اللہ کے بجائے اپنا رکھوالا بنا رکھا ہے۔ اور ان کے حصے میں ایک زبردست عذاب آئے گا۔

Ayah 45:11

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ (قرآن) سراپا ہدایت ہے اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کا انکار کیا ہے، ان کے لیے بلا کا دردناک عذاب ہے۔

Ayahs 45:12–13

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے سمندر کو تمہارے کام میں لگا دیا ہے، تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں، اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ (1) اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اس سب کو اس نے اپنی طرف سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے۔ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیں۔

1: جیسا کہ پہلے کئی بار عرض کیا گیا، اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا قرآن کریم کی اصطلاح میں روزی تلاش کرنے کو کہا جاتا ہے۔ یہاں سمندری تجارت مراد ہے۔
Ayahs 45:14–16

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

(اے پیغمبر) جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ان سے کہو کہ جو لوگ اللہ کے دنوں کا اندیشہ نہیں رکھتے، (2) ان سے درگزر کریں (3) تاکہ اللہ لوگوں کو ان کاموں کا بدلہ دے جو وہ کیا کرتے تھے۔ (4)

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو شخص بھی نیک کام کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدے کے لیے کرتا ہے اور جو برا کام کرتا ہے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے، پھر تم سب کو اپنے پروردگار ہی کے پاس واپس لایا جائے گا۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت عطا کی تھی، اور انہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا تھا، اور انہیں دنیا جہان کے لوگوں پر فوقیت بخشی تھی۔

2: اللہ کے دنوں سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال جزاء دے، چاہے دنیا میں یا آخرت میں، اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس بات سے بےفکر ہیں، بلکہ اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ کوئی ایسے دن آنے والے ہیں۔ 3: درگزر کرنے کا مطلب یہاں یہ ہے کہ ان کی طرف سے جو تکلیفیں پہنچائی جائیں ان کا بدلہ نہ لیں، یہ حکم مکی زندگی میں دیا گیا تھا جہاں مسلمانوں کو مسلسل صبر کی تلقین کی جارہی تھی، اور ہاتھ اٹھانے سے منع کیا گیا تھا۔ 4: اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ کافر لوگ ان پر جو ستم ڈھا رہے ہیں تم ان کا فی الحال بدلہ نہ لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ خود ہی ان کا بدلہ لے لے گا، چاہے وہ اسی دنیا میں ہو یا آخرت میں، اور ساتھ ہی یہ مطلب بھی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل میں صبر سے کام لیں گے، اور بدلہ نہیں لیں گے، اللہ تعالیٰ ان کی اس نیکی کا بدلہ آخرت کی نعمتوں کی صورت میں ضرورعطا فرمائے گا۔
Ayahs 45:17–20

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور انہیں کھلے کھلے احکام دیے تھے، اس کے بعد ان میں جو اختلاف پیدا ہوا وہ ان کے پاس علم آجانے کے بعد ہی ہوا، صرف اس لیے کہ ان کو ایک دوسرے سے ضد ہوگئی تھی۔ (5) یقینا تمہارا پروردگار ان کے درمیان قیامت کے دن ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں دین کی ایک خاص شریعت پر رکھا ہے، لہذا تم اسی کی پیروی کرو، اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جو حقیقت کا علم نہیں رکھتے۔

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

وہ اللہ کے مقابلے میں تمہارے ذرا بھی کام نہیں آسکتے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور اللہ متقی لوگوں کا دوست ہے۔

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ (قرآن) تمام لوگوں کے لیے بصیرتوں کا مجموعہ ہے، اور جو لوگ یقین کریں ان کے لیے منزل تک پہنچانے کا ذریعہ اور سراپا رحمت ہے۔

5: یعنی بنو اسرائیل کو تورات کا علم دیا گیا تھا، اس کے باوجود انہوں نے ایک دوسرے سے حسد اور ضد کی وجہ سے آپس میں پھوٹ ڈال لی، اور اختلافات میں پڑگئے۔
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

جن لوگوں نے برے برے کاموں کا ارتکاب کیا ہے، کیا وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ انہیں ہم ان لوگوں کے برابر کردیں گے جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں جس کے نتیجے میں ان کا جینا اور مرنا ایک ہی جیسا ہوجائے ؟ (6) کتنی بری بات ہے جو یہ طے کیے ہوئے ہیں۔

6: یہ آخرت کی زندگی کی ضرورت بتائی جا رہی ہے کہ اگر آخرت کی جزاء و سزا نہ ہو تو اچھے برے سب لوگ برابر ہوجائیں، اور جن نیک لوگوں نے دنیا میں شریعت کے احکام پر عمل کر کے محنت اٹھائی، یا مخالفین کی طرف سے تکلیفیں برداشت کیں، ان کو مرنے کے بعد بھی اس قربانی کا کوئی انعام نہ ملے، اور ان کا مرنا جینا بالکل برابر ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ ناانصافی نہیں کرسکتا۔ چنانچہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے یہ کائنات اسی برحق مقصد کے لیے پیدا کی ہے کہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے۔
Ayahs 45:22–25

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اللہ نے سارے آسمانوں اور زمین کو برحق مقصد کے لیے پیدا کیا ہے، اور اس لیے کیا ہے کہ ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کاموں کا بدلہ دیا جائے، اور دیتے وقت ان پر کوئی ظلم نہ کیا جائے۔ (7)

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

پھر کیا تم نے اسے بھی دیکھا جس نے اپنا خدا اپنی نفسانی خواہش کو بنا لیا ہے، اور علم کے باوجود اللہ نے اسے گمراہی میں ڈال دیا، اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی، اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا۔ اب اللہ کے بعد کون ہے جو اسے راستے پر لائے ؟ کیا پھر بھی تم لوگ سبق نہیں لیتے ؟

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : جو کچھ زندگی ہے بس یہی ہماری دنیوی زندگی ہے، (اسی میں) ہم مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں کوئی اور نہیں، زمانہ ہی ہلاک کردیتا ہے۔ حالانکہ اس بات کا انہیں کچھ بھی علم نہیں ہے، بس وہمی اندازے لگاتے ہیں۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ہماری آیتیں پوری وضاحت کے ساتھ ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ کہنے کے سوا ان کی کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ : اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو (زندہ کر کے) لے آؤ۔

7: یہ ترجمہ وَھُمْ لَایُظْلَمُوْنَ کے جملے کو تُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ سے حال قرار دینے پر مبنی ہے۔
Ayahs 45:26–27

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ اللہ ہی تمہیں زندگی دیتا ہے، پھر وہ تمہیں موت دے گا پھر تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا، (8) جس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے، لیکن اکثر لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کی ہے، اور جس دن قیامت آکھڑی ہوگی، اس دن جو لوگ باطل پر ہیں، وہ سخت نقصان اٹھائیں گے۔

8: یعنی آخرت کے عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سارے انسانوں کو جمع کرے گا، یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اسی دنیا میں مردوں کو زندہ کرے گا، لہذا آخرت کے عقیدے کے مقابلے میں تمہارا یہ مطالبہ کہ ہمارے باپ دادوں کو زندہ کر کے لاؤ، سراسر لغو مطالبہ ہے، رہی یہ بات کہ مردوں کا دوبارہ زندہ ہونا بہت مشکل بات ہے تو جس اللہ نے تمہیں عدم سے وجود عطا کر کے پیدا کیا ہے، اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ وہ ایک مرتبہ تمہاری روح قبض کر کے دوبارہ پیدا کردے، جبکہ اس ساری کائنات کی بادشاہی اسی کے قبضے میں ہے ؟
Ayahs 45:28–32

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور تم ہر گروہ کو دیکھو گے کہ وہ گھٹنوں کے بل گرا ہوا ہے۔ (9) ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا، (اور کہا جائے گا کہ) آج تمہیں ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہمارا (لکھوایا ہوا) دفتر ہے جو تمہارے بارے میں ٹھیک ٹھیک بول رہا ہے۔ تم جو کچھ کرتے تھے، ہم اس سب کو لکھوا لیا کرتے تھے۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

چنانچہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو تو ان کا پروردگار اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یہی کھلی ہوئی کامیابی ہے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر اپنا لیا تھا، (ان سے کہا جائے گا کہ) بھلا کیا تمہارے سامنے میری آیتیں نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟ پھر بھی تم نے تکبر سے کام لیا، اور مجرم بنے رہے۔

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب تم سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور قیامت وہ حقیقت ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں ہے، تو تم یہ کہتے تھے کہ : ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہوتی ہے ؟ اس کے بارے میں ہم جو کچھ خیال کرتے ہیں، بس ایک گمان سا ہوتا ہے، اور ہمیں یقین بالکل نہیں ہے۔

9: قیامت کے مختلف مراحل میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا کہ وہاں کے ہولناک مناظر دیکھ کر لوگ بےساختہ گھٹنوں کے بل گرجائیں گے یا بیٹھ جائیں گے۔
Ayahs 45:33–34

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور (اس موقع پر) انہوں نے جو اعمال کیے تھے، ان کی برائیاں کھل کر ان کے سامنے آجائیں گی، اور جس چیز کا وہ مذاق اڑاتے تھے، وہی ان کو آگھیرے گی، (10)

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور ان سے کہا جائے گا کہ : آج ہم تمہیں اسی طرح بھلا دیں گے جیسے تم نے یہ بات بھلا ڈالی تھی کہ تمہیں اپنے اس دن کا سامنا کرنا ہوگا اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے، اور تمہیں کسی قسم کے مددگار میسر نہیں آئیں گے۔

10: یعنی دوزخ کے جس عذاب کا یہ کافر لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے، وہی عذاب ان کو گھیرے گا۔
Ayahs 45:35–37

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ سب اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو مذاق بنایا تھا اور دنیوی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ چنانچہ آج ایسے لوگوں کو نہ وہاں سے نکالا جائے گا، اور نہ ان سے معافی مانگنے کو کہا جائے گا۔ (11)

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

غرض تعریف تمام تر اللہ کی ہے جو سارے آسمانوں کا بھی مالک ہے، زمین کا بھی مالک، اور تمام جہانوں کا بھی مالک۔

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور تمام تر بڑائی اسی کو حاصل ہے، آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی، اور وہی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی حکمت بھی کامل۔

11: توبہ کرنے اور معافی مانگنے کا دروازہ انسان کے لیے ساری زندگی کھلا ہوا ہے، لیکن مرنے کے بعد اور آخرت میں پہنچنے کے بعد یہ دروازہ بند ہوجاتا ہے، اور وہاں معافی مانگنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، اس لیے وہاں کسی سے یہ کہا بھی نہیں جائے گا کہ معافی مانگ لو۔ اعاذنا اللہ من ذلک۔