44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الدخان مستند روایات کے مطابق یہ سورت اس وقت نازل ہوئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کے کافروں کو متنبہ کرنے کے لئے ایک شدید قحط میں مبتلا فرمایا، اس موقع پر لوگ چمڑے تک کھانے پر مجبور ہوئے، اور ابو سفیان کے ذریعے کافروں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ قحط دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں، اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگر قحط دور ہوگیا تو ہم ایمان لے آئیں گے، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے قحط سے نجات عطا فرمادی، لیکن جب قحط دور ہوگیا تو یہ کافر لوگ اپنے وعدے سے پھرگئے اور ایمان نہیں لائے، اس واقعے کا تذکرہ اس سورت کی آیت نمبر ١٠ تا ١٥ میں آیا ہے، اور اسی سلسلے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ایک آسمان پر دھواں ہی دھواں نظر آئے گا (اس کا مطلب انشاء اللہ اس آیت کی تفسیر میں آئے گا) دھویں کو عربی زبان میں دخان کہتے ہیں اور اسی وجہ سے اس سورت کا نام سورة دخان ہے، سورت کے باقی مضامین توحید رسالت اور آخرت کے اثبات پر مشتمل ہیں۔

Ayahs 44:1–3

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

قسم ہے اس کتاب کی جو حق کو واضح کرنے والی ہے۔

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

کہ ہم نے اسے ایک مبارک رات میں اتارا ہے۔ (1) (کیونکہ) ہم لوگوں کو خبردار کرنے والے تھے۔

1: اس سے مراد شب قدر ہے، کیونکہ اسی رات میں قرآن کریم لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، اور پھر وہاں سے تھوڑا تھوڑا کر کے آنحضرت ﷺ پر نازل ہوتا رہا۔
Ayah 44:4

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اسی رات میں ہر حکیمانہ معاملہ ہمارے حکم سے طے کیا جاتا ہے۔ (2)

2: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سال میں جو اہم واقعات ہونے والے ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ فلاں شخص پیدا ہوگا، اسے اتنا رزق دیا جائے گا، فلاں کا انتقال ہوگا، یہ ساری باتیں عملی تنفیذ کے لیے متعلقہ فرشتوں کے حوالے کردی جاتی ہیں۔
Ayahs 44:5–11

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

(نیز) ہم ایک پیغمبر بھیجنے والے تھے۔

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

تاکہ تمہارے رب کی طرف سے رحمت کا معاملہ ہو۔ یقینا وہی ہے جو ہر بات سننے والا، ہر چیز جاننے والا ہے۔

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

جو سارے آسمانوں اور زمین کا اور ان کے درمیان ہر چیز کا رب ہے، اگر تم واقعی یقین کرنے والے ہو۔

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ زندگی بھی دیتا ہے، اور موت بھی، وہ تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے پہلے گزرے ہوئے باپ دادوں کا بھی رب

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

(پھر بھی کافر ایمان نہیں لاتے) بلکہ وہ شک میں پڑے ہوئے کھیل کر رہے ہیں۔

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

لہذا اس دن کا انتظار کرو جب آسمان ایک واضح دھواں لے کر نمودار ہوگا۔

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

جو لوگوں پر چھا جائے گا۔ (3) یہ ایک دردناک سزا ہے

3: اس آیت کی تفسیر حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو متنبہ کرنے کے لیے انہیں ایک سخت قحط میں مبتلا فرما دیا تھا، اس وقت لوگ بھوک کی شدت کے عالم میں جب آسمان کی طرف دیکھتے تو انہیں آسمان پر دھواں ہی دھواں چھایا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ اس آیت میں اس قحط سالی کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اور فرمایا گیا ہے کہ کافروں کو سزا کے طور پر ایسے قحط میں مبتلا کیا جائے گا کہ انہیں بھوک کی وجہ سے آسمان پر دھواں ہی دھواں نظر آئے گا، اور اس وقت یہ لوگ وعدہ کریں گے کہ اگر یہ قحط ہم سے دور ہوگیا تو ہم ایمان لے آئیں گے، لیکن جب قحط دور ہوگا تو اپنے وعدے سے پھر کر دوبارہ شرک کی طرف لوٹ جائیں گے۔
Ayahs 44:12–16

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

(اس وقت یہ لوگ کہیں گے کہ) اے ہمارے پروردگار ہم سے یہ عذاب دور کر دیجئے، ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

ان کو نصیحت کہاں ہوتی ہے ؟ حالانکہ ان کے پاس ایسا پیغمبر آیا ہے جس نے حقیقت کو کھول کر رکھ دیا ہے۔

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر بھی یہ لوگ اس سے منہ موڑے رہے، اور کہنے لگے کہ : یہ سکھایا پڑھایا ہوا ہے، دیوانہ ہے۔

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

(اچھا) ہم عذاب کو کچھ عرصے تک ہٹا دیتے ہیں۔ یقین ہے کہ تم پھر اسی حالت پر لوٹ آؤ گے۔

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

جس دن ہماری طرف سے سب سے بڑی پکڑ ہوگی، اس دن ہم پورا انتظام لے لیں گے۔ (4)

4: یعنی اس وقت تو یہ عذاب ان سے دور کردیا جائے گا، لیکن جب قیامت میں ان کی پکڑ ہوگی، اس وقت انہیں پورے عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔
Ayahs 44:17–18

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

اور ان سے پہلے ہم نے فرعون کی قوم کو آزمایا تھا اور ان کے پاس ایک معزز پیغمبر آئے تھے۔

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

(اور انہوں نے کہا تھا کہ) اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو۔ (5) میں تمہاری طرف ایک امانت دار پیغمبر بن کر آیا ہوں۔

5: اس سے مراد بنو اسرائیل ہیں جن کو فرعون نے غلام بنایا ہوا تھا۔ دیکھئے سورة طٰہٰ : 47
Ayahs 44:19–20

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور یہ کہ : اللہ کے آگے سرکشی مت کرو، میں تمہارے پاس ایک کھلی ہوئی دلیل پیش کرتا ہوں۔

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور میں اس بات سے اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کرو۔ (6)

6: فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ کو ان کی دعوت کے جواب میں قتل کی دھمکیاں دی تھیں۔ یہ ان کا جواب ہے۔
Ayah 44:21

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہوجاؤ (7)

7: یعنی اگر میری دعوت پر ایمان نہ لاؤ تو کم سے کم مجھے چھوڑ دو کہ میں حق کا پیغام ان لوگوں کو پیش کروں جو ماننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور مجھے تکلیف پہنچانے اور میرے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے سے باز رہو۔
Ayahs 44:22–24

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

پھر انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ) اچھا تم میرے بندوں کو لے کر راتوں رات روانہ ہوجاؤ۔ تمہارا پیچھا ضرور کیا جائے گا۔

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

اور تم سمندر کو ٹھہرا ہوا چھوڑ دینا (8) یقینا یہ لشکر ڈبویا جائے گا۔

8: مطلب یہ ہے کہ جب تمہارے راستے میں سمندر آجائے گا تو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سمندر کو ٹھہرا کر راستہ بنادیں گے۔ جب تم اس سے پار ہوجاؤ تو اس بات کی فکر نہ کرنا کہ سمندر میں جو راستہ بنا ہوا ہے۔ وہ فرعون کے لشکر کے بھی کام آئے گا، اور وہ سمندر پار کر کے ہمارا تعاقب جاری رکھیں گے، بلکہ سمندر کو ویسا ہی ٹھہرا ہوا چھوڑ دینا۔ اللہ تعالیٰ خود ان کو ڈبونے کے لیے سمندر کو پھر پہلی حالت میں واپس کردیں گے۔ اس واقعے کی تفصیل سورة یونس : 90 تا 92 اور سورة شعراء : 56 تا 67 میں گذر چکی ہے۔
Ayahs 44:25–33

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

کتنے باغات اور چشمے تھے جو یہ لوگ چھوڑ گئے۔

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

اور کتنے کھیت اور شاندار مکانات۔

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

اور عیش کے کتنے سامان جن میں وہ مزے کر رہے تھے۔

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

ان کا انجام اسی طرح ہوا، اور ہم نے ان سب چیزوں کا وارث ایک دوسری قوم کو بنادیا۔

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

پھر نہ ان پر آسمان رویا نہ زمین، اور نہ ان کو کچھ مہلت دی گئی۔

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ Open ayah 44:30 in the Quran reader

اور بنی اسرائیل کو ہم نے ذلت کے عذاب سے نجات دے دی،

مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 44:31 in the Quran reader

یعنی فرعون سے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا سرکش، حد سے گزرے ہوئے لوگوں میں سے تھا۔

وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 44:32 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنے علم کے مطابق جہان والوں پر فوقیت دی۔

وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ Open ayah 44:33 in the Quran reader

اور ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں کھلا ہوا انعام تھا۔ (9)

9: اس سے مراد وہ انعامات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل پر فرمائے، مثلاً من وسلوی نازل کرنا، پتھر سے چشمے نکال دینا وغیرہ، جن کا ذکر سورة بقرہ : 47 تا 58 میں فرمایا ہے۔
Ayahs 44:34–37

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 44:34 in the Quran reader

یہ لوگ صاف کہتے ہیں۔

اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ Open ayah 44:35 in the Quran reader

کہ : اور کچھ نہیں ہے، بس ہماری وہی پہلی موت ہوگی اور ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔

فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 44:36 in the Quran reader

اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو اٹھا لاؤ۔

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 44:37 in the Quran reader

بھلا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم (10) اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ؟ ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا۔ (کیونکہ) وہ یقینی طور پر مجرم لوگ تھے۔

10: تبع دراصل یمن کے بادشاہوں کا لقب تھا، قرآن کریم نے یہ متعین نہیں فرمایا کہ یہاں کونسا تبع مراد ہے، حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں فرمایا ہے کہ یہاں مراد وہ تبع ہے جس کا نام اسعد ابوکریب تھا، یہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے سات سو سال پہلے گزرا ہے، یہ خود دین موسوی پر تھا، جو اس وقت دین برحق تھا، ایمان لے آیا تھا ؛ لیکن اس کی قوم نے بعد میں بت پرستی اختیار کرلی، جس کے نتیجے میں ان پر عذاب آیا۔
Ayahs 44:38–39

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 44:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزیں بےفائدہ کھیل کرنے کے لیے پیدا نہیں کردی ہیں۔

مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 44:39 in the Quran reader

ہم نے انہیں برحق مقصد ہی کے لیے پیدا کیا ہے، (11) لیکن ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔

11: اگر آخرت کا انکار کردیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا دن آنے والا نہیں ہے جس میں نیک لوگوں کو انعام اور ظالموں کو سزا دی جائے، اور اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات (معاذ اللہ) یونہی بےفائدہ کھیل کے طور پر پیدا کردی ہے۔