43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الزخرف اس سورت کا مرکزی موضوع مشرکین مکہ کی تردید ہے جس میں ان کے اس عقیدے کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے جس کی رو سے وہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے، نیز وہ اپنے دین کو صحیح قرار دینے کے لئے یہ دلیل دیتے تھے کہ ہم نے اپنے باپ دادؤں کو اسی طریقے پر پایا ہے، اس کے جواب میں اول تو یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ قطعی عقائد کے معاملے میں باپ دادؤں کی تقلید بالکل غلط طرز عمل ہے، اور پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حوالہ دے کر فرمایا گیا ہے کہ اگر باپ دادؤں ہی کے پیچھے چلنا ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کیوں نہیں کرتے، جنہوں نے شرک سے کھلم کھلا بیزاری کا اعلان فرمایا تھا، مشرکین آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو اعتراضات کیا کرتے تھے اس سورت میں ان کا جواب بھی دیا گیا ہے، ان کا ایک اعتراض یہ تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو کوئی پیغمبر بھیجنا ہی تھا تو کسی دولت مند سردار کو اس مقصد کے لئے کیوں نامزد نہیں کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں یہ واضح فرمایا ہے کہ دنیوی مال و دولت کا انسان کے تقدس اور اللہ تعالیٰ کے تقرب سے کوئی تعلق نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کافروں کو بھی سونا چاندی اور دنیا بھر کی دولت دے سکتا ہے ؛ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب ہیں، کیونکہ آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں اس مال و دولت کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اس سورت نے یہ بھی واضح فرمایا ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ معاشی وسائل کی تقسیم اپنی حکمت کے مطابق ایک خاص انداز سے فرماتے ہیں، جس کے لئے ایک مستحکم نظام بنایا گیا ہے، اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بھی اختصار کے ساتھ بیان فرمایا ہے ؛ کیونکہ فرعون کو بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یہی اعتراض تھا کہ وہ دنیوی مال و دولت کے اعتبار سے کوئی بڑی حیثیت نہیں رکھتے، اور فرعون کے پاس سب کچھ ہے ؛ لیکن انجام یہ ہوا کہ فرعون اپنے کفر کی وجہ سے غرق ہوا، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غالب آکر رہے، نیز اس سورت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بھی مختصر ذکر فرما کر ان کی صحیح حیثیت واضح فرمائی گئی ہے۔ “ زخرف ” عربی زبان میں سونے کو کہتے ہیں اور اس سورت کی آیت نمبر : ٣٥ میں اس کا ذکر اس سیاق میں کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو سارے کافروں کو سونے ہی سونے سے نہال کردے، اسی وجہ سے اس سورت کا نام زخرف ہے۔

Ayahs 43:1–4

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

قسم ہے اس واضح کتاب کی۔

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے، تاکہ تم سمجھو۔

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں بڑے اونچے درجے کی حکمت سے بھری ہوئی کتاب ہے۔ (1)

1: قرآن کریم ازل سے لوح محفوظ میں موجود تھا، پھر وہاں سے آسمان دنیا پر، اور اس کے بعد حسب موقع حضور نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا۔
Ayah 43:5

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

بھلا کیا ہم منہ موڑ کر اس نصیحت نامے کو تم سے اس بنا پر ہٹالیں کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو ؟ (2)

2: یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ جو لوگ نافرمانی میں حد سے گذر گئے ہوں، ان کو بھی ہدایت کا راستہ دکھایا جاتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم پسند کرو یا ناپسند، ہم تمہیں ہدایت کا راستہ بتا کر نصیحت کرنا نہیں چھوڑ سکتے۔
Ayahs 43:6–12

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور کتنے ہی نبی ہم نے پچھلے لوگوں میں بھی بھیجے ہیں۔

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے پاس کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس کا وہ مذاق نہ اڑاتے ہوں۔

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

پھر جو لوگ ان (مکہ والوں) سے کہیں زیادہ زور آور تھے ہم نے انہیں ہلاک کردیا، اور ان پچھلے لوگوں کا حال پیچھے گزر چکا ہے۔

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور اگر تم ان (مشرکوں) سے پوچھو کہ سارے آسمان اور زمین کس نے پیدا کیے ہیں، تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ : انہیں اس ذات نے پیدا کیا ہے جو اقتدار کی بھی مالک ہے، علم کی بھی مالک۔

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

یہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا، اور اس میں تمہارے لیے راستے بنائے، تاکہ تم منزل تک پہنچ سکو۔

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے آسمان سے ایک خاص اندازے سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ذریعے ایک مردہ علاقے کو نئی زندگی دے دی، اسی طرح تمہیں (قبروں سے) نکال کر نئی زندگی دی جائے گی۔

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے ہر طرح کے جوڑے پیدا کیے اور تمہاری وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سواری کرتے ہو۔ (3)

3: انسان جن سواریوں پر سواری کرتا ہے، وہ دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ سواریاں جن کے بنانے میں انسان کا کچھ نہ کچھ دخل ہوتا ہے۔ کشتیوں سے اس قسم کی سواریوں کی طرف اشارہ ہے، اور دوسری قسم کی سواریاں وہ ہیں جن کے بنانے میں انسان کا کوئی دخل ہی نہیں ہے، جیسے گھوڑے، اونٹ اور سواری کے دوسرے جانور، چوپایوں سے ان کی طرف اشارہ ہے۔ اور آیت کریمہ کا مقصد یہ ہے کہ دونوں قسم کی سواریاں اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں۔ سواری کے جانور اگرچہ انسان سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں انسان کے اس طرح قابو میں دے دیا ہے کہ ایک بچہ بھی ان کو لگام دے کر جہاں چاہے لیے پھرتا ہے۔ اور جن سواریوں کی صنعت میں انسان کا کچھ دخل ہے۔ مثلاً کشتیاں، جہاز، کاریں، ریلیں وغیرہ، ان کا خام مواد بھی اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہی نے انسان کو اتنی سمجھ دی ہے کہ وہ یہ سواریاں بنانے کے قابل ہوا۔
Ayahs 43:13–14

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ان کی پشت پر چڑھو، پھر جب ان پر چڑھ کر بیٹھ جاؤ تو اپنے پروردگار کی نعمت کو یاد کرو، اور یہ کہو کہ : پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں دے دیا، ورنہ ہم میں سے یہ طاقت نہیں تھی کہ اس کو قابو میں لاسکتے۔

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور بیشک ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ (4)

4: یہ وہ دعا ہے جو کسی سواری پر سوار ہونے کے وقت پڑھنی چاہیے۔ اس میں اول تو اس بات کا شکر اور اعتراف ہے کہ یہ سواری اللہ تعالیٰ کا انعام ہے، اور دوسرے اس کے آخری جملے میں انسان کو اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی سفر کرتے وقت یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اسے ایک آخری سفر پیش آنے والا ہے جس میں وہ دنیا کو چھوڑ کر اپنے پروردگار کے پاس پہنچے گا، اور اس وقت اپنے سارے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔ اس لیے یہاں رہتے ہوئے کوئی کام ایسا نہیں کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں وہاں شرمندگی اٹھانی پڑے۔
Ayah 43:15

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور ان (مشرک) لوگوں نے یہ بات بنائی ہے کہ اللہ کا خود اس کے بندوں میں سے کوئی جزء ہے۔ (5) حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلم کھلا ناشکرا ہے۔

5: مشرکین عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، ، یہاں سے ان کے اس عقیدے کی تردید کی جارہی ہے اور اس کے خلاف چار دلیلیں پیش کی گئی ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی اولاد ہونا ناممکن ہے، اس لئے کہ اولاد ماں باپ کا جزء ہوتی ہے، کیونکہ وہ ان کے نطفے سے پیدا ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کا کوئی جزء نہیں ہوسکتا وہ ہر قسم کے اجزاء سے پاک ہے، لہذا اس کی کوئی اولاد نہیں ہوسکتی، دوسرے یہ کہ ان مشرکین کا اپنا حال یہ ہے کہ وہ اپنے لئے بیٹیوں کی ولادت کو عار سمجھتے ہیں اور اگر کسی کے یہاں کوئی لڑکی پیدا ہوجاتی ہے تو وہ اس پر بہت مغموم ہوتا ہے، اب یہ عجیب بات ہے کہ بیٹی کو خود اپنے لئے تو عیب سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس کی بیٹیاں ہیں، تیسرے اس عقیدے کی رو سے فرشتے مؤنث قرار پاتے ہیں، حالانکہ وہ مؤنث نہیں ہیں، چوتھے اگرچہ عورت ہونا حقیقت میں کوئی عیب یا عار کی بات نہیں ہے، لیکن عام طور سے عورتوں کی صلاحیتیں مردوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہیں، کیونکہ ان کی زیادہ توجہ زیورات اور زیب وزینت کی طرف رہتی ہے، اور اپنی بات کو خوب واضح کرکے کہنے کی صلاحیت بھی اکثر ان میں کم ہوتی ہے، لہذا اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کو کوئی اولاد رکھنی منظور ہوتی تو وہ مؤنث ہی کا کیوں انتخاب فرماتا۔
Ayahs 43:16–21

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

بھلا کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے تو بیٹیاں پسند کی ہیں، اور تمہیں بیٹوں کے لیے منتخب کیا ہے ؟

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

حالانکہ ان میں سے کسی کو جب اس (بیٹی) کی (ولادت) خوشخبری دی جاتی ہے جو اس نے خدائے رحمن کی طرف منسوب کر رکھی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے، اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے۔

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

اور کیا (اللہ نے ایسی اولاد پسند کی ہے) جو زیوروں میں پالی پوسی جاتی ہے اور جو بحث مباحثے میں اپنی بات کھل کر بھی نہیں کہہ سکتی ؟

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اس کے علاوہ انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمن کے بندے ہیں، مؤنث بنادیا ہے۔ کیا یہ لوگ ان کی تخلیق کے وقت موجود تھے ؟ ان کا یہ دعوی لکھ لیا جائے گا اور ان سے باز پرس ہوگی۔

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ : اگر خدائے رحمن چاہتا تو ہم ان (فرشتوں) کی عبادت نہ کرتے۔ ان کو اس بات کی حقیقت کا ذرا بھی علم نہیں ہے اور ان کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ اندازوں کے تیر چلاتے ہیں۔

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

بھلا کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی جسے یہ تھامے بیٹھے ہیں ؟ (6)

6: اللہ تعالیٰ کے بارے میں کوئی عقیدہ یا تو اس وقت رکھا جاسکتا ہے جب وہ ہر عقل والے انسان کے لئے بالکل بدیہی طور پر واضح ہو، یا پھر خود اللہ تعالیٰ نے کسی آسمانی کتاب کے ذریعے اس کی وضاحت فرمائی ہو، مشرکین کے عقیدوں کی کوئی کتاب بھی ایسی نہیں ہے جس میں ایسے عقائد بیان کئے گئے ہوں۔
Ayahs 43:22–31

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

نہیں، بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کے مطابق ٹھیک ٹھیک راستے پر جارہے ہیں۔

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے جب بھی کسی بستی میں کوئی خبردار کرنے والا (پیغمبر) بھیجا تو وہاں کے دولت مند لوگوں نے یہی کہا کہ : ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے، اور ہم انہی کے نقش قدم کے پیچھے چل رہے ہیں۔

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

پیغمبر نے کہا کہ : تم نے اپنے باپ دادوں کو جس طریقے پر پایا ہے، اگر میں تمہارے پاس اس سے زیادہ ہدایت کی بات لے کر آیا ہوں تو کیا پھر بھی (تم اپنے طریقے پر چلے جاؤ گے ؟) انہوں نے جواب دیا کہ : تم جو پیغام دے کر بھیجے گئے ہو ہم تو اس کو ماننے والے نہیں ہیں۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان سے انتقام لیا، اب دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ : میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

سوائے اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، چنانچہ وہی میری رہنمائی کرتا ہے۔

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور ابراہیم نے اس (عقیدے) کو ایسی بات بنادیا جو ان کی اولاد میں باقی رہی، تاکہ لوگ (شرک سے) باز آئیں۔

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

(پھر بھی بہت سے لوگ باز نہ آئے) اس کے باوجود میں نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو زندگی کے فائدے دیے، یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف ہدایت دینے والا پیغمبر آگیا۔

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب وہ حق ان کے پاس آیا تو وہ کہنے لگے کہ : یہ تو جادو ہے اور ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ : یہ قرآن دوبستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟ (7)

7: دو بستیوں سے مراد مکہ مکرمہ اور طائف کے شہر ہیں۔ چونکہ اس علاقے میں یہی دو بڑے شہر تھے، اس لیے مشرکین نے یہ کہا کہ ان شہروں کے دولت مند سرداروں پر قرآن نازل ہونا چاہیے تھا۔
Ayah 43:32

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

بھلا کیا یہ لوگ ہیں جو تمہارے پروردگار کی رحمت تقسیم کریں گے ؟ (8) دنیوی زندگی میں ان کی روزی کے ذرائع بھی ہم نے ہی ان کے درمیان تقسیم کر رکھے ہیں اور ہم نے ہی ان میں سے ایک کو دوسرے پر درجات میں فوقیت دی ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔ اور تمہارے پروردگار کی رحمت تو اس (دولت) سے کہیں بہتر چیز ہے جو یہ جمع کر رہے ہیں۔ (9)

8: یہاں رحمت سے مراد نبوت ہے، اور مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ جو تجویز پیش کر رہے ہیں کہ قرآن مکہ یا طائف کے کسی بڑے آدمی پر نازل ہونا چاہیے تھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو اس فیصلے کا حق دار سمجھتے ہیں کہ نبوت کی رحمت کس کو عطا کی جائے، کسی کو نہ کی جائے۔ 9: یہاں پھر رحمت سے مراد نبوت ہے، اور مطلب یہ ہے کہ نبوت تو بہت اعلی درجے کی چیز ہے اس کی تقسیم کا کام ان لوگوں کے حوالے کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، دنیا کا مال و دولت اور روزی کے ذرائع جو نبوت سے بہت کم درجے کی چیز ہے ان کی تقسیم بھی ہم نے ان لوگوں کے حوالے نہیں کی، کیونکہ یہ اس کے بھی اہل نہیں تھے، ، بلکہ خود ایسا نظام بنایا ہے جس کے ذریعے ہر شخص کو اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے دوسرے کا محتاج بنادیا ہے، اس باہمی احتیاج کی بنیاد پر لوگوں کی آمدنی میں بھی فرق ہے، اور اسی فرق کی بنیاد پر ایک شخص دوسرے کی حاجتیں پوری کرتا ہے ؛ تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں، کا یہی مطلب ہے، اس مسئلے کی مکمل تفصیل کے لئے اس آیت کے تحت تفسیر معارف القرآن کا مطالعہ فرمایا جائے۔
Ayahs 43:33–35

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمام انسان ایک ہی طریقے کے (یعنی کافر) ہوجائیں گے تو جو لوگ خدائے رحمن کے منکر ہیں، ہم ان کے لیے ان گھروں کی چھتیں بھی چاندی کی بنا دیتے، اور وہ سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں۔

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان کے گھروں کے دروازے بھی، اور وہ تخت بھی جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں۔

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

بلکہ انہیں سونا بنا دیتے، اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ بھی نہیں، صرف دنیوی زندگی کا سامان ہے۔ (10) اور آخرت تمہارے پروردگار کے نزدیک پرہیزگاروں کے لیے ہے۔

10: بتلانا یہ مقصود ہے کہ دنیا کا مال و دولت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی بےحقیقت چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں سے ناراض ہونے کے باوجود ان کے آگے سونے چاندی کے ڈھیر لگاسکتا ہے، اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ مال و دولت کی حقیقت نہ سمجھنے کی وجہ سے کافروں کی دولت دیکھ کر کافر ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کافروں کے گھر اور ان کے گھر کا سارا ساز و سامان سونے چاندی کا بنا دیتا ، کیونکہ وہ فنا ہونے والی چیزیں ہیں، اور اصل دولت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت کی ابدی زندگی کی خوش حالی ہے، جو پرہیزگاروں ہی کو نصیب ہوتی ہے، لہذا کسی دولت مند شخص پر نازل کرنے کا مطالبہ سراسر لغو مطالبہ ہے۔
Ayah 43:36

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو شخص خدائے رحمن کے ذکر سے اندھا بن جائے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ (11)

11: اس سے معلوم ہوا کہ بےفکری کے ساتھ گناہ کئے جانے اور اس پر شرمندہ نہ ہونے کا ایک عذاب یہ ہوتا ہے کہ ایسے شخص پر شیطان مسلط ہوجاتا ہے جو اسے نیکی کی طرف آنے نہیں دیتا، اور گناہ کی زندگی پر ہی مگن رکھتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 43:37–39

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

ایسے شیاطین ان کو راستے سے روکتے رہتے ہیں، اور وہ سمجھتے ہی کہ ہم ٹھیک راستے پر ہیں۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ایسا شخص ہمارے پاس آئے گا تو (اپنے شیطان ساتھی سے) کہے گا کہ : کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا، کیونکہ تو بہت برا ساتھی تھا۔

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اور آج جب تم ظلم کرچکے ہو تو تمہیں یہ بات ہرگز کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی کہ تم عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہو۔ (12)

12: دنیا میں یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک ہی قسم کی تکلیف بہت سے آدمیوں کو ایک ساتھ ہورہی ہو تو اس سے ہر ایک کے دل میں تکلیف کا احساس کچھ کم ہوجاتا ہے کہ اس تکلیف میں میں تنہا نہیں ہوں، بلکہ دوسرے بھی میرے ساتھ شریک ہیں، لیکن دوزخ میں ایسا نہیں ہوگا، کیونکہ ہر ایک کی تکلیف اتنی زیادہ ہوگی کہ دوسروں کے اسی تکلیف میں مبتلا ہونے کے احساس سے بھی اس میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔