43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsآسان قرآن

Ayahs 43:80–81

اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 43:80 in the Quran reader

کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کی خفیہ باتیں اور ان کی سرگوشیاں نہیں سنتے ؟ کیسے نہیں سنتے ؟ نیز ہمارے فرشتے ان کے پاس ہیں، وہ سب کچھ لکھتے رہتے ہیں۔

قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ١ۖۗ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ Open ayah 43:81 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ : اگر خدائے رحمن کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلا عبادت کرنے والا میں ہوتا۔ (21)

21: اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہونے کا کوئی امکان ہے، بلکہ یہ بات فرض محال کے طور پر کہی گئی ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تمہارے عقائد کا جو انکار کر رہا ہوں، وہ کسی ہٹ دھرمی یا عناد کی وجہ سے نہیں کر رہا، بلکہ دلائل کی بناء پر کر رہا ہوں، اور اگر دلیل سے اللہ تعالیٰ کی کسی اولاد کا کوئی ثبوت ہوتا تو میں اس سے کبھی انکار نہ کرتا۔
Ayahs 43:82–86

سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 43:82 in the Quran reader

وہ جو آسمانوں اور زمین کا بھی مالک ہے، عرش کا بھی مالک، وہ ان ساری باتوں سے پاک ہے جو یہ بنایا کرتے ہیں۔

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ Open ayah 43:83 in the Quran reader

لہذا (اے پیغمبر) انہیں اپنے حال پر چھوڑ دو کہ یہ ان باتوں میں ڈوبے رہیں، اور ہنسی کھیل کرتے رہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے جاملیں جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 43:84 in the Quran reader

وہی (اللہ) ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے۔ اور وہی ہے جو حکمت کا بھی مالک ہے، علم کا بھی مالک۔

وَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۚ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 43:85 in the Quran reader

اور بڑی شان ہے اس کی جس کے قبضے میں آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان تمام چیزوں کی سلطنت ہے اور اسی کے پاس قیامت کا علم ہے، اور اسی کے پاس تم سب کو واپس لے جایا جائے گا۔

وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 43:86 in the Quran reader

اور یہ لوگ اسے چھوڑ کر جن معبودوں کو پکارتے ہیں، انہیں کوئی سفارش کرنے کا اختیار نہیں ہوگا، ہاں البتہ جن لوگوں نے حق بات کی گواہی دی ہو، اور انہیں اس کا علم بھی ہو۔ (22)

22: یعنی جن بتوں وغیرہ کو مشرکین نے اس اعتقاد سے خدائی میں اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کریں گے تو درحقیقت ان کو سفارش کرنے کا کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔ البتہ جو لوگ کسی کے بارے میں سچی گواہی دیں، اور پورے علم کے ساتھ دیں کہ وہ واقعی مومن تھا تو اس کی گواہی بیشک قبول کی جائے گی اور اس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ ”جن لوگوں نے حق کی گواہی دی ہو“ سے مراد وہ ہیں جنہوں نے ایمان قبول کر کے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضور اقدس ﷺ کے سچا پیغمبر ہونے کی گواہی دی ہو، ایسے لوگوں کی سفارش اللہ تعالیٰ کی اجازت سے قبول کی جائے گی۔
Ayahs 43:87–88

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ Open ayah 43:87 in the Quran reader

اور اگر تم ان لوگوں سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ نے۔ اس کے باوجود کوئی انہیں کہاں سے اوندھا چلا دیتا ہے ؟

وَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَۘ Open ayah 43:88 in the Quran reader

اور اللہ کو پیغمبر کی اس بات کا بھی علم ہے کہ : یا رب ! یہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔ (23)

23: یہ جملہ یہ واضح کرنے کے لیے لایا گیا ہے کہ ان کافروں پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہونے کے کتنے شدید اسباب موجود ہیں۔ ایک طرف تو ان کے جرائم بذات خود بڑے سخت ہیں، اور دوسری طرف حضور نبی کریم ﷺ جو رحمۃ للعالمین اور شفیع المذنبین ہیں، وہ ان کی سفارش کے بجائے ان کی شکایت کریں تو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے آپ کو کتنی اذیتیں پہنچائی ہوں گی، ورنہ معمولی بات پر آپ جو سراپا رحمت ہیں ایسی پر درد شکایت نہ فرماتے۔
Ayah 43:89

فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ١ؕ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 43:89 in the Quran reader

لہذا (اے پیغمبر) تم ان کی پرواہ نہ کرو، اور کہہ دو : سلام۔ (24) کیونکہ عنقریب انہیں خود سب پتہ چل جائے گا۔

24: یہاں سلام کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے خوبصورتی کے ساتھ قطع تعلق کرلیا جائے، یعنی تمہاری کٹ حجتی کے بعد اب میں تم سے مزید بحث کرنے کے بجائے تم سے شائستگی کے ساتھ علیحدگی اختیار کرلیتا ہوں۔