43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsآسان قرآن

Ayahs 43:40–45

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

تو پھر (اے پیغمبر) کیا تم بہروں کو سناؤ گے، یا اندھوں کو اور ان لوگوں کو راستے پر لاؤ گے جو کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ؟

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ Open ayah 43:41 in the Quran reader

اب تو یہی ہوگا کہ اگر ہم تمہیں دنیا سے اٹھالیں، تب بھی ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں۔

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ Open ayah 43:42 in the Quran reader

یا اگر تمہیں بھی وہ (عذاب) دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے، تب بھی ہمیں ان پر ہر طرح کی قدرت حاصل ہے۔

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 43:43 in the Quran reader

لہذا تم پر جو وحی نازل کی گئی ہے، اسے مضبوطی سے تھامے رکھو۔ یقینا تم سیدھے راستے پر ہو۔

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:44 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ یہ وحی تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے ایک نیک نامی کا ذریعہ ہے، اور تم سب سے پوچھا جائے گا (کہ تم نے اس کا کیا حق ادا کیا ؟)

وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ Open ayah 43:45 in the Quran reader

اور تم سے پہلے ہم نے اپنے جو پیغمبر بھیجے ہیں، ان سے پوچھ لو (13) کہ کیا ہم نے خدائے رحمن کے سوا کوئی اور معبود بھی مقرر کیے تھے جن کی عبادت کی جائے ؟

13: یعنی ان پر جو آسمانی کتابیں نازل ہوئی تھیں، ان میں دیکھ لو کہ ان کو کیا تعلیم دی گئی تھی۔
Ayahs 43:46–48

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 43:46 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تھا، چنانچہ موسیٰ نے کہا کہ : میں رب العالمین کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ Open ayah 43:47 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ہماری نشانیاں ان کے سامنے پیش کیں تو وہ ان کا مذاق اڑانے لگے۔

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:48 in the Quran reader

اور ہم انہیں جو نشانی بھی دکھاتے، وہ پہلی نشانی سے بڑھ چڑھ کر ہوتی تھی، اور ہم نے انہیں عذاب میں بھی پکڑا تاکہ وہ باز آجائیں۔ (14)

14: ان سے مراد وہ بلائیں ہیں جن میں مصر والوں کو یکے بعد دیگرے مبتلا کیا گیا، اور جن کی تفصیل سورة اعراف : 133 تا 135 میں گذر چکی ہے۔
Ayahs 43:49–54

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 43:49 in the Quran reader

اور وہ یہ کہنے لگے کہ : اے جادوگر ! تم سے تمہارے پروردگار نے جو عہد کر رکھا ہے اس کا واسطہ دے کر اس سے ہمارے لیے دعا کرو، ہم یقینا راہ راست پر آجائیں گے۔

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 43:50 in the Quran reader

پھر جب ہم ان سے عذاب کو دور کردیتے ہیں تو پل بھر میں وہ اپنا وعدہ توڑ ڈالتے تھے۔

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ Open ayah 43:51 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کے درمیان پکار کر کہا کہ : اے میری قوم ! کیا مصر کی سلطنت میرے قبضے میں نہیں ہے ؟ اور (دیکھو) یہ دریا میرے نیچے بہہ رہے ہیں۔ کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا ؟

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ Open ayah 43:52 in the Quran reader

یا پھر مانو کہ میں اس شخص سے کہیں بہتر ہوں جو بڑا حقیر قسم کا ہے، اور اپنی بات کھل کر کہنا بھی اس کے لیے مشکل ہے۔

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ Open ayah 43:53 in the Quran reader

بھلا (اگر یہ پیغبر ہے تو) اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے ؟ یا پھر اس کے ساتھ فرشتے پر باندھے ہوئے کیوں نہ آئے ؟

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 43:54 in the Quran reader

اس طرح اس نے اپنی قوم کو بیوقوف بنایا اور انہوں نے اس کا کہنا مان لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب گنہگار لوگ تھے۔ (15)

15: اس میں فرعون کو بھی گنہگار کہا گیا ہے، اور اس کی قوم کو بھی۔ فرعون تو اس لیے گنہگار تھا کہ اس نے اپنی سلطنت کو خدائی کی علامت قرار دے کر خدائی کا دعوی کیا، اور اپنی قوم کو بیوقوف بنایا اور اس کی قوم اس لیے گنہگار تھی کہ اس نے ایسے گمراہ شخص کو اپنا حکمران تسلیم کیا، اور اس کی تمام گمراہیوں میں اس کی پیروی کی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی قوم پر کوئی گمراہ شخص مسلط ہوجائے، اور وہ اپنی طاقت کے مطابق اسے ہٹانے کی کوشش کرنے کے بجائے ہر غلط کام میں اس کی اطاعت کئے جائے تو وہ بھی مجرم قرار پاتی ہے۔
Ayahs 43:55–57

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 43:55 in the Quran reader

چنانچہ جب انہوں نے ہمیں ناراض کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 43:56 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں ایک گئی گزری قوم اور بعد والوں کے لیے عبرت کا نمونہ بنادیا۔

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ Open ayah 43:57 in the Quran reader

اور جب (عیسیٰ) ابن مریم کی مثال دی گئی تو تمہاری قوم کے لوگ یکایک شور مچانے لگے۔ (16)

16: جب سورة انبیاء کی وہ آیت نازل ہوئی جس میں بت پرستوں کو خطاب کر کے فرمایا گیا تھا کہ یقین رکھو کہ تم اور جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، وہ سب جہنم کا ایندھن ہیں : 98۔ تو ایک کافر نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کی بھی عبادت کرتے ہیں، اس لیے اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ (معاذ اللہ) وہ بھی جہنم کا ایندھن بنیں، حالانکہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر تھے۔ اس کی یہ بات سن کر دوسرے کافروں نے خوب شور مچایا کہ واقعی اس شخص نے بہت زبردست اعتراض کیا ہے۔ حالانکہ اعتراض بالکل لغو تھا، کیونکہ اس آیت میں بت پرستوں سے خطاب تھا، عیسائیوں سے نہیں، اور اس میں بتوں کے علاوہ وہ لوگ شامل تھے جنہوں نے لوگوں کو اپنی عبادت کا حکم دیا ہو۔ لہذا اس میں حضرت عیسیٰ ؑ کے داخل ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ یہ آیتیں اس موقع پر نازل ہوئی تھیں۔ اس آیت کے شان، نزول میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ کافر لوگوں میں سے کسی نے یہ کہا تھا کہ آنحضرت ﷺ کسی وقت اپنے آپ کو اسی طرح خدا کا بیٹا قرار دیں گے جیسے حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا کا بیٹا قرار دیا تھا، اس پر بھی دوسرے مشرکین نے اس کی تعریف میں خوشی سے شور مچایا، اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ دونوں روایتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے، ہوسکتا ہے کہ دونوں واقعے پیش آئے ہوں، اور اللہ تعالیٰ نے دونوں کا جامع جواب اس آیت کے ذریعے نازل فرما دیا ہو۔
Ayahs 43:58–60

وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ Open ayah 43:58 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ : ہمارے معبودبہتر ہیں یا وہ ؟ انہوں نے تمہارے سامنے یہ مثال محض کٹ حجتی کے لیے دی ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 43:59 in the Quran reader

وہ (یعنی عیسیٰ ؑ) تو بس ہمارے ایک بندے تھے جن پر ہم نے انعام کیا تھا، اور بنی اسرائیل کے لیے ان کو ایک نمونہ بنایا تھا۔

وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ Open ayah 43:60 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کردیں جو زمین میں ایک دوسرے کے جانشین بن کر رہا کریں۔ (17)

17: جب حضرت عیسیٰ ؑ کا ذکر آیا تو اللہ نے واضح فرما دیا کہ نہ خود انہوں نے اپنی خدائی کا دعویٰ کیا تھا اور نہ ہم نے انہیں اپنا بیٹا قرار دیا تھا، بلکہ انہیں اپنی قدرت کی ایک نشانی بنا کر بھیجا تھا کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ عیسائی لوگ اس بناء پر انہیں خدا کہنے لگے، حالانکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا خدائی کی کوئی دلیل نہیں ہے، کیونکہ حضرت آدم ؑ ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے تھے، اور انہیں کوئی بھی خدا نہیں مانتا، در حقیقت ان کی پیدائش اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک مظاہرہ تھا، اور اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو اس سے بھی زیادہ عجیب کام کردیں کہ انسانوں سے فرشتے پیدا کردیں جو اسی طرح ایک دوسرے کے جانشین ہوں جیسے انسان ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہیں۔
Ayah 43:61

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:61 in the Quran reader

اور یقین رکھو کہ وہ (یعنی عیسیٰ ؑ) قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ (18) اس لیے تم اس میں شک نہ کرو، اور میری بات مانو، یہی سیدھا راستہ ہے۔

18: یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کا باپ کے بغیر پیدا ہونا قیامت میں تمام انسانوں کے دوبارہ زندہ ہونے کی بھی ایک دلیل ہے، کیونکہ دوسری زندگی پر کافروں کو یہی تو اعتراض ہے کہ ایسا ہونا بہت عجیب اور خلاف عادت ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کا بغیر باپ کے پیدا ہونا بھی خلاف عادت اور عجیب تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت سے یہ واقعہ ہوا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت سے تمام مردوں کو دوسری زندگی ملے گی۔ یہ اس آیت کی ایک تفسیر ہے جو حضرت حکیم الامت نے بیان القرآن میں اختیار فرمائی ہے۔ اور دوسرے بعض مفسرین نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ قیامت کی علامتوں میں سے ہیں، یعنی وہ قیامت کے قریب آسمان سے دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے، اور ان کی تشریف آوری اس بات کی علامت ہوگی کہ قیامت قریب آگئی ہے۔
Ayahs 43:62–77

وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:62 in the Quran reader

اور ایسا ہرگز نہ ہونے پائے کہ شیطان تمہیں اس راستے سے روک دے۔ یقین جانو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 43:63 in the Quran reader

اور جب عیسیٰ کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے تھے تو انہوں نے (لوگوں سے) کہا تھا کہ : میں تمہارے پاس دانائی کی بات لے کر آیا ہوں، اور اس لیے لایا ہوں کہ تمہارے سامنے کچھ وہ چیزیں واضح کردوں جن میں تم اختلاف کرتے ہو۔ لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مان لو۔

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:64 in the Quran reader

یقینا اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے، اس لیے اس کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 43:65 in the Quran reader

پھر بھی ان میں سے کئی گروہوں نے اختلاف پیدا کیا، چنانچہ ان ظالموں کے لیے ایک دردناک دن کے عذاب کی وجہ سے بڑی خرابی ہوگی۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 43:66 in the Quran reader

یہ لوگ بس اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ قیامت ان کے سامنے اچانک آکھڑی ہو، اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ Open ayah 43:67 in the Quran reader

اس دن تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے، سوائے متقی لوگوں کے۔

یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 43:68 in the Quran reader

(جن سے کہا جائے گا کہ) اے میرے بندو ! آج تم پر نہ کوئی خوف طاری ہوگا اور نہ تم غمگین ہوگے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 43:69 in the Quran reader

اے میرے وہ بندو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے تھے اور فرمانبردار رہے تھے۔

اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ Open ayah 43:70 in the Quran reader

تم بھی اور تمہاری بیویاں بھی، خوشی سے چمکتے چہروں کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ١ۚ وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُ١ۚ وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 43:71 in the Quran reader

ان کے آگے سونے کے پیالے اور گلاس گردش میں لائے جائیں گے۔ اور اس جنت میں ہر وہ چیز ہوگی جس کی دلوں کو خواہش ہوگی اور جس سے آنکھوں کو لذت حاصل ہوگی۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) اس جنت میں تم ہمیشہ رہو گے۔

وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 43:72 in the Quran reader

اور یہ وہ جنت ہے جس کا تمہیں اپنے اعمال کے بدلے وارث بنادیا گیا ہے۔

لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 43:73 in the Quran reader

اس میں تمہارے لیے خوب افراط کے ساتھ میوے ہیں جن میں سے تم کھاؤ گے۔

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ Open ayah 43:74 in the Quran reader

البتہ جو لوگ مجرم تھے وہ دوزخ کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔

لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ Open ayah 43:75 in the Quran reader

وہ عذاب ان کے لیے ہلکا نہیں پڑنے دیا جائے گا، اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے۔

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 43:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، لیکن وہ خود ہی ظالم لوگ تھے۔

وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ Open ayah 43:77 in the Quran reader

اور وہ (دوزخ کے فرشتے سے) پکار کر کہیں گے کہ : اے مالک ! تمہارا پروردگار ہمارا کام ہی تمام کردے۔ (19) وہ کہے گا کہ تمہیں اسی حال میں رہنا ہے۔

19: دوزخ کی نگرانی پر جو فرشتہ مقرر ہے، اس کا نام مالک ہے۔ دوزخی لوگ عذاب کی شدت سے تنگ آ کر مالک سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرو کہ وہ ہمیں موت ہی دیدے۔ جواب میں مالک کی طرف سے کہا جائے گا کہ تمہیں اسی دوزخ میں زندہ رہنا ہوگا۔
Ayahs 43:78–79

لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 43:78 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم تمہارے پاس حق بات لے کر آئے تھے لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق بات ہی کو برا سمجھتے ہیں۔

اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ Open ayah 43:79 in the Quran reader

ہاں کیا ان لوگوں نے کچھ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ؟ اچھا تو ہم بھی کچھ کرنے کا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ (20)

20: مکہ مکرمہ کے کافر آنحضرت ﷺ کے خلاف خفیہ منصوبے بناتے رہتے تھے، مثلاً انہوں نے آپ کو گرفتار کرنے یا قتل کرنے کے لیے سازش تیار کی تھی جس کا ذکر سورة انفال : 30 میں گذرا ہے۔ اسی قسم کی کسی سازش کے موقع پر یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ اگر انہوں نے آپ کے خلاف کچھ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو ہم نے بھی فیصلہ کرلیا ہے کہ ان کی سازش خود انہی کے خلاف پڑے گی۔