61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الصّفِّ یہ سورت مدینہ منورہ میں اس وقت نازل ہوئی تھی جب منافقین آس پاس کے یہودیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کررہے تھے، اس سورت میں بنی اسرائیل کے یہودیوں کا یہ کردار خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے خود اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو طرح طرح سے تکلیفیں پہنچائیں، جس کے نتیجے میں ان کے مزاج میں ٹیڑھ پیدا ہوگئی، اور جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے تو انہوں نے ان کی نبوت کا بھی انکار کیا اور انہوں نے حضور سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کی جو بشارتیں دی تھیں ان پر بھی کان نہیں دھرا ؛ چنانچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو انہوں نے نہ صرف یہ کہ آپ کی نبوت پر ایمان لانے سے انکار کردیا ؛ بلکہ آپ کے خلاف سازشیں شروع کردیں، بنی اسرائیل کے اس کردار کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ اس سورت میں مخلص مسلمانوں کو یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ اگر انہوں نے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ٹھیک ٹھیک پیروی کی اور وہ کام کئے جن کا اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں خاص طور پر حکم دیا ہے اور ان میں جہاد خصوصی اہمیت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو عنقریب فتح ونصرت عطا فرمانے والے ہیں، جس کے نتیجے میں منافقین اور یہودیوں کی ساری سازشیں خاک میں مل جائیں گی، اس سیاق میں اس سورت کی چوتھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان مسلمانوں کی تعریف فرمائی ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں صف بناکر جہاد کرتے ہیں، اس مناسبت سے اس سورت کا نام سورة صف ہے۔

Ayah 61:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو بھی کوئی چیز ہے، اس نے اللہ کی تسبیح کی ہے اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔ (1)

1: یہ بات کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے، پیچھے کئی مقامات پر گذر چکی ہے، مثلاً سورة نور : 36 اور 41 اور سورة حشر : 24 اور سورة بنی اسرائیل : 44 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم ان کی تسیح کو سمجھتے نہیں ہو۔ پیچھے سورة حدید اور سورة حشر کو اور آگے سورة جمعہ اور سورة تغابن کو اللہ تعالیٰ نے اسی حقیقت کے بیان سے شروع فرمایا ہے اور بظاہر اس بات پر تنبیہ مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر تمہیں اپنی توحید پر ایمان لانے اور اپنی عبادت کرنے کا حکم دے رہا ہے تو اس میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ اس کی ذات بےنیاز ہے، تم اس کی عبادت کرو یا نہ کرو، کائنات کی ہر چیز اس کے آگے سر بہ خم ہے۔
Ayahs 61:2–4

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ؟ (2)

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

اللہ کے نزدیک یہ بات بڑی قابل نفرت ہے کہ تم ایسی بات کہو جو کرو نہیں۔

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کے راستے میں اس طرح صف بنا کر لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہوں۔

2: امام احمد اور امام بغوی نے روایت نقل کی ہے کہ بعض صحابہ کرام نے آپس میں اس قسم کی باتیں کی تھیں کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کو کونسا عمل سب سے زیادہ پسند ہے تو ہم اس کے لیے جان تک قربان کردیں۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو بلایا، اور یہ سورت انہیں پڑھ کر سنائی، (تفسیر مظہری اور ابن کثیر) اس میں پہلے تو انہیں یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ کوئی ایسی بات زبان سے نہیں نکالنی چاہیے جس میں دعوے کا کوئی پہلو نکلتا ہو کہ میں فلاں کام ضرور کروں گا، کیونکہ عین ممکن ہے کہ کسی وجہ سے وہ کام ہو نہ سکے اور دعویٰ جھوٹا ہوجائے، اور انسان جو کچھ کہہ رہا ہے، وہ کر نہ سکے۔ ہاں اپنے اوپر بھروسہ کرنے کے بجائے عاجزی کے ساتھ کوئی ارادہ ظاہر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کے بعد ان کی خواہش کے مطابق بتادیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو جہاد کا عمل بہت پسند ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ قرآن و حدیث میں بہت سے اعمال کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ مختلف حالات اور مختلف انسانوں کے لحاظ سے مختلف اعمال کو سب سے زیادہ محبوب قرار دیا گیا ہے، مثلاً کسی وقت جہاد ہو رہا ہو تو اس وقت وہی عمل سب سے زیادہ محبوب ہوگا، کسی وقت کسی کے والدین کو خدمت کی ضرورت ہے تو اس وقت ان کی خدمت ہی سب سے بہتر عمل قرار پائے گا۔
Ayah 61:5

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : اے میری قوم کے لوگو ! تم مجھے تکلیف کیوں پہنچاتے ہو، حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس اللہ کا پیغمبر بن کر آیا ہوں ؟ (3) پھر جب انہوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا، (4) اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

3: حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی قوم نے کس کس طرح تکلیفیں پہنچائیں، اس کی تفصیل سورة بقرہ : 59 وغیرہ میں گذر چکی ہے۔ 4: یعنی جان بوجھ کر ہٹ دھرمی کرنے کی یہ سزا دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل ایسے ٹیڑھے کردئیے کہ اب ان میں حق بات قبول کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔
Ayah 61:6

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا تھا کہ : اے بنو اسرائیل میں تمہارے پاس اللہ کا ایسا پیغمبر بن کر آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو تورات (نازل ہوئی) تھی، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں، اور اس رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا، جس کا نام احمد ہے۔ (5) پھر جب وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ کہنے لگے کہ : یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

5: ”احمد“ حضور اقدس ﷺ کا نام ہے، اور حضرت عیسیٰ ؑ نے اسی نام سے آپ کی بشارت دی تھی۔ اس قسم کی ایک بشارت آج بھی انجیل یوحنا میں تحریف شدہ حالت میں موجود ہے۔ انجیل یوحنا کی عبارت یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنے حواریوں سے فرمایا : ”اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے“ (یوحنا : 16)۔ یہاں جس لفظ کا ترجمہ مددگار کیا گیا ہے۔ وہ اصل یونانی میں ”فار قلیط“ (Periclytos) تھا جس کے معنی ہیں ”قابل تعریف شخص“ اور یہ ”احمد“ کا لفظی ترجمہ ہے لیکن اس لفظ کو ”Paracletus“ سے بدل دیا گیا ہے، جس کا ترجمہ ”مددگار“ اور بعض تراجم میں ”وکیل“ یا ”شفیع“ کیا گیا ہے۔ اگر ”فارقلیط“ کا لفظ مد نظر رکھا جائے تو صحیح ترجمہ یہ ہوگا کہ ”وہ تمہارے پاس اس قابل تعریف شخص (احمد) کو بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گا“۔ اس میں یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ پیغمبر آخر الزماں ﷺ کسی خاص علاقے یا کسی خاص زمانے کے لیے نہیں ہوں گے، بلکہ آپ کی نبوت قیامت تک آنے والے ہر زمانے کے لیے ہوگی۔ نیز برنا باس کی انجیل میں کئی مقامات پر حضور اقدس ﷺ کا نام لے کر حضرت عیسیٰ ؑ کی بشارتیں موجود ہیں۔ اگرچہ عیسائی مذہب والے اس انجیل کو معتبر نہیں مانتے، لیکن ہمارے نزدیک وہ ان چاروں انجیلوں سے زیادہ مستند ہے جنہیں عیسائی مذہب میں معتبر مانا گیا ہے۔ اس کے مفصل دلائل میں نے اپنی کتاب ”عیسائیت کیا ہے ؟“ میں بیان کیے ہیں۔
Ayahs 61:7–8

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے، جبکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جارہا ہو ؟ (6) اور اللہ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ سے اللہ کے نور کو بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کی تکمیل کر کے رہے گا، چاہے کافروں کو یہ بات کتنی بری لگے۔

6: جس شخص کو اسلام کی دعوت دی جائے اور وہ کسی پیغمبر کی رسالت کا انکار کرے تو درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ پر یہ جھوٹ باندھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیغمبر بنا کر نہیں بھیجا۔
Ayah 61:9

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچائی کا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ وہ اسے تمام دوسرے دینوں پر غالب کردے، (7) چاہے مشرک لوگوں کو یہ بات کتنی بری لگے۔

7: دلیل اور حجت کے میدان میں تو اسلام ہمیشہ سے غالب ہے، اور رہے گا، البتہ دنیا میں مسلمانوں کا غلبہ بہت سی شرائط سے مشروط ہے اس لیے آنحضرت ﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانوں میں، نیز اس کے بعد بھی صدیوں تک مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوا، پھر ان شرائط کے فقدان کی وجہ سے یہ غلبہ ختم ہوا۔ اور آخر زمانے میں آنحضرت ﷺ نے بشارت دی ہے کہ اسلام اور مسلمان پھر دنیا پر غالب ہوں گے۔
Ayahs 61:10–13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 61:10 in the Quran reader

اے ایمان والو ! کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کا پتہ دوں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دلا دے ؟ (8)

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 61:11 in the Quran reader

(وہ یہ ہے کہ) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اپنے مال و دولت اور اپنی جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہترین بات ہے، اگر تم سمجھو۔

یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ Open ayah 61:12 in the Quran reader

اس کے نتیجے میں اللہ تمہاری خاطر تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں ان باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ایسے عمدہ گھروں میں بسائے گا جو ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں واقع ہوں گے۔ یہی زبردست کامیابی ہے۔

وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 61:13 in the Quran reader

اور ایک اور چیز تمہیں دے گا جو تمہیں پسند ہے (اور وہ ہے) اللہ کی طرف سے مدد، اور ایک ایسی فتح جو عنقریب حاصل ہوگی، اور (اے پیغمبر) ایمان والوں کو (اس بات کی) خوشخبری سنا دو۔

8: تجارت میں کوئی چیز کسی کو دے کر اس کی قیمت حاصل کی جاتی ہے، اسی طرح ایک مسلمان اپنی جان و مال اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے صلے میں جنت اور عذاب سے رہائی عطا فرماتے ہیں۔ دیکھئے سورة توبہ : 111
Ayah 61:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ١ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ۠ Open ayah 61:14 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اللہ (کے دین) کے مددگار بن جاؤ، اسی طرح جیسے عیسیٰ بن مریم ؑ نے حواریوں (9) سے کہا تھا کہ : وہ کون ہیں جو اللہ کے واسطے میرے مددگار بنیں ؟ حواریوں نے کہا : ہم اللہ کے (دین کے) مددگار ہیں۔ پھر بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا، اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا، چنانچہ جو لوگ ایمان لائے تھے ہم نے ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کی، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ غالب آئے۔

9: ”حواری“ حضرت عیسیٰ ؑ کے ان ساتھیوں کو کہتے ہیں جو آپ پر ایمان لائے تھے، جیسے حضور اقدس ﷺ کے ساتھیوں کو ”صحابہ“ کہا جاتا ہے۔