62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الجمعہ اس سورت کے پہلے رکوع میں حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور آپ کی بعثت کے مقاصد بیان فرما کر پوری انسانیت کو آپ پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے، اور خاص طور پر یہودیوں کی مذمت کی گئی ہے، کہ وہ جس کتاب یعنی تورات پر ایمان رکھنے کا دعوی کرتے ہیں، اس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کی بشارت موجود ہے، اسکے باوجود وہ آپ پر ایمان نہ لاکر خود اپنی کتاب کی خلاف ورزی کررہے ہیں، پھر دوسرے رکوع میں مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ان کی تجارتی سرگرمیاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں، چنانچہ حکم دیا گیا ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد ہر قسم کی خریدو فروخت بالکل ناجائز ہے، نیز جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دے رہے ہوں اس وقت کسی تجارتی کام کے لئے آپ کو چھوڑ کر چلے جانا جائز نہیں ہے، اور اگر دنیوی مصروفیات کا شوق کسی دینی فریضے میں رکاوٹ بننے لگے تو اس بات کا دھیان کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے لئے آخرت میں جو کچھ تیار کر رکھا ہے وہ دنیا کی ان دلفریبیوں سے کہیں زیادہ بہتر ہے، اور دینی فرائض کو رزق کی خاطر چھوڑنا سراسر نادانی ہے ؛ کیونکہ رزق دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، لہذا رزق اس کی نافرمانی کرکے نہیں ؛ بلکہ اس کی اطاعت کرکے طلب کرنا چاہیے، چونکہ دوسرے رکوع میں جمعہ کے احکام بیان فرمائے گئے ہیں، اس لئے اس سورت کا نام جمعہ ہے۔

Ayahs 62:1–2

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 62:1 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو چیز بھی ہے وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے جو بادشاہ ہے بڑے تقدس کا مالک ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے جس کی حکمت بھی کامل۔

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 62:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے امی لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول کو بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتوں کی تلاوت کریں اور ان کو پاکیزہ بنائیں اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیں، جبکہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ (1)

1: آنحضرت ﷺ کی بعثت کے یہی مقاصد سورة بقرہ : 129 اور سورة آل عمران : 164 میں بھی بیان فرمائے گئے ہیں۔
Ayah 62:3

وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 62:3 in the Quran reader

اور (یہ رسول جن کی طرف بھیجے گئے ہیں) ان میں کچھ اور بھی ہیں جو ابھی ان کے ساتھ آکر نہیں ملے۔ (2) اور وہ بڑے اقتدار والا، بڑی حکمت والا ہے۔

2: اس کا مقصد یہ ہے کہ حضور اقدس ﷺ صرف ان عربوں کے لیے رسول بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے جو آپ کے زمانے میں موجود تھے بلکہ آپ تو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں چاہے وہ کسی نسل سے تعلق رکھتے ہوں۔
Ayah 62:4

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 62:4 in the Quran reader

یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ (3)

3: یہودی یہ چاہتے تھے کہ آخر زمانے کے نبی انہی میں سے یعنی بنی اسرائیل میں سے آئیں، اور عرب کے بت پرست یہ کہتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو کوئی نبی بھیجنا تھا تو وہ ہمارے بڑے سرداروں میں سے کوئی ہونا چاہیے تھا (دیکھئے سورة زخرف : 31) اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ نبوت و رسالت اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے، دیتا ہے۔ کسی اور کے لیے اس معاملے میں دخل دینے کی گنجائش نہیں ہے۔
Ayah 62:5

مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:5 in the Quran reader

جن لوگوں پر تورات کا بوجھ ڈالا گیا، پھر انہوں نے اس کا بوجھ نہیں اٹھایا، (4) ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو بہت سی کتابیں لادے ہوئے ہو۔ بہت بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا، اور اللہ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

4: اس میں یہ بات بھی داخل ہے کہ انہیں نبی آخرالزماں ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن وہ آپ پر ایمان نہیں لائے۔
Ayah 62:6

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 62:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان سے) کہو کہ : اے لوگو جو یہودی بن گئے ہو، اگر تمہارا دعوی یہ ہے کہ سارے لوگوں کو چھوڑ کر تم ہی اللہ کے دوست ہو تو موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو۔ (5)

5: یہ بات سورة بقرہ : 95 میں بھی فرمائی گئی ہے۔ یہ بہت آسان چیلنج تھا جو یہودیوں کو دیا گیا تھا، ان کے لیے کچھ مشکل نہ تھا کہ سامنے آ کر یہ کہہ دیں کہ ہم موت کی تمنا کرتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی یہ کہنے کے لیے آگے نہیں بڑھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا ہوا چیلنج ہے، اس لیے جونہی وہ یہ تمنا کریں گے، واقعی انہیں موت آجائے گی۔
Ayahs 62:7–9

وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:7 in the Quran reader

اور انہوں نے اپنے ہاتھوں جو اعمال آگے بھیج رکھے ہیں ان کی وجہ سے یہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے، اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 62:8 in the Quran reader

کہو کہ : جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تم سے آملنے والی ہے، پھر تمہیں اس (اللہ) کی طرف لوٹایا جائے گا جسے تمام پوشیدہ اور کھلی ہوئی باتوں کا پورا علم ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کچھ کیا کرتے تھے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 62:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو، اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ (6) یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھو۔

6: جمعہ کی پہلی اذان کے بعد جمعہ کے لئے روانہ ہونے کے سوا کوئی اور کام جائز نہیں، نیز جب تک نماز جمعہ ختم نہ ہوجائے خریدو فروخت کا کوئی معاملہ جائز نہیں ہے، اللہ کے ذکر سے مراد جمعہ کا خطبہ اور نماز ہے۔
Ayah 62:10

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 62:10 in the Quran reader

پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں منتشر ہوجاؤ، اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ (7) اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔

7: جیسا کہ بارہا گزرچکا ہے، اللہ کا فضل تلاش کرنا قرآن کریم کی اصطلاح میں تجارت وغیرہ کے ذریعے روزگار حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے، لہذا مطلب یہ ہے کہ خریدو فروخت پر جو پابندی اذان کے بعد عائد ہوئی تھی، جمعہ کی نماز ختم ہونے کے بعد وہ اٹھ جاتی ہے اور خریدو فروخت جائز ہوجاتی ہے۔
Ayah 62:11

وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader

اور جب کچھ لوگوں نے کوئی تجارت یا کوئی کھیل دیکھا تو اس کی طرف ٹوٹ پڑے، اور تمہیں کھڑا ہوا چھوڑ دیا۔ (8) کہہ دو کہ : جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل اور تجارت سے کہیں زیادہ بہتر ہے، اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔

8: حافظ ابن کثیر ؒ نے فرمایا ہے کے شروع میں آنحضرت ﷺ جمعہ کی نماز کے بعد خطبہ دیا کرتے تھے، ایک مرتبہ جب جمعہ کی نماز ختم ہوچکی تھی اور آپ خطبہ دے رہے تھے تو ایک قافلہ کچھ سامان لے کر آیا، اور ڈھول بجاکر اسکے آنے کا اعلان بھی کیا جارہا تھا، اس وقت مدینہ منورہ میں کھانے پینے کی چیزوں کی کمی تھی، اس لئے صحابہ کی ایک بڑی تعداد خطبہ چھوڑ کر اس قافلے کی طرف نکل گئی، اور تھوڑے سے افراد مسجد میں رہ گئے، اس آیت میں اس طرح جانے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ خطبہ چھوڑ کر جانا جائز نہیں تھا، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جمعہ کی صرف نماز ہی فرض نہیں ہے، بلکہ خطبہ سننا بھی واجب ہے۔