63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة المنافقون یہ سورت ایک خاص واقعے کے پس منظر میں نازل ہوئی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بنو المصطلق عرب کا ایک قبیلہ تھا، جس کے بارے میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ اطلاع ملی تھی کہ وہ مدینہ منورہ میں حملہ کرنے کے لئے لشکر جمع کررہا ہے، آپ اپنے صحابہ کرام کے ساتھ خود وہاں تشریف لے گئے، ان سے جنگ ہوئی اور آخر کار ان لوگوں نے شکست کھائی اور بعد میں مسلمان بھی ہوئے، جنگ کے بعد چند دن آپ نے وہیں ایک چشمے کے قریب پڑاؤ ڈالے رکھا جس کا نام مریسیع تھا، اسی قیام کے دوران ایک مہاجر اور ایک انصاری کے درمیان پانی ہی کے کسی معاملے پر جھگڑا ہوگیا، جھگڑے میں نوبت ہاتھا پائی کی آگئی، اور ہوتے ہوتے مہاجر نے اپنی مدد کے لئے مہاجرین کو پکارا، اور انصاری نے انصار کو، یہاں تک کہ اندیشہ ہوگیا کہ کہیں مہاجرین اور انصار کے درمیان لڑائی نہ چھڑ جائے، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم ہوا تو آپ تشریف لائے اور فرمایا کہ مہاجر اور انصار کے نام پر لڑائی کرنا وہ جاہلانہ عصبیت ہے جس سے اسلام نے نجات دی ہے، آپ نے فرمایا کہ یہ عصبیت کے بدبو دار نعرے ہیں جو مسلمانوں کو چھوڑنے ہوں گے، ہاں مظلوم جو کوئی بھی ہو اس کی مدد کرنی چاہیے، اور ظالم جو کوئی ہو اسے ظلم سے باز رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کے بعد جھگڑا فرو ہوگیا، اور جن حضرات میں ہاتھا پائی ہوئی تھی ان کے درمیان معافی تلافی ہوگئی، یہ جھگڑا تو ختم ہوگیا، لیکن مسلمانوں کے لشکر میں کچھ منافق لوگ بھی تھے جو مال غنیمت میں حصہ دار بننے کے لئے شامل ہوگئے تھے، ان کے سردار عبداللہ بن ابی کو جب اس جھگڑے کا علم ہوا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم نے مہاجروں کو اپنے شہر میں پناہ دے کر اپنے سر پر چڑھا لیا ہے، یہاں تک کہ اب وہ مدینے کے اصل باشندوں پر ہاتھ اٹھانے لگے ہیں، یہ صورت حال قابل برداشت نہیں ہے، پھر اس نے یہ بھی کہا کہ جب ہم مدینہ واپس پہنچیں گے تو جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو نکال باہر کرے گا، اس کا واضح اشارہ اس طرف تھا کہ مدینے کے اصل باشندے مہاجروں کو نکال باہر کریں گے، اس موقع پر ایک مخلص انصاری صحابی حضرت زید بن ارقم (رض) بھی موجود تھے، انہوں نے اس بات کو برا سمجھا اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا کہ عبداللہ ابن ابی نے ایسا کہا ہے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن ابی سے پوچھا تو وہ صاف مکر گیا کہ میں نے یہ بات نہیں کہی، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے درگزر فرمایا کہ شاید حضرت زید بن ارقم کو غلط فہمی ہوئی ہو، حضرت زید بن ارقم کو یہ رنج تھا کہ عبداللہ ابن ابی نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ان کو جھوٹا بنایا، اس کے بعد آپ اپنے صحابہ کے ساتھ وہاں سے روانہ ہوگئے ابھی مدینہ منورہ نہیں پہنچے تھے کہ یہ سورت نازل ہوگئی جس نے حضرت زید بن ارقم کی تصدیق کی اور منافقین کی حقیقت واضح فرمائی۔

Ayah 63:1

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ آپ واقعی اس کے رسول ہیں، اور اللہ (یہ بھی) گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق لوگ جھوٹے ہیں۔

Ayahs 63:2–3

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے۔ (1) پھر یہ لوگ دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت ہی برے ہیں وہ کام جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

یہ ساری باتیں اس وجہ سے ہیں کہ یہ (شروع میں بظاہر) ایمان لے آئے پھر انہوں نے کفر اپنا لیا اس لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، نتیجہ یہ کہ یہ لوگ (حق بات) سمجھتے ہی نہیں ہیں۔

1: جس طرح ڈھال سے تلوار کا بچاؤ کیا جاتا ہے، اسی طرح ان لوگوں نے اپنے بچاؤ کے لیے یہ قسمیں کھالی ہیں کہ وہ مومن ہیں، تاکہ دنیا میں کافروں کا جو برا انجام ہونے والا ہے، یہ اس سے بچ جائیں۔
Ayah 63:4

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

جب تم ان کو دیکھو تو ان کے ڈیل ڈول تمہیں بہت اچھے لگیں، اور اگر وہ بات کریں تو تم ان کی باتیں سنتے رہ جاؤ، (2) ان کی مثال ایسی ہے جیسے یہ لکڑیاں ہیں جو کسی سہارے سے لگا رکھی ہیں، (3) یہ ہر چیخ پکار کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ (4) یہی ہیں جو (تمہارے) دشمن ہیں، اس لیے ان سے ہوشیار رہو۔ اللہ کی مار ہو ان پر۔ یہ کہاں اوندھے چلے جارہے ہیں ؟

2: یعنی ان کا ظاہری حلیہ بڑا پرکشش ہے، اور باتیں بڑی لچھے دار ہیں، کہ آدمی انہیں سنتا ہی رہ جائے، لیکن اندر سے ان میں نفاق کی نجاست بھری ہوئی ہے، روایات میں ہے کہ عبداللہ ابن ابی اپنے ڈیل ڈول کے اعتبار سے پرکشش شخصیت رکھتا تھا، اور اس کی باتیں بڑی فصاحت و بلاغت کی حامل ہوتی تھیں۔ 3: لکڑیاں اگر کسی دیوار کے سہارے لگی رکھی ہوں تو دیکھنے میں کتنی اچھی لگیں، ان کا فائدہ کوئی نہیں ہوتا، اسی طرح یہ منافق لوگ دیکھنے میں کتنے اچھے لگیں، حقیقت میں بالکل بےمصرف ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں ہے، یہ لوگ جب آنحضرت ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے تو ان کا جسم اگرچہ مجلس میں ہوتا تھا ؛ لیکن دل و دماغ آپ کی طرف متوجہ نہیں ہوتا تھا، اس لحاظ سے بھی انہیں بےجان لکڑیوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ 4: چونکہ ان کے دل میں چور ہے، اس لیے اگر مسلمانوں میں کوئی شور ہو تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے خلاف کچھ ہو رہا ہے۔
Ayah 63:5

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ، اللہ کے رسول تمہارے حق میں مغفرت کی دعا کریں، تو یہ اپنے سروں کو مٹکاتے ہیں، (5) اور تم انہیں دیکھو گے کہ وہ بڑے گھمنڈ کے عالم میں بےرخی سے کام لیتے ہیں۔

5: قرآن کریم نے جو لفظ استعمال فرمایا ہے، اس کا ترجمہ سر کا موڑنا بھی ہوسکتا ہے، اور ہلانا بھی۔ حضرت شیخ الہند نے شاید اسی لیے اس کا ترجمہ مٹکانے سے کیا ہے جس میں ایک مکاری کا تصور پنہاں ہے، اور جو ان کی کیفیت کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔
Ayah 63:6

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ان کے حق میں دونوں باتیں برابر ہیں، چاہے تم ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو، اللہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا، (6) یقین جانو اللہ ایسے نافرمان لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

6: مطلب یہ ہے کہ جب تک یہ لوگ اپنی منافقت سے توبہ کر کے صحیح معنی میں مسلمان نہیں ہوجاتے، اس وقت تک ان کی بخشش نہیں ہوگی۔
Ayah 63:7

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

یہی تو ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو، یہاں تک کہ یہ خود ہی منتشر ہوجائیں گے، (7) حالانکہ آسمانوں اور زمین کے تمام خزانے اللہ ہی کے ہیں، لیکن منافق لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔

7: سورت کے تعارف میں جو واقعہ اوپر آچکا ہے، اس میں یہ بات عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہی تھی کہ مسلمانوں پر اپنا مال خرچ کرنا بند کردو، اس کے نتیجے میں معاذ اللہ صحابہ آنحضرت ﷺ کو چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں گے۔
Ayahs 63:8–11

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ : اگر ہم مدینہ کو لوٹ کر جائیں گے تو جو عزت والا ہے، وہ وہاں سے ذلت والے کو نکال باہر کرے گا، (8) حالانکہ عزت تو اللہ ہی کو حاصل ہے اور اس کے رسول کو، اور ایمان والوں کو، لیکن منافق لوگ نہیں جانتے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تمہاری دولت اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کرنے پائیں۔ اور جو لوگ ایسا کریں گے، وہ بڑے گھاٹے کا سودا کرنے والے ہوں گے۔

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

اور ہم نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے (اللہ کے حکم کے مطابق) خرچ کرلو، قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کے پاس موت آجائے تو وہ یہ کہے کہ : اے میرے پروردگار ! تو نے مجھے تھوڑی دیر کے لیے اور مہلت کیوں نہ دے دی کہ میں خوب صدقہ کرتا، اور نیک لوگوں میں شامل ہوجاتا۔

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور جب کسی شخص کا معین وقت آجائے گا تو اللہ اسے ہرگز مہلت نہیں دے گا، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

8: یہ وہی بات ہے جو عبداللہ بن ابی نے کہی تھی اور پھر اس سے مکر گیا تھا۔ تفصیلی واقعہ اوپر آچکا ہے۔