64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة التغابن اگرچہ بعض مفسرین نے اس سورت کی کچھ آیتوں کو مکی اور کچھ کو مدنی کہا ہے ؛ لیکن اکثر مفسرین نے پوری سورت کو مدنی قراردیا ہے، البتہ اس کے مضامین مکی سورتوں کی طرح اسلام کے بنیادی عقائد کی دعوت پر مشتمل ہیں، اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے حوالے سے توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان کی دعوت دی گئی ہے، اور پچھلی امتوں کی تباہی کے اسباب بتاتے ہوئے توجہ دلائی گئی ہے کہ ہر انسان کو اللہ تعالیٰ کے رسول برحق اور ان پر نازل ہونے والی کتاب پر ایمان لاکر آخرت کی تیاری کرنی چاہیے، اور اگر انسان کے بیوی بچے اس راستے میں روکاٹ بنیں تو سمجھنا چاہیے کہ وہ انسان کی خیر خواہی نہیں، دشمنی کررہے ہیں، سورت کا نام آیت نمبر : ٩ سے ماخوذ ہے جس کی تشریح اسی آیت کے حاشیے حاشیہ نمبر 1 میں آرہی ہے۔

Ayah 64:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو چیز بھی ہے وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے، اور بادشاہی اسی کی ہے، اور تعریف اسی کی، اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

Ayah 64:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے، اور کوئی مومن، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اسے خوب دیکھتا ہے۔

Ayah 64:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے، اور تمہاری صورتیں بنائی ہیں اور تمہاری صورتیں اچھی بنائی ہیں، اور اسی کی طرف آخر کار (سب کو) پلٹ کر جانا ہے۔

Ayah 64:4

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، وہ اسے جانتا ہے، اور جو کچھ تم چھپ کر کرتے ہو اور جو کچھ کھلم کھلا کرتے ہو، اس کا بھی اسے پورا علم ہے، اور اللہ دلوں کی باتوں تک کا خوب جاننے والا ہے۔

Ayah 64:5

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس ان لوگوں کے واقعات نہیں پہنچے جنہوں نے پہلے کفر اختیار کیا تھا، پھر اپنے کاموں کا وبال چکھا، اور (آئندہ) ان کے حصے میں ایک دردناک عذاب ہے ؟

Ayah 64:6

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر روشن دلائل لے کر آتے تھے تو وہ کہتے تھے کہ : کیا (ہم جیسے) انسان ہیں جو ہمیں ہدایت دیں گے ؟ غرض انہوں نے کفر اختیار کیا اور منہ موڑا، اور اللہ نے بھی بےنیازی برتی، اور اللہ بالکل بےنیاز ہے بذات خود قابل تعریف۔

Ayah 64:7

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ انہیں کبھی دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ کہہ دو : کیوں نہیں ؟ میرے پروردگار کی قسم ! تمہیں ضرور زندہ کیا جائے گا، پھر تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے کیا کچھ کیا تھا، اور یہ اللہ کے لیے معمولی سی بات ہے۔

Ayah 64:8

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

لہذا اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس روشنی پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کی ہے، اور تم جو کچھ کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

Ayahs 64:9–10

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

(یہ دوسری زندگی) اس دن (ہوگی) جب اللہ تمہیں روز حشر میں اکٹھا کرے گا۔ وہ ایسا دن ہوگا جس میں کچھ لوگ دوسروں کو حسرت میں ڈال دیں گے۔ (1) اور جو شخص اللہ پر ایمان لایا ہوگا، اور اس نے نیک عمل کیے ہوں گے، اللہ اس کے گناہوں کو معاف کردے گا، اور اس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہوگا، اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہوگا وہ دوزخ والے ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

1: قرآن کریم نے یہاں تغابن کا لفظ استعمال فرمایا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو نقصان یا حسرت میں مبتلا کریں، قیامت کے دن کو تغابن کا دن اس لئے کہا گیا ہے کہ اس دن جو لوگ جنت میں جائیں گے دوزخی لوگ انہیں دیکھ کر حسرت کریں گے کہ کاش ہم نے دنیا میں ان جنتیوں جیسے عمل کئے ہوتے تو آج ہم بھی جنت کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے، حضرت شاہ عبدالقادر صاحب ؒ نے اس کا ترجمہ ہار جیت کا دن کیا ہے، جو مفہوم کو اختصار کے ساتھ واضح کردیتا ہے۔
Ayahs 64:11–13

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

کوئی مصیبت اللہ کے حکم کے بغیر نہیں آتی، اور جو کوئی اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے، (2) اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اور تم اللہ کی فرمانبرداری کرو، اور رسول کی فرمانبرداری کرو۔ پھر اگر تم نے منہ موڑا تو ہمارے رسول کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ صاف صاف بات پہنچا دے۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

2: یعنی اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے دل کو مصیبت کے وقت یہ اطمینان عطا فرماتا ہے کہ ہر مصیبت اللہ تعالیٰ کے حکم سے آتی ہے، اور اس میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہوتی ہے، چاہے وہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ اس تصور کے نتیجے میں ایمان والوں کو ناقابل برداشت تکلیف نہیں ہوتی اور انہیں صبر کی توفیق مل جاتی ہے۔
Ayah 64:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں، اس لیے ان سے ہوشیار رہو۔ اور اگر تم معاف کردو اور درگزر کرو، اور بخش دو تو اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔ (3)

3: جو بیوی بچے انسان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر اکسائیں وہ انسان کے دشمن ہیں۔ البتہ اگر وہ اپنے اس عمل سے توبہ کریں تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ انہیں معاف کردیا جائے، اور درگذر سے کام لے کر ان سے اچھا سلوک کیا جائے۔
Ayah 64:15

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو تمہارے لیے ایک آزمائش ہیں۔ (4) اور وہ اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے۔

4: آزمائش یہ ہے کہ انسان مال و دولت اور اولاد کی محبت میں منہمک ہو کر اللہ تعالیٰ کے احکام سے غافل تو نہیں ہوتا، اور جو شخص ایسی غفلت سے اپنے آپ کو بچالے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا اجر وثواب ہے۔
Ayah 64:16

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

لہذا جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو، (5) اور سنو اور مانو اور (اللہ کے حکم کے مطابق) خرچ کرو، یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے، اور جو لوگ اپنے دل کی لالچ سے محفوظ ہوجائیں، وہی فلاح پانے والے ہیں۔

5: اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ واضح فرمادیا ہے کہ انسان کو جو تقوی کا حکم دیا گیا ہے، وہ اس کی استطاعت کے مطابق ہے، یعنی کسی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بنایا گیا، یہی مضمون سورة بقرہ : 223، 286 سورة انعام : 152، سورة اعراف : 42 سورة مومنون : 63 میں گزرچکا ہے۔
Ayahs 64:17–18

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اگر تم اللہ کو اچھی طرح قرض دو گے تو اللہ تمہارے لیے اس کو کئی گنا بڑھا دے گا، (6) اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بڑا قدردان، بہت بردبار ہے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

وہ ہر بھید کا اور ہر کھلی ہوئی چیز کا جاننے والا ہے، بڑے اقتدار کا، بڑی حکمت کا مالک۔

6: اللہ تعالیٰ کو قرض دینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر نیک کاموں میں خرچ کیا جائے، اس تعبیر میں یہ اشارہ ہے کہ جس طرح کسی کو قرض دیتے وقت انسان کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ یہ قرض اسے کسی وقت واپس مل جائے گا، اسی طرح نیک کاموں میں خرچ کرتے وقت انسان کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں بہترین اجر عطا فرمائیں گے، اور اچھی طرح قرض دینے کا مطلب یہ ہے کہ انسان نیک کاموں میں اخلاص سے خرچ کرے، نام ونمود اور دکھاوا مقصود نہ ہو، نیک کاموں میں خرچ کرنے کو سورة بقرہ : 224، سورة مائدہ : 12، اور سورة مزمل : 73، میں بھی قرض حسن سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔